اٹلی ساٹھ برس میں پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں ناکام

Italy fails to qualify for World Cup

چار بار فٹبال کا عالمی مقابلہ جیتنے والے ملک اٹلی کی ٹیم گذشتہ 60 برس میں پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ورلڈ کپ میں شامل ہونے کے لیے میلان میں کھیلے جانے والے پلے آف میچ میں اٹلی اور سویڈن کا مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا۔ اس طرح سویڈن کی ٹیم آئندہ سال روس میں ہونے والے مقابلے کے لیے کوالیفائی کر گئی۔ اس شکست کے بعد اٹلی کے عالمی شہرت یافتہ گول کیپر جین لوئجی بوفون نے اپنے بین الاقوامی کریئر کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے چشم پرنم سے کہا کہ اٹلی کی فٹبال کے لیے انھیں افسوس ہے۔
39 سالہ بوفون نے کہا: ‘یہ بہت شرم کی بات ہے کہ میرا آخری آفیشل گیم ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر پانے والا میچ ثابت ہوا۔’ انھوں نے مزید کہا: ‘ہر کوئی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔’

ان کے ساتھ جووینٹس کے ان کے ساتھی کھلاڑی آندرے برزاگلی اور روما کے مڈ فیلڈر ڈینیئل دا روسی نے اٹلی کے ساتھ اپنے کریئر کے خاتمے کا اعلان کر دیا جبکہ جارجیو چیلینی کے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چاروں نے مل کر 461 ميچ میں شرکت کی ہے۔ گول کیپر بوفون نے اپنے 20 سالہ کریئر میں ملک کے لیے 175 میـچز میں شرکت کی ہے اور وہ سنہ 2006 میں ورلڈ کپ جیتنے والی اطالوی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اٹلی کا مستقبل ابھی بھی تابناک ہے۔ انھوں نے کہا: ‘اطالوی فٹبال کا یقینا مستقبل ہے کیونکہ ہم میں غیرت، صلاحیت اور لگن ہے اور بری طرح لڑکھرانے کے بعد ہم نے ہمیشہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا راستہ نکالا ہے۔ ‘ اٹلی کے اخبار ‘لا گیزٹا ڈیلو سپورٹ’ نے ٹیم کی ناکامی کو ‘قیامت کی پیش گوئی’ سے تعبیر کیا ہے اور کوچ جیان پیئرو وینٹورا کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

اٹلی کے 69 سالہ کوچ وینٹورا کا ٹیم کے ساتھ سنہ 2020 تک معاہدہ ہے۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا: ‘میں نے ابھی تک استعفی نہیں دیا ہے کیونکہ ابھی تک میری صدر سے بات نہیں ہوئی ہے۔ تاخیر کے لیے معافی چاہتا ہوں لیکن ہر ایک کھلاڑی جن کے ساتھ میں نے کام کیا میں فردا فردا ہر ایک کو سلام کرنا چاہتا ہوں۔’ انھوں نے استعفے کے بارے میں کہا: ‘اس سے قبل بہت سے مسائل کو دیکھنا ہے۔ فیڈریشن کے ساتھ ملاقات میں اس پر غور کریں گے۔’

Advertisements

پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آ گئی

بھارت کے ہاتھوں پہلے ٹی20 میچ میں نیوزی لینڈ کی شکست کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آ گئی ہے۔ بھارت کے خلاف تین ٹی20 میچوں کی سیریز سے قبل سابق عالمی نمبر ایک نیوزی لینڈ کے پوائنٹس کی تعداد 125 تھی جبکہ سری لنکا کو ٹی20 سیریز میں کلین سوئپ کر کے پاکستان نے اپنے پوائنٹس کی تعداد 124 کر لی تھی۔ نیوزی لینڈ کو اپنا عالمی نمبر ایک کا منصب برقرار رکھنے کیلئے سیریز میں 2-1 سے لازمی فتح درکار تھی لیکن بھارت نے پہلے ہی ٹی20 میچ میں کیویز کو شکست دے کر عالمی نمبر ایک کے منصب سے محروم کر دیا اور پاکستان کی ٹیم عالمی نمبر ایک بن گئی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹی20 رینکنگ میں عالمی نمبر ایک بنی ہے۔ نئی ٹی20 رینکنگ میں پاکستان 124 پوائنٹس کے ساتھ پہلے، نیوزی لینڈ 121 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، ویسٹ انڈیز تیسرے، انگلینڈ چوتھے، بھارت پانچویں، جنوبی افریقہ چھٹے، آسٹریلیا ساتویں، سری لنکا آٹھویں، افغانستان نویں اور بنگلہ دیش دسویں نمبر پر موجود ہے۔ اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم بھارت کے خلاف ٹی20 سیریز کے اگلے دونوں میچز جیتنے میں کامیاب رہتی ہے تو وہ دوبارہ سے عالمی نمبر ایک بن جائے گی تاہم سیریز میں ایک بھی میچ ہارنے کی صورت میں پاکستان ہی عالمی نمبر ایک رہے گا۔

