اے بی ڈویلیئرز بھی وسیم اکرم کی باؤلنگ کے معترف نکلے

جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان اے بی ڈویلیئرز نے وسیم اکرم کو اپنی نوعیت کا واحد باؤلر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی کرکٹ میں اب بھی وسیم اکرم کی ’سوئنگ‘ کی مہارت کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے میچ کے دوران اے بی ڈویلیئرز نے غیرملکی چینل کی جانب سے بنائی جانے والی وسیم اکرم کی باؤلنگ کی ویڈیو دیکھنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ’یہ ایک بہترین ویڈیو ہے، وسیم اکرم نہایت ہی باصلاحیت باؤلر تھے‘۔

برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے میچ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کے دوران جب ڈویلیئرز سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نہیں خیال کہ پاکستان کے موجودہ اسکواڈ میں کوئی بھی کھلاڑی وسیم اکرم جیسا ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، ‘دنیائے کرکٹ میں اس وقت وسیم اکرم جیسا کوئی کھلاڑی نہیں ہے’۔ ان کا کہنا تھا ’میں نے آج تک وسیم اکرم جیسا باؤلر نہیں دیکھا، وہ اس وقت انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا حصہ ہیں اور ایونٹ کے دوران ان سے ملاقات اور بات چیت ہوتی رہتی ہے‘۔

جنوبی افریقی کپتان نے وسیم اکرم کی باؤلنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب وہ باؤلنگ کراتے اور اس دوران جو وہ سوچ رہے ہوتے تھے، بہت ہی عمدہ ہے’۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وسیم اکرم نے اپنے تمام تجربات نہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں بلکہ آئی پی ایل میں بھی کئی کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کیے، وہ ایک ایسے باؤلر ہیں جو باؤلنگ کی مہارت کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ جنوبی افریقی کپتان کے ٹوئٹ کے بعد سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے اپنی جوابی ٹوئٹ میں کہا ’میری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کے خلاف میچ نہیں کھیلا ورنہ تم مجھے عزت دینے کے بجائے رنز دے دیتے‘۔ اے بی ڈویلیئرز کے مطابق اب تک کرکٹ میں انہیں کسی باؤلر نے اتنا متاثر نہیں کیا جتنا وسیم اکرم نے متاثر کیا۔

’پھر وہ ایسا عامر بنا کہ پاکستان کو بچا لیا‘

دو ہزار دس کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں تین پاکستانی کرکٹرز پہ پابندی لگی تھی۔ تینوں بہترین پلئیرز تھے۔ سلمان بٹ بہت اچھے اوپنر تھے۔ انہی کی کپتانی میں پاکستان نے 15 سال بعد آسٹریلیا سے ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔ محمد آصف کی تباہ کن بولنگ تب تک اپنے جھنڈے گاڑ چکی تھی۔ عمران خان آج بھی کہتے ہیں کہ 2010 کا محمد آصف اسی انگلینڈ ٹور کے مین آف دی سیریز محمد عامر سے بہتر بولر تھا۔ اس سیریز میں محمد عامر کی جو کارکردگی تھی، اور کرئیر کے دوسرے ہی سال جس لیول کے انٹرنیشنل پلئیر وہ بن چکے تھے، ان پہ پابندی کی خبر نے دنیائے کرکٹ کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ جس طرح سے وہ ڈیوک بال کو سیم کرتے تھے، لوگ انھیں بجا طور پہ دوسرا وسیم اکرم کہنے لگے تھے۔

مائیکل ہولڈنگ سکرین پہ دنیا کے سامنے رو پڑے تھے۔ وسیم اکرم کے گرو عمران خان ہی نے یہ کہا تھا کہ اس عمر کے وسیم اکرم میں بھی اتنا ٹیلنٹ نہیں تھا۔ جہاں عامر پہ اس قدر سوگ منایا جا رہا تھا، وہیں دو اور بہترین پلئیرز شدید نفرت کی زد میں تھے۔ کسی کو آصف کے تباہ کن سپیل یاد نہیں آ رہے تھے، کوئی یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ سعید انور کے بعد آنے والے بہترین اوپنر کو معاف کر دیا جائے۔ سب کو فکر تھی تو یہ کہ بس عامر کو کسی طرح بچا لیا جائے۔ کیونکہ شاید سب جانتے تھے کہ یہی وہ ٹیلنٹ ہے جو دہائیوں بعد کہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔

محمد عامر کو ہر طرف سے ہمدردی ملی، پیار ملا، آئی سی سی نے بھی ذرا نرمی برتی، پی سی بی نے بھی بھرپور خیال رکھا، قوم کی تائید بھی حاصل رہی، سبھی نے دل سے معاف بھی کر دیا۔ خدا خدا کر کے پانچ سال کٹے اور بالآخر امیدوں کا پہاڑ اٹھائے محمد عامر واپس آ گئے اور قسمت کی خوبی دیکھیے کہ واپسی ہوئی بھی تو کہاں، وہیں جہاں سے دیس نکالا ملا تھا۔ لارڈز ٹیسٹ کا آغاز ہوا اور بلاوجہ پاکستان کی بیٹنگ آ گئی۔ کافی بے صبری سی ہوئی کہ عامر کو دیکھنے کے لیے ایک اور اننگز کاٹنا پڑے گی۔ ایک اور شب انتظار میں گزرے گی۔ بالآخر اگلے روز محمد عامر بولنگ کے لیے آئے۔ دنیا بھر کی نظریں جمی تھیں۔ انگلش کپتان الیسٹر کک سامنا کر رہے تھے۔

محمد عامر اپنے بولنگ مارک تک آئے، سانسیں رک گئیں۔ عامر نے رن اپ لیا، سبک رفتار قدموں سے دوڑنا شروع کیا، امیدوں کے دریچے کھل گئے۔ خدا خدا کر کے چند قدموں کا سفر کٹا اور چھ سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی کریز نے محمد عامر کو دیکھا۔ پہلی بال سوئنگ ہوئی مگر لینتھ کچھ بہتر نہیں تھی، سو کک کو سنگل لینے کا موقع مل گیا۔ ایلیکس ہیلز سامنے آئے۔ اس بار لائن ایسی عمدہ نہ تھی کہ ایلیکس ہیلز کو متاثر کر پاتی۔ تیسری گیند کی لائن اور لینتھ دونوں ہی مناسب نہ تھیں، اور ہیلز نے اسے اٹھا کر باونڈری پار پھینک دیا۔ اور خواب ٹوٹ گیا۔ پانچ سال سے ہم جس عامر کا سوگ منا رہے تھے، یہ وہ عامر نہیں تھا۔

بلاشبہ تب سے اب تک محدود اوورز میں عامر کی کارکردگی بہتر رہی مگر ٹیسٹ کرکٹ میں ہر سپیل کے ساتھ ان کا مستقبل مخدوش ہوتا رہا۔ تاآنکہ حالیہ ویسٹ انڈیز سیریز میں انھوں نے چھ وکٹیں لی اور امیدوں کے دیے کچھ روشن ہوئے۔
مگر اسی میچ کے بعد یہ سننے کو ملا کہ عامر اپنے لمیٹڈ اوورز کرئیر کو طول دینے کے لیے ٹیسٹ سے کنارہ کشی کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات شاید اس تلخ حقیقت کا ادراک تھا جو جانتے تو سبھی تھے مگرکہنا کوئی نہیں چاہتا تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ عامر کے بے شمار کیچز ڈراپ ہوئے اور لوگوں نے انہیں اس جواز سے سپورٹ بھی کیا۔ مگر پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کیچز نے بھی ڈراپ ہونا چھوڑ دیا اور وکٹوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔

ایسا نہیں کہ عامر نے محنت نہیں کی، انھوں نے توقعات پہ پورا اترنے کے لیے بھرپور جان ماری۔ مگر اس تلخ حقیقت کا ادراک کوئی نہ کر پایا کہ ایک فاسٹ بولر جب پانچ سال کی پابندی کے بعد لوٹتا ہے تو اس بیچ کتنے موسم گزر چکے ہوتے ہیں، کتنی رتیں بدل چکی ہوتی ہیں۔ وہ فقط اپنے ٹیلنٹ کے بل پہ زندہ نہیں رہ سکتا، اسے خاموشی سے محنت کرنا ہوتی ہے، سر جھکا کر، اپنے ٹیلنٹ کو پیچھے رکھ کر ایک نئے کرئیر کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ مگر عامر کو وہ خاموشی نہیں ملی اور جس شور کا انہیں سامنا تھا، وہ اپنے تئیں اسے جواب دینے کی کوششیں کرتے رہے۔

