فیفا رینکنگ میں فلسطینی فٹ بال ٹیم اسرائیل سے 16 درجے اوپر

فیفا کی ورلڈ رینکنگ میں فلسطین کی فٹ بال ٹیم اپنی بلند ترین رینکنگ پر پہنچی اور اسرائیل کی فٹ بال ٹیم کو پیچھے چھوڑ دیا۔ فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سربراہ نے اس کو تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ فلسطینی ٹیم فیفا کی عالمی رینکنگ میں 84 ویں سے 82 ویں پوزیشن پر آ گئی ہے جبکہ اسرائیلی ٹیم 82 ویں پوزیشن سے 98 ویں پوزیشن پر چلی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی ٹیم روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی ہے۔ فلسطینی ٹیم نے حال ہی میں کئی میچ جیتے ہیں بشمول ایک میچ بھوٹان کے جس میں اس نے بھوٹان کو 10 صفر سے شکست دی۔

فیفا کی عالمی رینکنگ ایسے وقت میں آئی ہے جب فلسطینی فٹ بال ایسوی ایشن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیوں میں چھ فٹ بال کلبوں کے خلاف ایکشن کے لیے فیفا سے کہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں اور فلسطینی فٹ بال ایسوی ایشن نے فیفا سے اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف کارروائی کے لیے کہا ہے۔ گذشتہ ماہ فیفا نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ فلسطینی فٹ بال ایسوی ایشن نے فیفا پر اسرائیلی دباؤ کا الزام عائد کیا تھا۔ اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیر کھیل نے فٹ بال ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا ‘ہم فلسطینی فٹ بال ٹیم کو مبارکباد دیتے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ کسی بھی وقت دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔’ فلسطینی فٹ بال ٹیم کو فیفا نے 1998 میں تسلیم کیا تھا۔

Advertisements

اٹلی ساٹھ برس میں پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں ناکام

Italy fails to qualify for World Cup

چار بار فٹبال کا عالمی مقابلہ جیتنے والے ملک اٹلی کی ٹیم گذشتہ 60 برس میں پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ورلڈ کپ میں شامل ہونے کے لیے میلان میں کھیلے جانے والے پلے آف میچ میں اٹلی اور سویڈن کا مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا۔ اس طرح سویڈن کی ٹیم آئندہ سال روس میں ہونے والے مقابلے کے لیے کوالیفائی کر گئی۔ اس شکست کے بعد اٹلی کے عالمی شہرت یافتہ گول کیپر جین لوئجی بوفون نے اپنے بین الاقوامی کریئر کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے چشم پرنم سے کہا کہ اٹلی کی فٹبال کے لیے انھیں افسوس ہے۔
39 سالہ بوفون نے کہا: ‘یہ بہت شرم کی بات ہے کہ میرا آخری آفیشل گیم ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر پانے والا میچ ثابت ہوا۔’ انھوں نے مزید کہا: ‘ہر کوئی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔’

ان کے ساتھ جووینٹس کے ان کے ساتھی کھلاڑی آندرے برزاگلی اور روما کے مڈ فیلڈر ڈینیئل دا روسی نے اٹلی کے ساتھ اپنے کریئر کے خاتمے کا اعلان کر دیا جبکہ جارجیو چیلینی کے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چاروں نے مل کر 461 ميچ میں شرکت کی ہے۔ گول کیپر بوفون نے اپنے 20 سالہ کریئر میں ملک کے لیے 175 میـچز میں شرکت کی ہے اور وہ سنہ 2006 میں ورلڈ کپ جیتنے والی اطالوی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اٹلی کا مستقبل ابھی بھی تابناک ہے۔ انھوں نے کہا: ‘اطالوی فٹبال کا یقینا مستقبل ہے کیونکہ ہم میں غیرت، صلاحیت اور لگن ہے اور بری طرح لڑکھرانے کے بعد ہم نے ہمیشہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا راستہ نکالا ہے۔ ‘ اٹلی کے اخبار ‘لا گیزٹا ڈیلو سپورٹ’ نے ٹیم کی ناکامی کو ‘قیامت کی پیش گوئی’ سے تعبیر کیا ہے اور کوچ جیان پیئرو وینٹورا کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