پاکستانی کرکٹ کا یادگاری ٹکٹ

انگلینڈ کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں گرین شرٹس کی تاریخی فتح پر محکمہ ڈاک پاکستان کی جانب سے تین یادگاری ٹکٹوں کا اجرا کیا گیا ہے۔ یادگاری ٹکٹ کی تقریب رونمائی پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع قذافی اسٹیڈیم میں ہوئی۔ جس میں وفاقی وزیر برائے پوسٹل امیرزمان نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ہے اور محکمہ ڈاک کی جانب سے بڑی کامیابی پر یادگاری ٹکٹ کے اجراپر خوشی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے کہا کہ گذشتہ ایک برس میں قومی ٹیم کی کامیابیاں یاد گار ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ کھلاڑی، آفیشلز اور میینجمنٹ سب بہت محنت کر رہے ہیں۔

‘پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون پر پہنچی، اس کے بعد چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی اور اب تیسری شارٹ فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی میں بھی نمبر ون رینکنگ میں آ گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ٹیم قوم کی امیدوں پر پوری اترے گی اور پاکستان کے لیے اور بھی خوشیاں لائے گی۔’ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر یاد گاری ٹکٹس جاری کیے جانے پر خوش دکھائی دیئے جبکہ کپتان سرفراز احمد نے ٹکٹ کے اجرا پر پاکستان پوسٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار انيس میں قومی ٹیم ورلڈ کپ جيت کر پاکستان پوسٹ کو ایک اور یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

‘جس طرح سے لڑکے کارکردگی دکھا رہے ہیں اگر یہ جیت کا تسلسل جاری رہا تو ہم انشاءاللہ سنہ دو ہزار انیس کا ورلڈ کپ جیتیں گے۔ تب آپ کو ایک اور یادگاری ٹکٹ جاری کرنا پڑے گا’۔ وفاقی وزیر برائے پوسٹل سروسز مولانا امیر زمان نے چیئرمین پی سی بی اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو یادگاری ٹکٹوں کے فریم بھی پیش کئے۔ یاد گاری ٹکٹوں پر آئی سی سی کے تمام ممالک کے پرچم، چیمپئنز ٹرافی اور کھلاڑیوں کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ پاکستان نے رواں سال آٹھویں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

ویرات کوہلی نے پاکستانی بولرز کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ایک بار پاکستانی بولرز کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ روابط نہیں تو کیا ہوا لیکن ویرات کوہلی کی وجہ سے دونوں ممالک کے تذکرے ضرورمیڈیا میں ہو رہے ہیں۔ بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی سے جہاں بھی سوال ہو وہ پاکستانی بولرز کی صلاحیتوں کا کھل کر اعتراف کرتے نظرآتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے شعیب اخترکو خطرناک بالر قرار دیا ہے اوراس حوالے سے انہوں نے کہا کہ شعیب اختربہت تیز بالرتھے، میں نے انہیں بال کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ بہت تیزبال کراتے تھے جوخطرناک ہوتی تھی جب کہ محمد عرفان کوکھیلنا بھی کم مشکل نہ تھا۔ اس سے قبل بھی ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کے خطرناک بولرزمیں وہ شامل ہیں جس پرمحمد عامرنے بھارتی کپتان کی جانب سے اپنی بولنگ پر تعریفی کلمات کا خیرمقدم کیا تھا۔

پاکستان نے میچ اور سری لنکا نے دل جیت لیے

تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو چھتیس رنز سے ہرا کر تین میچوں کی اس سیریز میں تین صفر سے کلین سویپ مکمل کر لیا۔  قذافی اسٹیڈیم میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے آٹھ برس بعد ستائیس ہزار پرجوش تماشایوں کے سامنے کھیل کر پاکستانیوں کے دل جیت لیے۔ دو ہزار نو میں سری لنکا کی ٹیم پر قذافی اسٹیڈیم کے باہر حملہ ہوا تھا، جس کے بعد سری لنکن کرکٹرز پہلی بار لاہور آئے ہیں۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پندرہ ہزار سے زائد افراد میچ کی سیکورٹی پر مامور تھے۔

اس میچ کے موقع پر لاہور میں موسم کہر آلود تھا لیکن تماشائیوں کے جوش و خروش نے ماحول کو گرمائے رکھا، جو سری لنکا کھلاڑیوں کو بھی برابر داد دیتے رہے۔ اسٹڈیم میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ کئی پاکستانی تماشایوں نے سری لنکن پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ میچ دیکھنے والوں میں سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر تھلنگا سماتھی پالا اور وزیر کھیل جے سیکرا بھی موجود تھے۔
طویل عرصے بعد سری لنکا کے ریڈیو اور ٹی وی کے کامنٹیٹرز بھی پہلی بار لاہور آئے ، جن میں انیس سو چھیانوے کا عالمی کپ فائنل کور کرنے والے بندولا سمن وترنگا بھی شامل تھے۔ بندولا نے ڈی ڈبیلیو کو بتایا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے۔ سری لنکا کو اپنی کرکٹ کی سب سے بڑی خوشی اور غم لاہور میں ملے اور اب ہم واپس اس شہر میں آکر خوش ہیں۔

