اسکواش پر حکمرانی کرنے والے : جہانگیر خان

پاکستان کے نامور کھلاڑی جہانگیر خان نے سکواش کی دنیا پر طویل عرصے تک راج کیا ۔ انہیں سکواش کی دنیا کا عظیم ترین کھلاڑی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے ورلڈ اوپن چھ بار اور برٹش اوپن دس بار جیتی۔ 1981ء سے 1986ء تک وہ ناقابل شکست رہے۔ مسلسل 555 میچ جیتنے کے بعد ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہوا۔ وہ 10 دسمبر 1963ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تاہم ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے۔ ا بتدا میں ان کے والد روشن خان نے ان کی کوچنگ کی۔ جو 1957ء میں برٹش اوپن جیت چکے تھے۔ بعد ازاں ان کے بھائی نے یہ ذمہ داری سنبھالی لیکن ان کی ناگہانی موت کے بعد کزن رحمت خان نے زیادہ تر یہ ذمہ داری نبھائی۔

پیدائش کے وقت جہانگیر خان بہت کمزور تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں نے انہیں زیادہ جسمانی مشقت سے منع کیا تھا۔ تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے اس مشورے کو نظر انداز کر دیا۔ دراصل ان کے والد نے انہیں اس مشقت طلب کھیل کو کھیلنے اجازت دے دی تھی ۔ 1979ء میں آسٹریلیا میں عالمی چیمپئن شپ کے موقع پر جہانگیر کا انتخاب نہ کیا گیا کیونکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کمزور ہیں۔ تاہم جہانگیر خان عالمی امیچور انڈی ویجوئل چیمپئن شپ میں گئے اورصرف 15 سال کی عمر میں چیمپئن شپ جیت لی۔ وہ 1981ء میں ورلڈ اوپن کے کم عمر ترین چیمپئن بنے۔ اس وقت ان کی عمر صرف17 برس تھی۔

پھر ان کی کامیابیوں کا سلسلہ تھما نہیں، وہ اگلے پانچ سال تک ناقابل شکست رہے۔ 1982ء میں انہوں نے انٹرنیشنل سکواش پلیئرز چیمپئن شپ جیت لی اور ایک بھی میچ نہیں ہارا۔ ان کی کامیابیوں کے سلسلے کا اختتام 1986ء میں ہوا۔ یہ فرانس کے شہر تولوس میں ہونے والی ورلڈ چیمپئن شپ تھی، جہانگیر خان نیوزی لینڈ کے راس نارمن سے ہار گئے۔ اپنی مسلسل کامیابیوں کے بارے میں جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی کامیابیوں کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ ’’میں نے بس ہر میچ جیتنا چاہا، یہ کامیابی ہفتوں، مہینوں اورسالوں تک محیط ہو گئی.

بالآخر راس نارمن نے 1986ء میں تولوس میں مجھے شکست دے دی‘‘۔ 1980ء کی دہائی کے پہلے نصف میں مسلسل کامیابیوں کے بعد انہوں نے ہارڈ بال سے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ ہارڈ بال سکواش شمالی امریکا میں کھیلی جاتی ہے جس میں کورٹ کا رقبہ کم ہوتا ہے اور بال کی حرکت تیز ہوتی ہے۔ جہانگیر خان نے ہارڈ بال کے 13 اعلیٰ سطحی میچ کھیلے اور ان میں سے 12 میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے گیارہ مواقع پر امریکا کے ٹاپ کھلاڑی مارک ٹالبوٹ کا مقابلہ کیا اور 10 میں اسے شکست دی۔ اس کے بعد جہانگیر خان کو سکواش کا عظیم ترین کھلاڑی مانا جانے لگا۔

ان کی کامیابیوں کے بعد اس شمالی براعظم میں ’’سافٹ بال‘‘ سکواش کی مقبولیت بڑھ گئی۔ 1986ء میں اسی دوران پاکستان میں سکواش کے ایک کھلاڑی جان شیرخان بین الاقوامی منظر نامے پر نمودار ہوئے۔ 1986ء کے آخر اور 1987ء کے اوائل میں جہانگیر خان نے جان شیر سے کچھ میچ جیت لیے تاہم ستمبر 1987ء میں جان شیر نے جہانگیر کے خلاف پہلی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ہانگ کانگ اوپن کے سیمی فائنل میں انہیں ہرایا۔ اس کے بعد جان شیر نے جہانگیر کے خلاف مسلسل آٹھ کامیابیاں حاصل کیں اور ورلڈ اوپن چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔ مارچ 1988ء میں جہانگیر خان نے جان شیر کو شکست دی اور اگلے 15 میں سے 11 مقابلوں کو جیتا۔ 1988ء میں ورلڈ اوپن کے فائنل میں بھی جہانگیر کامیاب ہوئے۔

