اسکواش پر حکمرانی کرنے والے : جہانگیر خان

پاکستان کے نامور کھلاڑی جہانگیر خان نے سکواش کی دنیا پر طویل عرصے تک راج کیا ۔ انہیں سکواش کی دنیا کا عظیم ترین کھلاڑی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے ورلڈ اوپن چھ بار اور برٹش اوپن دس بار جیتی۔ 1981ء سے 1986ء تک وہ ناقابل شکست رہے۔ مسلسل 555 میچ جیتنے کے بعد ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہوا۔ وہ 10 دسمبر 1963ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تاہم ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے۔ ا بتدا میں ان کے والد روشن خان نے ان کی کوچنگ کی۔ جو 1957ء میں برٹش اوپن جیت چکے تھے۔ بعد ازاں ان کے بھائی نے یہ ذمہ داری سنبھالی لیکن ان کی ناگہانی موت کے بعد کزن رحمت خان نے زیادہ تر یہ ذمہ داری نبھائی۔

پیدائش کے وقت جہانگیر خان بہت کمزور تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں نے انہیں زیادہ جسمانی مشقت سے منع کیا تھا۔ تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے اس مشورے کو نظر انداز کر دیا۔ دراصل ان کے والد نے انہیں اس مشقت طلب کھیل کو کھیلنے اجازت دے دی تھی ۔ 1979ء میں آسٹریلیا میں عالمی چیمپئن شپ کے موقع پر جہانگیر کا انتخاب نہ کیا گیا کیونکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کمزور ہیں۔ تاہم جہانگیر خان عالمی امیچور انڈی ویجوئل چیمپئن شپ میں گئے اورصرف 15 سال کی عمر میں چیمپئن شپ جیت لی۔ وہ 1981ء میں ورلڈ اوپن کے کم عمر ترین چیمپئن بنے۔ اس وقت ان کی عمر صرف17 برس تھی۔ 

پھر ان کی کامیابیوں کا سلسلہ تھما نہیں، وہ اگلے پانچ سال تک ناقابل شکست رہے۔ 1982ء میں انہوں نے انٹرنیشنل سکواش پلیئرز چیمپئن شپ جیت لی اور ایک بھی میچ نہیں ہارا۔ ان کی کامیابیوں کے سلسلے کا اختتام 1986ء میں ہوا۔ یہ فرانس کے شہر تولوس میں ہونے والی ورلڈ چیمپئن شپ تھی، جہانگیر خان نیوزی لینڈ کے راس نارمن سے ہار گئے۔ اپنی مسلسل کامیابیوں کے بارے میں جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی کامیابیوں کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ ’’میں نے بس ہر میچ جیتنا چاہا، یہ کامیابی ہفتوں، مہینوں اورسالوں تک محیط ہو گئی.

بالآخر راس نارمن نے 1986ء میں تولوس میں مجھے شکست دے دی‘‘۔ 1980ء کی دہائی کے پہلے نصف میں مسلسل کامیابیوں کے بعد انہوں نے ہارڈ بال سے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ ہارڈ بال سکواش شمالی امریکا میں کھیلی جاتی ہے جس میں کورٹ کا رقبہ کم ہوتا ہے اور بال کی حرکت تیز ہوتی ہے۔ جہانگیر خان نے ہارڈ بال کے 13 اعلیٰ سطحی میچ کھیلے اور ان میں سے 12 میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے گیارہ مواقع پر امریکا کے ٹاپ کھلاڑی مارک ٹالبوٹ کا مقابلہ کیا اور 10 میں اسے شکست دی۔ اس کے بعد جہانگیر خان کو سکواش کا عظیم ترین کھلاڑی مانا جانے لگا۔

