یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنیوالے پہلے پاکستانی بلے باز

بولرز کے سامنے چٹان بن جانے والے خان آف مردان ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار
رنز کا کلب جوائن کرنے والے پاکستان کے پہلے جبکہ دنیا کے تیرہویں بیٹسمن بن گئے۔  طویل دورانیے کی کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے کا طویل سفر مرد بحران ہی نہیں بلکہ مرد میدان یونس خان نے بھی پورا کر لیا، سٹار مڈل آرڈر بیٹسمین نے کیرئر کے 116 ویں ٹیسٹ میچ میں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا، یونس خان 34 سنچریز اور 32 نصف سنچریز کی بدولت دس ہزار رنز بنانے والے پاکستان کے پہلے بلے باز جبکہ دنیا کے تیرہویں بیٹسمین بن گئے ہیں، اس گروپ میں ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر 15921 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں، لیجنڈ رکی پونٹنگ دوسرے اور جیک کیلس تیسرے نمبر پر ہیں، راہول ڈریوڈ، کمار سنگا کارا، برائن لارا، شیونرائن چندرپال، مہیلا جے وردھنے، ایلن بورڈر، الیسٹر کُک، سٹیووا اور سنیل گواسکر بھی دس ہزار رنز کلب کا حصہ ہیں۔

یونس خان نے سن دوہزار میں سری لنکا کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری بنائی، گیارہ ممالک میں ٹیسٹ سنچری بنانے والے دنیا کے واحد بلے باز ہیں، ٹیسٹ میچز کی چوتھی اننگز میں پانچ سنچریوں کے ریکارڈ  پر بھی یونس خان کا قبضہ ہے، وزڈن میگرین بھی یونس خان کی خدمات کا معترف، انہیں دوہزار سولہ کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیا گیا۔ یونس خان نے کامیابی کا کریڈیٹ فیملی، والدین اور سابق کوچ باب وولمر کے نام کر دیا، خصوصی ویڈیو پیغام میں یونس خان نے کہا یہ اعزاز پورے پاکستان کی کامیابی ہے۔

Advertisements

عظیم ترین بلے بازوں میں شامل یونس خان ایک پاکستانی تھا

آج سے 17 سال قبل پاکستان اور سری لنکا راولپنڈی میں مد مقابل تھے۔ یہ دو طرفہ ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ تھا۔ کپتان سعید انور ٹاس ہار گئے اور جے سوریا نے پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے ڈالی۔ پاکستانی بیٹنگ حسب روایت اس دعوت کو ہضم نہ کر پائی اور صرف 182 رنز بنا کر آل آوٹ ہو گئی۔ چھٹے نمبر پہ بیٹنگ کے لیے ایک دبلا پتلا سا لڑکا آیا۔ یہ اس کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔ اور اسکور بورڈ کا دباؤ اس سے سوا تھا۔ جس بولنگ اٹیک کے سامنے سعید انور، عامر سہیل، انضمام الحق اور یوسف کچھ نہ کر پائے، وہاں یہ 22 سالہ نوجوان کیا کرتا۔ اس نے 55 گیندوں کا سامنا کیا اور صرف 12 رنز بنا کر آوٹ ہو گیا۔

میچ کی دوسری اننگز میں جب وہی لڑکا دوبارہ بیٹنگ کے لیے آیا تو پاکستان پہلی اننگ کا خسارہ بھگتاتے بھگتاتے پانچ وکٹیں گنوا چکا تھا۔ مگر وہ لڑکا ڈٹ گیا۔ دوسرے اینڈ پر وکٹیں گرتی رہیں لیکن پھر وسیم اکرم کے ہمراہ نویں وکٹ کے لیے 145 رنز کی پارٹنرشپ بنا کر اس لڑکے نے ایک مردہ میچ میں جان ڈال دی۔ اگرچہ نہایت سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان وہ میچ دو وکٹوں سے ہار گیا لیکن وہ لڑکا ڈیبیو پہ سینچری کرنے والا ساتواں پاکستانی بن گیا۔ آج 17 برس بعد وہی لڑکا ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے والا پہلا پاکستانی بن چکا ہے۔ آج یونس خان صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا کے چند بہترین بلے بازوں کی فہرست میں کھڑے ہیں۔

اگرچہ ڈیبیو پہ سینچری کرنا کوئی معمولی بات نہیں لیکن تب یونس کی تکنیک اور سٹائل کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں تھا کہ یہ لڑکا وہ کچھ کر جائے گا جو اس سے پیشتر آنے والے کئی عظیم بلے باز بھی نہ کر سکے۔ ٹیسٹ کرکٹ دنیا کا مشکل ترین کھیل ہے۔ کوئی دوسرا کھیل مسلسل پانچ دن اور 15 سیشنز تک کھلاڑی کے اعصاب کا امتحان نہیں لیتا۔ اس کھیل میں بعض اوقات ایک ایک رن کے لیے پہروں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک سینچری کے لیے پورا پورا دن کریز پہ گزارنا پڑتا ہے۔ یہی نہیں، اس بیچ کم از کم دو وقفوں سے، اور بسا اوقات رات بھر انتظار سے گزرنا پڑتا ہے۔