پھرشور تھم گیا، دھند چھٹنے لگی، تو عامر کو ادراک ہوا اور سر جھکا کر محنت کرنے کا خیال آیا۔ اور آج اس محنت کا ثمر یہ ہوا کہ آٹھویں نمبر کی ٹیم، جس نے رینگ رینگ کے کوالیفائی کیا تھا، آج چیمپئینز ٹرافی کے سیمی فائنلسٹس میں کھڑی ہے۔ یہ وہ حد ہے جہاں سے ماڈرن ون ڈے کی تین بہترین ٹیمیں باہر ہو چکی ہیں۔ پاکستان چاہے پہلے بیٹنگ کرتا یا بعد میں، پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لیے صرف اینجلو میتھیوز کی وکٹ چاہیے تھی جو صرف ٹیم کی کپتانی کرنے کے لیے اپنا ٹیم بیلنس بدلنے پہ مجبور تھے۔ ابتدائی وکٹیں کھونے کے بعد جب سری لنکا کا اعتماد بکھر چکا تھا تب میتھیوز نے آ کر اننگز کو سنبھالا دیا اور ایک اچھی پارٹنرشپ لگائی۔ سری لنکا پھر سے اٹھنے لگا۔

اگر میتھیوز وہاں دس اوور اور کھڑے رہتے تو یقیناً میچ لے جاتے۔ وہ ذہنی طور پہ پختہ کپتان نہ سہی مگر پچھلے دو سال میں جہاں انجریز نے ان کی بولنگ کو زک پہنچائی ہے، وہیں انکی بیٹنگ میں حیران کن پختگی بھی آ چکی ہے۔ انھیں اس موقع پہ آؤٹ کرنے کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں تھا، ذہنی پختگی بھی درکار تھی۔ اور پھر، جس عامر کو پاکستان چھ سال سے بچاتا آ رہا تھا، وہ ایسا عامر بنا کہ اس نے پاکستان کو بچا لیا۔

سمیع چوہدری
کرکٹ تجزیہ کار

میانداد کی 60 ویں سالگرہ پر گواسکر کا پیغام

ماضی کے عظیم پاکستانی کھلاڑی اور سپر اسٹار جاوید میاں داد پیر کو 60 سال کے ہو گئے۔ بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے بھی ان کی سالگرہ کا پیغام دیا۔ جاوید میاں داد کے گہرے دوست سنیل گواسکر نے پیغام میں کہا ’جاوید تم جیو ہزاروں سال اور سال کے دن ہو ں پچاس ہزار‘.

بھارتی لٹل ماسٹر نے کہا کہ بلاشبہ جاوید میاں داد پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے سب سےاچھے کھلاڑی ہیں۔ ایسا کھلاڑی پاکستان کرکٹ میں دوبارہ نہیں آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاوید میاں داد کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ان کی زندگی میں سدا خوشیاں آئیں۔

عامر کا فیصلہ کن بالنگ سپیل

 محمد عامر نے اپنے پہلے ہی سپیل میں تین اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے پاکستان کی پوزیشن مضبوط کر دی تھی۔

 

 

 

مہندر سنگھ دھونی کی سرفراز احمد کے بیٹے کے ساتھ تصویر وائرل

انڈین کرکٹر مہندر سنگھ دھونی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ کرکٹ کی تاریخ کے ایک بڑے مقابلے سے پہلے فیس بک سے لے کر ٹویٹر پر دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین کے درمیان سخت بیان بازی جاری رہی۔ لیکن اس کے درمیان ٹیم انڈیا کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے بیٹے عبداللہ کے ساتھ نظر آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصویر سینیئر ٹی وی صحافی راجدیپ سردیسائی نے جاری کی ہے۔ دوسری جانب انڈین ٹیم کے کپتان کوہلی نے فائنل سے پہلے سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیا تھا تا کہ تمام توجہ میچ کی تیاری پر رہے۔ ویراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے خود کو روکنا ان کی اور انڈیا کے فام میں آنے کی بڑی وجہ ہے۔