میچ سے پہلے لاہور میں ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں اگلے برس ایمرجنگ ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد سری لنکن ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین نجم سیٹھی نے بتایا کہ اپریل دو ہزار اٹھارہ ایمرجنگ ایشیا کپ پاکستان میں ہو گا، جس میں خطے کے چھ ممالک کی ٹیمیں شریک ہوں گی۔ سیٹھی کے مطابق ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول کا اعلان اگلے دو سے تین روز میں کر دیا جائے گا۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر سماتھی پالا کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں پاکستان کرکٹ کی مدد کرنے آئے ہیں۔ ہم کسی ملک کو تنہا کرنے کے خلاف ہیں۔ سری لنکا میں تیس برس تک خانہ جنگی رہی اور پاکستان نے وہاں اس دوران کبھی کھیلنے سے انکار نہیں کیا‘۔ انہوں نے مزید کہا دنیا کرکٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ سماتھی پالا کے مطابق سری لنکا کی قومی ٹیم کے علاوہ ان کی انڈر نائیٹیں اور اے ٹیمیں بھی جلد پاکستان کو درہ کریں گی۔

عثمان شنواری کی 21 گیندوں پر 5 وکٹیں، کئی ریکارڈ اپنے نام کر لیے

سری لنکا کے خلاف سیریز کے آخری میچ میں پاکستانی بولر عثمان شنواری نے شاندار ریکارڈ بنا ڈالا۔ نوجوان پیسر عثمان شنواری نے سری لنکن بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا دیں، انہوں نے اپنے پانچویں ون ڈے انٹرنیشنل میں 20 رنز پر سری لنکا کی آدھی ٹیم کو پویلین کا راستہ دکھایا اور اپنی شاندار کارکردگی سے کئی ریکارڈ بھی بنائے، عثمان شنواری پاکستان کی جانب سے سب سے کم گیندوں پر 5 شکار کرنے والے بولر بن گئے ہیں، وہ 2001 کے بعد پاکستان کی جانب سے کسی بھی ٹیم کے خلاف پہلی پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بولر بھی ہیں، انہوں نے 5 کھلاڑیوں کو میدان بدر کرنے کیلیے صرف 3.3 اوورز یعنی 21 گیندیں کروائیں جو ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا تیسرا بہترین اسپیل ہے۔

ون ڈے کرکٹ میں میچ کے آغاز میں سب سے کم گیندوں میں 5 وکٹوں کا اعزاز سری لنکن لیفٹ آرم پیسر چمندا واس کے پاس ہے جنہوں نے ورلڈ کپ 2003 میں بنگلا دیش کے خلاف 16 گیندوں میں 5 وکٹیں اڑائیں جن میں سے پہلی 3 وکٹیں انہوں نے میچ کی پہلی 3 گیندوں پر حاصل کرتے ہوئے ہیٹ ٹرک کی۔ نیدرلینڈ کے وین درگگٹن کینیڈا کے خلاف 20 گیندوں پر 5 وکٹیں حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر پر ہیں۔ واضح رہے کہ عثمان شنواری کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں، پی ایس ایل سیزن ٹو میں کراچی کنگز کی جانب سے فوری طلب کیے جانے پر انہوں نے اپنی دعوتِ ولیمہ چھوڑ دی تھی۔

سابق آسٹریلیوی ایمپائر ڈیرل ہیئر چوری کے الزام میں پکڑے گئے

آسٹریلیا کے سابق کرکٹ ایمپائر ڈیرل ہیئر چوری کے الزام میں پکڑے گئے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق، انہوں نے عدالت کے روبرو اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ اپنے دور میں متنازع رہنے والے ڈیرل ہیئر نے یہ چوری ایک وائن اسٹور میں کی جہاں وہ ملازم تھے اور دوران واردات ہی پکڑے گئے۔ تاہم، انہوں نے عدالت میں معافی نامہ جمع کرا دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نےاسٹور کے مالک کو 9 ہزار آسٹریلوی ڈالرز بھی واپس کئے اور عدالت کو دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا بھی باقاعدہ ایک بانڈ لکھ کر دیا۔

عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت کے روبرو انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ جوئے کی لت کا شکار ہیں اور اسی لت نے انہیں چوری پر مجبور کیا۔ ڈیرل ہیئر 1992ء سے 2008ء کے دوران 78 ٹیسٹ میچوں میں امپائر رہ چکے ہیں۔ ڈیرل ہیئر اپنے دور میں کئی حوالوں سے متنازع رہ چکے ہیں۔ انہیں پاکستان مخالف بھی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے 2006ء میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستان ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کا الزام بھی لگایا تھا، جس کے بعد کپتان انضمام الحق ٹیم کو لے کر گراؤنڈ سے باہر چلے گئے تھے جس پر انگلینڈ کو کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ماضی میں انہیں نسلی امتیازی سلوک برتنے کے باعث آئی سی سی ٹیسٹ پینل سے بھی معطل کیا جا چکا ہے.