کل جب یونس خان بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو سبھی کو اس لمحے کا انتظار تھا جب صرف 23 رنز بنانے کے بعد وہ 10،000 رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی ٹھہریں گے۔ خود یونس خان کو ان 23 رنز کے لیے، بارش کے سبب، کم از کم ایک اور رات انتظار میں کاٹنا پڑی تھی۔ لیکن کریز پر آتے ہوئے یونس کی چال سے ایسی کوئی بے صبری نہیں جھلک رہی تھی۔ پہلا رن بنانے کے لیے یونس نے 19 گیندوں تک انتظار کیا۔ گو وہ اپنے ہدف سے چند ہی قدم دور تھے لیکن ویسٹ انڈیز کی اچھی بولنگ کا احترام کرتے کرتے لنچ کا وقفہ آ گیا۔ تب تک یونس بغیر کوئی رن بنائے دس گیندیں کھیل چکے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یونس کو تاریخ رقم کرنے کے لیے کم از کم 40 منٹ اور انتظار کرنا پڑے گا۔

لیکن لنچ کے بعد بھی یونس نے کسی بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ جب چائے کے وقفے کے لیے یونس خان میدان سے باہر جا رہے تھے تو وہ 82 گیندیں کھیل چکے تھے لیکن پھر بھی اس تاریخی اعزاز سے ایک رن پیچھے تھے۔ گویا ایک رن کے لیے انھیں کم از کم 20 منٹ مزید انتظار کرنا تھا۔ بالآخر چائے کا وقفہ ختم ہوا۔ یونس واپس آئے۔ روسٹن چیز نے بولنگ کا آغاز کیا۔ اوور کی دوسری گیند پہ یونس خان نے اپنا گھٹنا زمین پہ ٹکایا اور فائن لیگ کی جانب سویپ شاٹ کھیل کر تاریخ میں امر ہو گئے۔

یونس کے تمام کریئر کو ایک طرف رکھ  دیجیے اور صرف ان کے کریئر کی اس اہم ترین اننگ کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہ ایک اننگ ہی اس سوال کا جواب دینے کو کافی ہے کہ کیسے ایک اوسط تکنیک اور معمولی سٹائل والے کھلاڑی نے وہ کر دکھایا جو اس سے کہیں بہتر تکنیک اور سٹائل والے میانداد، انضمام اور یوسف بھی نہ کر پائے۔ اور اسی پہ موقوف نہیں، یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے معمر ترین کھلاڑی ہیں۔ 39 سال وہ عمر ہے جب ٹیسٹ پلیئرز یا تو کسی ڈریسنگ روم میں بیٹھے نوجوانوں کو مشورے دے رہے ہوتے ہیں یا پھر کمنٹری باکس میں بیٹھے اپنے ماضی کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن یونس خان اپنی عمر کے 39 سال اور 145 دن گزارنے کے بعد سبائنا پارک میں کھڑے ڈریسنگ روم کی جانب بلا لہرا رہے تھے اور اپنی شرٹ پہ پاکستان کے بیج کو چوم رہے تھے۔

سوال یہ ہے کہ یونس خان جیسے بیٹسمین نے یہ طویل سفر کیسے طے کر لیا۔

پاکستان کے کرکٹ کلچر میں 17 سال گزارنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یونس کو بھی اس وادی پرخار سے گزرنے کے لیے تیشہ فرہاد کی سی ہمت دکھانا پڑی۔ اس دوران ان کی تکنیک تو موضوع سخن رہی ہی، ٹیم میں ان کی جگہ بھی ہمیشہ شرح غالب کی طرح گھمسان کے مباحث برپا کرتی رہی۔ وہ کئی بار ڈراپ ہوئے۔ بارہا انھیں بتایا گیا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے، انھیں چلے جانا چاہیے۔ نہ تو وہ کبھی پی سی بی کے محبوب رہے اور نہ ہی میڈیا کی آنکھوں کا تارا۔ اور ستم یہ کہ انھیں سرف، نمکو اور بوتلیں بیچنے کا ہنر بھی نہیں آتا تھا۔

