پاکستان ہاکی : آخری گولڈ میڈ لسٹ کپتان کی یادیں

11 اگست سنہ 1984 پاکستانی ہاکی کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اس روز پاکستانی ہاکی ٹیم نے لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ یہ شاندار کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم کے کپتان منظور حسین تھے جنھیں ہاکی کی دنیا میں منظور جونیئر کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ لاس اینجلس اولمپکس کی جیت کو 32 سال ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود منظور جونیئر کے ذہن میں یہ ایسے تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ مجھے اپنے تمام کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا اچھی طرح اندازہ تھا اور میں یہی سوچ رہا تھا کہ اگر اس ٹیم کا صرف ایک کھلاڑی اپنی صلاحیت کےمطابق کھیل گیا تو یہ ٹیم بہت آگے جائے گی لیکن اس ٹیم کے ہر ایک کھلاڑی نے لاس اینجلس میں غیر معمولی ہاکی کھیلی جس پر میں بجا طور پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ ایسی کارکردگی میں نے اپنی زندگی میں نہ اس سے پہلے دیکھی تھی نہ بعد میں۔ منظور جونیئر نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں لاس اینجلس اولمپکس کی جیت کو اپنے کریئر کا سب سے یادگار لمحہ قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انھیں پورا یقین تھا کہ یہ ٹیم اولمپک گولڈ میڈل جیت سکتی ہے۔ منظور جونیئر کو ٹیم کی روانگی سے قبل ایوان صدر میں دیا گیا استقبالیہ بھی اچھی طرح یاد ہے جس میں اس وقت کے صدر ضیا الحق نے جس طرح ہر کھلاڑی کی تعریف کی تھی وہ ان کے لیے حیران کن تھی۔

صدر ضیا الحق ہاکی پروفیشنل نہیں تھے لیکن انھوں نے کہا کہ اگر میں اس ٹیم کے ہر کھلاڑی کی صلاحیتیں بیان کروں تو وہ ایک ڈکشنری کی طرح ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے ہر کھلاڑی کی فرداً فرداً خوبیاں بیان کرنی شروع کردیں۔ آپ خود اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ٹیم کے بارے میں صدر مملکت کا تجزیہ اتنا زبردست تھا تو پھر ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار ایئر مارشل نور خان اور بریگیڈئر عاطف اس ٹیم کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے. لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستانی ٹیم نے اپنے پول میں کینیا اور کینیڈا کو شکست دی تھی جب کہ ہالینڈ، برطانیہ اور نیوزی لینڈ سے اس کے میچ برابر رہے تھے۔

ہالینڈ کو سیمی فائنل میں بہتر گول اوسط کی بنیاد پر رسائی کے لیے ضروری تھا کہ وہ کینیا کو چھ گول سے ہرائے لیکن ہالینڈ کی ٹیم وہ یہ میچ تین گول سے ہی جیت سکی اور یوں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی۔ پاکستانی ٹیم نے سیمی فائنل میں حسن سردار کے گول کی بدولت آسٹریلیا کو ہرایا تھا اور پھر فائنل میں جرمنی کو ایک کے مقابلے میں دوگول سے شکست دی تھی جس میں حسن سردار اور کلیم اللہ کے گول شامل تھے۔ منظور جونیئر ان دونوں میچوں کو اپنی زندگی کے بہترین میچز قرار دیتے ہیں۔ ’دونوں میچوں میں پاکستانی ٹیم نے اٹیکنگ ہاکی کھیلی تھی۔ دس کے دس کھلاڑی اٹیک پر ہوتے تھے اور دفاع بھی کرتے تھے۔

آسٹریلیا اور جرمنی دونوں ورلڈ کلاس ٹیمیں تھیں لیکن ان دونوں ٹیموں کے لیے ہمارا دفاع توڑنا آسان ثابت نہ ہوسکا۔‘

عبدالرشید شکور

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s