کوہلی نے محمد عامر کو خطرناک ترین بولر قرار دیدیا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیا ہے۔ عامر خان نے اپنے پروگرام میں کوہلی سے سوال کیا کہ آپ کے من میں دنیا کا کوئی ایسا بولر ہے جس کا سامنا کرتے ہوئے آپ کو لگا کہ یہ بہت مشکل بولر ہے اور اسے کھیلتے ہوئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو، جس پر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ”موجودہ بولرز جن کا میں نے سامنا کیا ہے ان میں محمد عامر کو کھیلنا مشکل رہا، وہ دنیا کے ٹاپ 2 یا 3 مشکل ترین بولرز میں سے ہیں۔ وہ ایسے بولر ہیں جن کے خلاف کھیلتے ہوئے آپ کو اپنی اے کلاس گیم کھیلنا پڑتا ہے ورنہ وہ آپ کی وکٹیں اڑا دے گا، وہ واقعی بہت ہی شاندار بولر ہیں۔“

واضح رہے کہ ویرات کوہلی اور محمد عامر بہت اچھے دوست ہیں اور انہوں نے ایشیا کپ 2016ء میں محمد عامر کی صلاحیتوں کی تعریف کی تھی اور انہیں اپنا بیٹ بھی تحفے میں دے چکے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر نے اپنے اوپر تنقید کے نشتر برسانے والے روہت شرما کو آﺅٹ کرنے کے بعد ویرات کوہلی کی وکٹ حاصل کی تھی، ایک بال پر سلپ میں کیچ ڈراپ ہونے کے بعد اگلی ہی بال پر شاداب خان کا کیچ بنواتے ہوئے انہیں پویلین کا راستہ دکھایا تھا۔

Advertisements

یاسر شاہ مسلسل پانچ ٹیسٹ میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے سپنر

پاکستان کے سپنر یاسر شاہ ٹیسٹ میچ کی تاریخ کے پہلے سپنر بن گئے ہیں جنھوں نے مسلسل پانچ میچوں میں کسی ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہوں۔ یاسر شاہ ٹیسٹ میچوں کی تاریخ میں یہ سنگِ میل حاصل کرنے والے پہلے سپنر ہیں۔ ان کے علاوہ تین بولرز یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں لیکن وہ تینوں فاسٹ بولرز تھے۔ انگلینڈ کے سڈنی بارنز کے پاس 1912-14 میں سات ٹیسٹ میچوں میں مسلسل پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ ہے۔
دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کے چارلی ٹرنر ہیں جنھوں نے 1887-1888 میں چھ مسلسل ٹیسٹ میچوں میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کیں جبکہ تیسرے نمبر پر انگلینڈ ہی کے ایلک بیڈسر ہیں جنھوں نے 1952-53 میں چھ مسلسل ٹیسٹ میچوں میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔

یاسر شاہ اب تک مجموعی طور پر 13 بار ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ دو مرتبہ انھوں نے ایک ٹیسٹ میچ میں دس یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ اپنا 28 ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور اب تک 163 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے 21 اپریل کو کنگسٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں دوسری اننگز میں 63 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں انھوں نے 94 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف روزیو میں کھیلے جانے والے اگلے ہی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 92 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے خلاف جاری سیریز میں ابو ظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں یاسر شاہ نے 51 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اپنے لگاتار پانچویں ٹیسٹ میں دبئی میں جاری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں یاسر شاہ نے 184 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

ہاشم آملہ کی 28 ٹیسٹ سنچریاں، کتنے کھلاڑی ان سے آگے؟

جنوبی افریقہ کے سٹار بیٹسمین ہاشم آملہ نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں اپنے کیریئر کی 28 ویں سنچری مکمل کی ہے۔ بلوم فاؤنٹین میں کھیلے جارہے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ کے دوسرے دن ہاشم آملہ 17 چوکوں کی مدد سے 132 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ہاشم آملہ کے ٹیسٹ کیریئر کی یہ 28 ویں سنچری ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی انھوں نے سنچری سکور کی تھی جبکہ مجموعی طور پر 2017 میں ان کی یہ تیسری سنچری ہے۔

بیٹسمین ٹیسٹ سنچریوں کی تعداد
1: سچن تندولکر، انڈیا 51
2: یاک کیلس، جنوبی افریقہ 45
3: رکی پونٹنگ، آسٹریلیا 41
4: کمار سنگاکارا، سری لنکا 38
5: راہل ڈریوڈ، انڈیا 36
6: یونس خان، پاکستان 34
7: سنیل گواسکر، انڈیا 34
8: برائن لارا، ویسٹ انڈیز 34
9: مہیلا جے وردھنے، سری لنکا 34
10: سٹیو وا، آسٹریلیا 32

