تیزترین 25 ون ڈے سنچریاں، ہاشم آملا نے کوہلی کا ریکارڈ توڑ ڈالا

جنوبی افریقی اسٹار ہاشم آملا نے بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا، وہ 25 ویں ون ڈے انٹرنیشنل سنچری تیزی سے بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔

ہاشم آملا نے یہ کارنامہ گذشتہ دنوں سری لنکا سے چیمپئنز ٹرافی میچ میں 103 کی اننگز کھیل کر انجام دیا، یہ ان کے کیریئر کا 154 واں ون ڈے اور151 ویں اننگز تھی، ویرات کوہلی نے کیریئر کی ابتدائی 25 سنچریاں 162 میچز میں مکمل کی تھیں۔ واضح رہے کہ ہاشم نے اس سے قبل ون ڈے میں 7 ہزار رنز تیزی سے مکمل کرنے میں بھی کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

الوداع مصباح، الوداع یونس

 پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ان کے ساتھی کھلاڑی اور ملک کے سب سے کامیاب بیٹسمین یونس خان نے ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کو الوادع کہا۔ 42 سالہ مصباح اور 39 سالہ یونس نے 66 ٹیسٹ میچوں کی 52 اننگز میں ایک دوسرے کے رفاقت میں 69.67 کی اوسط سے 3205 رنز بنائے اور15 اننگز میں سنچری کی شراکت بھی قائم کی۔

 

 

 

 

 

 

 

سعید انور کی بھارت کے خلاف 194 رنز کی اننگز کو 20 سال مکمل

سابق ٹیسٹ کرکٹر سعید انور کی بھارت کے خلاف 194 رنز کی یادگار اننگز کو 20 سال مکمل ہو گئے۔ 21 مئی1997ء کو ایڈیپنڈنس کپ کے چدم برم سٹیڈیم چینئی میں کھیلے گئے میچ میں سعید انور اور شاہد آفریدی نے اننگز کا آغاز کیا مگر شاہد آفریدی صرف 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے لیکن وکٹ کی دوسری جانب کھڑے سعید انور کے عزائم کچھ اور ہی تھے جنھوں نے بھارتی بولرز کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہوئے اکیلے ہی 194 رنز بنا ڈالے اور یوں ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور بنانے والے پہلے کرکٹر بن گئے۔

انھوں نے اپنی اننگز کے دوران 146 گیندیں کھیل کر 5 چھکوں اور 22 چوکوں کی مدد سے 194 رنز بنائے تاہم صرف 6 رنز کے فرق سے ون ڈے کرکٹ کی پہلی ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یاد رہے کہ پرساد، کمبلے، جوشی، سنگھ، حتیٰ کہ ٹنڈولکر نے بھی بولنگ کے جوہر دکھانے کی کوشش کی مگر سعید انور کسی کو خاطر میں نہ لائے اور ایسی دھلائی کہ یہ میچ پاکستان کی تاریخ کے یادگار ترین میچوں میں سے ایک بن گیا جس میں پاکستان نے 35 رنز سے فتح حاصل کی۔

کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ کی ’بلیک میلنگ‘

انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئي) کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یا یوں کہیں کہ بورڈ کے پاس بے شمار پیسہ ہے۔ پھر اسے اور پیسہ کیوں چاہیے! یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اسی لالچ کے تحت کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مائی باپ رہنے والا ادارہ بی سی سی آئی گذشتہ ماہ دبئی میں ہونے والی بورڈ کی میٹنگ میں ایک طرح سے یتیم ہو گیا۔ وہاں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ ذرا اندازہ لگائيں کہ جس کرکٹ بورڈ نے سنہ 2013 کے آئی پی ایل میں ہونے والی سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کا کیس لڑنے کے لیے تقریباً 50 کروڑ روپے لگا دیئے اور 2015 – 2016 کی گھریلو سیریز میں میڈیا رائٹس کی کمائی 648 کروڑ تھی اور جس کا کرکٹ فکسڈ ڈپازٹ کے سود کے پیسے سے بھی چل سکتا ہے، وہ آئی سی سی سے زیادہ سے زیادہ پیسے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سنہ 2015-2016 میں آئی پی ایل سے 738 کروڑ روپے کمانے والا بھارتی بورڈ پہلی جون سے انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے ہٹنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کھیل کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑی بی سی سی آئی کے حکام کے لیے محض پیسے کمانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان میں سپریم کورٹ نے جسٹس آر ایس لوڈھا کمیٹی کی بی سی سی آئی میں انتظامی اصلاحات کی سفارشات والی رپورٹ کو نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔

سب سے بڑا حصہ

قانونی طور پر اس کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بی سی سی آئی کا افسر آئی سی سی کو اس طرح کی دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھارتی عدالتی نظام کو ہمیشہ انگوٹھے دکھانے کا عادی بی سی سی آئی اپنے خزانے کو اور مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ برادری سے باہر نکل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ آئی سی سی کے نئے ریوینو ماڈل کے حساب سے تمام اراکین بھارتی بورڈ کو آٹھ سالوں کے دوران آئی سی سی کے ٹورنامنٹوں سے ہونے والی کمائی میں سے 29 کروڑ تیس لاکھ ڈالر دینے پر اتفاق کرتے ہیں۔ جبکہ انگلینڈ کو 14 کروڑ تیس لاکہ ڈالر ملیں گے۔ اس کے علاوہ آسٹریليا، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، سری لنکا، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ ہر ایک کے حصے میں 13 کروڑ بیس لاکھ ڈالر آئیں گے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آئی سی سی کے اہم مقاصد میں پوری دنیا میں کرکٹ کو مقبول کرنا شامل ہے۔ ایسوسی ایٹ ممبر آئر لینڈ اور افغانستان کی کرکٹ کے نقشے پر مستحکم موجودگی آئی سی سی کی بڑی کامیابی ہے۔ جب آئی سی سی کی تشکیل ہوئی تھی اس وقت کھیل کو وسیع کرنے کا عہد تھا نہ کہ دھندے میں اضافہ کرنے کا۔ لیکن آئی سی سی کے 39 ایسوسی ایٹ اراکین کو محض 28 کروڑ ڈالر ملنے ہیں۔ یعنی کہ پہلے سے ہی پیسے سے لبالب بی سی سی آئی کو ان 39 ممالک سے بھی زیادہ پیسہ مل رہا ہے اور یہ بھی اسے کم نظر آ رہا ہے۔

ششانك منوہر کا کردار

بی سی سی آئی کے حکام اپنے سابق باس ششانك منوہر کو کوس رہے ہیں۔ ششانک کی ہی بدولت آئی سی سی کی آمدنی کا بڑا حصہ انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ملنے سے روک دیا۔ ظاہر ہے کہ منوہر نے بطور آئی سی سی چیئرمین باقی رکن ممالک اور کھیل کو اہمیت دی اور یہ بات قابل تعریف ہے۔ ششانك کہتے ہیں: ‘موجودہ ماڈل ورلڈ کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے اور امید ہے کہ سالانہ کانفرنس میں اس کو منظوری مل جائے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس ماڈل کو اپنا کر کرکٹ کو عالمی سطح پر پھیلانے اور بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

بے انتہا لالچ کی جڑ کرپشن

بی سی سی آئی کے ایک سینیئر افسر کے مطابق: ‘یہ ماڈل ہمیں منظور نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آئی سی سی کے اگلے آٹھ سال کے متوقع ریوینو کا تقریباً 21 فیصد بھارتی بورڈ کو ملنا چاہیے۔’ اس حساب سے بی سی سی آئی کا مطالبہ 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے ناجائز ہے۔ اور بی سی سی آئی کو یہ پیسے کس کے لیے چاہیے؟ اپنے کھلاڑیوں کے لیے یا پھر اپنے ارکان کے لیے۔

دہلی، گوا، حیدرآباد، جموں اور کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن سمیت بی سی سی آئی کے کئی ارکان کے خلاف بدعنوانی کے چارجز ہیں۔ ان تنظیموں کے خلاف کئی سو کروڑ کے گھپلے کا الزام ہے اور کئی ایجنسیاں ان باری میں تحقیقات کر رہی ہیں۔

لیکن کسی بھی صورت میں بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے حالانکہ یہ اس کا پیسہ ہے۔

اعداد و شمار دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہے کہ کھلاڑی پیسے کے کھیل میں کہیں نہیں ہیں۔ ان کے گذشتہ سال کے بین الاقوامی کیلنڈر کی فیس بی سی سی آئی کے قانونی اخراجات کے سامنے کچھ نہیں۔ کوئی یہ بھی نہیں بتا رہا کہ خود کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یا پھر ان کی اپنی کیا رائے ہے؟ خطرناک پہلو یہ ہے کہ کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ بلیک میلنگ کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کھیلے گی یا نہیں!

ٹیم انڈیا کو کھیلنے سے روکنا اب بی سی سی آئی کے بس میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ درمیان میں ہے اور سات مئی کو ہونے والے بی سی سی آئی کے اجلاس میں پہلے سے ہی ناکامیوں کے سبب نشانے پر موجود بی سی سی آئی کے حکام کے پاس ٹیم کو بھیجنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی منتظمین کی کمیٹی ٹیم کو روکے جانے کے خلاف ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن اور تاریخ داں رام چندر گوہا نے ٹویٹ بھی کیا ہے کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ہندوستان کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنا چاہیے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر باقی ملک یہ طے کر لیں کہ وہ بھارت کے بغیر کرکٹ چلانے کے لیے تیار ہیں تو پھر بی سی سی آئی کی کیا حالت ہو گی؟

