پاکستان کرکٹ کی کہکشاں سے روشن ستارے جدا ہو گئے

سنا تھا کہ جب ٹیمیں عالمی سطح پر بری طرح شکستوں سے دو چار ہوتی ہیں تو
ان ناکامیوں کا نزلہ کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ پر ہی گرتا ہے۔ بورڈ عہدیدار پلیئرز، کوچز اور ٹیم منیجرز کو قربانی کے بکرے بنا کر بڑی مہارت سے اپنی کرسیاں بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس بار تو تمام اندازے اور روایات بالکل الٹ ہو گئیں، ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ابھی شروع ہوئی نہیں کہ کپتان مصباح الحق کے بعد یونس خان نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا،ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے شاہد آفریدی نے بھی کرکٹ کا بھرا میلہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے یہ تینوں ایسے کھلاڑی ہیں جن کی عالمی سطح پر کرکٹ خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مصباح الحق کی بات کی جائے تو جن حالات میں انہیں پاکستانی ٹیم کی قیادت ملی اور پھر وہ بلندی جہاں تک وہ گرین کیپس کو لے کر بھی گئے، ٹیسٹ کرکٹ میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔ 2010 کے لارڈز ٹیسٹ کو ہی دیکھ لیں جب کپتان سلمان بٹ سمیت 3 اہم کھلاڑی سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوئے، ہر طرف سے لعن طعن، شرمندگی، پست حوصلوں اور عالمی کرکٹ میں تنہائی کا شکار ٹیم اپنے ملک میں کھیلنے سے بھی محروم تھی، فکسرز کی ملی کالک شاید قومی شرمندگی کی علامت بن گئی تھی اور نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ پاکستان پر کرکٹ کے عالمی دروازے تک بند ہو سکتے تھے لیکن 6 برس بعد اسی ٹیم کا منکسرالمزاج قائد دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کا ایوارڈ آئی سی سی کے سربراہ سے وصول کر رہا تھا، یہ ٹیم عمران خان یا وسیم اکرم کی ٹیم نہیں تھی، بڑے بڑے ناموں کے بغیر پاکستان کرکٹ کو فرش سے عرش پر پہنچا دینے کا کریڈٹ اگر کسی کو دیا جا سکتا ہے تو وہ صرف مصباح الحق ہی ہو سکتے ہیں۔ وہی مصباح جو اس مشکل سفر کے دوران پاکستان کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان اور ٹیم کا سب سے قابل ِ بھروسہ بیٹسمین بن کر ابھرے۔

مصباح ان باصلاحیت کھلاڑیوں میں سے نہیں ہیں جو اچانک دنیائے کرکٹ میں آئے اور کم عمری میں ہی بین الاقوامی میچز میں جلوہ گر ہو کر یہ عندیہ دے دیا کہ وہ آئندہ دنوں میں کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی بن سامنے آئیں گے، وہ نہ مشتاق محمد، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس یا شاہد آفریدی تھے اور نہ ہی محمد عامر جیسے ہونہار کھلاڑیوں کی طرح تھے بلکہ ان کرکٹرز کے برعکس وہ لڑکپن اور اوائلِ نوجوانی میں بین الاقوامی کرکٹ میں دور دور تک نظر نہیں آئے۔ 2001 میں 27 برس کی عمر میں جب وہ بالاخر پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے تب ان کی قابلیت اور ہنر کے بارے میں کچھ بھی فطری نہیں تھا، پھر بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سابق پاکستانی کپتان اور آل راؤنڈر عمران خان کی طرح مصباح بھی مسلسل محنت کرتے ہوئے عظیم کہلانے کے رتبے پر جا پہنچے۔

یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ میں مصباح الحق بہت دیر سے سامنے آئے اور جب انہوں نے ٹیم کی قیادت سنبھالی اس وقت پاکستان کی کرکٹ مشکلات کی زد میں تھی، ٹیم اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے بکھری ہوئی تھی اور شدید اندرونی کشمکش کا شکار تھی۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ تھی کہ مصباح، کرکٹ سے دیوانگی رکھنے والے ملک کی ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے جو اپنے وجود کی بقا کی سست مگر افراتفری سے بھرپور اندرونی جنگ لڑ رہا تھا، دہشت گرد حملوں اور بم دھماکوں میں الجھا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم شہریوں، فوجی اور پولیس اہلکار جاں بحق ہو چکے تھے، جب ملک میں یہ سب جاری تھا اس دوران مصباح ایسی پاکستانی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے جو اپنے میچز غیر ملکی میدانوں میں یو اے ای میں کھیلنے پر مجبور تھی۔

مصباح نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے ملک میں کسی ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی سربراہی نہیں کی اور نہ ہی ایسے میدانوں اور تماشائیوں کے درمیان کھیلا جن سے کھلاڑی زیادہ آشنا ہوتے۔ پھر بھی اپنے سارے میچز غیر ملکی میدانوں میں جیت کر انہوں نے خود کو ملک کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان ثابت کیا، اور ایسا کارنامہ سرانجام دیا جو کرکٹ کے عظیم کپتان بھی نہیں کر پائے۔ مصباح کی غیر معمولی اور ایک حد تک انوکھی کہانی ایک ایسے بیٹسمین کے بارے میں ہے جس نے کافی دیر سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا جب ان کو ٹیم کو شامل کیا گیا تب تک وہ 27 برس کے ہوچکے تھے اور جب انہیں ڈراپ کیا گیا تو اگلے پانچ سالوں تک ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا، پھر ٹی 20 فارمیٹ کے پہلے ورلڈ کپ کے دوران اچانک ہی ملک کی ٹی 20 ٹیم میں شامل کر لیا گیا، جس میں انہوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور پاکستان کو فائنل میں فتح کے قریب لا کھڑا کر دیا، انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں خود کو مضبوط رکھا، پھر دوبارہ ڈراپ کیے گئے، وہ بھلا ہی دیئے گئے تھے مگر پھر اچانک ہی 2010 میں کرکٹ بورڈ کو مصباح یاد کیا گیا اور 36 برس کی عمر میں انہیں کپتان بنا دیا گیا۔

2007 میں شعیب ملک کو انضمام الحق کی جگہ بطور کپتان مقرر کیا گیا تھا، جن کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز میں ورلڈ کپ کے دوران بدترین شکست ہوئی تھی۔ انضمام ریٹائر ہوئے اور نوجوان، قابل اور کسی حد تک چیلنجنگ ملک کو ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا گیا۔ جب ٹیم جنوبی افریقہ میں ہونے والے پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے نامزد ہوئی تو شعیب ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت کے 33 سالہ مصباح کو ٹیم میں شامل کیا جائے اور وہ بھی محمد یوسف جیسے تجربہ کار نمایاں کھلاڑی کی جگہ پر ان کو شامل کیا جائے، یوسف کی ٹیم سے بے دخلی پر مداحوں اور میڈیا میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا، مصباح الحق نے مختصر طرز کے عالمی کپ میں اپنی پرفارمنس سے اپنا انتخاب درست بھی کر دکھایا۔

مصباح کے بارے میں مشہور ہے کہ کبھی کوئی بغض نہیں پالتا، مگر وہ کسی کے ہمدردانہ عمل کو بھی نہیں بھولتے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے اتفاق نہیں کیا جا رہا یا غیر منصفانہ طور پر ان پر تنقید کی جا رہی ہے تو وہ خاموشی سے وہاں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر کسی کی سخاوت یا نرم دل اقدام کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی انتظامی صلاحیت نہایت ہی عمدہ ہے، وہ ہر ایک کھلاڑی کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ہر کھلاڑی سے اس کے مطابق پیش آتے ہیں، وہ ان سب کو تحمل سے سنتے ہیں۔