لیکن اس سب کے بیچ ایک چیز تھی جو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ وہ تھی یونس خان کی کرکٹ کے لیے عزت۔ کہنے والوں نے جو بھی کہا، یونس نے ہمیشہ اپنے کھیل کی عزت کی۔ اپنی ٹیم کو ترجیح دی۔ اپنے ملک کو مقدم رکھا۔ یونس خان کہتے ہیں کہ جب کبھی وہ بہترین بیٹنگ کے ریکارڈز پہ نظر ڈالتے تھے تو انھیں یہ چیز تکلیف دیتی تھی کہ سب سے زیادہ رنز کی فہرست میں پاکستان کا نام نہ دکھائی دیتا تھا۔ شاید یہی وہ تحریک تھی کہ ڈھلتی عمر کی تھکن اور طعن اغیار کے باوجود وہ ڈٹے رہے اور بالآخر کل وہ دن آ ہی گیا جب ٹیسٹ کرکٹ کی ایلیٹ کلاس میں پاکستان کا نام بھی شامل ہو گیا۔

یہ بات خاصی پریشان کن ہے کہ پاکستان اور یونس خان کا ساتھ اب صرف پانچ اننگز تک ہی رہے گا۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ پاکستان کی اکثریت نے کبھی بھی یونس خان کو وہ رتبہ نہیں دیا جس کے وہ حق دار تھے۔ نہ صرف یہ کہ انھوں نے پاکستان کے لیے ایک ورلڈ کپ جیتا بلکہ 2009 کے بعد شروع ہونے والے پاکستان کرکٹ کے مشکل ترین دور میں انھوں نے ایک بے گھر ٹیم کو سنبھالے رکھا۔ اپنے جونئیرز کی قیادت میں بھی اسی عزم سے کھیلے جیسے کبھی اپنے سینیئرز کے ہمراہ کھیلا کرتے تھے۔

اور اس سارے سفر کے بیچ وہ پاکستان کرکٹ کو یہ سکھلا گئے کہ کوئی تکنیک، کوئی کلاس اور کوئی سٹائل بھی ارادے سے بڑا نہیں ہوتا۔ یہ یونس کا عزم تھا کہ پاکستان کا نام بھی اس ایلیٹ کلب کا حصہ بنے جہاں برائن لارا، راہول ڈریوڈ، سچن ٹنڈولکر، رکی پونٹنگ اور سنگاکارا بستے ہیں۔ اس عزم کی جستجو میں نہ صرف وہ خود امر ہو گئے بلکہ پاکستان بھی سرخرو ہو گیا۔ جب کبھی دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں کا ذکر ہو گا تو ان میں یونس کا نام بھی آئے گا۔ اور تب ہم فخر سے بتائیں گے کہ یہ عظیم بلے باز یونس خان ایک پاکستانی تھا۔

سمیع چوہدری

کرکٹ تجزیہ کار

حنیف محمد : کرکٹ کا حقیقی لٹل ماسٹر

hanif-mohammad-bats-pakistan-england_3762336کرکٹ ہی کیا کھیلوں کی عالمی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہو جس کے چار سگے بھائیوں نے اعلیٰ ترین سطح پر اپنے ملک کی نمایندگی کی ہو، حال ہی میں ہم سے جدا ہونے والے عظیم کرکٹر حنیف محمد کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ نہ صرف ان کے تین بھائی وزیر محمد‘ مشتاق محمد اور صادق محمد پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلے بلکہ ان کا بیٹا شعیب محمد بھی اس اعزاز کا مستحق ٹھہرا‘ کہا جاتا ہے کہ اگر ان کے پانچویں بھائی رئیس محمد بھی تھوڑی سی محنت اور کرتے تو وہ بھی اس صف میں شامل ہو سکتے تھے۔

اگرچہ مشتاق محمد اور کسی حد تک شعیب محمد اسپن بالنگ بھی کرتے تھے لیکن بنیادی طور پر یہ سب کے سب اعلیٰ درجے کے بیٹسمین ہی تھے لیکن وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ’’فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص‘‘ تو یہ اعزاز ہر اعتبار سے حنیف صاحب کا ہی بنتا ہے۔ وہ ابھی اسکول ہی میں تھے کہ فرسٹ کلاس کرکٹ اور اس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں آ گئے جس کا بہت سا کریڈٹ ان کے کوچ ماسٹر عزیز کو بھی جاتا ہے جن کی محنت اور رہنمائی کے باعث وہ اٹھارہ سال کی عمر سے بھی پہلے نہ صرف ٹیسٹ کھلاڑی بن گئے بلکہ اگلے تقریباً سترہ برس تک مسلسل پاکستان کی نمایندگی کرتے رہے۔Hanif-Mohammad