جسوندر سدھو

کرکٹ تجزیہ کار

مصباح کرکٹ کی 140 سالہ تاریخ کے بدقسمت ترین بلے باز

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ
میچ میں 99 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے جس کے ساتھ ہی وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک انوکھا ریکارڈ اپنے نام کر گئے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں 99 کے اسکور پر ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈر نے پاکستان کے کپتان کی اننگز کا اختتام کر دیا جس کے ساتھ ہی وہ کرکٹ کی 140 سالہ تاریخ میں پہلے کھلاڑی ہیں جس کی اننگز تین مرتبہ 99 رنز پر تمام ہوئی۔ مصباح الحق اپنے کیریئر میں کُل تین مرتبہ 99 کے ہندسے تک محدود رہے جہاں دو مرتبہ وہ اپنی وکٹ محفوظ نہ رکھ سکے اور ایک مرتبہ پوری ٹیم پویلین لوٹنے کے سبب وہ اپنی اننگز کو تین ہندسوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

2011 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ویلنگٹن ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 99 رنز پر کرس مارٹن کو وکٹ دے بیٹھے تھے لیکن دونوں اننگز میں مجموعہ طور پر 169 رنز بنانے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف رواں سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں مصباح الحق 99 رنز پر ناقابل شکست رہے تھے اور پوری ٹیم پویلین لوٹنے کے سبب سنچری نہیں بنا سکے تھے۔ اور اب بارباڈوس میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ میں مصباح الحق 99 کے اسکور پر پویلین لوٹے جس کے ساتھ ہی وہ ایک انوکھا ریکارڈ اپنے نام کر گئے ہیں اور کرکٹ کی تاریخ میں آج تک کوئی اور ایسا بدقسمت بلے باز نہیں جس کی اننگز تین مرتبہ 99 رنز تک پہنچنے کے بعد سنچری سے قبل ہی ختم ہو گئی ہو۔

اس سے قبل انگلینڈ کے مائیکل ایتھرٹن، جیف بائیکاٹ، مائیک اسمتھ، آسٹریلیا کے سائمن کیٹچ، گریگ بلیوٹ، ہندوستان کے سارو گنگولی، نیوزی لینڈ کے جان رائٹ، ویسٹ انڈیز کے رچی رچرڈسن اور پاکساتن کے سابق کپتان سلیم ملک کیریئر میں دو مرتبہ 99 رنز پر آؤٹ ہوئے۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنیوالے پہلے پاکستانی بلے باز

بولرز کے سامنے چٹان بن جانے والے خان آف مردان ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار
رنز کا کلب جوائن کرنے والے پاکستان کے پہلے جبکہ دنیا کے تیرہویں بیٹسمن بن گئے۔  طویل دورانیے کی کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے کا طویل سفر مرد بحران ہی نہیں بلکہ مرد میدان یونس خان نے بھی پورا کر لیا، سٹار مڈل آرڈر بیٹسمین نے کیرئر کے 116 ویں ٹیسٹ میچ میں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا، یونس خان 34 سنچریز اور 32 نصف سنچریز کی بدولت دس ہزار رنز بنانے والے پاکستان کے پہلے بلے باز جبکہ دنیا کے تیرہویں بیٹسمین بن گئے ہیں، اس گروپ میں ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر 15921 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں، لیجنڈ رکی پونٹنگ دوسرے اور جیک کیلس تیسرے نمبر پر ہیں، راہول ڈریوڈ، کمار سنگا کارا، برائن لارا، شیونرائن چندرپال، مہیلا جے وردھنے، ایلن بورڈر، الیسٹر کُک، سٹیووا اور سنیل گواسکر بھی دس ہزار رنز کلب کا حصہ ہیں۔

یونس خان نے سن دوہزار میں سری لنکا کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری بنائی، گیارہ ممالک میں ٹیسٹ سنچری بنانے والے دنیا کے واحد بلے باز ہیں، ٹیسٹ میچز کی چوتھی اننگز میں پانچ سنچریوں کے ریکارڈ  پر بھی یونس خان کا قبضہ ہے، وزڈن میگرین بھی یونس خان کی خدمات کا معترف، انہیں دوہزار سولہ کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیا گیا۔ یونس خان نے کامیابی کا کریڈیٹ فیملی، والدین اور سابق کوچ باب وولمر کے نام کر دیا، خصوصی ویڈیو پیغام میں یونس خان نے کہا یہ اعزاز پورے پاکستان کی کامیابی ہے۔

عظیم ترین بلے بازوں میں شامل یونس خان ایک پاکستانی تھا

آج سے 17 سال قبل پاکستان اور سری لنکا راولپنڈی میں مد مقابل تھے۔ یہ دو طرفہ ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ تھا۔ کپتان سعید انور ٹاس ہار گئے اور جے سوریا نے پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے ڈالی۔ پاکستانی بیٹنگ حسب روایت اس دعوت کو ہضم نہ کر پائی اور صرف 182 رنز بنا کر آل آوٹ ہو گئی۔ چھٹے نمبر پہ بیٹنگ کے لیے ایک دبلا پتلا سا لڑکا آیا۔ یہ اس کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔ اور اسکور بورڈ کا دباؤ اس سے سوا تھا۔ جس بولنگ اٹیک کے سامنے سعید انور، عامر سہیل، انضمام الحق اور یوسف کچھ نہ کر پائے، وہاں یہ 22 سالہ نوجوان کیا کرتا۔ اس نے 55 گیندوں کا سامنا کیا اور صرف 12 رنز بنا کر آوٹ ہو گیا۔