اس سنچری کے ساتھ ہی وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے کی فہرست میں پندرہویں نمبر پر آگئے ہیں۔ خیال رہے کہ اس فہرست میں سچن تندولکر 51، یاک کیلس 45 اور رکی پونٹنگ 41 سنچریوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ خیال رہے کہ ہاشم آملہ 2017 میں سب سے زیادہ سکور کرنے والے بیسٹمینوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس سال وہ 900 سے زائد رنز سکور کر چکے ہیں جبکہ اس سال 2017 میں اب تک 1000 سے زیادہ رنز بنا کر ان کے ساتھی کھلاڑی ایلگر سرفہرست ہیں۔

یاسر شاہ کو سانس لینے دیں

 ڈیبیو سے اب تک یاسر شاہ 26 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ابوظہبی میں جاری میچ ان کے کریئر کا 27 واں میچ ہے، جس میں انھوں نے اپنے کریئر کی 150 ویں وکٹ حاصل کر کے تیز ترین 150 وکٹوں کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ یاسر شاہ میں وہ تمام گن موجود ہیں کہ آج سے دس سال بعد وہ پاکستان کے کامیاب ترین سپنر اور شاید سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والے بولر ہوں۔ لیکن کیا کسی نے غور بھی کیا ہے کہ تھنک ٹینک کے تجربات کا یاسر شاہ پہ کیا اثر پڑ رہا ہے؟

ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں یاسر شاہ نے 57 اوورز پھینکے۔ یاد رہے ابھی میچ کی دوسری اننگز باقی ہے۔ اس سے پہلے ڈومنیکا میں بھی انھیں 57 اوورز پھینکنا پڑے تھے۔ بظاہر دیکھا جائے تو سپنر کے لیے یہ کوئی غیر معمولی ورک لوڈ نہیں ہے۔ مرلی دھرن ایک دن میں 40 اوورز بھی پھینک لیا کرتے تھے لیکن ایسا شاذ ہی ہوا کرتا تھا۔ یاسر کے مقابلے میں شین وارن کے کیریئر کو دیکھا جائے تو وارن فی میچ لگ بھگ 44 اوورز پھینکا کرتے تھے جب کہ کل کے 57 اوورز کے علاوہ یاسر اب تک فی میچ 54 اوورز پھینک چکے ہیں۔

ہم سب آگاہ ہیں کہ پچھلے ایک سال سے یاسر مختلف فٹنس مسائل کا شکار ہیں، ایک بار غلطی سے ممنوع دوائیں بھی کھا بیٹھے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اپنے کیریئر کے بدترین اعداد بھی دیکھ چکے، حتیٰ کہ حالیہ سیریز سے قبل سکواڈ کا اعلان صرف اسی لیے موخر کیا جاتا رہا کہ یاسر شاہ کی فٹنس کی تصدیق ہو سکے۔ اور ان حالات کے بعد جب یاسر شاہ میدان میں اترتے ہیں تو ابوظہبی کی چلچلاتی دھوپ میں ان سے 57 اوورز پھینکوائے جاتے ہیں۔ جب کہ پارٹ ٹائم آپشن اظہر علی سے ایک بھی اوور نہیں کروایا جاتا اور جب 57 اوورز پھینک کر وہ ڈریسنگ روم پلٹتے ہیں تو انہی کے بولنگ کوچ یہ فرماتے پائے جاتے ہیں کہ اس وکٹ پہ ایک ریگولر سپنر ہی کافی تھا۔ بھئی اگر ایک سپنر ہی کافی تھا تو 57 اوورز کسی فاسٹ بولر سے کروا لیتے۔

اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پچھلے چھ سال میں ہوم گراونڈز پہ ناقابل شکست رہنے والی ٹیم نے کبھی بھی صرف ایک سپنر پہ اکتفا نہیں کیا تھا، ہمیشہ دو ریگولر سپنرز کھلائے جاتے تھے۔ تھنک ٹینک سے دست بستہ عرض ہے کہ حضور! ٹیم کو ینگ بنانے کی کوششیں ضرور جاری رکھیے مگر یہ مت بھولیے کہ یاسر شاہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں اور اگر ان کا ہاتھ بٹانے کو اور کوئی آل راؤنڈر نہیں مل رہا تو 50 ٹیسٹ کا تجربہ اور یو اے ای کی وکٹس پہ بہترین ریکارڈ رکھنے والے حفیظ میں کیا برائی ہے؟