انھوں نے پاکستان کی طرف سے پہلی ٹرپل سنچری ایک ایسی صورت حال میں بنائی اور ایک سو فی صد ہارا ہوا میچ ڈرا کرانے میں کامیاب ہوئے جس  کی دوسری مثال پوری تاریخ کرکٹ میں نہیں ملتی ،اسی اننگز کے دوران انھوں نے سولہ گھنٹے 39 منٹ مسلسل بیٹنگ کر کے طویل ترین اننگز کھیلنے کا جو ریکارڈ بنایا وہ آج بھی قائم ہے اور شاید فرسٹ کلاس کرکٹ کی ایک اننگز میں 499 رنز بنانے کا ریکارڈ بھی قائم رہتا اگر برائن لارا راستے میں نہ آ جاتے، اٹھارہ انیس سال کے طویل کیرئیر میں وہ صرف 55 ٹیسٹ کھیل پائے کہ ان کے زمانے میں ٹیسٹ کرکٹ نسبتاً کم ہوا کرتی تھی وہ ایک ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری اسکور کرنے والے پہلے پاکستانی کرکٹر بھی  بنے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کرکٹ کے پہلے پندرہ برسوں میں کارکردگی کے حوالے سے سوائے فضل محمود مرحوم کے کوئی دوسرا کھلاڑی ان کا ہم پلہ نہیں ٹھہرتا اور وہ صحیح معنوں میں ایک لیجنڈ کہلانے کے حق دار تھے۔

کرکٹ سے وابستگی اور شوق کی وجہ سے میں نے ان کی چند اننگز میدان میں اور بہت سی ریکارڈنگ کی شکل میں دیکھی ہیں اور مجھے ان کے ساتھ ملاقات‘ گفتگو اور بیرون ملک سفر کا موقع بھی ملا ہے، وہ ایک ملنسار اور خوش طبع شخصیت کے حامل تھے درسی تعلیم کی کمی انھوں نے غیرملکی دوروں سے حاصل کردہ تجربات اور مشاہدات سے پوری کی، ان کا انداز گفتگو نہ صرف بہت سلجھا ہوا تھا بلکہ زبان بھی اپنے بھائیوں کی نسبت زیادہ صاف تھی۔ ایک ہوائی سفر کے دوران انھوں نے مجھے کئی دلچسپ اور مزیدار قصے سنائے جن میں سے ایک تو ایسا ہے کہ اس کی Punch line کو ہم نے اپنے احباب کے حلقے میں ایک سند کے طور پر رائج کر دیا ہے۔

وہ لائن اور وہ قصہ کچھ یوں تھا‘ کہنے لگے کہ 1954 کے دورہ انگلستان کے وقت چند ایک کو چھوڑ کر باقی کھلاڑیوں کی انگریزی واجبی سی تھی سو انگریزوں کے لہجے کو سمجھنا اور انھیں انگریزی میں جواب دینا ان سمیت کئی ساتھیوں کے لیے ایک امتحان سے کم نہ تھا، دورہ تقریباً چار مہینے کا تھا اور اس زمانے میں انگلستان میں حلال‘ ذبیحہ اور دیسی کھانے کا حصول ایک مہم سے کم نہ تھا، انھیں بتایا گیا کہ صرف Fish & Chips ہی ان کے لیے محفوظ غذا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہر روز دو وقت فش اینڈ چپس کھا کھا کر ان کا برا حال ہو گیا سو دو دوستوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا گیا کہ جیب خرچ سے ملنے والی رقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہیں باہر چل کر کوئی بہتر اور مختلف چیز کھائی جائے۔ ایک پب نما ریستوران میں پہنچے تو بیرے نے ان کے سامنے ایک مینو کارڈ رکھ دیا بیشتر اشیائے خوردنی کے نام ان کے لیے اجنبی تھے سو انھوں نے اندازے سے ایک آئٹم پر انگلی رکھ کر کہا۔ This۔ وہ کوئی اسٹیک نما ڈش تھی۔ بیرے نے اپنے خالص  Slang لہجے میں پوچھا Sir, would you like it half done or well done سب نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو سب یک زبان ہو کر بولے Ok ok fish and chips.

آخری بار کوئی پندرہ برس قبل ان سے ایک تقریب میں سلام دعا ہوئی بہت اسمارٹ لگ رہے تھے جب میں نے انھیں یہ  Fish & chips والا واقعہ یاد دلایا تو بہت ہنسے اور میری فرمائش پر اسے دوبارہ سنایا۔ بدقسمتی سے اب یہ اسپورٹس مین شپ اور خود پر ہنس سکنے کی صلاحیت معاشرے کے عام افراد کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں میں بھی عنقا ہوتی جا رہی ہے۔ اگر مجھے ٹھیک سے یاد ہے تو 1954 کا تاریخی اوول ٹیسٹ بھی اگست ہی کے مہینے میں ہوا تھا اور اس  Low Scoring میچ میں بھی ان کا حصہ فضل محمود کے بعد سب سے زیادہ تھا اور یاد رہے کہ اس زمانے میں اوپنرز کو ٹائسن اور ٹرومین‘ ملر اور لنڈوال اور ہال اور گل گرسٹ کی طوفانی گیندوں کا سامنا بغیر کسی اضافی حفاظتی سامان کے کرنا پڑتا تھا۔ وہ لٹل ماسٹر کے توصیفی نام سے بھی جانے جاتے تھے اور بہت محتاط اور غیر جذباتی انداز میں بیٹنگ کرتے تھے۔