البتہ اس وقت ان کی سکواش پر حکمرانی ختم ہو چکی تھی اور جان شیر کی شکل میں ایک اور بڑا کھلاڑی میدان میں تھا۔ 1988ء کے بعد وہ ورلڈ اوپن کا اعزاز دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے بطور کھلاڑی 1993ء میں ریٹائر منٹ لی۔ حکومت پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور ہلال امتیاز سے نوازا۔ 1990ء میں وہ پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن کے چیئرمین منتخب ہوئے اور 1997ء میں پاکستان سکواش فیڈریشن کے نائب صدر بنے۔ اگلے برس انہیں ورلڈ سکواش فیڈریشن کے نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ 2004ء میں انہیں دوبارہ اتفاق رائے سے ورلڈ سکواش فیڈریشن کا صدر منتخب کیا گیا۔ ٹائم میگزین نے انہیں ساٹھ سالوں میں ایشیا کا ایک ہیرو قرار دیا۔ لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے انہیں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی عطا کی۔ ان کی کامیابیوں کو برس ہا برس تک سراہا جاتا رہے گا۔

(تلخیص و ترجمہ: رضوان عطا)

Advertisements

جب کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو ؟

کس نے سوچا ہو گا کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ’کٹ‘ میں ایک دن پلوشن ماسک بھی شامل ہو جائے گا۔ آپ سری لنکا کے ان کھلاڑیوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جو دہلی میں انڈیا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آلودگی کی وجہ سے ماسک پہن کر میدان میں اترے، یا سانس لینے میں دقت ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے، یا ان کی تشویش کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارے ایسا بھی نہیں کہ اس ہوا میں سانس لینے سے آپ مر جائیں گے، یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی یہ صرف ایک کھیل ہے، آپ اپنی صحت کا خیال کریں اگر سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے تو پویلین میں بیٹھ جائیے، یہ کرکٹ کی تاریخ کا آخری ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔

کرکٹ کی تاریخ کا یہ آخری ٹیسٹ تو ہرگز نہیں لیکن ایسا پہلا ضرور ہے جہاں کھلاڑی ماسک پہن کر میدان میں اترے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے دو مرتبہ کھیل روکنا پڑا۔ میچ کے بعد سری لنکا کے کوچ نے کہا ’کھلاڑی پویلین میں آ کر الٹیاں کر رہے تھے، ڈریسنگ روم میں آکسیجن سلنڈر رکھے تھے ہمارے لیے یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ انتہائی غیرممعولی صورت حال تھی۔‘ لیکن دوسرے دن کے کھیل کے بعد انڈیا کے بولنگ کوچ بھارت ارون نے کہا ’سری لنکا کے کھلاڑیوں کی پریشانی پر انھیں حیرت ہو رہی ہے کیونکہ وراٹ کوہلی نے دو دن بیٹنگ کی اور انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ آلودگی تو پورے ملک میں ہے، سری لنکا کے کھلاڑی صرف وقت برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

ارون صاحب، یہ سب مانتے ہیں کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوتا ہے لیکن سب سگریٹ پینے والوں کو کینسر نہیں ہوتا۔ اگر وراٹ کوہلی کو آلودہ ہوا میں سانس لینے سے کوئی دقت نہیں ہوتی، یہ بہت خوشی کی بات ہے، وہ جوان ہیں، بہترین ایتھلیٹ ہیں اور ان کی فٹنس کا لیول دوسرے کھلاڑیوں سے بہتر ہو سکتا ہے، یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتنے میں یقین نہ رکھتےہوں، سوچتے ہوں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن جن لوگوں کو دقت ہوتی ہے، یہ ان کی کمزوری کی نشانی نہیں ہے، بس شاید انھیں زہریلی ہوا میں سانس لینے کی عادت نہیں ہے۔
انڈیا کے 12 ویں کھلاڑی کلدیپ یادو اور روہت شرما نے بھی ماسک پہنا اور یہ کہنے والے بہت سے لوگ آپ کو مل جائیں گے کہ یہ سمجھداری کی بات تھی۔