ان کی کامیابیوں کے بعد اس شمالی براعظم میں ’’سافٹ بال‘‘ سکواش کی مقبولیت بڑھ گئی۔ 1986ء میں اسی دوران پاکستان میں سکواش کے ایک کھلاڑی جان شیرخان بین الاقوامی منظر نامے پر نمودار ہوئے۔ 1986ء کے آخر اور 1987ء کے اوائل میں جہانگیر خان نے جان شیر سے کچھ میچ جیت لیے تاہم ستمبر 1987ء میں جان شیر نے جہانگیر کے خلاف پہلی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ہانگ کانگ اوپن کے سیمی فائنل میں انہیں ہرایا۔ اس کے بعد جان شیر نے جہانگیر کے خلاف مسلسل آٹھ کامیابیاں حاصل کیں اور ورلڈ اوپن چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔ مارچ 1988ء میں جہانگیر خان نے جان شیر کو شکست دی اور اگلے 15 میں سے 11 مقابلوں کو جیتا۔ 1988ء میں ورلڈ اوپن کے فائنل میں بھی جہانگیر کامیاب ہوئے۔

البتہ اس وقت ان کی سکواش پر حکمرانی ختم ہو چکی تھی اور جان شیر کی شکل میں ایک اور بڑا کھلاڑی میدان میں تھا۔ 1988ء کے بعد وہ ورلڈ اوپن کا اعزاز دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے بطور کھلاڑی 1993ء میں ریٹائر منٹ لی۔ حکومت پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور ہلال امتیاز سے نوازا۔ 1990ء میں وہ پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن کے چیئرمین منتخب ہوئے اور 1997ء میں پاکستان سکواش فیڈریشن کے نائب صدر بنے۔ اگلے برس انہیں ورلڈ سکواش فیڈریشن کے نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ 2004ء میں انہیں دوبارہ اتفاق رائے سے ورلڈ سکواش فیڈریشن کا صدر منتخب کیا گیا۔ ٹائم میگزین نے انہیں ساٹھ سالوں میں ایشیا کا ایک ہیرو قرار دیا۔ لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے انہیں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی عطا کی۔ ان کی کامیابیوں کو برس ہا برس تک سراہا جاتا رہے گا۔ 

(تلخیص و ترجمہ: رضوان عطا)
 

Advertisements

پاکستان سے سکواش کو کچھ نہیں ملا : جہانگیر خان

اسکواش کے سابق عالمی چیمپیئن جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ اس کھیل نے پاکستان کو کھیلوں کی دنیا میں جو رتبہ دلوایا اس کے بدلے میں اسے کچھ نہیں ملا۔ پاکستان کی آزادی کی 70ویں سالگرہ پر بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے دس بار برٹش اوپن جیتنے والے جہانگیر خان نے کہا کہ پاکستان میں سکواش پر کبھی بھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی چاہے وہ حکومت کی طرف سے ہو، منتظمین کی جانب سے ہو یا فیڈریشن کی طرف سے۔ جہانگیرخان ساڑھے پانچ سال تک بین الاقوامی سکواش مقابلوں میں ناقابل شکست رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان بننے کے صرف چار سال بعد ہی ہم اس کھیل میں عالمی چیمپیئن بن گئے تھے جبکہ دوسرے ممالک کو اس مقام تک پہنچنے میں طویل عرصہ لگا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے سکواش کی دنیا میں بلند مقام حاصل تو کر لیا لیکن اسے مزید استحکام دینے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔  چھ بار ورلڈ چیمپیئن بننے والے جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ ان سمیت جتنے بھی عالمی چیمپیئن بنے وہ اپنی مدد آپ کے تحت بنے البتہ بعد میں انھیں بحریہ، فضائیہ اور پی آئی اے کی طرف سے مدد ضرور ملی لیکن اکیڈمیوں کے ذریعے تربیت کا منظم پروگرام نہ پہلے تھا نہ آج موجود ہے۔

جہانگیر خان پاکستان سکواش فیڈریشن کو پاکستان ایئرفورس سے لے کر کسی دوسرے ادارے کو دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘اگر فیڈریشن ایئرفورس سے لے لی جاتی ہے تو پھر حکومت کو اس کھیل کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا۔ پاکستان سپورٹس بورڈ اور حکومت سے جو مدد اس وقت مل رہی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ دس بیس لاکھ روپے سے فیڈریشن چلائی جا سکتی ہے تو یہ ناممکن ہے۔’ جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ سابق عالمی چیمپیئن کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنا اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا حکومت اور سکواش فیڈریشن کی ذمہ داری ہے۔