میچ کی دوسری اننگز میں جب وہی لڑکا دوبارہ بیٹنگ کے لیے آیا تو پاکستان پہلی اننگ کا خسارہ بھگتاتے بھگتاتے پانچ وکٹیں گنوا چکا تھا۔ مگر وہ لڑکا ڈٹ گیا۔ دوسرے اینڈ پر وکٹیں گرتی رہیں لیکن پھر وسیم اکرم کے ہمراہ نویں وکٹ کے لیے 145 رنز کی پارٹنرشپ بنا کر اس لڑکے نے ایک مردہ میچ میں جان ڈال دی۔ اگرچہ نہایت سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان وہ میچ دو وکٹوں سے ہار گیا لیکن وہ لڑکا ڈیبیو پہ سینچری کرنے والا ساتواں پاکستانی بن گیا۔ آج 17 برس بعد وہی لڑکا ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے والا پہلا پاکستانی بن چکا ہے۔ آج یونس خان صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا کے چند بہترین بلے بازوں کی فہرست میں کھڑے ہیں۔

اگرچہ ڈیبیو پہ سینچری کرنا کوئی معمولی بات نہیں لیکن تب یونس کی تکنیک اور سٹائل کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں تھا کہ یہ لڑکا وہ کچھ کر جائے گا جو اس سے پیشتر آنے والے کئی عظیم بلے باز بھی نہ کر سکے۔ ٹیسٹ کرکٹ دنیا کا مشکل ترین کھیل ہے۔ کوئی دوسرا کھیل مسلسل پانچ دن اور 15 سیشنز تک کھلاڑی کے اعصاب کا امتحان نہیں لیتا۔ اس کھیل میں بعض اوقات ایک ایک رن کے لیے پہروں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک سینچری کے لیے پورا پورا دن کریز پہ گزارنا پڑتا ہے۔ یہی نہیں، اس بیچ کم از کم دو وقفوں سے، اور بسا اوقات رات بھر انتظار سے گزرنا پڑتا ہے۔

کل جب یونس خان بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو سبھی کو اس لمحے کا انتظار تھا جب صرف 23 رنز بنانے کے بعد وہ 10،000 رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی ٹھہریں گے۔ خود یونس خان کو ان 23 رنز کے لیے، بارش کے سبب، کم از کم ایک اور رات انتظار میں کاٹنا پڑی تھی۔ لیکن کریز پر آتے ہوئے یونس کی چال سے ایسی کوئی بے صبری نہیں جھلک رہی تھی۔ پہلا رن بنانے کے لیے یونس نے 19 گیندوں تک انتظار کیا۔ گو وہ اپنے ہدف سے چند ہی قدم دور تھے لیکن ویسٹ انڈیز کی اچھی بولنگ کا احترام کرتے کرتے لنچ کا وقفہ آ گیا۔ تب تک یونس بغیر کوئی رن بنائے دس گیندیں کھیل چکے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یونس کو تاریخ رقم کرنے کے لیے کم از کم 40 منٹ اور انتظار کرنا پڑے گا۔

لیکن لنچ کے بعد بھی یونس نے کسی بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ جب چائے کے وقفے کے لیے یونس خان میدان سے باہر جا رہے تھے تو وہ 82 گیندیں کھیل چکے تھے لیکن پھر بھی اس تاریخی اعزاز سے ایک رن پیچھے تھے۔ گویا ایک رن کے لیے انھیں کم از کم 20 منٹ مزید انتظار کرنا تھا۔ بالآخر چائے کا وقفہ ختم ہوا۔ یونس واپس آئے۔ روسٹن چیز نے بولنگ کا آغاز کیا۔ اوور کی دوسری گیند پہ یونس خان نے اپنا گھٹنا زمین پہ ٹکایا اور فائن لیگ کی جانب سویپ شاٹ کھیل کر تاریخ میں امر ہو گئے۔

یونس کے تمام کریئر کو ایک طرف رکھ  دیجیے اور صرف ان کے کریئر کی اس اہم ترین اننگ کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہ ایک اننگ ہی اس سوال کا جواب دینے کو کافی ہے کہ کیسے ایک اوسط تکنیک اور معمولی سٹائل والے کھلاڑی نے وہ کر دکھایا جو اس سے کہیں بہتر تکنیک اور سٹائل والے میانداد، انضمام اور یوسف بھی نہ کر پائے۔ اور اسی پہ موقوف نہیں، یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے معمر ترین کھلاڑی ہیں۔ 39 سال وہ عمر ہے جب ٹیسٹ پلیئرز یا تو کسی ڈریسنگ روم میں بیٹھے نوجوانوں کو مشورے دے رہے ہوتے ہیں یا پھر کمنٹری باکس میں بیٹھے اپنے ماضی کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن یونس خان اپنی عمر کے 39 سال اور 145 دن گزارنے کے بعد سبائنا پارک میں کھڑے ڈریسنگ روم کی جانب بلا لہرا رہے تھے اور اپنی شرٹ پہ پاکستان کے بیج کو چوم رہے تھے۔