کسی بھی کھلاڑی کو اپنی حفاظت کا پیمانہ خود طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب آٹھ سال قبل لاہور میں سری لنکا کی ہی ٹیم پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے انکار کرنا شروع کیا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ ڈرپوک ہیں، موت تو ایک دن آنی ہی ہے اور فائرنگ کے واقعات کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں ہیں کہ کھیل ہی بند کر دیا جائے، یا آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ جان ہے تو جہان ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو ہم آپ کی فکر سمجھ سکتے ہیں، کرکٹ ایک کھیل ہے، آپ کا دل نہیں مان رہا تو کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نومبر میں دلی کی ہوا اتنی زہریلی ہو گئی تھی کہ سکول بند کر دیے گئے تھے اور بہت سے دوسرے ہنگامی اقدمات کرنے پڑے تھے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو یہاں رہتے ہیں اور جن کی یہ مجبوری ہے کہ انھیں اسی ہوا میں سانس لینا ہے۔ دلی میں گذشتہ برس بھی رانجی ٹرافی کے دو میچ دیوالی کے بعد شہر کی زہریلی ہوا کی وجہ سے منسوخ کیے گئے تھے۔ کل کے میچ کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی جائیں گی اور لوگوں کے ذہن میں پھر نومبر کی وہ تصویر ابھرے گی جب دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کےمطابق شہر ایک ’گیس چیمبر‘ میں تبدیل ہو گیا تھا۔

ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس ہوا میں ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سانس پھولے، صبح کے وقت ٹہلنے سے بھی بچیں کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے لیکن انھیں شاید معلوم نہیں ہے کہ جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا تو باقی کسی اور کو کیسے ہوسکتا ہے؟

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

آئی پی ایل کے معاملے پر بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ

انڈیا میں مسابقت کی نگرانی کرنے والے ادارے نے انڈین پریمیئر لیگ کے معاملے پر انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ بی سی سی آئی نے براڈ کاسٹروں کا یہ مطالبہ مان کر اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کیا ہے کہ وہ آئی پی ایل کے کسی حریف ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دے گا۔ کمیشن نے بی سی سی آئی سے کہا ہے کہ وہ 60 دن کے اندر اندر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرے۔ آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوئی تھی اور آغاز ہی سے اس کے حقوق سونی پکچرز نیٹ ورکس کے پاس تھے۔ تاہم ستمبر میں روپرٹ مرڈوک کے چینل سٹار انڈیا نے 2018 تا 2022 تک کے حقوق 2.55 ارب ڈالر میں خرید لیے تھے۔ یہ گذشتہ معاہدے سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی پی ایل دنیا کی مہنگی ترین سپورٹس لیگز میں سے ایک ہے۔

مسابقتی کمیشن نے 2013 میں فیصلہ دیا تھا کہ بی سی سی آئی کے سونی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی ایک شق غیر قانونی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آئی پی ایل کی طرز کی کسی اور ٹی 20 لیگ کی اجازت نہیں دے گا۔ تاہم بورڈ نے اس کے خلاف اپیل کی تھی جو کامیاب ٹھہری تھی۔ اب کمیشن دوبارہ اسی نتیجے پر پہنچا ہے اور اس نے وہی جرمانہ عائد کیا ہے جو پہلے کیا تھا۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ بولی دہندگان کا اصرار تھا کہ یہ شق شامل کی جائے۔ تاہم کمیشن نے کہا ہے کہ ‘بی سی سی آئی نے کوئی توجیہ پیش نہیں کی کہ یہ خود ساختہ پابندی کس طرح سے کرکٹ کے مفاد میں ہے جس کے تحت آئی پی ایل کے مقابلے پر کسی اور ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔’ بی سی سی آئی نے اس فیصلے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

برطانیہ کے مسلمان کرکٹرز : آپ مذہب اور کھیل کو ساتھ چلا سکتے ہیں

نومبر 2016 میں انڈیا کے شہر راجکوٹ میں انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کھیلا گیا جس میں انگلینڈ کی ٹیم نے ایک انوکھی نوعیت کی تاریخ رقم کی۔ اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کی ٹیم میں ایک ہی وقت پر چار جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی مسلمان کھلاڑی شامل تھے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم میں برطانوی مسلمان کھلاڑیوں کو جگہ ملی ہو۔ ناصر حسین نہ صرف 90 کی دہائی سے ٹیم کا حصہ رہے بلکہ انھیں اپنے ملک کی کپتانی کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔

ناصر حسین کے علاوہ اویس شاہ، ساجد محمود، کبیر علی بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو اس درجے کی کامیابی نہیں ملی جو ناصر حسین کو ملی تھی۔ راجکوٹ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں شامل ان چار کھلاڑیوں میں سے ایک، ظفر انصاری نے محض 25 برس کی عمر میں تین ٹیسٹ کھیلنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا جبکہ 19 سال میں ڈیبیو کرنے والے حسیب حمید انجری کے باعث ایک سال سے کرکٹ نہیں کھیل سکے ہیں۔
لیکن دوسری جانب معین علی انگلینڈ کرکٹ کے نئے پوسٹر بوائے کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں اور اس سال کھیلے گئے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے 361 رنز بنائے ہیں اور 30 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ لیگ سپنر عادل راشد بھی ٹیم کا مستقل حصہ رہے ہیں۔

عادل راشد اور بالخصوص معین علی کی واضح کامیابی کے باوجود انگلینڈ کرکٹ چلانے والوں کو اس بات کا احساس ہے کہ جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی نوجوان کرکٹ کھیلتے ضرور ہیں لیکن وہ بنیادی درجے تک محدود رہتے ہیں اور بہت کم تعداد میں کھلاڑی کرکٹ کو بطور پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے ریڈیو پروگرام کے میزبان انُکر ڈیسائی نے راجکوٹ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں شامل معین علی، عادل راشد، حسیب حمید اور ظفر انصاری سے اس حوالے سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی کرکٹ کھیلنے کے لیے حوصلہ افزائی کیسے کی جا رہی ہے اور یہ چاروں کھلاڑی کس طرح اگلی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل بن سکتے ہیں۔

برمنگھم میں مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے معین علی نے انکر ڈیسائی کو بتایا کہ انھیں بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق تھا جسے دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انھیں کرکٹ پر توجہ دینے کی ترغیب دی۔ ‘میرے والد نے مجھ سے کہا کہ 13 سے 15 کی عمر میں تم کرکٹ پر توجہ دو اور اس کے بعد جو دل چاہے کرو‘۔
یارک شائر سے تعلق رکھنے والے لیگ سپنر اور معین علی کے قریبی دوست عادل راشد نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا کہ انھیں بھی کرکٹ کھیلنے کے لیے اپنے گھر والوں کی حمایت ملی۔ ایک سوال کے جواب میں عادل راشد نے کہا کہ ‘میرے والد رات بھر ٹیکسی چلاتے تھے لیکن صبح سات بجے گھر آنے کے بعد وہ مجھے نو بجے کرکٹ کھیلنے کے لیے میدان میں لے جاتے تھے اور پورا پورا دن میرے ساتھ رہتے تھے۔ انھوں نے میرے لیے اپنا بہت وقت قربان کیا‘۔

لیکن عادل راشد اپنی کامیابیوں کے باوجود اپنے ماضی کو نہیں بھولے ہیں اور نئی نسل کے کھلاڑیوں کی آسانی کے لیے انھوں نے کرکٹ اکیڈمی قائم کی ہے تاکہ جنوبی ایشیائی نژاد نوجوان کرکٹ وہاں کھیل سکیں۔ ‘اسے قائم کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان بچوں کو معیاری کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے تاکہ وہ مستقبل میں بہتر کھیل پیش کر سکیں‘۔ معین اور عادل کی طرح چھوٹی عمر سے کرکٹ شروع کرنے والے حسیب حمید نے 19 برس کی عمر میں اپنا پہلا میچ کھیلا اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ معین علی، عادل راشد اور حسیب حمید کے ساتھ کھیلنے سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

لیکن ان تینوں کھلاڑیوں کے برعکس ظفر انصاری نے صرف تین ٹیسٹ میچوں میں شرکت کے بعد 25 برس کی عمر میں کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا۔ کیمبرج یونیورسٹی سے پڑھائی مکمل کرنے والے ظفر انصاری نے انکر ڈیسائی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے کرکٹ کو چھوڑنے کا سوچ رہے تھے اور انھیں اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کرکٹ کے لیے وقف نہیں کر سکتے۔ انھیں اس بات پر مزید پختہ یقین گذشتہ سال ہونے والے امریکی انتخابات کے دوران ہوا جب وہ راجکوٹ کا ٹیسٹ کھیل رہے تھے۔ ‘کرکٹ کی وجہ سے ہمارے پاس فون نہیں تھے اور ہمیں کرکٹ پر توجہ دینی تھی لیکن میرا دل انتخابات کے نتائج پر تھا یہ جاننے کے لیے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے‘۔