‘کوئی بھی ورلڈ چیمپیئن اپنی فائل لے کر ِخود نہیں گھومے گا اور کہے گا کہ اس سے کام لے لیں۔ آج انگلینڈ، آسٹریلیا، فرانس اور مصر میں سابق ورلڈ چیمپیئنز کوچنگ اور ٹریننگ سے وابستہ ہیں تو انھیں یہ ذمہ داری ان کی حکومت اور فیڈریشن نے سونپ رکھی ہے اور وہ بڑی تعداد میں جونیئر کھلاڑی تیار کر رہے ہیں۔’ جہانگیر خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں میں وہ جذبہ نہیں ہے جو بڑا کھلاڑی بننے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ ‘ان کے پاس واضح سوچ نہیں ہے۔ وہ جس مقام پر ہیں اسی پر خوش ہیں، اسی پر سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔ سکواش میں شارٹ کٹ نہیں ہے ۔ یہ راتوں رات کامیابی حاصل کرنے والا کھیل نہیں ہے۔’

تاہم جہانگیر خان نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان میں سکواش کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ ‘ملک میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں ان میں صرف محنت کی کمی ہے اگر وہ آج سے سخت محنت شروع کریں تو اگلے پانچ دس سال میں کوئی نہ کھلاڑی ورلڈ چیمپیئن بن سکتا ہے لیکن آج وہ جس طرح مطمئن ہو کر کھیل رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے ان کے لیے بلند مقام تک پہنچنا ممکن نہیں۔’

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سکوائش : پاکستان نے پھر میدان مار لیا

