اے بی ڈویلیئرز بھی وسیم اکرم کی باؤلنگ کے معترف نکلے

جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان اے بی ڈویلیئرز نے وسیم اکرم کو اپنی نوعیت کا واحد باؤلر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی کرکٹ میں اب بھی وسیم اکرم کی ’سوئنگ‘ کی مہارت کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے میچ کے دوران اے بی ڈویلیئرز نے غیرملکی چینل کی جانب سے بنائی جانے والی وسیم اکرم کی باؤلنگ کی ویڈیو دیکھنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ’یہ ایک بہترین ویڈیو ہے، وسیم اکرم نہایت ہی باصلاحیت باؤلر تھے‘۔

برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے میچ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کے دوران جب ڈویلیئرز سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نہیں خیال کہ پاکستان کے موجودہ اسکواڈ میں کوئی بھی کھلاڑی وسیم اکرم جیسا ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، ‘دنیائے کرکٹ میں اس وقت وسیم اکرم جیسا کوئی کھلاڑی نہیں ہے’۔ ان کا کہنا تھا ’میں نے آج تک وسیم اکرم جیسا باؤلر نہیں دیکھا، وہ اس وقت انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا حصہ ہیں اور ایونٹ کے دوران ان سے ملاقات اور بات چیت ہوتی رہتی ہے‘۔

جنوبی افریقی کپتان نے وسیم اکرم کی باؤلنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب وہ باؤلنگ کراتے اور اس دوران جو وہ سوچ رہے ہوتے تھے، بہت ہی عمدہ ہے’۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وسیم اکرم نے اپنے تمام تجربات نہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں بلکہ آئی پی ایل میں بھی کئی کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کیے، وہ ایک ایسے باؤلر ہیں جو باؤلنگ کی مہارت کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ جنوبی افریقی کپتان کے ٹوئٹ کے بعد سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے اپنی جوابی ٹوئٹ میں کہا ’میری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کے خلاف میچ نہیں کھیلا ورنہ تم مجھے عزت دینے کے بجائے رنز دے دیتے‘۔ اے بی ڈویلیئرز کے مطابق اب تک کرکٹ میں انہیں کسی باؤلر نے اتنا متاثر نہیں کیا جتنا وسیم اکرم نے متاثر کیا۔

کوہلی کے پرفارم نہ کرنے کا سبب بھی پاکستان ؟

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے آٹھویں میچ میں سری لنکا نے فیورٹ قرار دی جانے والی ٹیم بھارت کو 7 وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ کا بڑا اَپ سیٹ کر دیا۔
ایسے میں بھارتی کرکٹ فینز کا غم و غصے کا اظہار کرنا تو بنتا تھا اور وہ کافی ناامید ہوئے بھی، جس کا اندازہ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی جانے والی ٹوئیٹس سے لگایا جا سکتا ہے۔ سری لنکا کے خلاف بیٹنگ میں بھارت کو بڑا دھچکا اُس وقت لگا جب کپتان ویرات کوہلی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ روہت شرما، شیکھر دھاون اور مہندرا سنگھ دھونی کی جانب سے شاندار کھیل کے مظاہرے اور 321 کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجانے کے باوجود بھی بھارت یہ میچ جیت نہ سکا۔

ایسے میں ویرات کوہلی کا صفر پر آؤٹ ہونا کرکٹ فینز کے لیے موضوع بحث بنا رہا اور جب انہیں اس کا کوئی ذمہ دار سمجھ نہ آیا تو سارا ملبہ پاکستانی اسپورٹس اینکر زینب عباس پر ڈال دیا۔ بھارتی ویب سائٹ ذی نیوز کے مطابق پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل ‘دنیا نیوز’ کی اسپورٹس اینکر اور تجزیہ کار زینب عباس کو کوہلی کی خراب پرفارمنس کی وجہ اس لیے قرار دیا جاتا رہا کیونکہ انہوں نے کوہلی کے ساتھ سیلفی لی تھی۔ خیال رہے کہ زینب عباس نے ویرات کوہلی کے ساتھ لی گئی یہ تصویر یکم جون کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔

