جب کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو ؟

کس نے سوچا ہو گا کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ’کٹ‘ میں ایک دن پلوشن ماسک بھی شامل ہو جائے گا۔ آپ سری لنکا کے ان کھلاڑیوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جو دہلی میں انڈیا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آلودگی کی وجہ سے ماسک پہن کر میدان میں اترے، یا سانس لینے میں دقت ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے، یا ان کی تشویش کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارے ایسا بھی نہیں کہ اس ہوا میں سانس لینے سے آپ مر جائیں گے، یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی یہ صرف ایک کھیل ہے، آپ اپنی صحت کا خیال کریں اگر سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے تو پویلین میں بیٹھ جائیے، یہ کرکٹ کی تاریخ کا آخری ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔

کرکٹ کی تاریخ کا یہ آخری ٹیسٹ تو ہرگز نہیں لیکن ایسا پہلا ضرور ہے جہاں کھلاڑی ماسک پہن کر میدان میں اترے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے دو مرتبہ کھیل روکنا پڑا۔ میچ کے بعد سری لنکا کے کوچ نے کہا ’کھلاڑی پویلین میں آ کر الٹیاں کر رہے تھے، ڈریسنگ روم میں آکسیجن سلنڈر رکھے تھے ہمارے لیے یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ انتہائی غیرممعولی صورت حال تھی۔‘ لیکن دوسرے دن کے کھیل کے بعد انڈیا کے بولنگ کوچ بھارت ارون نے کہا ’سری لنکا کے کھلاڑیوں کی پریشانی پر انھیں حیرت ہو رہی ہے کیونکہ وراٹ کوہلی نے دو دن بیٹنگ کی اور انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ آلودگی تو پورے ملک میں ہے، سری لنکا کے کھلاڑی صرف وقت برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

ارون صاحب، یہ سب مانتے ہیں کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوتا ہے لیکن سب سگریٹ پینے والوں کو کینسر نہیں ہوتا۔ اگر وراٹ کوہلی کو آلودہ ہوا میں سانس لینے سے کوئی دقت نہیں ہوتی، یہ بہت خوشی کی بات ہے، وہ جوان ہیں، بہترین ایتھلیٹ ہیں اور ان کی فٹنس کا لیول دوسرے کھلاڑیوں سے بہتر ہو سکتا ہے، یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتنے میں یقین نہ رکھتےہوں، سوچتے ہوں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن جن لوگوں کو دقت ہوتی ہے، یہ ان کی کمزوری کی نشانی نہیں ہے، بس شاید انھیں زہریلی ہوا میں سانس لینے کی عادت نہیں ہے۔
انڈیا کے 12 ویں کھلاڑی کلدیپ یادو اور روہت شرما نے بھی ماسک پہنا اور یہ کہنے والے بہت سے لوگ آپ کو مل جائیں گے کہ یہ سمجھداری کی بات تھی۔

کسی بھی کھلاڑی کو اپنی حفاظت کا پیمانہ خود طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب آٹھ سال قبل لاہور میں سری لنکا کی ہی ٹیم پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے انکار کرنا شروع کیا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ ڈرپوک ہیں، موت تو ایک دن آنی ہی ہے اور فائرنگ کے واقعات کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں ہیں کہ کھیل ہی بند کر دیا جائے، یا آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ جان ہے تو جہان ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو ہم آپ کی فکر سمجھ سکتے ہیں، کرکٹ ایک کھیل ہے، آپ کا دل نہیں مان رہا تو کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نومبر میں دلی کی ہوا اتنی زہریلی ہو گئی تھی کہ سکول بند کر دیے گئے تھے اور بہت سے دوسرے ہنگامی اقدمات کرنے پڑے تھے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو یہاں رہتے ہیں اور جن کی یہ مجبوری ہے کہ انھیں اسی ہوا میں سانس لینا ہے۔ دلی میں گذشتہ برس بھی رانجی ٹرافی کے دو میچ دیوالی کے بعد شہر کی زہریلی ہوا کی وجہ سے منسوخ کیے گئے تھے۔ کل کے میچ کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی جائیں گی اور لوگوں کے ذہن میں پھر نومبر کی وہ تصویر ابھرے گی جب دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کےمطابق شہر ایک ’گیس چیمبر‘ میں تبدیل ہو گیا تھا۔

ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس ہوا میں ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سانس پھولے، صبح کے وقت ٹہلنے سے بھی بچیں کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے لیکن انھیں شاید معلوم نہیں ہے کہ جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا تو باقی کسی اور کو کیسے ہوسکتا ہے؟

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

Advertisements

آئی پی ایل کے معاملے پر بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ

انڈیا میں مسابقت کی نگرانی کرنے والے ادارے نے انڈین پریمیئر لیگ کے معاملے پر انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ بی سی سی آئی نے براڈ کاسٹروں کا یہ مطالبہ مان کر اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کیا ہے کہ وہ آئی پی ایل کے کسی حریف ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دے گا۔ کمیشن نے بی سی سی آئی سے کہا ہے کہ وہ 60 دن کے اندر اندر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرے۔ آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوئی تھی اور آغاز ہی سے اس کے حقوق سونی پکچرز نیٹ ورکس کے پاس تھے۔ تاہم ستمبر میں روپرٹ مرڈوک کے چینل سٹار انڈیا نے 2018 تا 2022 تک کے حقوق 2.55 ارب ڈالر میں خرید لیے تھے۔ یہ گذشتہ معاہدے سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی پی ایل دنیا کی مہنگی ترین سپورٹس لیگز میں سے ایک ہے۔

مسابقتی کمیشن نے 2013 میں فیصلہ دیا تھا کہ بی سی سی آئی کے سونی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی ایک شق غیر قانونی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آئی پی ایل کی طرز کی کسی اور ٹی 20 لیگ کی اجازت نہیں دے گا۔ تاہم بورڈ نے اس کے خلاف اپیل کی تھی جو کامیاب ٹھہری تھی۔ اب کمیشن دوبارہ اسی نتیجے پر پہنچا ہے اور اس نے وہی جرمانہ عائد کیا ہے جو پہلے کیا تھا۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ بولی دہندگان کا اصرار تھا کہ یہ شق شامل کی جائے۔ تاہم کمیشن نے کہا ہے کہ ‘بی سی سی آئی نے کوئی توجیہ پیش نہیں کی کہ یہ خود ساختہ پابندی کس طرح سے کرکٹ کے مفاد میں ہے جس کے تحت آئی پی ایل کے مقابلے پر کسی اور ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔’ بی سی سی آئی نے اس فیصلے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

کوہلی نے محمد عامر کو خطرناک ترین بولر قرار دیدیا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیا ہے۔ عامر خان نے اپنے پروگرام میں کوہلی سے سوال کیا کہ آپ کے من میں دنیا کا کوئی ایسا بولر ہے جس کا سامنا کرتے ہوئے آپ کو لگا کہ یہ بہت مشکل بولر ہے اور اسے کھیلتے ہوئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو، جس پر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ”موجودہ بولرز جن کا میں نے سامنا کیا ہے ان میں محمد عامر کو کھیلنا مشکل رہا، وہ دنیا کے ٹاپ 2 یا 3 مشکل ترین بولرز میں سے ہیں۔ وہ ایسے بولر ہیں جن کے خلاف کھیلتے ہوئے آپ کو اپنی اے کلاس گیم کھیلنا پڑتا ہے ورنہ وہ آپ کی وکٹیں اڑا دے گا، وہ واقعی بہت ہی شاندار بولر ہیں۔“

واضح رہے کہ ویرات کوہلی اور محمد عامر بہت اچھے دوست ہیں اور انہوں نے ایشیا کپ 2016ء میں محمد عامر کی صلاحیتوں کی تعریف کی تھی اور انہیں اپنا بیٹ بھی تحفے میں دے چکے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر نے اپنے اوپر تنقید کے نشتر برسانے والے روہت شرما کو آﺅٹ کرنے کے بعد ویرات کوہلی کی وکٹ حاصل کی تھی، ایک بال پر سلپ میں کیچ ڈراپ ہونے کے بعد اگلی ہی بال پر شاداب خان کا کیچ بنواتے ہوئے انہیں پویلین کا راستہ دکھایا تھا۔