مصباح کی کپتانی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ سینئرز کو اپنی عزت جونیئرز سے ہی کمانی ہو گی، اور اسے اپنا حق نہیں سمجھا جا سکتا۔ کوئی دور تھا جب سینئرز رعونت سے پیش آتے تھے، نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے قابو میں رکھتے اور ان سے سینئرز کے معمولی سے معمولی کام کی توقع کی جاتی تھی، مصباح نے اس طریقے کو بدل کر رکھ دیا۔

مصباح الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی ٹیم کی بیٹنگ کے اہم ستون یونس خان بھی انٹرنیشنل کرکٹ سے الگ ہو گئے ہیں، ہفتہ کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے کھیلنے کی کوشش کی اور یہی سوچا کہ کھیل کے دوران میرا سر فخر سے بلند رہے، ہرکھلاڑی کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب وہ اپنے جنون سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور میرا وقت بھی آگیا ہے، وہ اعلان کرتے ہیں کہ دورہ ویسٹ انڈیز ان کا آخری دورہ ہو گا، اس کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں 115 میچز کی 207 اننگز میں 53.06 کی اوسط سے 9977 رنز بنا چکے ہیں اور انہیں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے لئے صرف 23 رنز درکار ہیں۔ اگر یونس خان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلتے ہیں تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پاکستان ٹیسٹ ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں نے شاید اتنے رنز نہیں بنائے ہوں گے جتنے یونس خان اور مصباح الحق نے بنا رکھے ہیں۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب شاہد آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہا تھا، بوم بوم سے زیادہ تفریح شاید ہی کسی کرکٹر نے شائقین کو فراہم کی ہو، مصباح الحق، یونس خان اور شاہد آفریدی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایسے پلیئرز بار بار پیدا نہیں ہوتے، کرکٹ بورڈ نے کیریئر کے دوران ان عظیم پلیئرز کو وہ عزت نہیں دی جو ان کا حق تھی، اب بھی پی سی بی حکام ان کو باوقار انداز میں رخصت کر کے اپنی غلطیوں کا کسی حد تک اژالہ کر سکتے ہیں، مصباح الحق اور یونس خان کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کرتے ہوئے اگر شاہد آفریدی کو بھی یاد رکھا جائے تو کوئی برائی نہیں۔

عمران شاید پاکستانی کے دیومالائی کردار ہیں، آفریدی پاکستانیوں کے تصورات کے ہیرو ہیں، یونس خان نے بھی اپنے عمدہ کھیل سے کرکٹ میں خاص مقام بنایا مگر مصباح پاکستان کی حقیقت ہیں۔ مصباح اپنے پیچھے ایسی پاکستانی کرکٹ ٹیم چھوڑ  کر جا رہے ہیں جس میں ایک بھی عمران خان، یونس خان، شاہد آفریدی، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، جاوید میانداد اور عبدالقادر جیسا بڑا کھلاڑی موجود نہیں ، سرفراز احمد بھی انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرفراز احمد ٹوئنٹی 20، ایک روزہ اور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے ساتھ انصاف کر سکیں گے، کیا ٹیم میں موجود نوجوانوں کھلاڑیوں میں کوئی سٹار پلیئر بن کر ابھرے گا، کیا پاکستانی ٹیم عالمی رینکنگ میں تنزلی کی چلتی گاڑی کو بریک لگا سکے گی اور کیا گرین شرٹس براہ راست ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے، یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب آنے

والا وقت ہی بتائے گا۔

میاں اصغر سلیمی

مقبوضہ کشمیرکے کرکٹرز کا پاکستان سے اظہار محبت

مقبوضہ کشمیرکے کرکٹرز نے پاکستان ٹیم کی سبز یونیفارم پہن کر میچ کھیلا جب کہ میچ سے قبل پاکستان کا قومی ترانہ بھی احترام سے پڑھا گیا۔ انٹرنیٹ پر ایک وڈیو تیزی سے پھیل رہی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے گندر بل ڈسٹرکٹ میں 2 ٹیمیں کرکٹ میچ کیلیے آمنے سامنے ہیں، ایک ٹیم نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی یونیفارم پہن رکھی ہے جب کہ دوسری ٹیم نے سفید کٹ پہنی ہوئی ہے، میچ شروع ہونے سے قبل احتراماً پاکستان کا قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔  بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ میچ ایسے موقع پر کھیلا گیا جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا۔