اسکوائش کے میدان سے اچھی خبرہے، صرف اچھی نہیں بہت ہی اچھی خبر ہے۔ بکہ ایک بڑی خبر ہے اور بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں نے ماہ آزادی میں بیرون ملک سبز ہلالی پرچم لہرایا ہے۔ ہمارے جونیئر سکوائش پلیئرز نے ورلڈ جونیئرسکوائش چیمپئن شپ کا ٹیم ایونٹ جیت لیا ہے۔ پاکستان نے چھٹی مرتبہ یہ ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ٹیم ایونٹ میں پاکستان کے احسن ایاز، اسرار احمد اور عباس شوکت نے ملک کی نمائندگی، احسن ایاز کامیاب نہ ہوسکے۔ عباس شوکت اور اسرار احمد نے پاکستان کو فتح دلانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ کے سنگلز ایونٹ میں اسرار احمد سیمی فائنل تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئے۔2004ء سے اب تک ٹیم چیمپیئن شپ میں مصر اور پاکستان ہی ٹائٹل کے لئے آمنے سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان گذشتہ تین ایونٹس کا رنر اپ رہا ہے۔
2016ء میں پاکستان کے نوجوانوں نے فائنل ہارنے کی روایت توڑتے ہوئے نمبر ون پوزیشن کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ کے سنگلز میں اب تک پاکستان کے صرف دو کھلاڑی سہیل قیصر 1982 اور جان شیر خان نے 1986ء میں برسبین آسٹریلیا میں ورلڈ جونیئر کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ سہیل قیصر گزشتہ دنوں کینسر کی وجہ سے انتقال کرگئے۔ 2006ء میں پاکستان کے یاسر بٹ سنگلز ایونٹ جبکہ 2008ء میں عامر اطلس اس چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنے میں کامیاب رہے۔ 2008ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے ورلڈ جونیئر کے ٹیم ایونٹ میں فتح حاصل کی ہے۔ آٹھ سال بعد پاکستان کے لئے ٹائٹل جیتنے والے تمام کھلاڑی آفیشلز اور پاکستانسکوائش فیڈریش کے عہدیدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔ بات مبارکباد کی ہو تو ایوان وزیراعظم کے عارضی مکین پاکستانی عوام کے منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی سکوائش پلیئرز کو فتح کی مبارکباد دی ہے ۔ کیا وزیراعظم بھی صرف ’’خالی‘‘ مبارکباد پر ہی اکتفا کریں گے، کیا نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انعام نہیں دیا جائیگا؟
مناسب حوصلہ افزائی کی جائے تو زیادہ اچھے نتائج آسکتے ہیں۔ گزشتہ روز ہماری پاکستان سکوائش فیڈریشن کے سیکرٹری گروپ کیپٹن عامر نواز سے بات ہو رہی تھی انہوں نے تصدیق کی کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے صرف مبارکباد ہی موصول ہوئی ہے۔ تاہم کھلاڑیوں نے جس جوش و جذبے کے ساتھ کھیل پیش کیا ہے ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ عامر نواز کا کہنا تھا کہ نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ کھلاڑیوں کو تمام سہولیات فراہم کریں۔ انہیں بین الاقوامی سطح کے مقابلوں میں شرکت کے زیادہ سے زیادہ مواقع دیں تاکہ ان کی صلاحتیں نکھر کر سامنے آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب مالی مسائل یا وسائل کی کمی کا سامنا نہیں ہے ہمارے صدر ایئر چیف ہیں اور انہوں نے ذاتی دلچسپی لیکر ان مسائل کو ختم کردیا ہے۔
سکوائش میں پاکستان کا ماضی بڑا شاندار ہے جونیئرز کی سطح پر تو ہمارے کھلاڑی نظر آتے ہیں لیکن عالمی درجہ بندی میں صورتحال اچھی نہیں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جونیئرز کی سطح پر اچھے کھیل کا مظاہرہ کرنیوالے کھلاڑی آگے کیوں نہیں بڑھ سکے۔ گزشتہ تین برسوں سے ہم اس ٹورنامنٹ کے رنرز اپ بھی ہیں جبکہ 2004ء سے اب تک مختلف وقتوں میں فائنل تک پہنچے اور جیتے ہیں۔ ہمیں ان وجوہات کو تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اس کے بعد جمود کا شکار کیوں ہو جاتی ہے یا پھر وہ وطن چھوڑ کر کیوں چلے جاتے ہیں یا پھر مختلف تنازعات کا شکار ہو کر یکسوئی سے کھیل کیوں نہیں پاتے۔ موجودہ جونیئر کھلاڑی بھی اچھے ہیں اگر ہم صرف اسرار احمد کی بات کریں تو وہ گزشتہ دس ماہ میں ایشین جونیئر، یو ایس اوپن جونیئر، قطر اوپن، دوحہ اوپن اور اب ورلڈ جونیئر کا ٹائٹل جیت چکے ہیں جبکہ برٹش جونیئر چیمپن شپ کا فائنل کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
 حافظ محمد عمران