ظفر انصاری اس لحاظ سے باقی تین کھلاڑیوں سے مختلف ہیں کیونکہ ان کے والد پاکستانی اور والدہ انگریز ہیں اور وہ دونوں تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ‘مجھے اندازہ ہے کہ میرا پس منظر ان تینوں سے مختلف ہے لیکن ان کے ساتھ کرکٹ کھیل کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے‘۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں تفریحی کرکٹ کھیلنے والے 40 فیصد بچے ایشیائی نژاد ہیں لیکن ان میں سے صرف چار فیصد ہیں جو کرکٹ کو پیشہ ورانہ طور پر اختیار کرتے ہیں۔
معین علی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت ایشیائی برطانوی مسلمان ان بچوں کی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر بدلنا چاہتے ہیں اور اپنے کھیل اور کردار سے دکھانا چاہتے ہیں کہ ‘آپ مذہب اور کھیل دونوں ساتھ چلا سکتے ہیں‘۔

بشکریہ بی بی سی اردو

فیفا رینکنگ میں فلسطینی فٹ بال ٹیم اسرائیل سے 16 درجے اوپر

فیفا کی ورلڈ رینکنگ میں فلسطین کی فٹ بال ٹیم اپنی بلند ترین رینکنگ پر پہنچی اور اسرائیل کی فٹ بال ٹیم کو پیچھے چھوڑ دیا۔ فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سربراہ نے اس کو تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ فلسطینی ٹیم فیفا کی عالمی رینکنگ میں 84 ویں سے 82 ویں پوزیشن پر آ گئی ہے جبکہ اسرائیلی ٹیم 82 ویں پوزیشن سے 98 ویں پوزیشن پر چلی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی ٹیم روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی ہے۔ فلسطینی ٹیم نے حال ہی میں کئی میچ جیتے ہیں بشمول ایک میچ بھوٹان کے جس میں اس نے بھوٹان کو 10 صفر سے شکست دی۔

فیفا کی عالمی رینکنگ ایسے وقت میں آئی ہے جب فلسطینی فٹ بال ایسوی ایشن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیوں میں چھ فٹ بال کلبوں کے خلاف ایکشن کے لیے فیفا سے کہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں اور فلسطینی فٹ بال ایسوی ایشن نے فیفا سے اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف کارروائی کے لیے کہا ہے۔ گذشتہ ماہ فیفا نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ فلسطینی فٹ بال ایسوی ایشن نے فیفا پر اسرائیلی دباؤ کا الزام عائد کیا تھا۔ اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیر کھیل نے فٹ بال ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا ‘ہم فلسطینی فٹ بال ٹیم کو مبارکباد دیتے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ کسی بھی وقت دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔’ فلسطینی فٹ بال ٹیم کو فیفا نے 1998 میں تسلیم کیا تھا۔

محمدعرفان نے ویرات کوہلی کی تعریف کا محبت سے جواب دیدیا

محمد عرفان نے ویرات کوہلی کی تعریف کا محبت سے جواب دیدیا۔ ویرات کوہلی نے اپنے انٹرویو کے دوران پاکستان کے اسپیڈ اسٹار شعیب اختر کو مہلک پیسر اور محمد عرفان کو مشکل بولر قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بیٹنگ کوچ نے ایک فٹ کے اسٹول پر کھڑے ہو کرانھیں طویل قامت پیسر کیخلاف کھیلنے کی پریکٹس کرائی تھی۔ اس انٹرویو کو پاکستانیوں کی جانب سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ شعیب اختر نے جواب دیتے ہوئے تعریفی کلمات پر ویرات کوہلی کا شکریہ ادا کیا.

اب محمد عرفان بھی میدان میں آ گئے اور ایسی بات کہہ دی کہ بھارتی کپتان کو بھی ان کا شکریہ ادا کرنا پڑا۔ طویل قامت پیسر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ویرات کوہلی وضع دار آدمی اور بڑے دل والا عظیم کھلاڑی ہے، میرے دوست تمہارے لیے دعائیں، امید ہے کہ ہم میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ کرکٹ کھیلیں گے۔