گندر بل کے مشہور صوفی بزرگ بابا دریا الدین کے نام سے منسوب ٹیم کے پلیئرز نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو مختلف انداز میں اجاگر کرنا چاہتے تھے، ہم کسی سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے، ہم نے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی، صرف ایک کرکٹ میچ کھیلا ہے جس میں ہم نے اپنے مادر وطن سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود اس وڈیو کو کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال 2 کشمیری موسیقاروں نے روایتی سازوں کے ساتھ پاکستان کا قومی ترانہ گایا تھا جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

مصباح الحق اور یونس خان وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز یونس خان اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو سال 2017 کے وزڈن کرکٹرز میں شامل کر لیا گیا۔ وزڈن کرکٹرز المانیک نے سال 2017 کے بہترین کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا جس میں پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے دو بڑے نام یونس خان اور مصباح الحق کو بھی شامل کر لیا گیا۔ وزڈن کرکٹرز کی فہرست میں رواں سال ایشیائی کھلاڑیوں کا راج رہا جہاں ہندوستان کے کپتان ویرات کوہلی کو بھی نامزد کیا گیا جس کے بعد تین ایشیائی کھلاڑیوں نے جگہ بنائی ہے۔

یونس خان کی جانب سے 2016 میں دورہ انگلینڈ میں بہترین کارکردگی کے باعث پاکستان ٹیم نے سیریز کو 2-2 سے برابر کر دیا تھا جس کے بعد قومی ٹیم پہلی مرتبہ آئی سی سی کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر آگئی تھی۔ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے ٹیسٹ کی نمبرایک ٹیم بننے کا اعزازحاصل کیا تھا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان، وقار یونس، وسیم اکرم اور جاوید میانداد بھی وزڈن کرکٹرز میں شامل رہ چکے ہیں۔

2017 میں وزڈن کرکٹرز کی فہرست میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں میں ایک اور بڑا نام ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا ہے جنھوں نے نہ صرف اپنی ذاتی کارکردگی سے بھارت کو فتوحات دلائیں بلکہ بطور کپتان اپنی ٹیم کو دنیا کی سرفہرست ٹیم بنایا اور یکم اپریل کے مقرر وقت تک اس درجے کو برقرار رکھ کر سب سے زیادہ انعام پانے والی ٹیسٹ ٹیم بننے کا بھی اعزاز حاصل کیا تھا۔ ویرات کوہلی کو دنیا کا سرفہرست کھلاڑی قرار دیا گیا۔

انگلینڈ کے کرکٹر بین ڈکٹ، کرس ووکس اور ٹی ایس رولینڈ کا نام بھی وزڈن کرکٹرز 2017 کی فہرست میں شامل ہے۔ آسٹریلیا کی ایلیسی پیری نے خواتین وزڈن کرکٹر2017 کا اعزاز اپنے نام کیا۔ یاد رہے کہ 1889 میں شروع کیا گیا وزڈن کرکٹرز ایوارڈ کسی بھی کھلاڑی کو کیریئر میں ایک مرتبہ دیا جاتا ہے۔

ورلڈ کپ 1992 : پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا یادگار ترین دن

25 مارچ 1992 پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا یادگار ترین دن ہے۔ اس روز پاکستان ون ڈے کرکٹ کا فاتح عالم بنا تھا۔ آج 25 سال گزر جانے کے باوجود ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی اس تاریخی واقعے کو جیسے کل ہی بات سمجھتے ہیں۔ بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویوز میں ان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ان کے کیرئیر میں کئی فتوحات آئیں لیکن اس ورلڈ کپ کی جیت کی برابری کوئی دوسری جیت نہیں کر سکتی۔