پاکستان کی طرف سے پچاس سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والوں میں سست رفتاری سے بیٹنگ کرنے والوں میں شاید مدثر نذر اور مصباح الحق ہی ان کی صف میں کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے اولین باہمی مقابلوں میں اس زمانے کی چاروں بڑی ٹیموں آسٹریلیا‘ انگلینڈ‘ بھارت اور ویسٹ انڈیز کو کم از کم ایک ٹیسٹ میں ضرور شکست دی اور ہر موقعے پر حنیف محمد نہ صرف ٹیم میں شامل تھے بلکہ ان کا شمار فتح گر کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ آج وہ عظیم اور تاریخ ساز کھلاڑی سفید پیڈوں کی جگہ سفید کفن پہن کر ایک ایسی اننگز کے لیے دنیا کے پیویلین سے نکل کر اس میدان کی طرف روانہ ہو چکا ہے جہاں کامیابی کے معیار اگرچہ مختلف ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ اپنے کروڑوں بندوں کو خوش اور محظوظ کرنے کے صدقے میں رب کریم وہاں بھی ان پر اپنی رحمت کا سائبان اور سایا کشادہ رکھیں گے کہ بقول اقبال

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

امجد اسلام امجد

Hanif Mohammad, Pakistani Cricket’s Little Master

Hanif Mohammad was a Pakistani cricketer. He played for the Pakistani cricket team in 55 Test matches between 1952–53 and 1969–70 and averaged 43.98, with twelve hundreds. At his peak, he was considered one of the best batsmen in the world. He played at a time when there was very little Test cricket being played by Pakistan, with just 55 Test matches in a career spanning 17 years. In his obituary by ESPNcricinfo, he was honoured as the original Little Master, a title later assumed by Sunny Gavaskar and Sachin Tendulkar.
Hanif was trained by Abdul Aziz, an Afghan cricket player, who had earlier played in Ranji Trophy for Jamnagar and father of Indian cricketer, Salim Durani. The highest of Hanif’s Test centuries was a famous 337 made against West Indies in a six-day test at Bridgetown in 1957/58. After Pakistan found itself following on from a first-innings deficit of 473 runs on the afternoon of the third day, Hanif spent more than sixteen hours at the crease compiling his runs, allowing Pakistan to draw the game. It remains the longest innings in Test history (and stood as the longest in all first-class cricket for over 40 years). It was the only Test match instance of a triple century in a team’s second innings until it was equaled by New Zealand cricketer Brendon McCullum against India in 2014. Displays such as this earned him the nickname “Little Master”.

 

 

 

‘Little Master’ Hanif Mohammad laid to rest in Karachi

581389-image-1471016224-411-640x480Former Pakistan batsman Hanif Mohammad was laid to rest on Friday in Karachi s society graveyard loacted on Tariq Road. The funeral prayer was attended by a large number of people which include former cricketers, politicians and locals. Hanif Mohammad, who compiled the longest innings in Test history, died Thursday in a Karachi hospital after a prolonged illness, doctors said. The 81-year-old was famous for his dogged batting in Pakistan’s nascent years in international cricket, having opened as a schoolboy for the country’s first Test against India in Delhi in 1952.
Short in stature Mohammad — one of four brothers who played for Pakistan and a former national team captain — hit 337 in a marathon and still unsurpassed 970-minute stay at the crease against the West Indies in Barbados in 1958.

 

 

 

 