اٹلی کے 69 سالہ کوچ وینٹورا کا ٹیم کے ساتھ سنہ 2020 تک معاہدہ ہے۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا: ‘میں نے ابھی تک استعفی نہیں دیا ہے کیونکہ ابھی تک میری صدر سے بات نہیں ہوئی ہے۔ تاخیر کے لیے معافی چاہتا ہوں لیکن ہر ایک کھلاڑی جن کے ساتھ میں نے کام کیا میں فردا فردا ہر ایک کو سلام کرنا چاہتا ہوں۔’ انھوں نے استعفے کے بارے میں کہا: ‘اس سے قبل بہت سے مسائل کو دیکھنا ہے۔ فیڈریشن کے ساتھ ملاقات میں اس پر غور کریں گے۔’

کرسٹیانو رونالڈو : اپنے دور کا بہترین کھلاڑی

‘بڑے میچوں میں وہ ہمیشہ کارکردگی دکھاتا ہے۔ رونالڈو بلاشبہ اپنے دور کا بہترین کھلاڑئ ہے۔’ یہ الفاظ تھے سابق فرانسیسی کپتان اور فٹبال لیجینڈ زینیدین زیدان کے۔ پرتگال اور ریال میڈرڈ کے لیے کھیلنے والے سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کو لندن میں منعقدہ فیفا ایوارڈز میں رواں سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔ رونالڈو نے یہ ایوارڈ ارجنٹینا اور بارسلونا کی نمائندگی کرنے والے سٹار فٹبالر اور حریف لائنل میسی کو شکست دے کر حاصل کیا۔ چاہے وہ فٹبال کے چاہنے والے ہوں یا کھیل پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین رونالڈو اور میسی کی بحث ان کے لیے کبھی پرانی نہیں ہوتی۔

مجھے یاد ہے کہ میسی اور رونالڈو سے پہلے بالکل اسی انداز میں فٹبال شائقین زینیدین زیدان اور برازیل کی طرف سے کھیلنے والے سٹار کھلاڑی رونالڈو نزاریو کا موازنہ کرتے تھے۔ شائقین فٹبال میں اوریجینل رونالڈو یا رونالڈو نائن کے نام سے جانے جانے والے نزاریو کا کریئر اپنے عروج پر تھا جب انھیں گھٹنے کی انجری اور ہائپو تھائرائڈ کی بیماری لاحق ہو گئی۔ ماہرین فٹبال آج بھی اسے ’گریٹیسٹ سپورٹنگ ٹریجیڈی‘ یعنی کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا سانحہ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ اپنے عروج پر رونالڈو نزاریو تقریبًا ہر میچ میں تین سے چار ڈیفینڈروں کے درمیان سے گیند نکال کر لے جاتے ہوئے نظر آتے تھے۔

برازیلین رونالڈو اگر کھیل جاری رکھتے تو وہ کہاں ہوتے اور ان کا مقام کیا ہوتا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن یہاں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اس زمانے میں لوئس فیگو، روبرٹبو کارلوس، مروسلو کلوزے اور راؤل جیسے کھلاڑی بھی موجود تھے۔ لیکن میڈیا اور شائقین کی زیادہ توجہ زیدان اور رونالڈو پر رہتی تھی جیسا کہ آج کے دور میں یہ توجہ کرسچیانو رونالڈو اور لائنل میسی پر مرکوز رہتی ہے۔ رونالڈو نزاریو کا کیریر اپنے عروج پر تھا جب انھیں گھٹنے کی انجری اور ہائپو تھائرائڈ کی بیماری لاحق ہو گئی.

کہتے ہیں کہ تیس کا ہندسہ پار کرنے کے بعد فٹبال کھلاڑی اپنے کیریر کے آخری راؤنڈ میں داخل ہو جاتے ہیں، جہاں ان کے پاس 4 زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے عرصہ کا فٹبال رہ جاتا ہے۔ رونالڈو اس وقت بتیس کے ہیں اور میسی 30 کے۔ تو ان دونوں کھلاڑیوں کے بعد کونسے ایسے کھلاڑی ہیں جو کہ ان کی جگہ لے سکتے ہیں۔ حال ہی میں پیرس سینٹ جرمین کو ٹرانسفر ہونے والے 25 سالہ نیمار جونئیر کا شمار دنیا فٹبال کے بہترین ڈربلرز میں سے ہوتا ہے۔

رونالڈہینیو، روبرٹو کارلوس اور رونالڈو نزاریو کے بعد بہت عرصے بعد برازیل کی طرف سے ایک مکمل کھلاڑی سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب فٹبال کا گھر لاطینی امریکہ سے تبدیل ہو کر کے یورپ ہو گیا ہے۔ نیمار نہ صرف جدید فٹبال کو سمجھتے ہیں بلکہ وہ ٹیم پلئیر بھی ہیں۔ بارسلونا کی طرف سے کھیلتے ہوئے نیمار، لوئس سواریز اور لائنل میسی نے شراکت میں تین سیزنز میں تین سو سے زیادہ گول کیے ۔