پاکستان میں کھیلوں کا تاریک مستقبل

کھیل کود اور تفریح سے فطری رغبت، دو ایسی زبردست جبلی خواہشات ہیں جو اس کائنا ت کی ہر ذی روح میں پائی جاتی ہیں۔ شیرخوار بچوں کا ہاتھ پاؤں مارنا، بلی کے بچوں  کا آپس میں اچھلنا کودنا، پرندوں کا چہچہانا، سانپوں کا لہرانا، کتے کے بچوں کا آپس میں کھیلنا، بندروں کا شرارتیں کرنا اور نقل اتارنا، سب کا تعلق کھیل کود اور تفریح سے ہے۔ ان دونوں جبلی خواہشات کی بناء پر تمام لوگ اپنی عمر، منصب اور انفرادی میلان و طبع کو بھول کر ایک اکائی بن جاتے ہیں اورذہنی مفاہمت کے ساتھ کچھ لمحوںکے لیے محظوظ ہوجاتے ہیں۔
کھیلوں کی اہمیت ہر زمانے میں تسلیم کی جاتی رہی ہے،کیونکہ کھیل ایک ایسا انسانی صحت مند فعل ہے جس کے خوشگواراثرات انسانی زندگی میں رونما ہوتے ہیں۔ معیاری اور عمدہ کھیل کی ضمانت اچھی حکمت عملی،ذہنی ہم آہنگی،کھیل کے مروجہ قوانین سے آگاہی اور نظم و ضبط کی لازمی پابندی جیسی خوبیاں اپنائے بغیرناممکن ہے۔ تاریخی اعتبار سے کھیلوں کی رسم قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے۔
یونان (سپارٹا، ایتھنز) وغیرہ میں بچوں کو توانا اورمضبوط بنانے کے لیے کھیل کود میں حصہ لینے پرمجبور کیا جاتا تھا اور بعض اوقات تو انھیں ہر وقت کھیلوں میں مصروف بھی رکھا جاتا تھا۔یہی نہیں بلکہ ان کی طاقت اور توانائی کا اندازہ لگانے کے لیے پہاڑوں پر سے لڑھکایا جاتا تھا۔ یہ ایک  اٹل حقیقت ہے کہ کھیل جسم کو مضبوط،اعصاب کوتوانا اور پھپھڑوں کو طاقتور بنانے کے ساتھ ساتھ حرکات وسکنات میں بھی ایک توازن کی کیفیت پیدا کرنے میں کارگرہوتے ہیں۔
حال ہی میں بھارت کے صوبہ بنگال کے شہرکولکتہ میں پاک بھارت کرکٹ عالمی ورلڈ ٹی 20کھیلا گیا۔ گیارہ ممبر کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کی کمزور قیادت  شاہد آفریدی کے نصیب میں آئی۔ اس میچ سے تین دن قبل ہی پرنٹ اوربرقی میڈیا پر حسب دستور شور شرابا سناگیا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہماری بھولی بھالی عوام اپنے ذہنوں میں خیالی پلاؤ پکانے کے کیوں عادی ہیں۔ بھارت اورپاکستان ایک عرصے سے ہر میدان میں روایتی حریف ہیں، ماضی میں رہے ہیں اور ظاہر ہے مستقبل قریب میں بھی یقینی طور پر رہیں گے۔
کیوں نہ ہوںآخر ہم آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں۔ کوئی بری بات نہیں ہے، جوش وجذبہ رکھنا بھی بُرائی نہیں ہے لیکن اس شور شرابے کے بعد جب نتیجہ شکست کی صورت میں آتا ہے توعوام آپے سے باہر ہوکر اپنے ہی لاڈلے کھلاڑیوں کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتے ہیں۔ ہماری دانست میں اس کھیل میں پوری پوری سیاست کا عمل دخل ہے۔ کوئی بعید نہیں دونوں اطراف سے حکومتوں کے اپنے اپنے مفادات بھی ہوں، بہرحال کھیل کے دوران بھارتی ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش اور قابل تعریف رہی مگر پاکستانی ٹیم کی کچھ خامیاں ضرور نمایاں ہوئیں بظاہر اندرونی انتظامی معاملات گڑ بڑ نظر آئے۔
اچھے اور معیاری کھلاڑیوں کا زبردستی ٹیم سے انخلاء اوران کی جگہ سفارشی اور ناتجربہ کارکھلاڑیوں کی قومی ٹیم میں شمولیت شکست کا موجب ہے۔ ہم نے بھی نہ چاہتے ہوئے یہ معرکہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ٹی وی کی بڑی اسکرین پر دیکھا۔ بلاشبہ بھارت کی طرف سے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا گیا۔ لہٰذا جیت ان کے مقدر میں رہی۔ کھیل میں سنجیدگی، ذہن کا درست استعمال اورطویل تجربہ اپنی جگہ مگر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان کی بہترین پیشہ وارانہ حکمت عملی کو اپنانے سے ہی نتیجہ کامیابی کی صورت میں سامنے آیا۔
قابل افسوس اور قابل فکر امر یہ ہے کہ کرکٹ میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پرکمرشلائزیشن (Commercialization) کا عنصر سرایت کر گیا ہے اور کھیل کی آڑ میں انڈر ورلڈ میچ فکسنگ مافیہ (سٹہ) جیسے گھناؤنے اسکینڈلز پہلے بھی منظرعام پرآ چکے ہیں۔ اس انفرادی مادیت پرستی کے جدید دور میں کرکٹ کو تجارتی اورکاروبارکا رنگ چڑھا دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ہمارے کچھ کھلاڑی دولت اور سستی شہرت کی ہوس میں کمرشل ماڈل اور اشتہاری بن چکے ہیں۔