ٹوئٹر صارفین نے اس سے قبل زینب عباس کی ویرات کوہلی اور جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈویلیئر کے ساتھ سیلفی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ دونوں کھلاڑی زینب کے ساتھ سیلفی کے بعد صفر پر آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان کے ساتھ ان کی یہ سیلفی پاکستان اور جنوبی افریقہ کے ٹاکرے سے قبل لی گئی تھی اور کپتان اے بی ڈی ویلیئرز اگلے ہی میچ میں پہلی بار صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ ڈالا کہ ‘آئی سی سی ایونٹس میں زینب عباس کی بھارتی کھلاڑیوں سے دوری کو یقینی بنانے کے لیے پٹیشن کا آغاز کرتا ہوں’۔

اس دلچسپ صورتحال میں پاکستانی ٹوئٹر صارفین بھی خوب محظوظ ہوتے رہے اور زینب سے مزید فرمائش کر ڈالی کہ وہ اگلی سیلفی سری لنکن کپتان انجیلیو میتھیوس کے ساتھ لے لیں۔

’پھر وہ ایسا عامر بنا کہ پاکستان کو بچا لیا‘

دو ہزار دس کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں تین پاکستانی کرکٹرز پہ پابندی لگی تھی۔ تینوں بہترین پلئیرز تھے۔ سلمان بٹ بہت اچھے اوپنر تھے۔ انہی کی کپتانی میں پاکستان نے 15 سال بعد آسٹریلیا سے ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔ محمد آصف کی تباہ کن بولنگ تب تک اپنے جھنڈے گاڑ چکی تھی۔ عمران خان آج بھی کہتے ہیں کہ 2010 کا محمد آصف اسی انگلینڈ ٹور کے مین آف دی سیریز محمد عامر سے بہتر بولر تھا۔ اس سیریز میں محمد عامر کی جو کارکردگی تھی، اور کرئیر کے دوسرے ہی سال جس لیول کے انٹرنیشنل پلئیر وہ بن چکے تھے، ان پہ پابندی کی خبر نے دنیائے کرکٹ کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ جس طرح سے وہ ڈیوک بال کو سیم کرتے تھے، لوگ انھیں بجا طور پہ دوسرا وسیم اکرم کہنے لگے تھے۔

مائیکل ہولڈنگ سکرین پہ دنیا کے سامنے رو پڑے تھے۔ وسیم اکرم کے گرو عمران خان ہی نے یہ کہا تھا کہ اس عمر کے وسیم اکرم میں بھی اتنا ٹیلنٹ نہیں تھا۔ جہاں عامر پہ اس قدر سوگ منایا جا رہا تھا، وہیں دو اور بہترین پلئیرز شدید نفرت کی زد میں تھے۔ کسی کو آصف کے تباہ کن سپیل یاد نہیں آ رہے تھے، کوئی یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ سعید انور کے بعد آنے والے بہترین اوپنر کو معاف کر دیا جائے۔ سب کو فکر تھی تو یہ کہ بس عامر کو کسی طرح بچا لیا جائے۔ کیونکہ شاید سب جانتے تھے کہ یہی وہ ٹیلنٹ ہے جو دہائیوں بعد کہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔

محمد عامر کو ہر طرف سے ہمدردی ملی، پیار ملا، آئی سی سی نے بھی ذرا نرمی برتی، پی سی بی نے بھی بھرپور خیال رکھا، قوم کی تائید بھی حاصل رہی، سبھی نے دل سے معاف بھی کر دیا۔ خدا خدا کر کے پانچ سال کٹے اور بالآخر امیدوں کا پہاڑ اٹھائے محمد عامر واپس آ گئے اور قسمت کی خوبی دیکھیے کہ واپسی ہوئی بھی تو کہاں، وہیں جہاں سے دیس نکالا ملا تھا۔ لارڈز ٹیسٹ کا آغاز ہوا اور بلاوجہ پاکستان کی بیٹنگ آ گئی۔ کافی بے صبری سی ہوئی کہ عامر کو دیکھنے کے لیے ایک اور اننگز کاٹنا پڑے گی۔ ایک اور شب انتظار میں گزرے گی۔ بالآخر اگلے روز محمد عامر بولنگ کے لیے آئے۔ دنیا بھر کی نظریں جمی تھیں۔ انگلش کپتان الیسٹر کک سامنا کر رہے تھے۔

