اسکوائش : پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں نے پھر میدان مار لیا

اسکوائش کے میدان سے اچھی خبرہے، صرف اچھی نہیں بہت ہی اچھی خبر ہے۔ بکہ ایک بڑی خبر ہے اور بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں نے ماہ آزادی میں بیرون ملک سبز ہلالی پرچم لہرایا ہے۔ ہمارے جونیئر سکوائش پلیئرز نے ورلڈ جونیئرسکوائش چیمپئن شپ کا ٹیم ایونٹ جیت لیا ہے۔ پاکستان نے چھٹی مرتبہ یہ ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ٹیم ایونٹ میں پاکستان کے احسن ایاز، اسرار احمد اور عباس شوکت نے ملک کی نمائندگی، احسن ایاز کامیاب نہ ہوسکے۔ عباس شوکت اور اسرار احمد نے پاکستان کو فتح دلانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ کے سنگلز ایونٹ میں اسرار احمد سیمی فائنل تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئے۔2004ء سے اب تک ٹیم چیمپیئن شپ میں مصر اور پاکستان ہی ٹائٹل کے لئے آمنے سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان گذشتہ تین ایونٹس کا رنر اپ رہا ہے۔

2016ء میں پاکستان کے نوجوانوں نے فائنل ہارنے کی روایت توڑتے ہوئے نمبر ون پوزیشن کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ کے سنگلز میں اب تک پاکستان کے صرف دو کھلاڑی سہیل قیصر 1982 اور جان شیر خان نے 1986ء میں برسبین آسٹریلیا میں ورلڈ جونیئر کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ سہیل قیصر گزشتہ دنوں کینسر کی وجہ سے انتقال کرگئے۔ 2006ء میں پاکستان کے یاسر بٹ سنگلز ایونٹ جبکہ 2008ء میں عامر اطلس اس چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنے میں کامیاب رہے۔ 2008ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے ورلڈ جونیئر کے ٹیم ایونٹ میں فتح حاصل کی ہے۔ آٹھ سال بعد پاکستان کے لئے ٹائٹل جیتنے والے تمام کھلاڑی آفیشلز اور پاکستانسکوائش فیڈریش کے عہدیدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔ بات مبارکباد کی ہو تو ایوان وزیراعظم کے عارضی مکین پاکستانی عوام کے منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی سکوائش پلیئرز کو فتح کی مبارکباد دی ہے ۔ کیا وزیراعظم بھی صرف ’’خالی‘‘ مبارکباد پر ہی اکتفا کریں گے، کیا نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انعام نہیں دیا جائیگا؟news_422_squash_(2)_la

مناسب حوصلہ افزائی کی جائے تو زیادہ اچھے نتائج آسکتے ہیں۔ گزشتہ روز ہماری پاکستان سکوائش فیڈریشن کے سیکرٹری گروپ کیپٹن عامر نواز سے بات ہو رہی تھی انہوں نے تصدیق کی کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے صرف مبارکباد ہی موصول ہوئی ہے۔ تاہم کھلاڑیوں نے جس جوش و جذبے کے ساتھ کھیل پیش کیا ہے ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ عامر نواز کا کہنا تھا کہ نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ کھلاڑیوں کو تمام سہولیات فراہم کریں۔ انہیں بین الاقوامی سطح کے مقابلوں میں شرکت کے زیادہ سے زیادہ مواقع دیں تاکہ ان کی صلاحتیں نکھر کر سامنے آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب مالی مسائل یا وسائل کی کمی کا سامنا نہیں ہے ہمارے صدر ایئر چیف ہیں اور انہوں نے ذاتی دلچسپی لیکر ان مسائل کو ختم کردیا ہے۔

سکوائش میں پاکستان کا ماضی بڑا شاندار ہے جونیئرز کی سطح پر تو ہمارے کھلاڑی نظر آتے ہیں لیکن عالمی درجہ بندی میں صورتحال اچھی نہیں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جونیئرز کی سطح پر اچھے کھیل کا مظاہرہ کرنیوالے کھلاڑی آگے کیوں نہیں بڑھ سکے۔ گزشتہ تین برسوں سے ہم اس ٹورنامنٹ کے رنرز اپ بھی ہیں جبکہ 2004ء سے اب تک مختلف وقتوں میں فائنل تک پہنچے اور جیتے ہیں۔ ہمیں ان وجوہات کو تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اس کے بعد جمود کا شکار کیوں ہو جاتی ہے یا پھر وہ وطن چھوڑ کر کیوں چلے جاتے ہیں یا پھر مختلف تنازعات کا شکار ہو کر یکسوئی سے کھیل کیوں نہیں پاتے۔ موجودہ جونیئر کھلاڑی بھی اچھے ہیں اگر ہم صرف اسرار احمد کی بات کریں تو وہ گزشتہ دس ماہ میں ایشین جونیئر، یو ایس اوپن جونیئر، قطر اوپن، دوحہ اوپن اور اب ورلڈ جونیئر کا ٹائٹل جیت چکے ہیں جبکہ برٹش جونیئر چیمپن شپ کا فائنل کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

 حافظ محمد عمران

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s