دوسری جانب باعث فخرہے یہ بات کہ ہمارے وطن عزیزکی معصوم اورغیرت مند بہنیں جنہوں نے نہ صرف کرکٹ کے میدان میں بھارتی سورما خواتین کھلاڑیوں کو ان کی اپنی سرزمین پر شکست فاش دی بلکہ بنگلہ دیش کو بھی کھڈے لائن لگا دیا۔ یہاں یہ بات قابل غوروفکر ہے کہ شرماتی ہوئی ملک سے روانہ ہونے والی یہ سپوت سادگی اور خاموشی سے بھارت کی سرزمین پراترگئیں اور انھوں نے کیسی معصومیت سے کامیابی کے جھنڈے گاڑدیے۔ کوئی بڑھک نہیں، کسی قسم کی اتراہٹ یا پرنٹ اور برقی میڈیا پر چوبیس گھنٹے کی نمودونمائش بھی نہیں کی۔ آپ کیوں اتنا  شور مچاتے ہو۔ قوم کو بیوقوف بناتے ہو۔
یہ تو ہوگئی کرکٹ کے حوالے سے ہماری تجزیاتی رپورٹ۔ اب آیے دوسرے کھیلوں کی طرف جو کھیلوں کی دنیا میں مرکزنگاہ کرکٹ کے علاوہ دوسرے آؤٹ ڈور اور ان ڈورگیمز (ہاکی، فٹ بال،کشتی رانی،کبڈی، باکسنگ، والی بال، اسکوائش، بیڈ منٹن، ٹیبل ٹینس حکومت کے ذمے داروںکی طرف سے طویل عرصے سے عدم توجہی کاشکار ہے، محض اس وجہ سے کہ اس میں اربوں /کھربوں روپے کا عمل دخل فکسنگ  یا سٹہ یا عملی سیاست قطعاً نہیں ہے اور صرف اور صرف ایمانداری کے ساتھ صلاحیت کی بنیادوں پر ہے جب کہ ان تمام کھیلوں کے پس منظر میں پاکستان جنوبی ایشیاء کا واحد ملک ہے۔
جہاں صحت مند پاکستان کی بنیاد پر کھیلوں کو اہمیت دیتے ہوئے اسکول،کالج  اور یونیورسٹی سطح پر کھیلوں کے انعقاد کو لازمی قرار دیا گیا اور طلباء و طالبات پر لازم کیا گیا کہ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان میں سے کسی بھی کھیل کا انتخاب کریں اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
ان کھیلوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کی بنیاد پر تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں ملازمتوں کا ایک مخصو ص کوٹہ مختص کیا جاتا تھا اور ہر ادارے کی منتخب ٹیمیں ترتیب دی جاتی تھیں جو ٹورنامنٹ میں شریک ہو کر اپنی مخصوص شناخت کروایاکرتی تھیں۔ علاقائی اور شہری سطح پر علیحدہ مقابلے کرائے جاتے تھے۔ قابل ذکر ادارے حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک، مسلم کمرشل بینک، اسٹیٹ بینک، الائیڈبینک، نیشنل بینک، پاکستان کسٹم، پی آئی اے، پاکستان ریلویز، پاکستان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن  اور دیگر مقامی ادارے شامل تھے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ان تمام اداروں کی کھیلوں کی تربیت کے لیے وسیع اراضی پر محیط   ہوا کرتی تھیں  اور ان کو سالانہ مخصوص مالیاتی بجٹ کے ساتھ چلایا جاتا تھا۔ ان اداروں کی محنت اور جستجو سے ملک کونہ صرف با صلاحیت بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کے کھلاڑیوں کے حصول میں رہنمائی ملی بلکہ بیرون ممالک سے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کھیلوں کی تربیت کے لیے ہمارے ہاں آتی تھیں جو عالمی مارکیٹ میں ملک کی نیک نامی و شہرت کا سبب بنی۔
ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے عالمی اعزازات کا حامل یہ کھیل دوسرے کھیلوں کی طرح سیاست کی نظر ہوگیا ۔ہمارے سابقہ قابل فخر سفیران پاکستان حنیف خان، سمیع اللہ، حسن سردار، شہناز اور منظور الحسن  نامور فٹ بالرز، لیاری ہی سے تعلق رکھنے والے عالمی باکسنگ چیمپئن حسین شاہ جیسے نامور کھلاری جو بلا شبہ اسی مٹی کی پیداوار تھے، یک دم منظر سے غائب ہو گئے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کھیلوں کی ترقی اور مزید فروغ کے لیے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا۔ افسوس! ایسا نہیں ہو سکا اورکھیل کی صنعت تباہی اور زوال کا شکارہوگئی اور لامحالہ قوم کے لیے تفریح کا واحد سہارا سیاست زدہ اشرافیہ کی کرکٹ تک محدود ہوگیا۔ عین ممکن ہے کہ متذکرہ اداروں کی نجی سیکٹر میں فروخت کے بعد مالکان کا کاروباری لحاظ سے اس صنعت میں عدم دلچسپی ہو۔
اس سلسلے میں ہماری تجویز ہے کہ حکومت سبسیڈیری  کی صورت میں ان نجی اداروں کوکچھ رقم مختص کر ے تاکہ ان اداروں کی مددسے نہ صرف کھیلوں کے فروغ کو ایک وسیع میدان مل سکے بلکہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور خوشحالی کا سبب بھی بن سکے۔ ویسے بھی عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ سستی اور صحت مند تفریح مہیا کر نا حکومت کی اولین منصبی ذمے داری ہے ۔خواہ وہ تفریح کھیل کی شکل میں ہو یا میڈیا کی صورت میں۔
قمر عباس نقوی