عمران خان: ورلڈ کپ کے لیے جو ٹیم منتخب کی گئی تھی وہ اچھی تھی لیکن بدقسمتی سے دو میچ ونر کھلاڑی سعید انور اور وقار یونس ان فٹ ہوگئے تھے۔ عام طور پر ٹیم میں چار یا پانچ کھلاڑی ہی میچ ونر ہوا کرتے ہیں لیکن جب دو کھلاڑی باہر ہو جائیں تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس سے کتنی مشکلات ہو سکتی ہیں۔ ٹیم جب ورلڈ کپ میں پہنچی تو اس وقت جاوید میانداد بھی فٹ نہیں تھے اور میں بھی ان فٹ تھا لیکن اس ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ کی داد دینی ہو گی کہ اس نے اس مقام سے جیت کا سفر شروع کیا جہاں عام طور پر ٹیمیں ہمت چھوڑ دیتی ہیں۔ یہی اس ٹیم کی سب سے بڑی خوبی تھی۔

 

جاوید میانداد: کسی بھی ملک کے لیے اس سے زیادہ فخر کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ کسی بھی کھیل میں عالمی چیمپین بنے۔ پاکستان ہاکی اور سکواش میں ورلڈ کپ ونر تھا جس کے بعد ہم نے کرکٹ میں بھی یہ مقام حاصل کیا جس سے اس کے وقار میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ جیت قوم کے چہرے پر خوشی لے آئی تھی۔ ہم کھلاڑی بھی خوش تھے کہ اس جیت نے دنیا کو یہ دکھا دیا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ اس معیار کی ہے کہ یہ عالمی کپ جیت سکتی تھی۔

وسیم اکرم: میرے لیے ورلڈ کپ کی یہ جیت کسی خواب کی تعبیر کی طرح تھی کہ ورلڈ کپ کے فائنل میں کوئی ایسی کارکردگی دکھاؤں جس سے کھیل کا نقشہ بدل جائے اور دنیا مجھے یاد رکھے اور لگاتار دو گیندوں پر دو وکٹوں نے وہ کر دکھایا۔ آج طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود کوئی بھی ان دو گیندوں کو نہیں بھلا سکا ہے ۔

معین خان: فائنل کا ٹرننگ پوائنٹ وسیم اکرم کی دو گیندوں پر ایلن لیمب اور کرس لوئس کی وکٹیں تھیں جس کے بعد ہمیں بہت زیادہ یقین ہوگیا تھا کہ ہم یہ ورلڈ کپ جیت جائیں گے اور کوئی بھی دنیاوی طاقت پاکستان کو اس جیت سے نہیں روک پائے گی ۔

انضمام الحق: میرے کیرئیر کا یہ ابتدائی دور ہی تھا اور آج پچیس سال گزرجانے کے باوجود ہر کوئی میری سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ساٹھ رنز کی بات کرتا ہے حالانکہ میں نے اپنے ون ڈے کریئر میں گیارہ ہزار سے زیادہ رنز بنائے ہیں لیکن لوگ ان ہزاروں رنز کے بجائے اس ایک اننگز کو ابھی تک یاد رکھے ہوئے ہیں۔ دراصل آپ کی زندگی کے کچھ پہلو، کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ آپ بھول سکتے ہیں نہ لوگ۔

رمیز راجہ: اہم کھلاڑیوں کا ورلڈ کپ سے پہلے ہی ان فٹ ہوجانا اور پھر ایک کے بعد ایک میچ ہارنا، ایسے میں پاکستانی ٹیم کا ورلڈ کپ کا جیت جانا کسی معجزے سے کم نہ تھا ۔عام طور پر جب ٹیم ہارتی ہے تو ڈریسنگ روم میں اس کے اثرات نمایاں دکھائے دیتے ہیں اور ٹیم بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے لیکن ورلڈ کپ میں ایسا بالکل نہیں ہوا جس کی ایک بڑی وجہ عمران خان کی لیڈرشپ تھی۔

