آزادی کپ : پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے تاریخی رنگ

پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان تاریخی آزادی کپ کے پہلے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے 20 رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ ورلڈ الیون کے اس تاریخ ساز دورے اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے ساتھ ہی ملک میں طویل عرصے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی۔ حریف کپتان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرنے والی پاکستانی ٹیم نے بابر اعظم کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت 197 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا۔ پاکستان کی جانب سے بابر نے 86 رنز بنا کر ٹی 20 کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی جبکہ احمد شہزاد نے 39 اور شعیب ملک نے 38 رنز کی اننگز کھیلیں۔

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

اسلام علیکم، شکریہ، پاکستان زندہ باد : اینڈی فلاور

پاکستان کا دورہ کرنے والی ورلڈ الیون کے کوچ اور زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اینڈی فلاور نے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں میں شرکت کے بعد اردو د زبان سیکھنے میں بھی اپنی دلچسپی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں دوبارہ آنے کا بھی عزم ظاہر کر دیا۔ فاف ڈیوپلیسی کی قیادت میں پاکستان آنے والی ورلڈ الیون کی ٹیم کے کھلاڑی کامیاب دورے کے بعد اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو گئے لیکن کوچ اینڈی فلاور اپنے بھائی گرانٹ فلاور کی دعوت پر مز ید ایک روز کے لیے لاہور میں ہی ٹھہرے ہیں۔ گرانٹ فلاور اس وقت پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں جنھیں 2014 میں ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اینڈی فلاور نے کہا کہ پاکستان میں اردو کے کچھ الفاظ سیکھے ہیں، اردو کے کچھ الفاظ اسلام علیکم، شکریہ اور پاکستان زندہ باد سیکھ چکا ہوں۔ اینڈی فلاورکا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے آیا تھا کہ میرا بھائی گرانٹ یہاں اتنا خوش کیوں ہے۔ اینڈی فلاور نے پاکستانی کھانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے کھانے بہت لذیذ ہیں جنھیں کھا کھا کر میرا پیٹ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کے دورے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں اب دوبارہ پاکستان آنا چاہوں گا۔

ورلڈ الیون کے اگلے دورے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کے دوبارہ پاکستان آنے کے بارے میں آئی سی سی فیصلہ کرے گی۔ خیال رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی خاطر جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیوپلیسی اور مایہ ناز بلے باز ہاشم آملہ کے علاوہ ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون ٹیم کو بھیجا تھا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقدہ آزادی کپ میں پاکستانی ٹیم نے سیریز کو 2-1 سے جیت لیا، ورلڈ الیون کی ٹیم نے پہلے میچ میں ناکامی کے بعد دوسرے میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز برابر کر دی تھی تاہم سرفراز الیون نے تیسرے میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کپ اپنے نام کر لیا تھا۔

پاکستان کے بغیر کرکٹ اور آئی سی سی کا تصور ادھورا ہے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ڈائریکٹر جائلز کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان کے بغیر عالمی کرکٹ اور خود آئی سی سی کا تصور ادھورا ہے۔ لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جائلز کلارک نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے میدانوں سے ویرانیوں کےسائے چھٹ گئے ہیں اور ورلڈ الیون نے دیگر غیرملکی ٹیموں کی آمد کی راہ ہموار کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کوشش کرے گی کہ باقی ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان آ کر کھیلیں کیوں کہ ان کے بقول “پاکستان کے بغیر کرکٹ اور آئی سی سی کا تصور ادھوا ہے۔”

جائلز کلارک نے آزادی کپ کے لیے کیے جانے والے حفاظتی انتظامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان کی سکیورٹی اداروں پر مکمل اعتماد ہے۔ جائلز کلارک نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے حالات بہتر ہو گئے تو جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت تمام ٹیمیں یہاں آئیں گی۔ اس موقع پر پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا خواب پورا ہونے لگا ہے۔ نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ ورلڈ الیون کے بعد مزید ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گی۔

لاہور ہی میں ہونے والی ایک اور نیوز کانفرنس میں پاکستان کے دورے پر آنے والی ورلڈ الیون کے کوچ اور کپتان اپنی ٹیم کی کامیابی کے لیے پر امید نظر آئے۔ ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور نے کہا کہ ان کی ٹیم کا باؤلنگ اٹیک متوازن ہے اور ان کی ٹیم پاکستانی ٹیم کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کے دورے کا مقصد صرف اور صرف پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہے۔ پریس کانفرنس میں ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ وہ پاکستانی کنڈیشنز میں کھیلنے کے لیے بے تاب ہیں۔

فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ پاکستان میں ان کا استقبال بہت عمدہ ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ گراونڈ میں میچ بہت اچھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں جنوبی افریقہ کا بھی ہاتھ ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے لوگ بہت زندہ دل ہیں اوریہاں کرکٹ کا مزہ آئے گا۔ اس موقع پر ورلڈ الیون کے کوچ اور کپتان نے اپنی ٹیم کی کٹ کی رونمائی بھی کی۔ ورلڈ الیون اور پاکستان کی قومی ٹیم کے درمیان تینوں میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

پاکستان : ویلکم بیک ہوم کرکٹ

پاکستان کے لیے صرف انٹرنیشنل کرکٹ ہی کیوں ناگزیر ہے؟ اور بھی تو کھیل ہیں۔
ہاکی بھی تو ہے جس نے ہمیں چار ورلڈ کپ دیے۔ ویسے بھی کرکٹ اپنی تنہائی میں اکیلی تھوڑی ہے۔ جیسی تشنگی سے یہ دوچار ہے، ویسی ہی پیاس دیگر کھیلوں کو بھی تو ہے۔ تو پھر ایسا کیا ہے کہ کرکٹ ہی کی بحالی ہماری عالمی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ چلیے پی سی بی کو تو یہ غرض ہو گی کہ اس کے ہوم گراونڈز آباد ہوں اور ریونیو کی ریل پیل شروع ہو۔ سرحد پار بھی تو ایک کرکٹ بورڈ ہی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی سپورٹس مارکیٹ پہ اپنی دھاک جمائے بیٹھا ہے۔ سو پی سی بی کے لیے تو گویا بقا کا راز ہی یہ ہے کہ پاکستان کے میدان آباد ہوں۔

مگر جب پورے ملک کا پہیہ ایک سپورٹس ایونٹ کی طرف مڑ جائے اور ریاستی سربراہان کی سی سکیورٹی کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے وقف کر دی جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک ادارے کی انا کا نہیں ہے۔ آخر کچھ تو ہے کہ جو ’ادارے‘ عام حالات میں ’ٹکراتے‘ رہتے ہیں، کرکٹ کی خاطر اچانک شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور عوام الناس ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں رک کر ٹکٹیں خریدتے ہیں۔ میلوں دور پارکنگ سے پیدل چلتے ہیں، تہہ در تہہ سکیورٹی کے حصاروں کو عبور کرتے ہیں، اور اپنا خون پسینہ بہا کر قذافی سٹیڈیم کی ایک نشست فتح کرتے ہیں۔

اس ایک نشست تک کے پر اسرار سفر اور اس ایک ایک انٹرنیشنل میچ کے گرد ہماری مجموعی قومی کاوش کی تہہ میں کئی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ کہیں کوئی پینتیس سالہ نوجوان ہو گا جو آج سے تیس سال پہلے شاید وسیم اکرم بننا چاہتا تھا، کہیں کوئی جھریوں والا چہرہ ہو گا جو عمران خان کے کرئیر کے اتار چڑھاو میں ہی جوان ہوا، کہیں کوئی ادھیڑ عمر شخص ہو گا جسے بانوے کا ورلڈ کپ یوں یاد ہے جیسے کل کی بات تھی۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرکٹ سٹارڈم صرف کھیل کی حد تک ہی محدود نہیں رہتا۔ یہاں کئی نسلیں کرکٹ کے گرد پلی بڑھی ہیں۔ عمران خان پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے سٹار ہیں اور دنیائے کرکٹ آج بھی ان کی قدر کرتی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طبقے میں وہ آج سب سے زیادہ مقبول ہیں، اس کی اکثریت وہ ہیں جنہوں نے ان کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ مگر اس کرکٹ سٹارڈم کی تاثیر صرف ایک نسل تک ہی محدود نہیں رہی۔

پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دیے بجھے آٹھ برس بیت چکے۔ پچھلے آٹھ سال میں زمبابوے کے سوا کسی فل ممبر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ آخری بار جب پاکستان اپنے ہوم گراونڈ پہ کھیلا تھا تو ون ڈے میں تیز ترین سینچری کا ریکارڈ پاکستان کے پاس تھا، ون ڈے میں طویل ترین انفرادی اننگ کا ریکارڈ سعید انور کے نام تھا۔ پچھلے آٹھ سال میں یہ دو ریکارڈ کئی بار توڑے جا چکے ہیں۔ پاکستان اپنی تاریخ کی بدترین ون ڈے رینکنگ دیکھ چکا ہے۔ اور پاکستان پہ آئی پی ایل کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اور اس تمام دورانئے میں پاکستان محمد عامر کے سوا کوئی سٹار پیدا نہیں کر سکا۔ کوئی کلائی سے کھیلنے والا بلے باز نہیں آیا۔ کوئی تباہ کن فاسٹ بولر نظر نہیں آیا۔

ایسا نہیں کہ ہوم گراونڈز پہ انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہونے کے بعد پاکستان نے کرکٹ میں کچھ حاصل نہیں کیا۔ اسی دور میں بے شمار ریکارڈز بھی پاکستان نے ہی توڑے، پے در پے تاریخ بھی رقم کی، نمبرون ٹیم تک تو بنا، مگر سٹارز پیدا نہیں کر پایا۔ کسی بھی سپورٹنگ ہیرو کے ارتقا پہ نظر ڈالیے تو اس کے پیچھے ایک بڑا ہیرو چھپا ہوتا ہے۔ اگر ایک نسل وسیم اکرم جیسا جادوگر دیکھتی ہے تو اس وجہ سے کہ پچھلی نسل عمران خان کو دیکھ چکی ہوتی ہے۔ اگر راولپنڈی کے گراونڈ میں کبھی وقار یونس نے تباہ کن بولنگ نہ کی ہوتی تو شاید دنیا کا تیز ترین بولر شعیب اختر کبھی سامنے ہی نہ آ پاتا۔ کیونکہ ہوم گراونڈز وہ ہیں جہاں آج کے ہیرو کھیلتے ہیں۔ اور ہوم کراوڈز وہ ہیں جہاں کل کے ہیرو بیٹھتے ہیں۔

سمیع چوہدری
کرکٹ تجزیہ کار

کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ کی ’بلیک میلنگ‘

انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئي) کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یا یوں کہیں کہ بورڈ کے پاس بے شمار پیسہ ہے۔ پھر اسے اور پیسہ کیوں چاہیے! یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اسی لالچ کے تحت کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مائی باپ رہنے والا ادارہ بی سی سی آئی گذشتہ ماہ دبئی میں ہونے والی بورڈ کی میٹنگ میں ایک طرح سے یتیم ہو گیا۔ وہاں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ ذرا اندازہ لگائيں کہ جس کرکٹ بورڈ نے سنہ 2013 کے آئی پی ایل میں ہونے والی سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کا کیس لڑنے کے لیے تقریباً 50 کروڑ روپے لگا دیئے اور 2015 – 2016 کی گھریلو سیریز میں میڈیا رائٹس کی کمائی 648 کروڑ تھی اور جس کا کرکٹ فکسڈ ڈپازٹ کے سود کے پیسے سے بھی چل سکتا ہے، وہ آئی سی سی سے زیادہ سے زیادہ پیسے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سنہ 2015-2016 میں آئی پی ایل سے 738 کروڑ روپے کمانے والا بھارتی بورڈ پہلی جون سے انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے ہٹنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کھیل کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑی بی سی سی آئی کے حکام کے لیے محض پیسے کمانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان میں سپریم کورٹ نے جسٹس آر ایس لوڈھا کمیٹی کی بی سی سی آئی میں انتظامی اصلاحات کی سفارشات والی رپورٹ کو نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔

سب سے بڑا حصہ

قانونی طور پر اس کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بی سی سی آئی کا افسر آئی سی سی کو اس طرح کی دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھارتی عدالتی نظام کو ہمیشہ انگوٹھے دکھانے کا عادی بی سی سی آئی اپنے خزانے کو اور مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ برادری سے باہر نکل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ آئی سی سی کے نئے ریوینو ماڈل کے حساب سے تمام اراکین بھارتی بورڈ کو آٹھ سالوں کے دوران آئی سی سی کے ٹورنامنٹوں سے ہونے والی کمائی میں سے 29 کروڑ تیس لاکھ ڈالر دینے پر اتفاق کرتے ہیں۔ جبکہ انگلینڈ کو 14 کروڑ تیس لاکہ ڈالر ملیں گے۔ اس کے علاوہ آسٹریليا، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، سری لنکا، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ ہر ایک کے حصے میں 13 کروڑ بیس لاکھ ڈالر آئیں گے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آئی سی سی کے اہم مقاصد میں پوری دنیا میں کرکٹ کو مقبول کرنا شامل ہے۔ ایسوسی ایٹ ممبر آئر لینڈ اور افغانستان کی کرکٹ کے نقشے پر مستحکم موجودگی آئی سی سی کی بڑی کامیابی ہے۔ جب آئی سی سی کی تشکیل ہوئی تھی اس وقت کھیل کو وسیع کرنے کا عہد تھا نہ کہ دھندے میں اضافہ کرنے کا۔ لیکن آئی سی سی کے 39 ایسوسی ایٹ اراکین کو محض 28 کروڑ ڈالر ملنے ہیں۔ یعنی کہ پہلے سے ہی پیسے سے لبالب بی سی سی آئی کو ان 39 ممالک سے بھی زیادہ پیسہ مل رہا ہے اور یہ بھی اسے کم نظر آ رہا ہے۔

ششانك منوہر کا کردار

بی سی سی آئی کے حکام اپنے سابق باس ششانك منوہر کو کوس رہے ہیں۔ ششانک کی ہی بدولت آئی سی سی کی آمدنی کا بڑا حصہ انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ملنے سے روک دیا۔ ظاہر ہے کہ منوہر نے بطور آئی سی سی چیئرمین باقی رکن ممالک اور کھیل کو اہمیت دی اور یہ بات قابل تعریف ہے۔ ششانك کہتے ہیں: ‘موجودہ ماڈل ورلڈ کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے اور امید ہے کہ سالانہ کانفرنس میں اس کو منظوری مل جائے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس ماڈل کو اپنا کر کرکٹ کو عالمی سطح پر پھیلانے اور بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

بے انتہا لالچ کی جڑ کرپشن

بی سی سی آئی کے ایک سینیئر افسر کے مطابق: ‘یہ ماڈل ہمیں منظور نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آئی سی سی کے اگلے آٹھ سال کے متوقع ریوینو کا تقریباً 21 فیصد بھارتی بورڈ کو ملنا چاہیے۔’ اس حساب سے بی سی سی آئی کا مطالبہ 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے ناجائز ہے۔ اور بی سی سی آئی کو یہ پیسے کس کے لیے چاہیے؟ اپنے کھلاڑیوں کے لیے یا پھر اپنے ارکان کے لیے۔

دہلی، گوا، حیدرآباد، جموں اور کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن سمیت بی سی سی آئی کے کئی ارکان کے خلاف بدعنوانی کے چارجز ہیں۔ ان تنظیموں کے خلاف کئی سو کروڑ کے گھپلے کا الزام ہے اور کئی ایجنسیاں ان باری میں تحقیقات کر رہی ہیں۔

لیکن کسی بھی صورت میں بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے حالانکہ یہ اس کا پیسہ ہے۔

اعداد و شمار دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہے کہ کھلاڑی پیسے کے کھیل میں کہیں نہیں ہیں۔ ان کے گذشتہ سال کے بین الاقوامی کیلنڈر کی فیس بی سی سی آئی کے قانونی اخراجات کے سامنے کچھ نہیں۔ کوئی یہ بھی نہیں بتا رہا کہ خود کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یا پھر ان کی اپنی کیا رائے ہے؟ خطرناک پہلو یہ ہے کہ کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ بلیک میلنگ کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کھیلے گی یا نہیں!

ٹیم انڈیا کو کھیلنے سے روکنا اب بی سی سی آئی کے بس میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ درمیان میں ہے اور سات مئی کو ہونے والے بی سی سی آئی کے اجلاس میں پہلے سے ہی ناکامیوں کے سبب نشانے پر موجود بی سی سی آئی کے حکام کے پاس ٹیم کو بھیجنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی منتظمین کی کمیٹی ٹیم کو روکے جانے کے خلاف ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن اور تاریخ داں رام چندر گوہا نے ٹویٹ بھی کیا ہے کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ہندوستان کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنا چاہیے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر باقی ملک یہ طے کر لیں کہ وہ بھارت کے بغیر کرکٹ چلانے کے لیے تیار ہیں تو پھر بی سی سی آئی کی کیا حالت ہو گی؟

جسوندر سدھو

کرکٹ تجزیہ کار