سوال یہ ہے کہ یونس خان جیسے بیٹسمین نے یہ طویل سفر کیسے طے کر لیا۔

پاکستان کے کرکٹ کلچر میں 17 سال گزارنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یونس کو بھی اس وادی پرخار سے گزرنے کے لیے تیشہ فرہاد کی سی ہمت دکھانا پڑی۔ اس دوران ان کی تکنیک تو موضوع سخن رہی ہی، ٹیم میں ان کی جگہ بھی ہمیشہ شرح غالب کی طرح گھمسان کے مباحث برپا کرتی رہی۔ وہ کئی بار ڈراپ ہوئے۔ بارہا انھیں بتایا گیا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے، انھیں چلے جانا چاہیے۔ نہ تو وہ کبھی پی سی بی کے محبوب رہے اور نہ ہی میڈیا کی آنکھوں کا تارا۔ اور ستم یہ کہ انھیں سرف، نمکو اور بوتلیں بیچنے کا ہنر بھی نہیں آتا تھا۔

لیکن اس سب کے بیچ ایک چیز تھی جو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ وہ تھی یونس خان کی کرکٹ کے لیے عزت۔ کہنے والوں نے جو بھی کہا، یونس نے ہمیشہ اپنے کھیل کی عزت کی۔ اپنی ٹیم کو ترجیح دی۔ اپنے ملک کو مقدم رکھا۔ یونس خان کہتے ہیں کہ جب کبھی وہ بہترین بیٹنگ کے ریکارڈز پہ نظر ڈالتے تھے تو انھیں یہ چیز تکلیف دیتی تھی کہ سب سے زیادہ رنز کی فہرست میں پاکستان کا نام نہ دکھائی دیتا تھا۔ شاید یہی وہ تحریک تھی کہ ڈھلتی عمر کی تھکن اور طعن اغیار کے باوجود وہ ڈٹے رہے اور بالآخر کل وہ دن آ ہی گیا جب ٹیسٹ کرکٹ کی ایلیٹ کلاس میں پاکستان کا نام بھی شامل ہو گیا۔

یہ بات خاصی پریشان کن ہے کہ پاکستان اور یونس خان کا ساتھ اب صرف پانچ اننگز تک ہی رہے گا۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ پاکستان کی اکثریت نے کبھی بھی یونس خان کو وہ رتبہ نہیں دیا جس کے وہ حق دار تھے۔ نہ صرف یہ کہ انھوں نے پاکستان کے لیے ایک ورلڈ کپ جیتا بلکہ 2009 کے بعد شروع ہونے والے پاکستان کرکٹ کے مشکل ترین دور میں انھوں نے ایک بے گھر ٹیم کو سنبھالے رکھا۔ اپنے جونئیرز کی قیادت میں بھی اسی عزم سے کھیلے جیسے کبھی اپنے سینیئرز کے ہمراہ کھیلا کرتے تھے۔

اور اس سارے سفر کے بیچ وہ پاکستان کرکٹ کو یہ سکھلا گئے کہ کوئی تکنیک، کوئی کلاس اور کوئی سٹائل بھی ارادے سے بڑا نہیں ہوتا۔ یہ یونس کا عزم تھا کہ پاکستان کا نام بھی اس ایلیٹ کلب کا حصہ بنے جہاں برائن لارا، راہول ڈریوڈ، سچن ٹنڈولکر، رکی پونٹنگ اور سنگاکارا بستے ہیں۔ اس عزم کی جستجو میں نہ صرف وہ خود امر ہو گئے بلکہ پاکستان بھی سرخرو ہو گیا۔ جب کبھی دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں کا ذکر ہو گا تو ان میں یونس کا نام بھی آئے گا۔ اور تب ہم فخر سے بتائیں گے کہ یہ عظیم بلے باز یونس خان ایک پاکستانی تھا۔