Abdul Qadir

Abdul Qadir Khan   born 15 September 1955 in Lahore) is a former Pakistani international cricketer whose main role was as a leg spin bowler.[1] Later he was a commentator and Chief Selector of the Pakistan Cricket Board, from which post he resigned because of differences with the top brass of Pakistan cricket. Qadir appeared in 67 Test and 104 One Day International (ODI) matches between 1977 and 1993, and captained the Pakistan cricket team in five ODIs. In Test cricket, his best performance for series was 30 wickets for 437 runs, against Engalnd in 1987. His best bowling figures for an innings were nine wickets for 56 against the same team at the Gaddafi Stadium. In ODIs, his best bowling figures were five wickets for 44 runs against Sri Lanka during the 1983 Cricket World Cup. He was a member of Pakistani team in 1983 and 1987 Cricket World Cups. Yahoo! Cricket described Qadir as “a master of the leg-spin” who “mastered the googlies, the flippers, the leg-breaks and the topspins.”[2] He is widely regarded as a top spin bowler of his generation and was included in Richie Benaud’s Greatest XI shortlist of imaginary cricket team from the best players available from all countries and eras. Former English captain Graham Gooch said that “Qadir was even finer than Shane Warne”
Natural talent combined with aggression and passion made Qadir one of the most successful spinners of his era. He had a distinct run-up, bounding in to the crease, and a great variety of deliveries: there was the orthodox leg-break, the topspinner, two googlies and the flipper. He was unique for bowling leg spin at a time when it was not only rare but considered obsolete, and he kept the torch alight for a generation of leg spinners. His fervent appeals made him a great favourite with the spectators but sometimes got him into trouble with umpires.[7] Qadir played 67 Test matches during 1977–90 and took 236 wickets, with an average of 32.80, including 15 five-wicket hauls. His best bowlig performance was against England at the Gaddafi Stadium, Lahore in 1987. He also scored 1,029 runs including three fifties.[1]
Qadir made his Test debut at his home ground, Gaddafi Stadium, against England in December 1977; he took one wicket in the solitary innings and made 11 runs in the only innings he played.[8] In the second innins of the second Test played at the Niaz Stadium, Hyderabad, he took his first five-wicket haul—six wickets for 44 runs in 24 overs.[note 1] Qadir remained highest wicket taker of the series, taking 12 wickets in three matches conceding 305 runs.[10] Qadir’s second Test series, in England in 1978, was an injury-plagued let-down, but he was a strong and established force by his return in 1982, when his six wickets in the Lord’s Test played a major role in a historic Pakistani victory.[11] He took ten wickets in the series with an average of 40.60.[12]
Qadir’s first significant performance came in the 1982–83 series against Australia, taking seven wickets for 156 runs and 11 wickets for for 218 runs in the first two Test maches—man of the match in both the matches.[13][14] He accumulated 22 wickets—Pakistani record against Australia—conceding 562 runs and with the average of 25.54 in the three-Test series.[15][16] Due to his perforemance with the ball, he won the man of the series award for first time in his Test career.[17] Pakistan cleen-sweeped the series, winnig the first and the third Test by nine wickets each, and the second Test by an innings and three runs.[18] Qadir took 19 wickets for 451 runs with the help of three five-wicket hauls in following home series against England.[19] Pakistan recorded their first series win against England.[20] In 1985–86 home series against Sri Lanka, he took six wickets in the third match at Karachi.[21]
At the Kennington Oval in 1987, Qadir’s ten-wicket haul ensured another series win, this time in England.[22] Three months later, Qadir brought his art to an all new level – in the next home series against the same team – taking 30 wickets for 437 runs in three Tests including the best bowling figures in an innings by a Pakistani, nine wickets for 56 runs at the Gaddafi Stadium.[1][23] This is also the seventh best performance for an innings in Test cricket, and the best by any bowler against England.[24][25] He achieved his career best performance in an innings, 61 runs, at the National Stadium, Karachi.[26] Qadir’s tremendous performance earned him another man of the series award, and Pakistan won another series against England.[17][25] During this crusade, he moved past the 200-wicket mark, becoming the first man from his country ever to do so. Qadir was ineffective against India in the 1989–90 home series, taking only six wickets from four Tests with an average above 57.[27] He played his last Test against the West Indies in December 1990 at the Gaddafi Stadium.[28]

One Day International career

Qadir made his ODI debut against New Zealand at Edgbaston during 1983 Cricket World Cup; he took four wickets for 21 runs in 12 overs, earning him the man of the match award.[29] He took 12 wickets for 264 runs in the tournament with an average of 22.00,[30] including a five-wicket haul against Sri Lanka at the Headingley Stadium, Leeds.[31] In the 1983–84 World Series Cup, Qadir played eight matches and took 15 wickets at the average of 18.13,[32] including five wickets for 53 against Australia at the Melbourne Cricket Ground, a match Pakistan lost by 43 runs.[33] In the 1985–86 home season, he took six wickets against Sri Lanka,[34] and five wickets against the West Indies including four wickets for 17 runs at the Gaddafi Stadium.[35][36] Qadir’s eight wickets in six matches were the second highest figures against India in 1986–87.[37]
Qadir captained the Pakistan cricket team during England’s tour to Pakistan, losing all the three matches; he topped the list of highest wicket takers during the 1987–88 series between the teeams, with eight wickets at the average of 13.17.[38] He took six wickets during the 1988–89 Wills Asia Cup at the average of 17.00,[39] including three wickets for 27 runs, against India in the fifth match at the Bangabandhu National Stadium, Dhaka.[40] During the Nehru Cup in 1989–90, he was second in the list of leading wicket takers, with 12 wicket from seven matches at the average of 21.75.[41] His best figure in a match during the tournament were three wickets for 27 runs, against Australia at the Brabourne Stadium, Bombay.[42] Qadir played his last ODI against Sri Lanka at the Sharjah Cricket Association Stadium in 1993.[43] In total, Qadir played 104 ODIs during 1977–93, taking 132 wickets and averaged 26.16. He also took two fiv-wicket hauls, including his best ODI performance of five wickets for 44 runs against Sri Lanka during the 1983 World Cup.[1][31] He scored 641 runs in ODIs, and his highest score in this format of the game was 41 not out.[1]