محمد عامر اپنے بولنگ مارک تک آئے، سانسیں رک گئیں۔ عامر نے رن اپ لیا، سبک رفتار قدموں سے دوڑنا شروع کیا، امیدوں کے دریچے کھل گئے۔ خدا خدا کر کے چند قدموں کا سفر کٹا اور چھ سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی کریز نے محمد عامر کو دیکھا۔ پہلی بال سوئنگ ہوئی مگر لینتھ کچھ بہتر نہیں تھی، سو کک کو سنگل لینے کا موقع مل گیا۔ ایلیکس ہیلز سامنے آئے۔ اس بار لائن ایسی عمدہ نہ تھی کہ ایلیکس ہیلز کو متاثر کر پاتی۔ تیسری گیند کی لائن اور لینتھ دونوں ہی مناسب نہ تھیں، اور ہیلز نے اسے اٹھا کر باونڈری پار پھینک دیا۔ اور خواب ٹوٹ گیا۔ پانچ سال سے ہم جس عامر کا سوگ منا رہے تھے، یہ وہ عامر نہیں تھا۔

بلاشبہ تب سے اب تک محدود اوورز میں عامر کی کارکردگی بہتر رہی مگر ٹیسٹ کرکٹ میں ہر سپیل کے ساتھ ان کا مستقبل مخدوش ہوتا رہا۔ تاآنکہ حالیہ ویسٹ انڈیز سیریز میں انھوں نے چھ وکٹیں لی اور امیدوں کے دیے کچھ روشن ہوئے۔
مگر اسی میچ کے بعد یہ سننے کو ملا کہ عامر اپنے لمیٹڈ اوورز کرئیر کو طول دینے کے لیے ٹیسٹ سے کنارہ کشی کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات شاید اس تلخ حقیقت کا ادراک تھا جو جانتے تو سبھی تھے مگرکہنا کوئی نہیں چاہتا تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ عامر کے بے شمار کیچز ڈراپ ہوئے اور لوگوں نے انہیں اس جواز سے سپورٹ بھی کیا۔ مگر پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کیچز نے بھی ڈراپ ہونا چھوڑ دیا اور وکٹوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔

ایسا نہیں کہ عامر نے محنت نہیں کی، انھوں نے توقعات پہ پورا اترنے کے لیے بھرپور جان ماری۔ مگر اس تلخ حقیقت کا ادراک کوئی نہ کر پایا کہ ایک فاسٹ بولر جب پانچ سال کی پابندی کے بعد لوٹتا ہے تو اس بیچ کتنے موسم گزر چکے ہوتے ہیں، کتنی رتیں بدل چکی ہوتی ہیں۔ وہ فقط اپنے ٹیلنٹ کے بل پہ زندہ نہیں رہ سکتا، اسے خاموشی سے محنت کرنا ہوتی ہے، سر جھکا کر، اپنے ٹیلنٹ کو پیچھے رکھ کر ایک نئے کرئیر کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ مگر عامر کو وہ خاموشی نہیں ملی اور جس شور کا انہیں سامنا تھا، وہ اپنے تئیں اسے جواب دینے کی کوششیں کرتے رہے۔

پھرشور تھم گیا، دھند چھٹنے لگی، تو عامر کو ادراک ہوا اور سر جھکا کر محنت کرنے کا خیال آیا۔ اور آج اس محنت کا ثمر یہ ہوا کہ آٹھویں نمبر کی ٹیم، جس نے رینگ رینگ کے کوالیفائی کیا تھا، آج چیمپئینز ٹرافی کے سیمی فائنلسٹس میں کھڑی ہے۔ یہ وہ حد ہے جہاں سے ماڈرن ون ڈے کی تین بہترین ٹیمیں باہر ہو چکی ہیں۔ پاکستان چاہے پہلے بیٹنگ کرتا یا بعد میں، پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لیے صرف اینجلو میتھیوز کی وکٹ چاہیے تھی جو صرف ٹیم کی کپتانی کرنے کے لیے اپنا ٹیم بیلنس بدلنے پہ مجبور تھے۔ ابتدائی وکٹیں کھونے کے بعد جب سری لنکا کا اعتماد بکھر چکا تھا تب میتھیوز نے آ کر اننگز کو سنبھالا دیا اور ایک اچھی پارٹنرشپ لگائی۔ سری لنکا پھر سے اٹھنے لگا۔