عاقب جاوید: عمران خان نے صرف ایک ہی بات ہم تمام کھلاڑیوں سے کہی تھی کہ خوفزدہ ہوکر نہ کھیلیں ۔ خوف کے بغیر کھیلنے کے اسی سبق نے کھلاڑیوں کو ابتدائی میچز میں شکست کے باوجود مایوس نہیں ہونے دیا تھا۔ فائنل سے پہلے ہمارے ذہن بالکل واضح تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ ہم ورلڈ کپ جیتیں گے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گراہم گوچ کا کیچ لے کر میں جسطرح میدان میں خوشی سے دوڑا تھا وہ بیان سے باہر ہے۔

عبدالرشید شکور

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

شاداب خان کا ڈیبیو پر عالمی ریکارڈ

نوجوان پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈیبیو میچ میں عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ بارباڈوس میں کھیلے گئے میچ میں شاداب خان کو ڈیبیو کرایا گیا اور انھوں نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے اپنا انتخاب درست ثابت کردیا۔ اسپنر نے اپنے پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ چار اوورز کے کوٹے میں صرف سات رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ اگر کامران اکمل ویسٹ انڈین بلے باز کیرون پولارڈ کا کیچ نہ گراتے تو وہ چوتھی وکٹ بھی اپنے نام کر لیتے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہو گئے۔

شاداب نے اس شاندار کارکردگی کی بدولت ڈیبیو پر سب سے کم رنز دینے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا جو اس سے قبل کینیڈا کے باؤلر اسٹیون والش کے پاس تھا جنھوں نے نو سال قبل برمودا کے خلاف میچ میں چھ رنز کے عوض دو وکٹیں لے کر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ شاداب کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت پاکستانی ٹیم عالمی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو پہلے ٹی20 میچ میں صرف 111 رنز تک محدود رکھنے میں کامیاب رہی۔

رونالڈینہو نے شاہد آفریدی کو پاکستان کرکٹ کا ہیرو قرار دیدیا

اسٹار برازیلین فٹبالر رونالڈینہو نے شاہد آفریدی کو پاکستان کرکٹ کا ہیرو قرار دے دیا۔ رونالڈینہو نے سوشل میڈیا پر آفریدی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہد آفریدی پاکستان کرکٹ کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ جولائی میں اپنے دورہ پاکستان کا بے صبری سے منتظر ہوں۔

Feliz pelas palavras Shahid Afridi BOOM BOOM herói de críquete do Paquistão. Aguardo c grande expectativa minha visita ao Paquistão em julho
 Ronaldinho Gaúcho (@10Ronaldinho

رونالڈینہو برطانیہ سے تعلق رکھنے والی لائزر لیگز کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں وہ پاکستان میں نوجوان پلیئرز کو جدید تکنیک سے آگاہ کریں گے اور دیگر نامور فٹبالرز کے ساتھ پاکستان فٹبال ٹیم کے ساتھ نمائشی فٹبال میچ بھی کھیلیں گے۔

Pakistan I’m coming! 🇵🇰

جس پر شاہد آفریدی نے جواباً لکھا تھا کہ پاکستان میں آپ کو خوش آمدید کہیں گے، آپ جیسے انٹرنیشنل اسپورٹس اسٹارز کی پاکستان آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے۔

– Welcome @10Ronaldinho it is good to see more international sportsmen visiting my beloved country

پاکستان کی کپتانی

میرے ذہن میں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ مجھے کپتان بننے کو کہا جائے گا نہ ہی مجھے ایسی کوئی خواہش تھی۔ مختلف الانواع خواہشات نے بہرحال میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شروع میں تو میری یہی خواہش تھی کہ مجھے بیٹس مین یا بائولر کی حیثیت سے پاکستان کے لیے منتخب کر لیا جائے اور پھر جب میں آل رائونڈر کی حیثیت سے ترقی کے زینوں پر چڑھنے لگا تو میری خواہش تھی کہ مجھے پاکستان کا بہترین آل رائونڈر تسلیم کر لیا جائے۔ میری آخری منزل غالباً یہی تھی کہ لوگ مجھے دنیا کا بہترین آل رائونڈر مان لیں۔ کپتان بننے کا خیال مجھے کبھی کوئی خاص دلچسپ معلوم نہیں ہوا۔ میرے خیال میں ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ کچھ وجوہات کی بنا پر تیز بائولروں کو عام طور پر اس ذمہ داری کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔

جب میں نے اپنے دوستوں سے کپتانی کے بارے میں گفتگو کی تو میں خاصا بددل ہوئے۔ میرے قریبی دوست افتخار احمد نے جو کئی سالوں سے پاکستان کرکٹ کی کمنٹری میں ایک جانا پہچانا نام ہے مجھے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے باز رہنے کو کہا۔ اس کے خیال میں کپتانی کے اضافی بوجھ کی وجہ سے آل رائونڈر کی حیثیت سے میری کارکردگی متاثر ہونے کا احتمال تھا۔ اس نے مجھے اس ضمن میں ایان بوتھم کی مثال دی۔ گزشتہ برس ہی کے دوران اسے انگلینڈ کی کپتانی سے مشکل اور تباہ کن دور سے گزرنے کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔ ہو سکتا ہے یہ محض اتفاق ہو مگر جونہی اس پر سے کپتانی کا بوجھ اٹھا لیا گیا بوتھم نے اپنا پرانا جادو پھر سے جگا دیا۔ تقریباً تن تنہا اس نے کم ہیوز کی آسٹریلوی ٹیم کے چھکے چھڑا دیئے دوسرے دوستوں نے مجھے پاکستانی کپتانوں کی غمناک تاریخ کا حوالہ دیا۔ Sri Lanka ICC Cricket T20 WCup یہ ایک طویل داستان الم تھی۔ تقریباً ہر کپتان کا کسی نہ کسی طرح سے برا حشر کیا گیا تھا یا تو بورڈ خود ان پر چڑھ دوڑا یا پریس کا سلوک ان سے ظالمانہ رہا۔ یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے دو اہم ترین مرکزوں کراچی اور لاہور کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے ہمارے پریس کے مطابق جو زیادہ تر علاقائی تعصبات کا شکار رہتا ہے یا تو پاکستانی ٹیم کا کراچی میں پیدا ہونے والا کپتان لاہور سے آنے والے لڑکوں سے برا سلوک کرتا ہے یا اگر کپتان لاہور کا ہو تو اس کا رویہ کراچی کے کھلاڑیوں کے خلاف افسوسناک ہوتا ہے ٹیم کا چنائو خواہ کیسا ہی ہو ہمارے پریس کے فریقین بحث طلب کوئی نہ کوئی نکتہ ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔ یہی چیز انڈیا میں بھی ہوتی ہے جہاں طاقت کے دو اہم تریج سرچشمے بمبئی اور دہلی میں قائم ہیں اور کچھ حد تک انگلینڈ میں بھی شمال اور جنوب کو بنیاد بنا کر ایسا ہی ہوتا ہے۔ مجھے اس بات سے بھی پریشانی تھی کہ پاکستانی ٹیموں پر مکمل قابو ہمیشہ ہی سے مشکل رہا تھا کسی نہ کسی وجہ سے پاکستانی اور انڈین کھلاڑی دوسرے ملکوں کے کھلاڑیوں کے مقابلے میں کھیل کے متعلق کچھ زیادہ ہی انفرادی نظریات رکھتے ہیں۔

 ٹیم میں ہمیشہ کچھ ایسے کھلاڑی ہوتے ہیں جو خود کو کپتانی کے عہدے کے لیے امیدوار بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں اور ٹیم سپرٹ کی بربادی کا اس سے برا کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے موجودہ کپتان کو یہ خبر ملے کہ ٹیم ہی میں کپتانی کے بیشتر امیدوار اس کے علاوہ ہیں جب بھی ٹیم کو شکست ہوتی ہے تو ٹیم کے اندر کئی پریشر گروپ جنم لے لیتے ہیں۔ ہر ٹیم میں کوئی نہ کوئی ایسا کھلاڑی ضرور ہوتا ہے جو کسی طرح سے مطمئن نہیں ہوتا مجھے اس بات کا احساس 1971ء میں اپنے پہلے دورہ انگلینڈ کے دوران ہوا۔ لیڈز میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کے پاس جیتنے کا پورا پورا موقع تھا اور جوں جوں اختتام قریب آ رہا تھا میرے اعصاب کا تنائو بڑھتا جا رہا تھا لیکن میں یہ سن کر ششدر رہ گیا کہ دو کھلاڑی جو اس میچ میں کھیل نہیں رہے تھے یہ کہہ رہے تھے کہ ان کے کچھ ساتھی اس ٹیسٹ میں ناکام ہو جائیں تو ان کے اپنے چنائو کی راہ زیادہ ہموار ہو جائے گی.