سمیع چوہدری

کرکٹ تجزیہ کار

پاکستان کرکٹ کی کہکشاں سے روشن ستارے جدا ہو گئے

سنا تھا کہ جب ٹیمیں عالمی سطح پر بری طرح شکستوں سے دو چار ہوتی ہیں تو
ان ناکامیوں کا نزلہ کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ پر ہی گرتا ہے۔ بورڈ عہدیدار پلیئرز، کوچز اور ٹیم منیجرز کو قربانی کے بکرے بنا کر بڑی مہارت سے اپنی کرسیاں بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس بار تو تمام اندازے اور روایات بالکل الٹ ہو گئیں، ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ابھی شروع ہوئی نہیں کہ کپتان مصباح الحق کے بعد یونس خان نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا،ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے شاہد آفریدی نے بھی کرکٹ کا بھرا میلہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے یہ تینوں ایسے کھلاڑی ہیں جن کی عالمی سطح پر کرکٹ خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مصباح الحق کی بات کی جائے تو جن حالات میں انہیں پاکستانی ٹیم کی قیادت ملی اور پھر وہ بلندی جہاں تک وہ گرین کیپس کو لے کر بھی گئے، ٹیسٹ کرکٹ میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔ 2010 کے لارڈز ٹیسٹ کو ہی دیکھ لیں جب کپتان سلمان بٹ سمیت 3 اہم کھلاڑی سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوئے، ہر طرف سے لعن طعن، شرمندگی، پست حوصلوں اور عالمی کرکٹ میں تنہائی کا شکار ٹیم اپنے ملک میں کھیلنے سے بھی محروم تھی، فکسرز کی ملی کالک شاید قومی شرمندگی کی علامت بن گئی تھی اور نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ پاکستان پر کرکٹ کے عالمی دروازے تک بند ہو سکتے تھے لیکن 6 برس بعد اسی ٹیم کا منکسرالمزاج قائد دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کا ایوارڈ آئی سی سی کے سربراہ سے وصول کر رہا تھا، یہ ٹیم عمران خان یا وسیم اکرم کی ٹیم نہیں تھی، بڑے بڑے ناموں کے بغیر پاکستان کرکٹ کو فرش سے عرش پر پہنچا دینے کا کریڈٹ اگر کسی کو دیا جا سکتا ہے تو وہ صرف مصباح الحق ہی ہو سکتے ہیں۔ وہی مصباح جو اس مشکل سفر کے دوران پاکستان کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان اور ٹیم کا سب سے قابل ِ بھروسہ بیٹسمین بن کر ابھرے۔

مصباح ان باصلاحیت کھلاڑیوں میں سے نہیں ہیں جو اچانک دنیائے کرکٹ میں آئے اور کم عمری میں ہی بین الاقوامی میچز میں جلوہ گر ہو کر یہ عندیہ دے دیا کہ وہ آئندہ دنوں میں کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی بن سامنے آئیں گے، وہ نہ مشتاق محمد، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس یا شاہد آفریدی تھے اور نہ ہی محمد عامر جیسے ہونہار کھلاڑیوں کی طرح تھے بلکہ ان کرکٹرز کے برعکس وہ لڑکپن اور اوائلِ نوجوانی میں بین الاقوامی کرکٹ میں دور دور تک نظر نہیں آئے۔ 2001 میں 27 برس کی عمر میں جب وہ بالاخر پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے تب ان کی قابلیت اور ہنر کے بارے میں کچھ بھی فطری نہیں تھا، پھر بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سابق پاکستانی کپتان اور آل راؤنڈر عمران خان کی طرح مصباح بھی مسلسل محنت کرتے ہوئے عظیم کہلانے کے رتبے پر جا پہنچے۔

یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ میں مصباح الحق بہت دیر سے سامنے آئے اور جب انہوں نے ٹیم کی قیادت سنبھالی اس وقت پاکستان کی کرکٹ مشکلات کی زد میں تھی، ٹیم اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے بکھری ہوئی تھی اور شدید اندرونی کشمکش کا شکار تھی۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ تھی کہ مصباح، کرکٹ سے دیوانگی رکھنے والے ملک کی ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے جو اپنے وجود کی بقا کی سست مگر افراتفری سے بھرپور اندرونی جنگ لڑ رہا تھا، دہشت گرد حملوں اور بم دھماکوں میں الجھا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم شہریوں، فوجی اور پولیس اہلکار جاں بحق ہو چکے تھے، جب ملک میں یہ سب جاری تھا اس دوران مصباح ایسی پاکستانی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے جو اپنے میچز غیر ملکی میدانوں میں یو اے ای میں کھیلنے پر مجبور تھی۔

مصباح نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے ملک میں کسی ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی سربراہی نہیں کی اور نہ ہی ایسے میدانوں اور تماشائیوں کے درمیان کھیلا جن سے کھلاڑی زیادہ آشنا ہوتے۔ پھر بھی اپنے سارے میچز غیر ملکی میدانوں میں جیت کر انہوں نے خود کو ملک کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان ثابت کیا، اور ایسا کارنامہ سرانجام دیا جو کرکٹ کے عظیم کپتان بھی نہیں کر پائے۔ مصباح کی غیر معمولی اور ایک حد تک انوکھی کہانی ایک ایسے بیٹسمین کے بارے میں ہے جس نے کافی دیر سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا جب ان کو ٹیم کو شامل کیا گیا تب تک وہ 27 برس کے ہوچکے تھے اور جب انہیں ڈراپ کیا گیا تو اگلے پانچ سالوں تک ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا، پھر ٹی 20 فارمیٹ کے پہلے ورلڈ کپ کے دوران اچانک ہی ملک کی ٹی 20 ٹیم میں شامل کر لیا گیا، جس میں انہوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور پاکستان کو فائنل میں فتح کے قریب لا کھڑا کر دیا، انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں خود کو مضبوط رکھا، پھر دوبارہ ڈراپ کیے گئے، وہ بھلا ہی دیئے گئے تھے مگر پھر اچانک ہی 2010 میں کرکٹ بورڈ کو مصباح یاد کیا گیا اور 36 برس کی عمر میں انہیں کپتان بنا دیا گیا۔