Captaincy

Qadir was not successful as a captain. He captained the Pakistan cricket team in five Test matches during 1987–88 and 1988–89, losing four of them.[44] He captained Pakistan for the first time against England, in absence of regular captain, Javed Miandad.[45] The three matches he captained in, against the same team, were lost by Pakistan.[46] In ODI matches, Qadir captained Pakistan against Bangladesh and India in the fourth and fifth match of the 1988 Asia Cup respectively; Pakistan defeated Bangladesh by 173 runs, and lost to India by four wickets.[47][48]

As chief selector

Abdul Qadir replaced Saleem Jaffar, former Pakistan fast bowler, as chief selector in November 2008 for the series against India.[49] A series of three Tests, five ODIs and three T20Is was scheduled to be hosted by Pakistan; the series could not take place due to the deterioration of both countries’ diplomatic relationship after the 2008 Mumbai attacks.[50] His next assignment was team selection for the home series against Sri Lanka; the tour was arranged as a replacement for the scheduled tour of India which was cancelled by BCCI.[51][52] The series was abondened following an attack on the Sri Lankan team in Lahore during the second Test between the teams.[53] Qadir resigned from the post in June 2009 without explaining any concern.[54]

Controversy

Talking with Hasan Jalil at Pakistan Television (PTV) show in 2004, Qadir said: “We all know the ball has always been made up [tampered with] by Pakistani fast bowlers, but with so much scrutiny on this series, this has not been possible.”[55] PTV cancelled his contract stating that “We are a national network and we have certain codes of conduct on what can and cannot be said on air. By talking about ball-tampering and claiming that every successful Pakistani bowler had ‘made’ the ball, he was damaging national pride, and that is against our policy. So we dropped him.”[56]

Personal life

Qadir was born on 15 September 1955 in Lahore, Punjab, Pakistan.[1] His brother, Ali Bahadur, was also a leg-spinner who appeared in 10 first class matches during 1986–87.[57] Qadir’s three sons—Rehman Qadir, Imran Qadir and Sulaman Qadir—also represented different Pakistani teams in the first class competetion,[58][59][60] while his younger son, Usman Qadir, has played in 12 List A matches.[61]
Enhanced by Zemanta

Sarfraz Nawaz

Sarfraz Nawaz Malik (Punjabi, Urdu: سرفراز نواز ملک‎) (born 1 December 1948, Lahore, Punjab) is a former Pakistani Test cricketer and politician who discovered reverse swing and was instrumental in Pakistan’s first Test series victories over India and England.[1] Between 1969 and 1984 he played 55 Tests and 45 One Day Internationals and took 177 Test wickets at an average of 32.75. In 1978–79 he took 9/86 against Australia at Melbourne – including a spell of 7/1 off 33 balls – to give Pakistan a surprise victory, but in the next Test at Perth Sarfraz controversially dismissed the Australian batsman Andrew Hilditch for handling the ball.

Early career

In his first Test – against England at Karachi – the twenty year old Sarfraz took no wickets or catches, did not bat and was dropped for four years. He made his name in 1972–73 by taking 4/53 and 4/56 against Australia at the SCG, accounting for Ian and Greg Chappell, Keith Stackpole and Ian Redpath, but this did not stop the hosts winning by 56 runs.[2] At Headingley in 1974 Sarfraz hit 53 off 74 balls to convert 209/8 into 285 all out, driving the ball fiercely off Geoff Arnold, Chris Old, Mike Hendrick, Tony Greig and Derek Underwood in a low scoring match.[3] Against Clive Lloyd‘s West Indians in 1974–75 he took 6/89 at the Gaddafi Stadium in Lahore to dismiss them for 214, but the Test and the series were both drawn. 
Sarfraz was made vice-captain to Wasim Bari, but disappeared before the Second Test against England in 1977–78. He was found in London where he had gone to see Christmas even though he was a Muslim and returned to Pakistan in time for the Third Test. As World Series Cricket was operating at time it was speculated that he was negotiating with Kerry Packer. At Lords in 1978 he took 5/39 to reduce England to 119/7, dismissing Mike Brearley, Graham Gooch, David Gower, Ian Botham and Bob Taylor, but rain ruined play and the match was drawn.[4] More decisively in 1978–79 Sarfraz’s haul of 4/89 and 5/70 against India at Karachi gave Pakistan victory in the third and final Test by eight wickets. He took 17 wickets (25.00) in the series, the most by any player and Pakistan won their first Test series against their rivals despite having played them since 1952.[5]