کوہلی کے فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اکاؤنٹس پر تقریباً چھ کروڑ 56 لاکھ فالورز ہیں تاہم کوہلی کے مطابق کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر منفیت اور انتشار توجہ سے دور رہا جائے۔ کوہلی کے مطابق ‘صاف گوئی سے، یہ مضحکہ خیز لگتا ہے لیکن یہ بہت اہم ہے کہ ان چیزوں سے دور رہا جائے اور ان چیزوں سے خود کو جوڑا جائے جو اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ مشکل کام ہے لیکن خود کو اچھی ذہنی حالت میں رکھنے کے لیے اس طرح کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ بہت زیادہ مشوروں، کھلاڑیوں یا تنقید کو بہت زیادہ سنتے ہیں تو اس صورت میں آپ کو ایک کھلاڑی کے طور پر جس کی چیز پر سوچنے کی ضرورت ہے اس پر توجہ نہیں سکتے اور نہ ہی اپنی ٹیم کی رہنمائی کر سکتے ہیں اور پھر ٹیم میں دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔

چیمپئنز ٹرافی : پاکستان کی فتح پر بھارتی میڈیا نے کیا لکھا

پاکستان نے اوول میں کھیلے جانے والے فائنل میں بھارت کو 180 رنز سے شکست دے کر پہلی بار چیمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 338 رنز بنائے جس کے جواب میں بھارتی بیٹنگ لائن 31 اوورز میں 158 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس حوالے سے بھارتی میڈیا نے کیا ردعمل ظاہر کیا، وہ درج ذیل ہے۔

ہندوستان ٹائمز
اس بھارتی روزنامے نے لکھا کہ پاکستان کے 338 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم کسی بھی طرح دفاعی چیمپئن کی طرح مقابلہ کرتی نظر نہیں آئی اور اولین نو اوورز میں محمد عامر کی تباہ کن باﺅلنگ کے سامنے تین وکٹوں سے محروم ہو گئی، جبکہ حسن ‘بمبار’ علی نے تین وکٹیں لے کر رہی سہی کسر پوری کر دی۔ میچ کے دوران بھارتی عوام کی توقعات ویرات کوہلی سے وابستی تھیں مگر ایک بار کیچ ڈراپ ہونے کے باوجود وہ اگلی گیند پر ہی آﺅٹ ہو گئے اور محمد عامر کا شکار بن گئے جبکہ شیکھر دھون کی وکٹ نے پاکستان کو کامیابی کا مزید یقین دلا دیا۔ اس سے قبل میچ کے شروع میں فخر زمان زیادہ متاثرکن نظر نہیں آئے مگر بھارتی باﺅلر کی غلطیوں نے ٹیم کو ناک کے بل گرا دیا اور پاکستان بڑا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہا۔

انڈین ایکسپریس
اس روزنامے نے لکھا کہ 339 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت کے پاس رنز کا تعاقب کرنے والا دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک تھا، ویرات کوہلی ایسا بھارت کے لیے پہلے بھی کر چکے ہیں،  اور ویرات کوہلی اس پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ بھارتی ٹیم شروع میں محمد عامر کی زبردست باﺅلنگ کے نتیجے میں جس تباہ کن آغاز کا شکار ہوئی، اس سے باہر نہیں نکل سکی اور پاکستان نے پہلی بار چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کر لی۔ درحقیقت یہ فائنل میں دونوں ٹیمیں بالکل مختلف نظر آئی، وہ ٹیم جسے پہلے میچ میں بھارت نے شکست دی تھی، وہ فائنل میں چیمپئنز کی طرح کھیلی جبکہ بھارتی ٹیم ہر شعبے میں ناکام رہی۔