کوہلی کے پرفارم نہ کرنے کا سبب بھی پاکستان ؟

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے آٹھویں میچ میں سری لنکا نے فیورٹ قرار دی جانے والی ٹیم بھارت کو 7 وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ کا بڑا اَپ سیٹ کر دیا۔
ایسے میں بھارتی کرکٹ فینز کا غم و غصے کا اظہار کرنا تو بنتا تھا اور وہ کافی ناامید ہوئے بھی، جس کا اندازہ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی جانے والی ٹوئیٹس سے لگایا جا سکتا ہے۔ سری لنکا کے خلاف بیٹنگ میں بھارت کو بڑا دھچکا اُس وقت لگا جب کپتان ویرات کوہلی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ روہت شرما، شیکھر دھاون اور مہندرا سنگھ دھونی کی جانب سے شاندار کھیل کے مظاہرے اور 321 کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجانے کے باوجود بھی بھارت یہ میچ جیت نہ سکا۔

ایسے میں ویرات کوہلی کا صفر پر آؤٹ ہونا کرکٹ فینز کے لیے موضوع بحث بنا رہا اور جب انہیں اس کا کوئی ذمہ دار سمجھ نہ آیا تو سارا ملبہ پاکستانی اسپورٹس اینکر زینب عباس پر ڈال دیا۔ بھارتی ویب سائٹ ذی نیوز کے مطابق پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل ‘دنیا نیوز’ کی اسپورٹس اینکر اور تجزیہ کار زینب عباس کو کوہلی کی خراب پرفارمنس کی وجہ اس لیے قرار دیا جاتا رہا کیونکہ انہوں نے کوہلی کے ساتھ سیلفی لی تھی۔ خیال رہے کہ زینب عباس نے ویرات کوہلی کے ساتھ لی گئی یہ تصویر یکم جون کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔

ٹوئٹر صارفین نے اس سے قبل زینب عباس کی ویرات کوہلی اور جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈویلیئر کے ساتھ سیلفی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ دونوں کھلاڑی زینب کے ساتھ سیلفی کے بعد صفر پر آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان کے ساتھ ان کی یہ سیلفی پاکستان اور جنوبی افریقہ کے ٹاکرے سے قبل لی گئی تھی اور کپتان اے بی ڈی ویلیئرز اگلے ہی میچ میں پہلی بار صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ ڈالا کہ ‘آئی سی سی ایونٹس میں زینب عباس کی بھارتی کھلاڑیوں سے دوری کو یقینی بنانے کے لیے پٹیشن کا آغاز کرتا ہوں’۔

اس دلچسپ صورتحال میں پاکستانی ٹوئٹر صارفین بھی خوب محظوظ ہوتے رہے اور زینب سے مزید فرمائش کر ڈالی کہ وہ اگلی سیلفی سری لنکن کپتان انجیلیو میتھیوس کے ساتھ لے لیں۔

کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ کی ’بلیک میلنگ‘

انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئي) کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یا یوں کہیں کہ بورڈ کے پاس بے شمار پیسہ ہے۔ پھر اسے اور پیسہ کیوں چاہیے! یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اسی لالچ کے تحت کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مائی باپ رہنے والا ادارہ بی سی سی آئی گذشتہ ماہ دبئی میں ہونے والی بورڈ کی میٹنگ میں ایک طرح سے یتیم ہو گیا۔ وہاں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ ذرا اندازہ لگائيں کہ جس کرکٹ بورڈ نے سنہ 2013 کے آئی پی ایل میں ہونے والی سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کا کیس لڑنے کے لیے تقریباً 50 کروڑ روپے لگا دیئے اور 2015 – 2016 کی گھریلو سیریز میں میڈیا رائٹس کی کمائی 648 کروڑ تھی اور جس کا کرکٹ فکسڈ ڈپازٹ کے سود کے پیسے سے بھی چل سکتا ہے، وہ آئی سی سی سے زیادہ سے زیادہ پیسے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سنہ 2015-2016 میں آئی پی ایل سے 738 کروڑ روپے کمانے والا بھارتی بورڈ پہلی جون سے انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے ہٹنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کھیل کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑی بی سی سی آئی کے حکام کے لیے محض پیسے کمانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان میں سپریم کورٹ نے جسٹس آر ایس لوڈھا کمیٹی کی بی سی سی آئی میں انتظامی اصلاحات کی سفارشات والی رپورٹ کو نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔

سب سے بڑا حصہ

قانونی طور پر اس کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بی سی سی آئی کا افسر آئی سی سی کو اس طرح کی دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھارتی عدالتی نظام کو ہمیشہ انگوٹھے دکھانے کا عادی بی سی سی آئی اپنے خزانے کو اور مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ برادری سے باہر نکل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ آئی سی سی کے نئے ریوینو ماڈل کے حساب سے تمام اراکین بھارتی بورڈ کو آٹھ سالوں کے دوران آئی سی سی کے ٹورنامنٹوں سے ہونے والی کمائی میں سے 29 کروڑ تیس لاکھ ڈالر دینے پر اتفاق کرتے ہیں۔ جبکہ انگلینڈ کو 14 کروڑ تیس لاکہ ڈالر ملیں گے۔ اس کے علاوہ آسٹریليا، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، سری لنکا، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ ہر ایک کے حصے میں 13 کروڑ بیس لاکھ ڈالر آئیں گے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آئی سی سی کے اہم مقاصد میں پوری دنیا میں کرکٹ کو مقبول کرنا شامل ہے۔ ایسوسی ایٹ ممبر آئر لینڈ اور افغانستان کی کرکٹ کے نقشے پر مستحکم موجودگی آئی سی سی کی بڑی کامیابی ہے۔ جب آئی سی سی کی تشکیل ہوئی تھی اس وقت کھیل کو وسیع کرنے کا عہد تھا نہ کہ دھندے میں اضافہ کرنے کا۔ لیکن آئی سی سی کے 39 ایسوسی ایٹ اراکین کو محض 28 کروڑ ڈالر ملنے ہیں۔ یعنی کہ پہلے سے ہی پیسے سے لبالب بی سی سی آئی کو ان 39 ممالک سے بھی زیادہ پیسہ مل رہا ہے اور یہ بھی اسے کم نظر آ رہا ہے۔

ششانك منوہر کا کردار

بی سی سی آئی کے حکام اپنے سابق باس ششانك منوہر کو کوس رہے ہیں۔ ششانک کی ہی بدولت آئی سی سی کی آمدنی کا بڑا حصہ انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ملنے سے روک دیا۔ ظاہر ہے کہ منوہر نے بطور آئی سی سی چیئرمین باقی رکن ممالک اور کھیل کو اہمیت دی اور یہ بات قابل تعریف ہے۔ ششانك کہتے ہیں: ‘موجودہ ماڈل ورلڈ کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے اور امید ہے کہ سالانہ کانفرنس میں اس کو منظوری مل جائے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس ماڈل کو اپنا کر کرکٹ کو عالمی سطح پر پھیلانے اور بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

بے انتہا لالچ کی جڑ کرپشن

بی سی سی آئی کے ایک سینیئر افسر کے مطابق: ‘یہ ماڈل ہمیں منظور نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آئی سی سی کے اگلے آٹھ سال کے متوقع ریوینو کا تقریباً 21 فیصد بھارتی بورڈ کو ملنا چاہیے۔’ اس حساب سے بی سی سی آئی کا مطالبہ 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے ناجائز ہے۔ اور بی سی سی آئی کو یہ پیسے کس کے لیے چاہیے؟ اپنے کھلاڑیوں کے لیے یا پھر اپنے ارکان کے لیے۔