دوسرے نمبر پر ہیں چھبیس سالہ فرنچ کھلاڑی انٹوان گریزمن۔ ہسپانوی کلب ایتھلیٹکو میڈریڈ کی طرف سے کھیلنے والے گریزمن گزشتہ سیزن میں گولز کی تعداد ٹیبل پر رونالڈو اور میسی کے بعد تیسرے نمبر پر تھے۔ تیسرے نمبر پر ہیں انگلش کھلاڑی ہیری کین۔ چاہے وہ مڈفیلڈ سے تھرو پاس ہو یا پھر ونگر کی طرف سے بھیجا گیا کراس، ہیری کین اسے پلک چھپکتے گول میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ٹاٹنہم ہاٹ سپرز کی طرف سے فارورڈ کی پوزیشن پر کھیلنے والے ہیری کین کو ‘ڈیڈلیئسٹ فنشرر آف دی گیم’ کہا جا رہا ہے۔ انھوں نے پچھلے گیارہ میچوں میں پندرہ گول سکور کیے ہیں۔ چوتھے نمبر پر ہیں 18 سالہ کائلن ایمباپے۔ فرانس کی قومی ٹیم اور پی ایس جی کی طرف سے فارورڈ پوزیشن پر کھیلنے والے ایمباپے نے گزشتہ سیزن میں موناکو کی طرف سے کھیلتے ہوئے پندرہ گول کیے تھے۔

غضنفر حیدر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

مانچیسٹر یونائیٹڈ تین ارب یوروز کے ساتھ سب سے قیمتی فٹبال کلب

یورپ کے بڑے فٹبال کلبز کی ‘کاروباری قدر’ متعین کرنے کی ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ کا معروف فٹبال کلب مانچیسٹر یونائیٹڈ تین ارب یوروز کے ساتھ سب سے قیمتی فٹبال کلب ہے۔ مانچیسٹر یونائیٹڈ نے حال ہی میں یوروپا کپ میں ہالینڈ کے کلب ایاکس کو شکست دی تھی۔ بزنس سروس گروپ کے پی ایم جی کی جانب سے کی گئی اس رپورٹ کے مطابق سپین سے تعلق رکھنے والے کلبز ریئل میڈرڈ اور بارسلونا دوسرے اور تیسرے درجے پر ہیں۔

کے پی ایم جی نے یورپ کے 32 کلبز پر تحقیق کی اور ان کے براڈ کاسٹنگ حقوق، منافع، مشہوری، جیتنے کی صلاحیت اور سٹیڈیم کی ملکیت کا جائزہ لیا تھا۔
اس تحقیق کے مصنف کے پی ایم جی کے اینڈریا سارٹوری نے کہا کہ مجموعی طور پر فٹبال کی صنعت کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ‘براڈکاسٹنگ کی مدد سے فٹبال کی مشہوری میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے علاوہ اور بھی وجوہات ہیں جیسے بہتر انتظامی امور، بہتر سہولتیں اور بہتر تجارتی سرگرمیاں جن کی مدد سے اس صنعت کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔’

کلب ملک کاروباری قدر
مانچسٹر یونائیٹڈ انگلینڈ 3.09 ارب یوروز
ریئل میڈرڈ سپین 2.97 ارب یوروز
بارسلونا سپین 2.76 ارب یوروز
بائیرن میونخ جرمنی 2.44 ارب یوروز
مانچسٹر سٹی انگلینڈ 1.97 ارب یوروز
آرسنل انگلینڈ 1.95 ارب یوروز
چیلسی انگلینڈ 1.59 ارب یوروز
لیورپول انگلینڈ 1.33 ارب یوروز
یئونٹس اٹلی 1.21 ارب یوروز
ٹوٹین ہام ہاٹ سپرز انگلینڈ 1.01 ارب یوروز

ان 32 کلبز میں سے پہلے دس کلبز میں سے چھ کلبز کا تعلق انگلینڈ کی پریمئیر لیگ سے ہے۔ اس بارے میں اینڈریا سارٹوری نے کہا: ‘ میڈیا حقوق کے حوالے سے بات کریں تو انگلش پریمئیر لیگ یورپ کی دوسری لیگز کے مقابلے میں سب سے آگے ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ دوسری لیگز نے بھی اپنی حکمت عملی میں بھی تبدیلیاں کی ہیں تا کہ وہ عالمی سطح پر شائقین کی توجہ حاصل کر سکیں۔’ اس سال دس کلبز کی مجموعی قدر ایک ارب یورو سے زیادہ تھی، جبکہ پچھلے سال یہ تعداد آٹھ تھی۔ انگلینڈ کے کلب ٹوٹین ہام ہاٹ سپرز اور اٹلی کے یئونٹس اس سال کی درجہ بندی میں پہلی بار شامل ہوئے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ، اسرائیل کے فٹبال میچ میں فلسطینی پرچم لہرا دئیے گئے