ٹائمز آف انڈیا
اس جریدے نے لکھا کہ شروع سے ہی پاکستان بہتر نظر آیا اور آخر میں بھارت کو 180 رنز سے شکست دی اور 2009 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پہلی بار کوئی آئی سی سی ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ یہ 25 سال بعد پہلا موقع تھا جب ون ڈے فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم نے کوئی بڑا آئی سی سی ٹائٹل جیتا، اس سے پہلے آٹھ سال تک اسے آئی سی سی ایونٹس میں بھارتی ٹیم سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ٹیم کی باﺅلنگ شروع سے بری رہی جبکہ بیٹنگ میں تین اہم بلے باز محمد عامر کا شکار بن گئے جبکہ اس وقت تک ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے باﺅلر حسن علی کا اسپیل بھی شروع نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میچ اسی وقت ہار گیا تھا جب اس نے ٹاس جیت کر اچھے موسم میں پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی اور چوتھے اوور میں نو بال پر فخر زمان کو نئی زندگی ملنا بھی شکست کی وجہ بنا۔

اسکرول ان
اس ویب سائٹ نے لکھا کہ محمد عامر نے بھارت کے ٹاپ تھری بلے بازﺅں کو آﺅٹ کر کے پاکستان کے لیے 180 رنز سے کامیابی کی بنیاد رکھی، دفاعی چیمپئن بھارت 339 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اس ٹیم سے شکست کھا گئی جسے اس نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں 4 جون کو شکست دی تھی۔

دکن کرانیکل
اس ویب سائٹ نے لکھا کہ سب کچھ بھارت کے خلاف گیا جبکہ پاکستان نے ناقدین کی زبانوں کو خاموش کراتے ہوئے پرستاروں کو خوشگوار سرپرائز دیا اور پہلی بار آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو اپنے نام کر لیا۔ اس فتح میں محمد عامر کا کردار اہم رہا جن کے پہلے اسپیل نے بھارتی بیٹنگ کو تہہ و بالا کر کے بھارتی پرستاروں کی امیدوں کو ختم کر دیا تھا۔ محمد عامر کی انگلینڈ میں ایک تاریخ ہے اور اب انہوں نے اپنی کہانی میں ایک اور باب کا اضافہ کر دیا، ایسا باب جسے پاکستان اور کرکٹ پرستار طویل مدت تک یاد رکھیں گے۔

اظہرعلی اور فخر زمان کی بھارت کے خلاف ریکارڈ اوپننگ پارٹنر شپ

اظہرعلی اورفخر زمان نے آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف سب سے بڑی اوپننگ شراکت کا ریکارڈ قائم کر دیا۔ لندن کے کیننگٹن اوول میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی بھارت کے خلاف بیٹنگ کے دوران اظہرعلی اور فخر زمان نے 23 اوورز میں 128 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی، اظہر علی 71 گیندوں پر 6 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 59 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے جب کہ فخر زمان نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی اور 106 گیندوں پر 3 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 114 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔

اس سے قبل ورلڈ کپ 1996 کے بنگلورو میں ہونے والے کوارٹر فائنل میں عامر سہیل اور سعید انور نے 84 رنز کی سب سے زیادہ اوپننگ شراکت قائم تھی، میچ میں بھارت نے 39 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ورلڈ کپ 2003 میں سنچورین میں ہونے والے میچ میں سعید انور اور توفیق عمر نے 58 رنز بنائے تھے، اس میچ میں بھی بھارت نے 6 وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ موجودہ ایونٹ میں 4 جون کو احمد شہزاد اور اظہر علی نے روایتی حریف کے خلاف 47 رنز کی شراکت قائم کی تھی، یہ مقابلہ بھی بھارت کے نام رہا تھا۔

الوداع مصباح، الوداع یونس

 پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ان کے ساتھی کھلاڑی اور ملک کے سب سے کامیاب بیٹسمین یونس خان نے ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کو الوادع کہا۔ 42 سالہ مصباح اور 39 سالہ یونس نے 66 ٹیسٹ میچوں کی 52 اننگز میں ایک دوسرے کے رفاقت میں 69.67 کی اوسط سے 3205 رنز بنائے اور15 اننگز میں سنچری کی شراکت بھی قائم کی۔

 

 

 

 

 

 

 