دہلی، گوا، حیدرآباد، جموں اور کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن سمیت بی سی سی آئی کے کئی ارکان کے خلاف بدعنوانی کے چارجز ہیں۔ ان تنظیموں کے خلاف کئی سو کروڑ کے گھپلے کا الزام ہے اور کئی ایجنسیاں ان باری میں تحقیقات کر رہی ہیں۔

لیکن کسی بھی صورت میں بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے حالانکہ یہ اس کا پیسہ ہے۔

اعداد و شمار دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہے کہ کھلاڑی پیسے کے کھیل میں کہیں نہیں ہیں۔ ان کے گذشتہ سال کے بین الاقوامی کیلنڈر کی فیس بی سی سی آئی کے قانونی اخراجات کے سامنے کچھ نہیں۔ کوئی یہ بھی نہیں بتا رہا کہ خود کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یا پھر ان کی اپنی کیا رائے ہے؟ خطرناک پہلو یہ ہے کہ کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ بلیک میلنگ کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کھیلے گی یا نہیں!

ٹیم انڈیا کو کھیلنے سے روکنا اب بی سی سی آئی کے بس میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ درمیان میں ہے اور سات مئی کو ہونے والے بی سی سی آئی کے اجلاس میں پہلے سے ہی ناکامیوں کے سبب نشانے پر موجود بی سی سی آئی کے حکام کے پاس ٹیم کو بھیجنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی منتظمین کی کمیٹی ٹیم کو روکے جانے کے خلاف ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن اور تاریخ داں رام چندر گوہا نے ٹویٹ بھی کیا ہے کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ہندوستان کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنا چاہیے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر باقی ملک یہ طے کر لیں کہ وہ بھارت کے بغیر کرکٹ چلانے کے لیے تیار ہیں تو پھر بی سی سی آئی کی کیا حالت ہو گی؟

جسوندر سدھو

کرکٹ تجزیہ کار

Hanif Mohammad, Pakistani Cricket’s Little Master

Hanif Mohammad was a Pakistani cricketer. He played for the Pakistani cricket team in 55 Test matches between 1952–53 and 1969–70 and averaged 43.98, with twelve hundreds. At his peak, he was considered one of the best batsmen in the world. He played at a time when there was very little Test cricket being played by Pakistan, with just 55 Test matches in a career spanning 17 years. In his obituary by ESPNcricinfo, he was honoured as the original Little Master, a title later assumed by Sunny Gavaskar and Sachin Tendulkar.
Hanif was trained by Abdul Aziz, an Afghan cricket player, who had earlier played in Ranji Trophy for Jamnagar and father of Indian cricketer, Salim Durani. The highest of Hanif’s Test centuries was a famous 337 made against West Indies in a six-day test at Bridgetown in 1957/58. After Pakistan found itself following on from a first-innings deficit of 473 runs on the afternoon of the third day, Hanif spent more than sixteen hours at the crease compiling his runs, allowing Pakistan to draw the game. It remains the longest innings in Test history (and stood as the longest in all first-class cricket for over 40 years). It was the only Test match instance of a triple century in a team’s second innings until it was equaled by New Zealand cricketer Brendon McCullum against India in 2014. Displays such as this earned him the nickname “Little Master”.

 

 

 

Aslam Pahalwan

Aslam Pahalwan (born 1927) was a Pakistani professional wrestler.