Gogi Alauddin

Gogi Alauddin (born September 1950, in Lahore, Pakistan) is a former squash player from Pakistan. He was one of the game’s leading players in the 1970s.
Gogi won the British Amateur championship in 1970 and 1971, and the Pakistan Open in 1972 and 1973. He was also runner-up at the British Open in 1973 and 1975. He reached a career-high world ranking of World No. 2.
Since retiring as a player, he has worked as a squash coach.
Gogi had a post-retirement appearance as a player at the FMC 2nd Asian Squash Masters Tournament, where he won a gold medal for his age bracket (60+) [1]
Enhanced by Zemanta

Jahangir Khan

Jahangir Khan, HI, (born 10 December 1963, in Karachi, Pakistan[1]) (sometimes spelled “Jehangir Khan“) is a former World No. 1 professional squash player from Pakistan, who is considered by many to be the greatest player in the history of the game.[2][3][4] Jahangir Khan is originally from Neway Kelay, Peshawar.[5] During his career he won the World Open six times and the British Open a record ten times. From 1981 to 1986, he was unbeaten in competitive play. During that time he won 555 games consecutively, the longest winning streak by any athlete in top-level professional sports as recorded by Guinness World Records.[6] He retired as a player in 1993, and has served as President of the World Squash Federation from 2002 to 2008, when he became Emeritus President.

Playing career

Jahangir was coached initially by his father, Roshan, the 1957 British Open champion, then by his late brother Torsam. After his brother’s sudden death he was coached by his cousin Rehmat Khan, who guided Jahangir through most of his career. Jahangir was a sickly child and physically very weak. Though the doctors had advised him not to take part in any sort of physical activity, after undergoing a couple of hernia operations his father let him play and try out their family game.[verification needed]In 1979, the Pakistan selectors decided not to select Jahangir to play in the world championships in Australia, judging him too weak from a recent illness.[verification needed] Jahangir decided instead to enter the World Amateur Individual Championship and, at the age of 15, became the youngest-ever winner of that event.[verification needed]In November 1979, Jahangir’s older brother Torsam, who had been one of the leading international squash players in the 1970s, died suddenly of a heart attack during a tournament match in Australia. Torsam’s death profoundly affected Jahangir. He considered quitting the game, but decided to pursue a career in the sport as a tribute to his brother.[verification needed]