سعید انور کی بھارت کے خلاف 194 رنز کی اننگز کو 20 سال مکمل

سابق ٹیسٹ کرکٹر سعید انور کی بھارت کے خلاف 194 رنز کی یادگار اننگز کو 20 سال مکمل ہو گئے۔ 21 مئی1997ء کو ایڈیپنڈنس کپ کے چدم برم سٹیڈیم چینئی میں کھیلے گئے میچ میں سعید انور اور شاہد آفریدی نے اننگز کا آغاز کیا مگر شاہد آفریدی صرف 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے لیکن وکٹ کی دوسری جانب کھڑے سعید انور کے عزائم کچھ اور ہی تھے جنھوں نے بھارتی بولرز کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہوئے اکیلے ہی 194 رنز بنا ڈالے اور یوں ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور بنانے والے پہلے کرکٹر بن گئے۔

انھوں نے اپنی اننگز کے دوران 146 گیندیں کھیل کر 5 چھکوں اور 22 چوکوں کی مدد سے 194 رنز بنائے تاہم صرف 6 رنز کے فرق سے ون ڈے کرکٹ کی پہلی ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یاد رہے کہ پرساد، کمبلے، جوشی، سنگھ، حتیٰ کہ ٹنڈولکر نے بھی بولنگ کے جوہر دکھانے کی کوشش کی مگر سعید انور کسی کو خاطر میں نہ لائے اور ایسی دھلائی کہ یہ میچ پاکستان کی تاریخ کے یادگار ترین میچوں میں سے ایک بن گیا جس میں پاکستان نے 35 رنز سے فتح حاصل کی۔

کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ کی ’بلیک میلنگ‘

انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئي) کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یا یوں کہیں کہ بورڈ کے پاس بے شمار پیسہ ہے۔ پھر اسے اور پیسہ کیوں چاہیے! یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اسی لالچ کے تحت کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا مائی باپ رہنے والا ادارہ بی سی سی آئی گذشتہ ماہ دبئی میں ہونے والی بورڈ کی میٹنگ میں ایک طرح سے یتیم ہو گیا۔ وہاں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ ذرا اندازہ لگائيں کہ جس کرکٹ بورڈ نے سنہ 2013 کے آئی پی ایل میں ہونے والی سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کا کیس لڑنے کے لیے تقریباً 50 کروڑ روپے لگا دیئے اور 2015 – 2016 کی گھریلو سیریز میں میڈیا رائٹس کی کمائی 648 کروڑ تھی اور جس کا کرکٹ فکسڈ ڈپازٹ کے سود کے پیسے سے بھی چل سکتا ہے، وہ آئی سی سی سے زیادہ سے زیادہ پیسے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سنہ 2015-2016 میں آئی پی ایل سے 738 کروڑ روپے کمانے والا بھارتی بورڈ پہلی جون سے انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے ہٹنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کھیل کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑی بی سی سی آئی کے حکام کے لیے محض پیسے کمانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان میں سپریم کورٹ نے جسٹس آر ایس لوڈھا کمیٹی کی بی سی سی آئی میں انتظامی اصلاحات کی سفارشات والی رپورٹ کو نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔

سب سے بڑا حصہ

قانونی طور پر اس کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بی سی سی آئی کا افسر آئی سی سی کو اس طرح کی دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھارتی عدالتی نظام کو ہمیشہ انگوٹھے دکھانے کا عادی بی سی سی آئی اپنے خزانے کو اور مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ برادری سے باہر نکل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ آئی سی سی کے نئے ریوینو ماڈل کے حساب سے تمام اراکین بھارتی بورڈ کو آٹھ سالوں کے دوران آئی سی سی کے ٹورنامنٹوں سے ہونے والی کمائی میں سے 29 کروڑ تیس لاکھ ڈالر دینے پر اتفاق کرتے ہیں۔ جبکہ انگلینڈ کو 14 کروڑ تیس لاکہ ڈالر ملیں گے۔ اس کے علاوہ آسٹریليا، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، سری لنکا، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ ہر ایک کے حصے میں 13 کروڑ بیس لاکھ ڈالر آئیں گے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آئی سی سی کے اہم مقاصد میں پوری دنیا میں کرکٹ کو مقبول کرنا شامل ہے۔ ایسوسی ایٹ ممبر آئر لینڈ اور افغانستان کی کرکٹ کے نقشے پر مستحکم موجودگی آئی سی سی کی بڑی کامیابی ہے۔ جب آئی سی سی کی تشکیل ہوئی تھی اس وقت کھیل کو وسیع کرنے کا عہد تھا نہ کہ دھندے میں اضافہ کرنے کا۔ لیکن آئی سی سی کے 39 ایسوسی ایٹ اراکین کو محض 28 کروڑ ڈالر ملنے ہیں۔ یعنی کہ پہلے سے ہی پیسے سے لبالب بی سی سی آئی کو ان 39 ممالک سے بھی زیادہ پیسہ مل رہا ہے اور یہ بھی اسے کم نظر آ رہا ہے۔