Career

Aslam Pahalwan started his wrestling career as the pupil of Hamida Pahalwan and also the Great Gama of India. Aslam is one of the unbeatable wrestlers that the art of traditional wrestling produced when it flourished in India during the past. His exercise routine was similar to that of his elder brother Bholu Pahalwan. He trained thrice a day, relying mostly on basic Pahalwani exercises, such as bodyweight exercises like the Indian Pushups called dands and squats known as baithaks in the regional language, Or other ancient workouts like the Indian weight training with stones called nals and heavy clubs exercise known as Joris to increase strength, stamina and flexibility. A high-calorie and nutritious diet was a must to sustain bodyweight after a strenuous workout. He usually consumed an entire goat during a single meal.
Aslam started wrestling during 1940s. He commenced his career by participating in tournaments held mostly in the Punjab, but he also competed in games held in other parts of India. His first wrestling match was in Amritsar against Bala Pahalwan of India. He defeated his opponent in only ninety seconds. In another important test of his career Aslam defeated Niranjan Singh in Patiala in less than two minutes. During the pre-partition days, the Maharaja of Patiala used to sponsor a wrestling championship in his princely state each year, during the Islamic month of Moharram. During one such tournament Aslam defeated a wrestler known as Puran Singh, in a final showdown. He was rewarded a sum of ten thousand rupees by the Maharaja Bhopindar Singh for his success. He later moved into the limelight by beating Kala Pahalwan and Aslam Mohni Wala in the city of Lahore.
After the Indian Partition, Aslam got stationed in Lahore, Pakistan. He mostly confronted the best wrestlers of Pakistani Punjab. In 1951, Aslam defeated the No.1 wrestler Younus Pahalwan a.k.a. Younus Gujranwala of Gujranwala for the title of Rustam-e-Punjab. He was officially declared Rustam-i-Punjab (i.e. Champion of Punjab) in Minto Park, Lahore. After becoming the champion of Punjab, he wrestled and defeated a number of bona fide wrestlers, like the 1939 IWA Heavyweight Champion, Australian George Pencheff, who were operating throughout India during early 1950s. The exact record of Aslam Pahalwan’s wrestling bouts has not been arranged yet. However, in 1953, he won the Commonwealth Championship. Aslam then issued challenges to wrestlers all over the world and announced a reward of 100,000 rupees to any wrestler who could beat him. In a challenge match, Aslam defeated the famed Indian wrestler Tarlok Singh at the National Stadium in Karachi in the second round. In Nairobi in 1953 he defeated the Indian Wrestler Mahinder Singh. In another challenge match, Aslam defeated the European Heavyweight Champion, and former World Champion, Bert Assirati in Bombay, India on June 3, 1954in front of the 40,000 in attendance. Assirati was the strongest man in wrestling at the time of this match. An Indian entrepreneur rewarded Aslam with a sum of ten thousand rupees on his victory.
During the 50s, Aslam faced all challengers with a great deal of success. In 1957, he travelled to the Far East. In Singapore, Aslam announced a one hundred thousand dollar reward for any wrestler who could beat him. In response to his challenge, he confronted twenty different wrestlers from around the world, and defeated them all. Even a number of significant wrestlers, like King Kong and Sheik Wadi Ayuob, failed to beat him. Aslam later defeated Tiger Sucha Singh and Joginder Singh at the National Stadium in Karachi in a challenge match. In May 1962 he defeated King Kong Czaja (the largest attraction in the history of wrestling) and Lofty Binnie of New Zealand in Karachi.
During the early 60s, he wrestled in India and Pakistan. In 1967 Aslam was sponsored by British promoter Christopher Whelan. He toured the United Kingdom and faced opponents at the leading arenas of the North, Midlands and Scotland. There he defeated the Canadian Champion George Gordienko. On his return home he was awarded the President’s Award of Pride of Performance. [1]. He was ranked among top 10 pro wrestlers in the World. 1. WWWF Champion Bruno Sammartino 2. Karl Gotch 3. Lou Thesz, 4. Aslam Pahalwan, 5. Shohei Baba 6. Fritz Von Erich 7.Bill Watts 8. Dick the Bruiser 9.Ray stevens 10. Verne Gagne 11. Ernie Ladd. In 1971 he wrestled in United Kingdom, but this visit was cut short due to India-Pakistan war. He was managed by the British wrestling promoter Orig Williams.
Aslam gave up wrestling during the early 1970s. He commenced his bout with a charge clashing with his opponent, and used a combination of maneuvers like the Boston Crab to subdue his opponents. Aslam is best remembered for his victory over Bert Assirati in 1954. He died on 7 January 1989 at the age of 62 in Pakistan. His son Zubair Aslam a.k.a. Jhara Pahalwan was a champion wrestler.
Enhanced by Zemanta