سمیع چوہدری
کرکٹ تجزیہ کار

یاسر شاہ ٹیسٹ کی تاریخ میں تیز ترین 150 وکٹیں لینے والے اسپنر

یاسر شاہ ٹیسٹ کی تاریخ میں سب سے تیز ترین 150 وکٹیں لینے والے اسپنر بن گئے، انہوں نے یہ کارنامہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابوظبی ٹیسٹ کے پہلے روز سرانجام دیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے اسپنر یاسر شاہ نے 150 وکٹیں لینے کا کارنامہ 27 ویں ٹیسٹ میں حاصل کیا، یاسر شاہ سے قبل آسٹریلیا کے کلیری گریمیٹ نے 28 ٹیسٹ میچوں میں 150 وکٹیں لی تھیں۔ اس سے قبل دنیائے کرکٹ کے5 بولرز نے یہ کارنامہ 29 ٹیسٹ میچز میں سر انجام دیا، ان بولرز میں پاکستان کے سعید اجمل، انگلینڈ کے بوتھم، بھارت کے روی چندرن، جنوبی افریقا کے ڈیل اسٹین اور جنوبی افریقا کے ہی ٹے فیلڈ شامل ہیں۔

آزادی کپ : پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے تاریخی رنگ

پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان تاریخی آزادی کپ کے پہلے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے 20 رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ ورلڈ الیون کے اس تاریخ ساز دورے اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے ساتھ ہی ملک میں طویل عرصے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی۔ حریف کپتان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرنے والی پاکستانی ٹیم نے بابر اعظم کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت 197 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا۔ پاکستان کی جانب سے بابر نے 86 رنز بنا کر ٹی 20 کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی جبکہ احمد شہزاد نے 39 اور شعیب ملک نے 38 رنز کی اننگز کھیلیں۔

 

 

 

 

 

 

 

اسلام علیکم، شکریہ، پاکستان زندہ باد : اینڈی فلاور

پاکستان کا دورہ کرنے والی ورلڈ الیون کے کوچ اور زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اینڈی فلاور نے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں میں شرکت کے بعد اردو د زبان سیکھنے میں بھی اپنی دلچسپی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں دوبارہ آنے کا بھی عزم ظاہر کر دیا۔ فاف ڈیوپلیسی کی قیادت میں پاکستان آنے والی ورلڈ الیون کی ٹیم کے کھلاڑی کامیاب دورے کے بعد اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو گئے لیکن کوچ اینڈی فلاور اپنے بھائی گرانٹ فلاور کی دعوت پر مز ید ایک روز کے لیے لاہور میں ہی ٹھہرے ہیں۔ گرانٹ فلاور اس وقت پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں جنھیں 2014 میں ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اینڈی فلاور نے کہا کہ پاکستان میں اردو کے کچھ الفاظ سیکھے ہیں، اردو کے کچھ الفاظ اسلام علیکم، شکریہ اور پاکستان زندہ باد سیکھ چکا ہوں۔ اینڈی فلاورکا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے آیا تھا کہ میرا بھائی گرانٹ یہاں اتنا خوش کیوں ہے۔ اینڈی فلاور نے پاکستانی کھانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے کھانے بہت لذیذ ہیں جنھیں کھا کھا کر میرا پیٹ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کے دورے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں اب دوبارہ پاکستان آنا چاہوں گا۔

ورلڈ الیون کے اگلے دورے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کے دوبارہ پاکستان آنے کے بارے میں آئی سی سی فیصلہ کرے گی۔ خیال رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی خاطر جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیوپلیسی اور مایہ ناز بلے باز ہاشم آملہ کے علاوہ ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون ٹیم کو بھیجا تھا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقدہ آزادی کپ میں پاکستانی ٹیم نے سیریز کو 2-1 سے جیت لیا، ورلڈ الیون کی ٹیم نے پہلے میچ میں ناکامی کے بعد دوسرے میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز برابر کر دی تھی تاہم سرفراز الیون نے تیسرے میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کپ اپنے نام کر لیا تھا۔