اگر میتھیوز وہاں دس اوور اور کھڑے رہتے تو یقیناً میچ لے جاتے۔ وہ ذہنی طور پہ پختہ کپتان نہ سہی مگر پچھلے دو سال میں جہاں انجریز نے ان کی بولنگ کو زک پہنچائی ہے، وہیں انکی بیٹنگ میں حیران کن پختگی بھی آ چکی ہے۔ انھیں اس موقع پہ آؤٹ کرنے کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں تھا، ذہنی پختگی بھی درکار تھی۔ اور پھر، جس عامر کو پاکستان چھ سال سے بچاتا آ رہا تھا، وہ ایسا عامر بنا کہ اس نے پاکستان کو بچا لیا۔

سمیع چوہدری
کرکٹ تجزیہ کار

میانداد کی 60 ویں سالگرہ پر گواسکر کا پیغام

ماضی کے عظیم پاکستانی کھلاڑی اور سپر اسٹار جاوید میاں داد پیر کو 60 سال کے ہو گئے۔ بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے بھی ان کی سالگرہ کا پیغام دیا۔ جاوید میاں داد کے گہرے دوست سنیل گواسکر نے پیغام میں کہا ’جاوید تم جیو ہزاروں سال اور سال کے دن ہو ں پچاس ہزار‘.

بھارتی لٹل ماسٹر نے کہا کہ بلاشبہ جاوید میاں داد پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے سب سےاچھے کھلاڑی ہیں۔ ایسا کھلاڑی پاکستان کرکٹ میں دوبارہ نہیں آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاوید میاں داد کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ان کی زندگی میں سدا خوشیاں آئیں۔

عامر کا فیصلہ کن بالنگ سپیل

 محمد عامر نے اپنے پہلے ہی سپیل میں تین اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے پاکستان کی پوزیشن مضبوط کر دی تھی۔

 

 

 

مہندر سنگھ دھونی کی سرفراز احمد کے بیٹے کے ساتھ تصویر وائرل

انڈین کرکٹر مہندر سنگھ دھونی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ کرکٹ کی تاریخ کے ایک بڑے مقابلے سے پہلے فیس بک سے لے کر ٹویٹر پر دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین کے درمیان سخت بیان بازی جاری رہی۔ لیکن اس کے درمیان ٹیم انڈیا کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے بیٹے عبداللہ کے ساتھ نظر آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصویر سینیئر ٹی وی صحافی راجدیپ سردیسائی نے جاری کی ہے۔ دوسری جانب انڈین ٹیم کے کپتان کوہلی نے فائنل سے پہلے سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیا تھا تا کہ تمام توجہ میچ کی تیاری پر رہے۔ ویراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے خود کو روکنا ان کی اور انڈیا کے فام میں آنے کی بڑی وجہ ہے۔

کوہلی کے فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اکاؤنٹس پر تقریباً چھ کروڑ 56 لاکھ فالورز ہیں تاہم کوہلی کے مطابق کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر منفیت اور انتشار توجہ سے دور رہا جائے۔ کوہلی کے مطابق ‘صاف گوئی سے، یہ مضحکہ خیز لگتا ہے لیکن یہ بہت اہم ہے کہ ان چیزوں سے دور رہا جائے اور ان چیزوں سے خود کو جوڑا جائے جو اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ مشکل کام ہے لیکن خود کو اچھی ذہنی حالت میں رکھنے کے لیے اس طرح کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ بہت زیادہ مشوروں، کھلاڑیوں یا تنقید کو بہت زیادہ سنتے ہیں تو اس صورت میں آپ کو ایک کھلاڑی کے طور پر جس کی چیز پر سوچنے کی ضرورت ہے اس پر توجہ نہیں سکتے اور نہ ہی اپنی ٹیم کی رہنمائی کر سکتے ہیں اور پھر ٹیم میں دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔

چیمپئنز ٹرافی : پاکستان کی فتح پر بھارتی میڈیا نے کیا لکھا

پاکستان نے اوول میں کھیلے جانے والے فائنل میں بھارت کو 180 رنز سے شکست دے کر پہلی بار چیمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 338 رنز بنائے جس کے جواب میں بھارتی بیٹنگ لائن 31 اوورز میں 158 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس حوالے سے بھارتی میڈیا نے کیا ردعمل ظاہر کیا، وہ درج ذیل ہے۔

ہندوستان ٹائمز
اس بھارتی روزنامے نے لکھا کہ پاکستان کے 338 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم کسی بھی طرح دفاعی چیمپئن کی طرح مقابلہ کرتی نظر نہیں آئی اور اولین نو اوورز میں محمد عامر کی تباہ کن باﺅلنگ کے سامنے تین وکٹوں سے محروم ہو گئی، جبکہ حسن ‘بمبار’ علی نے تین وکٹیں لے کر رہی سہی کسر پوری کر دی۔ میچ کے دوران بھارتی عوام کی توقعات ویرات کوہلی سے وابستی تھیں مگر ایک بار کیچ ڈراپ ہونے کے باوجود وہ اگلی گیند پر ہی آﺅٹ ہو گئے اور محمد عامر کا شکار بن گئے جبکہ شیکھر دھون کی وکٹ نے پاکستان کو کامیابی کا مزید یقین دلا دیا۔ اس سے قبل میچ کے شروع میں فخر زمان زیادہ متاثرکن نظر نہیں آئے مگر بھارتی باﺅلر کی غلطیوں نے ٹیم کو ناک کے بل گرا دیا اور پاکستان بڑا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہا۔

انڈین ایکسپریس
اس روزنامے نے لکھا کہ 339 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت کے پاس رنز کا تعاقب کرنے والا دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک تھا، ویرات کوہلی ایسا بھارت کے لیے پہلے بھی کر چکے ہیں،  اور ویرات کوہلی اس پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ بھارتی ٹیم شروع میں محمد عامر کی زبردست باﺅلنگ کے نتیجے میں جس تباہ کن آغاز کا شکار ہوئی، اس سے باہر نہیں نکل سکی اور پاکستان نے پہلی بار چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کر لی۔ درحقیقت یہ فائنل میں دونوں ٹیمیں بالکل مختلف نظر آئی، وہ ٹیم جسے پہلے میچ میں بھارت نے شکست دی تھی، وہ فائنل میں چیمپئنز کی طرح کھیلی جبکہ بھارتی ٹیم ہر شعبے میں ناکام رہی۔

ٹائمز آف انڈیا
اس جریدے نے لکھا کہ شروع سے ہی پاکستان بہتر نظر آیا اور آخر میں بھارت کو 180 رنز سے شکست دی اور 2009 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پہلی بار کوئی آئی سی سی ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ یہ 25 سال بعد پہلا موقع تھا جب ون ڈے فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم نے کوئی بڑا آئی سی سی ٹائٹل جیتا، اس سے پہلے آٹھ سال تک اسے آئی سی سی ایونٹس میں بھارتی ٹیم سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ٹیم کی باﺅلنگ شروع سے بری رہی جبکہ بیٹنگ میں تین اہم بلے باز محمد عامر کا شکار بن گئے جبکہ اس وقت تک ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے باﺅلر حسن علی کا اسپیل بھی شروع نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میچ اسی وقت ہار گیا تھا جب اس نے ٹاس جیت کر اچھے موسم میں پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی اور چوتھے اوور میں نو بال پر فخر زمان کو نئی زندگی ملنا بھی شکست کی وجہ بنا۔

