آئی پی ایل کے معاملے پر بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ

انڈیا میں مسابقت کی نگرانی کرنے والے ادارے نے انڈین پریمیئر لیگ کے معاملے پر انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ بی سی سی آئی نے براڈ کاسٹروں کا یہ مطالبہ مان کر اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کیا ہے کہ وہ آئی پی ایل کے کسی حریف ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دے گا۔ کمیشن نے بی سی سی آئی سے کہا ہے کہ وہ 60 دن کے اندر اندر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرے۔ آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوئی تھی اور آغاز ہی سے اس کے حقوق سونی پکچرز نیٹ ورکس کے پاس تھے۔ تاہم ستمبر میں روپرٹ مرڈوک کے چینل سٹار انڈیا نے 2018 تا 2022 تک کے حقوق 2.55 ارب ڈالر میں خرید لیے تھے۔ یہ گذشتہ معاہدے سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی پی ایل دنیا کی مہنگی ترین سپورٹس لیگز میں سے ایک ہے۔

مسابقتی کمیشن نے 2013 میں فیصلہ دیا تھا کہ بی سی سی آئی کے سونی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی ایک شق غیر قانونی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آئی پی ایل کی طرز کی کسی اور ٹی 20 لیگ کی اجازت نہیں دے گا۔ تاہم بورڈ نے اس کے خلاف اپیل کی تھی جو کامیاب ٹھہری تھی۔ اب کمیشن دوبارہ اسی نتیجے پر پہنچا ہے اور اس نے وہی جرمانہ عائد کیا ہے جو پہلے کیا تھا۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ بولی دہندگان کا اصرار تھا کہ یہ شق شامل کی جائے۔ تاہم کمیشن نے کہا ہے کہ ‘بی سی سی آئی نے کوئی توجیہ پیش نہیں کی کہ یہ خود ساختہ پابندی کس طرح سے کرکٹ کے مفاد میں ہے جس کے تحت آئی پی ایل کے مقابلے پر کسی اور ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔’ بی سی سی آئی نے اس فیصلے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Advertisements

کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ کی ’بلیک میلنگ‘

انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئي) کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یا یوں کہیں کہ بورڈ کے پاس بے شمار پیسہ ہے۔ پھر اسے اور پیسہ کیوں چاہیے! یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اسی لالچ کے تحت کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مائی باپ رہنے والا ادارہ بی سی سی آئی گذشتہ ماہ دبئی میں ہونے والی بورڈ کی میٹنگ میں ایک طرح سے یتیم ہو گیا۔ وہاں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ ذرا اندازہ لگائيں کہ جس کرکٹ بورڈ نے سنہ 2013 کے آئی پی ایل میں ہونے والی سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کا کیس لڑنے کے لیے تقریباً 50 کروڑ روپے لگا دیئے اور 2015 – 2016 کی گھریلو سیریز میں میڈیا رائٹس کی کمائی 648 کروڑ تھی اور جس کا کرکٹ فکسڈ ڈپازٹ کے سود کے پیسے سے بھی چل سکتا ہے، وہ آئی سی سی سے زیادہ سے زیادہ پیسے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سنہ 2015-2016 میں آئی پی ایل سے 738 کروڑ روپے کمانے والا بھارتی بورڈ پہلی جون سے انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے ہٹنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کھیل کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑی بی سی سی آئی کے حکام کے لیے محض پیسے کمانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان میں سپریم کورٹ نے جسٹس آر ایس لوڈھا کمیٹی کی بی سی سی آئی میں انتظامی اصلاحات کی سفارشات والی رپورٹ کو نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔

سب سے بڑا حصہ

قانونی طور پر اس کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بی سی سی آئی کا افسر آئی سی سی کو اس طرح کی دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھارتی عدالتی نظام کو ہمیشہ انگوٹھے دکھانے کا عادی بی سی سی آئی اپنے خزانے کو اور مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ برادری سے باہر نکل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ آئی سی سی کے نئے ریوینو ماڈل کے حساب سے تمام اراکین بھارتی بورڈ کو آٹھ سالوں کے دوران آئی سی سی کے ٹورنامنٹوں سے ہونے والی کمائی میں سے 29 کروڑ تیس لاکھ ڈالر دینے پر اتفاق کرتے ہیں۔ جبکہ انگلینڈ کو 14 کروڑ تیس لاکہ ڈالر ملیں گے۔ اس کے علاوہ آسٹریليا، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، سری لنکا، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ ہر ایک کے حصے میں 13 کروڑ بیس لاکھ ڈالر آئیں گے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آئی سی سی کے اہم مقاصد میں پوری دنیا میں کرکٹ کو مقبول کرنا شامل ہے۔ ایسوسی ایٹ ممبر آئر لینڈ اور افغانستان کی کرکٹ کے نقشے پر مستحکم موجودگی آئی سی سی کی بڑی کامیابی ہے۔ جب آئی سی سی کی تشکیل ہوئی تھی اس وقت کھیل کو وسیع کرنے کا عہد تھا نہ کہ دھندے میں اضافہ کرنے کا۔ لیکن آئی سی سی کے 39 ایسوسی ایٹ اراکین کو محض 28 کروڑ ڈالر ملنے ہیں۔ یعنی کہ پہلے سے ہی پیسے سے لبالب بی سی سی آئی کو ان 39 ممالک سے بھی زیادہ پیسہ مل رہا ہے اور یہ بھی اسے کم نظر آ رہا ہے۔

ششانك منوہر کا کردار

بی سی سی آئی کے حکام اپنے سابق باس ششانك منوہر کو کوس رہے ہیں۔ ششانک کی ہی بدولت آئی سی سی کی آمدنی کا بڑا حصہ انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ملنے سے روک دیا۔ ظاہر ہے کہ منوہر نے بطور آئی سی سی چیئرمین باقی رکن ممالک اور کھیل کو اہمیت دی اور یہ بات قابل تعریف ہے۔ ششانك کہتے ہیں: ‘موجودہ ماڈل ورلڈ کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے اور امید ہے کہ سالانہ کانفرنس میں اس کو منظوری مل جائے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس ماڈل کو اپنا کر کرکٹ کو عالمی سطح پر پھیلانے اور بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

بے انتہا لالچ کی جڑ کرپشن

بی سی سی آئی کے ایک سینیئر افسر کے مطابق: ‘یہ ماڈل ہمیں منظور نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آئی سی سی کے اگلے آٹھ سال کے متوقع ریوینو کا تقریباً 21 فیصد بھارتی بورڈ کو ملنا چاہیے۔’ اس حساب سے بی سی سی آئی کا مطالبہ 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے ناجائز ہے۔ اور بی سی سی آئی کو یہ پیسے کس کے لیے چاہیے؟ اپنے کھلاڑیوں کے لیے یا پھر اپنے ارکان کے لیے۔

دہلی، گوا، حیدرآباد، جموں اور کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن سمیت بی سی سی آئی کے کئی ارکان کے خلاف بدعنوانی کے چارجز ہیں۔ ان تنظیموں کے خلاف کئی سو کروڑ کے گھپلے کا الزام ہے اور کئی ایجنسیاں ان باری میں تحقیقات کر رہی ہیں۔

لیکن کسی بھی صورت میں بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے حالانکہ یہ اس کا پیسہ ہے۔

اعداد و شمار دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہے کہ کھلاڑی پیسے کے کھیل میں کہیں نہیں ہیں۔ ان کے گذشتہ سال کے بین الاقوامی کیلنڈر کی فیس بی سی سی آئی کے قانونی اخراجات کے سامنے کچھ نہیں۔ کوئی یہ بھی نہیں بتا رہا کہ خود کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یا پھر ان کی اپنی کیا رائے ہے؟ خطرناک پہلو یہ ہے کہ کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ بلیک میلنگ کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کھیلے گی یا نہیں!

ٹیم انڈیا کو کھیلنے سے روکنا اب بی سی سی آئی کے بس میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ درمیان میں ہے اور سات مئی کو ہونے والے بی سی سی آئی کے اجلاس میں پہلے سے ہی ناکامیوں کے سبب نشانے پر موجود بی سی سی آئی کے حکام کے پاس ٹیم کو بھیجنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی منتظمین کی کمیٹی ٹیم کو روکے جانے کے خلاف ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن اور تاریخ داں رام چندر گوہا نے ٹویٹ بھی کیا ہے کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ہندوستان کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنا چاہیے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر باقی ملک یہ طے کر لیں کہ وہ بھارت کے بغیر کرکٹ چلانے کے لیے تیار ہیں تو پھر بی سی سی آئی کی کیا حالت ہو گی؟

جسوندر سدھو

کرکٹ تجزیہ کار