پاکستان کے بغیر کرکٹ اور آئی سی سی کا تصور ادھورا ہے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ڈائریکٹر جائلز کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان کے بغیر عالمی کرکٹ اور خود آئی سی سی کا تصور ادھورا ہے۔ لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جائلز کلارک نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے میدانوں سے ویرانیوں کےسائے چھٹ گئے ہیں اور ورلڈ الیون نے دیگر غیرملکی ٹیموں کی آمد کی راہ ہموار کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کوشش کرے گی کہ باقی ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان آ کر کھیلیں کیوں کہ ان کے بقول “پاکستان کے بغیر کرکٹ اور آئی سی سی کا تصور ادھوا ہے۔”

جائلز کلارک نے آزادی کپ کے لیے کیے جانے والے حفاظتی انتظامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان کی سکیورٹی اداروں پر مکمل اعتماد ہے۔ جائلز کلارک نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے حالات بہتر ہو گئے تو جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت تمام ٹیمیں یہاں آئیں گی۔ اس موقع پر پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا خواب پورا ہونے لگا ہے۔ نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ ورلڈ الیون کے بعد مزید ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گی۔

لاہور ہی میں ہونے والی ایک اور نیوز کانفرنس میں پاکستان کے دورے پر آنے والی ورلڈ الیون کے کوچ اور کپتان اپنی ٹیم کی کامیابی کے لیے پر امید نظر آئے۔ ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور نے کہا کہ ان کی ٹیم کا باؤلنگ اٹیک متوازن ہے اور ان کی ٹیم پاکستانی ٹیم کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کے دورے کا مقصد صرف اور صرف پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہے۔ پریس کانفرنس میں ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ وہ پاکستانی کنڈیشنز میں کھیلنے کے لیے بے تاب ہیں۔

فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ پاکستان میں ان کا استقبال بہت عمدہ ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ گراونڈ میں میچ بہت اچھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں جنوبی افریقہ کا بھی ہاتھ ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے لوگ بہت زندہ دل ہیں اوریہاں کرکٹ کا مزہ آئے گا۔ اس موقع پر ورلڈ الیون کے کوچ اور کپتان نے اپنی ٹیم کی کٹ کی رونمائی بھی کی۔ ورلڈ الیون اور پاکستان کی قومی ٹیم کے درمیان تینوں میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

پاکستان : ویلکم بیک ہوم کرکٹ

پاکستان کے لیے صرف انٹرنیشنل کرکٹ ہی کیوں ناگزیر ہے؟ اور بھی تو کھیل ہیں۔
ہاکی بھی تو ہے جس نے ہمیں چار ورلڈ کپ دیے۔ ویسے بھی کرکٹ اپنی تنہائی میں اکیلی تھوڑی ہے۔ جیسی تشنگی سے یہ دوچار ہے، ویسی ہی پیاس دیگر کھیلوں کو بھی تو ہے۔ تو پھر ایسا کیا ہے کہ کرکٹ ہی کی بحالی ہماری عالمی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ چلیے پی سی بی کو تو یہ غرض ہو گی کہ اس کے ہوم گراونڈز آباد ہوں اور ریونیو کی ریل پیل شروع ہو۔ سرحد پار بھی تو ایک کرکٹ بورڈ ہی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی سپورٹس مارکیٹ پہ اپنی دھاک جمائے بیٹھا ہے۔ سو پی سی بی کے لیے تو گویا بقا کا راز ہی یہ ہے کہ پاکستان کے میدان آباد ہوں۔

مگر جب پورے ملک کا پہیہ ایک سپورٹس ایونٹ کی طرف مڑ جائے اور ریاستی سربراہان کی سی سکیورٹی کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے وقف کر دی جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک ادارے کی انا کا نہیں ہے۔ آخر کچھ تو ہے کہ جو ’ادارے‘ عام حالات میں ’ٹکراتے‘ رہتے ہیں، کرکٹ کی خاطر اچانک شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور عوام الناس ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں رک کر ٹکٹیں خریدتے ہیں۔ میلوں دور پارکنگ سے پیدل چلتے ہیں، تہہ در تہہ سکیورٹی کے حصاروں کو عبور کرتے ہیں، اور اپنا خون پسینہ بہا کر قذافی سٹیڈیم کی ایک نشست فتح کرتے ہیں۔