 انہیں شاید اس بات کی قطعاً پروا نہیں تھی کہ پاکستان کو فتح ہوتی ہے یا شکست۔ اس قسم کے رویوں سے مجھے پاکستان کے بعد کے دوروں پر بھی واسطہ پڑا۔ بظاہر کچھ ٹیمیں بقیہ ٹیموں کے مقابلے میں زیادہ متحد نظر آتی تھیں۔ مگر عام طور پر میں نے یہی محسوس کیا کہ کھلاڑیوں میں ثابت قدمی اور اتحاد کا فقدان ہے۔ ایک دو بار تو مجھے یاد ہے کہ میں نے ایسے کھلاڑیوں کو جو کپتان بننے کے خواہش مند تھے اپنی شکست پر شادمان دیکھا کیونکہ اس طرح ان کی ذاتی امیدوں میں اضافہ ہوتا تھا میں کبھی بھی اس قسم کے رویے کو پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔

(’’عمران خان‘‘ سے اقتباس)

پی سی بی نے لیجنڈ کرکٹرز کو بھلا دیا

پاکستان سپرلیگ کے فائنل میچ کے لیے پی سی بی نے سابق بورڈ سربراہان اور لیجنڈ کرکٹرز کو بھلا دیا اور انہیں فائنل میچ دیکھنے کے لیے دعوت نامہ تک دینا گوارا نہیں کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سابق بورڈ سربراہان اور لیجنڈ کرکٹرز کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور پاکستان سپر لیگ کا فائنل میچ دیکھنے کے لیے کسی بھی سابق کھلاڑی کو دعوت نامہ نہیں بھجوایا گیا ہے۔

پورے پاکستان میں پی ایس ایل کا بخار عروج پر ہے لیکن پی سی بی حکام نے فائنل کے لیے منتخب قذافی اسٹیڈیم میں سابق لیجنڈ کرکٹرز کے نام سے منسوب انکلوژرز رکھنے والے کھلاڑیوں تک کو پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے کے لیے دعوت نامہ دینا تک گوارا نہ سمجھا۔ عمران خان، جاوید میانداد، سرفراز نواز اور عبدالقادر کو بھی دعوت نامہ نہیں بھجوایا گیا، عبدالقادر اور جاوید میانداد کی جانب سے دعوت نامہ نہ ملنے کی تصدیق بھی کی گئی ہے جب کہ عبدالقادر کا کہنا ہے کہ ہم صرف شو پیس ہیں، عزت صرف غیر ملکی کرکٹرز کو دی جاتی ہے۔

ویون رچرڈز اور ڈیرن سیمی کو پاکستانی نام دیدیے گئے

viv-richards-eventوفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے  س ویون رچرڈ کو گلیڈی ایٹر آف پاکستان جب کہ پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو ڈیرن سیمی خان کا نام دے دیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ نے پاکستان آنے والے تمام غیرملکی کھلاڑیوں کو  تاحیات پاکستان کا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آنے پر تمام غیرملکی کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سیکیورٹی خدشات کے باوجود کھلاڑیوں کا پاکستان آنا قابل تحسین ہے۔

ریاض پیرزادہ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرویون رچرڈ اور ڈیرن سیمی نے پاکستان کی عزت میں اضافہ کیا ہے جب کہ وفاقی وزیر نے کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے مینٹور (گرو) سرویون رچرڈ کو گلیڈی ایٹر آف پاکستان جب کہ پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو ڈیرن سیمی خان کا نام دے دیا ۔