 اسکاٹ لینڈ کے فٹ بال کلب گلاسگو سیلٹک کے مداحوں نے فٹبال میچ میں سیاسی احتجاج پرپابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی کلب ہیپوئیل بیرشیوا کے خلاف میچ میں فلسطین کے پرچم تھامے اسرائیلی قبضے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹش کلب سیلٹک اور اسرائیلی کلب ہیپوئیل بیر شیوا کے درمیان بدھ کو چمپیئنز لیگ کوالیفائرز کے میچ سے قبل فلسطین الائنس نامی گروپ فلسطینی پرچم کے ساتھ ساتھ 1948 کی جنگ میں ہونے والی تباہی اور اسرائیل کی تخلیق کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کوبے گھر کیے جانے کی تفصیلات کے حامل نکبہ کے کتابچے ساتھ لے کر آئے۔ سیلٹک پارک کے باہر کھڑی پولیس نے مداحوں کو خبردار کیا کہ وہ پرچم اسٹیڈیم کے اندر نہ لے کر جائیں لیکن وہ نہ مانے۔

دوسری جانب سیلٹک کو مداحوں کو احتجاج کی اجازت دینے پر یورپین فٹ بال فیڈریشن (یوئیفا) کی جانب سے جرمانہ ہوسکتا ہے لیکن کچھ مداحوں کا کہنا تھا کہ وہ ایونٹ میں اسرائیل کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کسی بھی قسم کا ہرجانہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق فلسطین کے حق میں مظاہروں کی تیاری ایک ہفتے سے کی جارہی تھی، فیس بک پر ایک گروپ میں ‘فلائی دی فلیگ آف فلسطین، فار سیلٹک، فار جسٹس’ کے عنوان سے 8 سو سے زائد لوگ شامل تھے۔

 

گروپ کے بانیوں نے سیلٹک کے مداحوں سے بائیکاٹ، بے نقاب (ڈائیوسٹمنٹ) اور پابندی(سینکشنز) (بی ڈی ایس) تحریک کی حمایت کرنے کی درخواست کی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف نسل پرستی، بربریت اور لاتعداد خونی واقعات پر ہماری مخالفت کے جمہوری حق پر لوگوں کو اظہار خیال کرنا چاہیے’۔ گروپ کا کہنا ہے کہ یوئیفا کو اسرائیل اور ان کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ مقامی اخبار ڈیلی ریکارڈ کی خبر کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی پولیس نے کلب کے مداحوں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی جھنڈوں کو نہ لائیں جبکہ انھیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔  گلاسگو کے رہائشی اور سیلٹک کے بڑے مداح عبدالحسین نے بدھ کو ہوئے مذکورہ مقابلے کو براہ راست دیکھا بعد ازاں انھوں نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ کئی مداح فلسطین کی حمایت کرنے کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اسکاٹ لینڈ کے لوگوں اور سیلٹک کے مداحوں نے بڑی تعداد میں فلسطین کی حمایت کی’۔ انھوں نے کہا کہ ‘سیلٹک کے مداح قوانین اور مقام کی تفریق کیے بغیر فلسطین کی حمایت کریں گے اور ہیپوئیل کے خلاف میچ میں سیلٹک کے حامیوں کا فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا نہ ہی پہلا واقعہ تھا اور نہ ہی آخری موقع ہے’۔

واضح رہے سیلٹک کے لیے فلسطینی پرچم کے تنازع میں ملوث ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل 2014 میں آئس لینڈ کے ایک کلب کے خلاف میچ کے دوران فلسطینی پرچم لہرائے جانے پر یوئیفا نے 18 ہزار ڈالر سے زیادہ کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ یوئیفا نے کہا تھا کہ سیاسی خیالات کے اظہار پر پابندی کے قانون کو توڑتے ہوئے پرچم لہرانے پر جرمانہ کیا گیا ہے۔ سیلٹک نے ہفتے کے آغاز میں کھیلے گئے میچ میں 2-5 سے کامیابی حاصل کی تھی اور یوئیفا چمپیئنز لیگ جیسے ایونٹ کے گروپ مرحلے کے لیے ممکنہ طور پر کوالیفائی کرلے گا۔