اسکرول ان
اس ویب سائٹ نے لکھا کہ محمد عامر نے بھارت کے ٹاپ تھری بلے بازﺅں کو آﺅٹ کر کے پاکستان کے لیے 180 رنز سے کامیابی کی بنیاد رکھی، دفاعی چیمپئن بھارت 339 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اس ٹیم سے شکست کھا گئی جسے اس نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں 4 جون کو شکست دی تھی۔

دکن کرانیکل
اس ویب سائٹ نے لکھا کہ سب کچھ بھارت کے خلاف گیا جبکہ پاکستان نے ناقدین کی زبانوں کو خاموش کراتے ہوئے پرستاروں کو خوشگوار سرپرائز دیا اور پہلی بار آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو اپنے نام کر لیا۔ اس فتح میں محمد عامر کا کردار اہم رہا جن کے پہلے اسپیل نے بھارتی بیٹنگ کو تہہ و بالا کر کے بھارتی پرستاروں کی امیدوں کو ختم کر دیا تھا۔ محمد عامر کی انگلینڈ میں ایک تاریخ ہے اور اب انہوں نے اپنی کہانی میں ایک اور باب کا اضافہ کر دیا، ایسا باب جسے پاکستان اور کرکٹ پرستار طویل مدت تک یاد رکھیں گے۔

اظہرعلی اور فخر زمان کی بھارت کے خلاف ریکارڈ اوپننگ پارٹنر شپ

اظہرعلی اورفخر زمان نے آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف سب سے بڑی اوپننگ شراکت کا ریکارڈ قائم کر دیا۔ لندن کے کیننگٹن اوول میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی بھارت کے خلاف بیٹنگ کے دوران اظہرعلی اور فخر زمان نے 23 اوورز میں 128 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی، اظہر علی 71 گیندوں پر 6 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 59 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے جب کہ فخر زمان نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی اور 106 گیندوں پر 3 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 114 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔

اس سے قبل ورلڈ کپ 1996 کے بنگلورو میں ہونے والے کوارٹر فائنل میں عامر سہیل اور سعید انور نے 84 رنز کی سب سے زیادہ اوپننگ شراکت قائم تھی، میچ میں بھارت نے 39 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ورلڈ کپ 2003 میں سنچورین میں ہونے والے میچ میں سعید انور اور توفیق عمر نے 58 رنز بنائے تھے، اس میچ میں بھی بھارت نے 6 وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ موجودہ ایونٹ میں 4 جون کو احمد شہزاد اور اظہر علی نے روایتی حریف کے خلاف 47 رنز کی شراکت قائم کی تھی، یہ مقابلہ بھی بھارت کے نام رہا تھا۔

تیزترین 25 ون ڈے سنچریاں، ہاشم آملا نے کوہلی کا ریکارڈ توڑ ڈالا

جنوبی افریقی اسٹار ہاشم آملا نے بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا، وہ 25 ویں ون ڈے انٹرنیشنل سنچری تیزی سے بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔

ہاشم آملا نے یہ کارنامہ گذشتہ دنوں سری لنکا سے چیمپئنز ٹرافی میچ میں 103 کی اننگز کھیل کر انجام دیا، یہ ان کے کیریئر کا 154 واں ون ڈے اور151 ویں اننگز تھی، ویرات کوہلی نے کیریئر کی ابتدائی 25 سنچریاں 162 میچز میں مکمل کی تھیں۔ واضح رہے کہ ہاشم نے اس سے قبل ون ڈے میں 7 ہزار رنز تیزی سے مکمل کرنے میں بھی کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

الوداع مصباح، الوداع یونس

 پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ان کے ساتھی کھلاڑی اور ملک کے سب سے کامیاب بیٹسمین یونس خان نے ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کو الوادع کہا۔ 42 سالہ مصباح اور 39 سالہ یونس نے 66 ٹیسٹ میچوں کی 52 اننگز میں ایک دوسرے کے رفاقت میں 69.67 کی اوسط سے 3205 رنز بنائے اور15 اننگز میں سنچری کی شراکت بھی قائم کی۔