2007 میں شعیب ملک کو انضمام الحق کی جگہ بطور کپتان مقرر کیا گیا تھا، جن کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز میں ورلڈ کپ کے دوران بدترین شکست ہوئی تھی۔ انضمام ریٹائر ہوئے اور نوجوان، قابل اور کسی حد تک چیلنجنگ ملک کو ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا گیا۔ جب ٹیم جنوبی افریقہ میں ہونے والے پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے نامزد ہوئی تو شعیب ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت کے 33 سالہ مصباح کو ٹیم میں شامل کیا جائے اور وہ بھی محمد یوسف جیسے تجربہ کار نمایاں کھلاڑی کی جگہ پر ان کو شامل کیا جائے، یوسف کی ٹیم سے بے دخلی پر مداحوں اور میڈیا میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا، مصباح الحق نے مختصر طرز کے عالمی کپ میں اپنی پرفارمنس سے اپنا انتخاب درست بھی کر دکھایا۔

مصباح کے بارے میں مشہور ہے کہ کبھی کوئی بغض نہیں پالتا، مگر وہ کسی کے ہمدردانہ عمل کو بھی نہیں بھولتے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے اتفاق نہیں کیا جا رہا یا غیر منصفانہ طور پر ان پر تنقید کی جا رہی ہے تو وہ خاموشی سے وہاں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر کسی کی سخاوت یا نرم دل اقدام کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی انتظامی صلاحیت نہایت ہی عمدہ ہے، وہ ہر ایک کھلاڑی کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ہر کھلاڑی سے اس کے مطابق پیش آتے ہیں، وہ ان سب کو تحمل سے سنتے ہیں۔

مصباح کی کپتانی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ سینئرز کو اپنی عزت جونیئرز سے ہی کمانی ہو گی، اور اسے اپنا حق نہیں سمجھا جا سکتا۔ کوئی دور تھا جب سینئرز رعونت سے پیش آتے تھے، نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے قابو میں رکھتے اور ان سے سینئرز کے معمولی سے معمولی کام کی توقع کی جاتی تھی، مصباح نے اس طریقے کو بدل کر رکھ دیا۔

مصباح الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی ٹیم کی بیٹنگ کے اہم ستون یونس خان بھی انٹرنیشنل کرکٹ سے الگ ہو گئے ہیں، ہفتہ کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے کھیلنے کی کوشش کی اور یہی سوچا کہ کھیل کے دوران میرا سر فخر سے بلند رہے، ہرکھلاڑی کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب وہ اپنے جنون سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور میرا وقت بھی آگیا ہے، وہ اعلان کرتے ہیں کہ دورہ ویسٹ انڈیز ان کا آخری دورہ ہو گا، اس کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں 115 میچز کی 207 اننگز میں 53.06 کی اوسط سے 9977 رنز بنا چکے ہیں اور انہیں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے لئے صرف 23 رنز درکار ہیں۔ اگر یونس خان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلتے ہیں تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پاکستان ٹیسٹ ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں نے شاید اتنے رنز نہیں بنائے ہوں گے جتنے یونس خان اور مصباح الحق نے بنا رکھے ہیں۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب شاہد آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہا تھا، بوم بوم سے زیادہ تفریح شاید ہی کسی کرکٹر نے شائقین کو فراہم کی ہو، مصباح الحق، یونس خان اور شاہد آفریدی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایسے پلیئرز بار بار پیدا نہیں ہوتے، کرکٹ بورڈ نے کیریئر کے دوران ان عظیم پلیئرز کو وہ عزت نہیں دی جو ان کا حق تھی، اب بھی پی سی بی حکام ان کو باوقار انداز میں رخصت کر کے اپنی غلطیوں کا کسی حد تک اژالہ کر سکتے ہیں، مصباح الحق اور یونس خان کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کرتے ہوئے اگر شاہد آفریدی کو بھی یاد رکھا جائے تو کوئی برائی نہیں۔