Australia 1978–79

Sarfraz’s greatest bowling performance took place in the First Test at Melbourne in 1978–79 when Australia were 305/3 with Allan Border (105) and Kim Hughes (84) at the crease needing only 77 runs to win. Sarfraz took 7/1 in 33 balls and dismissed Australia for 310 to give Pakistan a surprise 71 run victory.[3] At the time his 9/86 in an innings was the best Test match analysis in Australia, the best by a Pakistani bowler and the fifth best in Test cricket.[6] Sarfraz had also made 35 coming in at 99/6 in the first innings and took 11/125 in the match. He was also involved in the controversial dismissal of Andrew Hilditch for handling the ball in the Second Test at the WACA in Perth
The batsman was at the non-striker’s end when the ball was returned to the crease by the wayward throw of a fielder. Hilditch picked up the ball and politely gave it to Sarfraz, Sarfraz appealed and Hilditch was given out. It was only the second time in a hundred years of Test cricket that a batsman had been given out in this fashion and though strictly correct it was considered to be against the spirit of the game. Earlier in the match the Australian tailender Rodney Hogg had been run out while ‘gardening’ and Alan Hurst ran out Sikander Bakht when backing up, two pieces of gamesmanship which caused bad feeling between the teams.[7][8][9] Australia made 236/3 to win the Test and square the series, the other two batsmen being run out and no bowler taking a wicket.

Later career

Sarfraz played for Northamptonshire in two separate spells and in the 1980 Benson and Hedges Cup he took 3/23 off 11 overs to restrict Essex to 203/8 in Northant‘s six run win. In 1983–84 he took 4/42 and 2/27 in the First Test against England at Karachi and hit the winning runs when Pakistan made 66/7 to win.[10] After several ‘retirements’ the Third Test at the Gaddafi Stadium in Lahore proved to be his last and in the first innings his 4/49 helped dismiss England for 241. When Pakistan were reduced to 181/8 Sarfraz made 90, his highest Test and First Class score, adding 161 for the ninth wicket with his captain Zaheer Abbas (82 not out) to give his team a 102 run lead. Unfortunately, David Gower made 173 not out and Safraz was hit for 1/112 in the second innings, but came in at 199/5 and saw out the match with 10 not out. This ensured that Pakistan kept their 1–0 lead to win their first Test series against England.[11]

Style

From the boundary Sarfraz looked like a medium paced trundler, but he was “as strong as a cart-horse” and his powerful upper body and good action allowed him to bowl at a fast-medium pace. He could seam the ball in either direction and despite the convention he repeatedly bounced other fast bowlers such as Jeff Thomson and Joel Garner.[3] The flat wickets found in Pakistan were not ideal for a bowler of his pace, but could sometimes surprise batsmen with his ability to make to ball seam, swing or bounce awkwardly.[3] More importantly with Sikander Bakht Sarfraz developed reverse swing. Commentators did not realise this was reverse swing at the time, though they realised that he had an uncanny ability to move the old ball in the air. He passed on his knowledge to Imran Khan, Wasim Akram and Waqar Younis who made this new type of bowling famous in the late 1980s and 1990s.[3][12] As a batsman he was a good lower-order striker of the ball particularly when driving and averaged over 40 in a series on three occasions.

Personal life

In the 1980s, Sarfraz married Pakistani Film actress Rani. In 1985, he contested successfully for membership of the Provincial Assembly of the Punjab and remained a member (MPA) for 3 years.[1]

Battle against match fixing

When Bob Woolmer was found dead in Jamaica, Sarfaraz Nawaz was quick to suggest that he was murdered, even before the postmortem, linking it to corruption in cricket. He subsequently raised concerns about the safety of Pakistani Cricketers in West Indies, claiming Woolmer and Inzamam were getting threats from the bookies without naming his sources. He requested the involvement of Scotland Yard in the investigations, questioning the credibility of Jamaican police. He also alleged that the match Pakistan lost against West Indies in the World Cup 2007 was fixed.
Later Sarfraz insisted that Woolmer’s death in a Kingston hotel on 18 March was linked to match fixing and extended his help to track the gang of bookies. “I know five bookies made their way to the West Indies. I can help trace them. Perhaps we can even get some clues from the players”, Sarfraz told The Sun, adding “Woolmers death is connected with the match-fixing mafia.”.[13] “I believe the Pakistan World Cup games were fixed. There is a dark side to cricket. The game got on top of it for a while but it has never really been stamped out,” he said.[13] Scotland Yard, later, declared that no foul play was involved in Woolmer’s death, rejecting Sarfraz’s allegations and vindicating the Pakistani team.
Enhanced by Zemanta