ششانك منوہر کا کردار

بی سی سی آئی کے حکام اپنے سابق باس ششانك منوہر کو کوس رہے ہیں۔ ششانک کی ہی بدولت آئی سی سی کی آمدنی کا بڑا حصہ انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ملنے سے روک دیا۔ ظاہر ہے کہ منوہر نے بطور آئی سی سی چیئرمین باقی رکن ممالک اور کھیل کو اہمیت دی اور یہ بات قابل تعریف ہے۔ ششانك کہتے ہیں: ‘موجودہ ماڈل ورلڈ کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے اور امید ہے کہ سالانہ کانفرنس میں اس کو منظوری مل جائے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس ماڈل کو اپنا کر کرکٹ کو عالمی سطح پر پھیلانے اور بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

بے انتہا لالچ کی جڑ کرپشن

بی سی سی آئی کے ایک سینیئر افسر کے مطابق: ‘یہ ماڈل ہمیں منظور نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آئی سی سی کے اگلے آٹھ سال کے متوقع ریوینو کا تقریباً 21 فیصد بھارتی بورڈ کو ملنا چاہیے۔’ اس حساب سے بی سی سی آئی کا مطالبہ 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے ناجائز ہے۔ اور بی سی سی آئی کو یہ پیسے کس کے لیے چاہیے؟ اپنے کھلاڑیوں کے لیے یا پھر اپنے ارکان کے لیے۔

دہلی، گوا، حیدرآباد، جموں اور کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن سمیت بی سی سی آئی کے کئی ارکان کے خلاف بدعنوانی کے چارجز ہیں۔ ان تنظیموں کے خلاف کئی سو کروڑ کے گھپلے کا الزام ہے اور کئی ایجنسیاں ان باری میں تحقیقات کر رہی ہیں۔

لیکن کسی بھی صورت میں بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے حالانکہ یہ اس کا پیسہ ہے۔

اعداد و شمار دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہے کہ کھلاڑی پیسے کے کھیل میں کہیں نہیں ہیں۔ ان کے گذشتہ سال کے بین الاقوامی کیلنڈر کی فیس بی سی سی آئی کے قانونی اخراجات کے سامنے کچھ نہیں۔ کوئی یہ بھی نہیں بتا رہا کہ خود کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یا پھر ان کی اپنی کیا رائے ہے؟ خطرناک پہلو یہ ہے کہ کرکٹ کے بہانے بھارتی بورڈ بلیک میلنگ کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کھیلے گی یا نہیں!

ٹیم انڈیا کو کھیلنے سے روکنا اب بی سی سی آئی کے بس میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ درمیان میں ہے اور سات مئی کو ہونے والے بی سی سی آئی کے اجلاس میں پہلے سے ہی ناکامیوں کے سبب نشانے پر موجود بی سی سی آئی کے حکام کے پاس ٹیم کو بھیجنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی منتظمین کی کمیٹی ٹیم کو روکے جانے کے خلاف ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن اور تاریخ داں رام چندر گوہا نے ٹویٹ بھی کیا ہے کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ہندوستان کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنا چاہیے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر باقی ملک یہ طے کر لیں کہ وہ بھارت کے بغیر کرکٹ چلانے کے لیے تیار ہیں تو پھر بی سی سی آئی کی کیا حالت ہو گی؟

جسوندر سدھو

کرکٹ تجزیہ کار