عمران شاید پاکستانی کے دیومالائی کردار ہیں، آفریدی پاکستانیوں کے تصورات کے ہیرو ہیں، یونس خان نے بھی اپنے عمدہ کھیل سے کرکٹ میں خاص مقام بنایا مگر مصباح پاکستان کی حقیقت ہیں۔ مصباح اپنے پیچھے ایسی پاکستانی کرکٹ ٹیم چھوڑ  کر جا رہے ہیں جس میں ایک بھی عمران خان، یونس خان، شاہد آفریدی، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، جاوید میانداد اور عبدالقادر جیسا بڑا کھلاڑی موجود نہیں ، سرفراز احمد بھی انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرفراز احمد ٹوئنٹی 20، ایک روزہ اور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے ساتھ انصاف کر سکیں گے، کیا ٹیم میں موجود نوجوانوں کھلاڑیوں میں کوئی سٹار پلیئر بن کر ابھرے گا، کیا پاکستانی ٹیم عالمی رینکنگ میں تنزلی کی چلتی گاڑی کو بریک لگا سکے گی اور کیا گرین شرٹس براہ راست ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے، یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب آنے

والا وقت ہی بتائے گا۔

میاں اصغر سلیمی

مقبوضہ کشمیرکے کرکٹرز کا پاکستان سے اظہار محبت

مقبوضہ کشمیرکے کرکٹرز نے پاکستان ٹیم کی سبز یونیفارم پہن کر میچ کھیلا جب کہ میچ سے قبل پاکستان کا قومی ترانہ بھی احترام سے پڑھا گیا۔ انٹرنیٹ پر ایک وڈیو تیزی سے پھیل رہی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے گندر بل ڈسٹرکٹ میں 2 ٹیمیں کرکٹ میچ کیلیے آمنے سامنے ہیں، ایک ٹیم نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی یونیفارم پہن رکھی ہے جب کہ دوسری ٹیم نے سفید کٹ پہنی ہوئی ہے، میچ شروع ہونے سے قبل احتراماً پاکستان کا قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔  بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ میچ ایسے موقع پر کھیلا گیا جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا۔

گندر بل کے مشہور صوفی بزرگ بابا دریا الدین کے نام سے منسوب ٹیم کے پلیئرز نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو مختلف انداز میں اجاگر کرنا چاہتے تھے، ہم کسی سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے، ہم نے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی، صرف ایک کرکٹ میچ کھیلا ہے جس میں ہم نے اپنے مادر وطن سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود اس وڈیو کو کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال 2 کشمیری موسیقاروں نے روایتی سازوں کے ساتھ پاکستان کا قومی ترانہ گایا تھا جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

مصباح الحق اور یونس خان وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز یونس خان اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو سال 2017 کے وزڈن کرکٹرز میں شامل کر لیا گیا۔ وزڈن کرکٹرز المانیک نے سال 2017 کے بہترین کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا جس میں پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے دو بڑے نام یونس خان اور مصباح الحق کو بھی شامل کر لیا گیا۔ وزڈن کرکٹرز کی فہرست میں رواں سال ایشیائی کھلاڑیوں کا راج رہا جہاں ہندوستان کے کپتان ویرات کوہلی کو بھی نامزد کیا گیا جس کے بعد تین ایشیائی کھلاڑیوں نے جگہ بنائی ہے۔

یونس خان کی جانب سے 2016 میں دورہ انگلینڈ میں بہترین کارکردگی کے باعث پاکستان ٹیم نے سیریز کو 2-2 سے برابر کر دیا تھا جس کے بعد قومی ٹیم پہلی مرتبہ آئی سی سی کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر آگئی تھی۔ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے ٹیسٹ کی نمبرایک ٹیم بننے کا اعزازحاصل کیا تھا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان، وقار یونس، وسیم اکرم اور جاوید میانداد بھی وزڈن کرکٹرز میں شامل رہ چکے ہیں۔

2017 میں وزڈن کرکٹرز کی فہرست میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں میں ایک اور بڑا نام ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا ہے جنھوں نے نہ صرف اپنی ذاتی کارکردگی سے بھارت کو فتوحات دلائیں بلکہ بطور کپتان اپنی ٹیم کو دنیا کی سرفہرست ٹیم بنایا اور یکم اپریل کے مقرر وقت تک اس درجے کو برقرار رکھ کر سب سے زیادہ انعام پانے والی ٹیسٹ ٹیم بننے کا بھی اعزاز حاصل کیا تھا۔ ویرات کوہلی کو دنیا کا سرفہرست کھلاڑی قرار دیا گیا۔

انگلینڈ کے کرکٹر بین ڈکٹ، کرس ووکس اور ٹی ایس رولینڈ کا نام بھی وزڈن کرکٹرز 2017 کی فہرست میں شامل ہے۔ آسٹریلیا کی ایلیسی پیری نے خواتین وزڈن کرکٹر2017 کا اعزاز اپنے نام کیا۔ یاد رہے کہ 1889 میں شروع کیا گیا وزڈن کرکٹرز ایوارڈ کسی بھی کھلاڑی کو کیریئر میں ایک مرتبہ دیا جاتا ہے۔