Five-year unbeaten run

In 1981, when he was 17, Jahangir became the youngest winner of the World Open, beating Australia’s Geoff Hunt (the game’s dominant player in the late-1970s) in the final.[verification needed] That tournament marked the start of an unbeaten run which lasted for five years and 555 matches. The hallmark of his play was his incredible fitness and stamina, which Rehmat Khan helped him build up through a punishing training and conditioning regime. Jahangir was quite simply the fittest player in the game, and would wear his opponents down through long rallies played at a furious pace. In 1982, Jahangir astonished everyone by winning the International Squash Players Association Championship without losing a single point.[verification needed]
 
The unbeaten run finally came to end in the final of the World Open in 1986 in Toulouse, France, when Jahangir lost to New Zealand’s Ross Norman.[verification needed] Norman had been in pursuit of Jahangir’s unbeaten streak, being beaten time and time again. “One day Jahangir will be slightly off his game and I will get him”, he vowed for five years.[verification needed]Speaking about his unbeaten streak, Jahangir said: “It wasn’t my plan to create such a record. All I did was put in the effort to win every match I played and it went on for weeks, months and years until my defeat to Ross Norman in Toulouse in 1986.””The pressure began to mount as I kept winning every time and people were anxious to see if I could be beaten. In that World Open final, Ross got me. It was exactly five years and eight months. I was unbeaten for another nine months after that defeat.”

Success in the hardball game

With his dominance over the international squash game in the first half of the 1980s secure, Jahangir decided to test his ability on the North American hardball squash circuit in 1983–1986. (Hardball squash is a North American variant of the game, played on smaller courts with a faster-moving ball.) Jahangir played in 13 top-level hardball tournaments during this period, winning 12 of them.[verification needed] He faced the leading American player on the circuit at the time, Mark Talbott, on 11 occasions (all in tournament finals), and won 10 of their encounters.[verification needed] With his domination of both the softball and hardball versions of the game, Jahangir truly cemented his reputation as the world’s greatest squash player. His success in North America is considered by some observers to be among the factors which led to growing interest in the international “softball” version of squash in the continent, and the demise of the hardball game in the late-1980s and 1990s.[verification needed]

Rivalry with Jansher Khan

At the end of 1986 another Pakistani squash player, Jansher Khan, appeared on the international scene to challenge Jahangir’s domination. (Jansher is not known to be directly related to Jahangir, but their families originate from the same village in the Peshawar region of northern Pakistan, so they may be distantly related.[verification needed]) Jahangir won their first few encounters in late-1986 and early-1987. But Jansher scored his first win over Jahangir in September 1987, beating him in straight games in the semi-finals of the Hong Kong Open. Jansher then went on to beat Jahangir in their next eight consecutive encounters and capture the 1987 World Open title.[verification needed]
 
Jahangir ended Jansher’s winning streak in March 1988, and went on to win 11 of their next 15 encounters. The pair met in the 1988 World Open final, with Jahangir emerging the victor.[verification needed] But by that point it had become clear that squash now had two dominant players. The pair would continue to dominate the game for the rest of the decade. Jansher and Jahangir met a total of 37 times in tournament play. Jansher won 19 matches (74 games and 1,426 points), and Jahangir 18 matches (79 games and 1,459 points). This record doesn’t include exhibition matches and league matches between them.[verification needed]Jahangir did not win the World Open again after 1988, but he continued a stranglehold over the British Open title which he captured a record ten successive times between 1982 and 1991.

Training regime

In a documentary on himself telecast on GEO Super, Jahangir revealed that he never had any fixed training regime particularly designed for him, nor had he any specially formulated diet – he would eat anything hygienic but never miss two glasses of milk every day. For his training, he would often start his day with a 9-mile (14 km) jog which he would complete in 60–120 minutes at a moderate pace, followed by short bursts of timed sprints. Later he would weight train in the gym finally cooling down in the pools. He would follow this routine 5 days a week. On the 6th day he would match practice and rest on the 7th day.[verification needed]He also said that he has experienced running on every surface – from custom-built tracks to asphalt roads, grass & farm fields to sea shores & knee-deep waters. Sometimes he would also visit the northern areas of Pakistan to train in high altitude fields under low oxygen conditions.[verification needed] All in all it made Jahangir one of the most physically and mentally fit athletes in the world.[verification needed]
Enhanced by Zemanta