اس ایک نشست تک کے پر اسرار سفر اور اس ایک ایک انٹرنیشنل میچ کے گرد ہماری مجموعی قومی کاوش کی تہہ میں کئی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ کہیں کوئی پینتیس سالہ نوجوان ہو گا جو آج سے تیس سال پہلے شاید وسیم اکرم بننا چاہتا تھا، کہیں کوئی جھریوں والا چہرہ ہو گا جو عمران خان کے کرئیر کے اتار چڑھاو میں ہی جوان ہوا، کہیں کوئی ادھیڑ عمر شخص ہو گا جسے بانوے کا ورلڈ کپ یوں یاد ہے جیسے کل کی بات تھی۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرکٹ سٹارڈم صرف کھیل کی حد تک ہی محدود نہیں رہتا۔ یہاں کئی نسلیں کرکٹ کے گرد پلی بڑھی ہیں۔ عمران خان پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے سٹار ہیں اور دنیائے کرکٹ آج بھی ان کی قدر کرتی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طبقے میں وہ آج سب سے زیادہ مقبول ہیں، اس کی اکثریت وہ ہیں جنہوں نے ان کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ مگر اس کرکٹ سٹارڈم کی تاثیر صرف ایک نسل تک ہی محدود نہیں رہی۔

پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دیے بجھے آٹھ برس بیت چکے۔ پچھلے آٹھ سال میں زمبابوے کے سوا کسی فل ممبر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ آخری بار جب پاکستان اپنے ہوم گراونڈ پہ کھیلا تھا تو ون ڈے میں تیز ترین سینچری کا ریکارڈ پاکستان کے پاس تھا، ون ڈے میں طویل ترین انفرادی اننگ کا ریکارڈ سعید انور کے نام تھا۔ پچھلے آٹھ سال میں یہ دو ریکارڈ کئی بار توڑے جا چکے ہیں۔ پاکستان اپنی تاریخ کی بدترین ون ڈے رینکنگ دیکھ چکا ہے۔ اور پاکستان پہ آئی پی ایل کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اور اس تمام دورانئے میں پاکستان محمد عامر کے سوا کوئی سٹار پیدا نہیں کر سکا۔ کوئی کلائی سے کھیلنے والا بلے باز نہیں آیا۔ کوئی تباہ کن فاسٹ بولر نظر نہیں آیا۔

ایسا نہیں کہ ہوم گراونڈز پہ انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہونے کے بعد پاکستان نے کرکٹ میں کچھ حاصل نہیں کیا۔ اسی دور میں بے شمار ریکارڈز بھی پاکستان نے ہی توڑے، پے در پے تاریخ بھی رقم کی، نمبرون ٹیم تک تو بنا، مگر سٹارز پیدا نہیں کر پایا۔ کسی بھی سپورٹنگ ہیرو کے ارتقا پہ نظر ڈالیے تو اس کے پیچھے ایک بڑا ہیرو چھپا ہوتا ہے۔ اگر ایک نسل وسیم اکرم جیسا جادوگر دیکھتی ہے تو اس وجہ سے کہ پچھلی نسل عمران خان کو دیکھ چکی ہوتی ہے۔ اگر راولپنڈی کے گراونڈ میں کبھی وقار یونس نے تباہ کن بولنگ نہ کی ہوتی تو شاید دنیا کا تیز ترین بولر شعیب اختر کبھی سامنے ہی نہ آ پاتا۔ کیونکہ ہوم گراونڈز وہ ہیں جہاں آج کے ہیرو کھیلتے ہیں۔ اور ہوم کراوڈز وہ ہیں جہاں کل کے ہیرو بیٹھتے ہیں۔

سمیع چوہدری
کرکٹ تجزیہ کار

کوہلی کا عمران، میانداد اور انضمام کو خراج تحسین

ویرات کوہلی نے کرکٹ میں خود کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں انہیں دنیا ماسٹر بیٹسمین ماننے لگی ہے۔ تاہم انہوں نے ٹیچرز ڈے کے موقع پر کرکٹ کے ’استادوں‘ کو منفرد انداز سے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بڑے سے پوسٹر پر عظیم کرکٹرز کے نام لکھوائے اور اس کے سامنے بیٹھ کر تصویر بنا کر شیئر کر دی۔ اس پوسٹر میں جہاں سچن ٹنڈولکر سمیت بھارتی کرکٹرز کے نام درج ہیں وہیں کوہلی پاکستان کے سابق کپتان عمران خان، جاوید میانداد اور انضمام الحق کو بھی نہیں بھولے۔ کوہلی نے ساتھ ہی لکھا ہے کہ ’دنیا بھر کے تمام اساتذہ اور خاص طور پر کرکٹ کے اساتذہ کیلئے نیک خواہشات‘