پاکستان کے بغیر کرکٹ اور آئی سی سی کا تصور ادھورا ہے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ڈائریکٹر جائلز کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان کے بغیر عالمی کرکٹ اور خود آئی سی سی کا تصور ادھورا ہے۔ لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جائلز کلارک نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے میدانوں سے ویرانیوں کےسائے چھٹ گئے ہیں اور ورلڈ الیون نے دیگر غیرملکی ٹیموں کی آمد کی راہ ہموار کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کوشش کرے گی کہ باقی ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان آ کر کھیلیں کیوں کہ ان کے بقول “پاکستان کے بغیر کرکٹ اور آئی سی سی کا تصور ادھوا ہے۔”

جائلز کلارک نے آزادی کپ کے لیے کیے جانے والے حفاظتی انتظامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان کی سکیورٹی اداروں پر مکمل اعتماد ہے۔ جائلز کلارک نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے حالات بہتر ہو گئے تو جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت تمام ٹیمیں یہاں آئیں گی۔ اس موقع پر پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا خواب پورا ہونے لگا ہے۔ نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ ورلڈ الیون کے بعد مزید ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گی۔

لاہور ہی میں ہونے والی ایک اور نیوز کانفرنس میں پاکستان کے دورے پر آنے والی ورلڈ الیون کے کوچ اور کپتان اپنی ٹیم کی کامیابی کے لیے پر امید نظر آئے۔ ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور نے کہا کہ ان کی ٹیم کا باؤلنگ اٹیک متوازن ہے اور ان کی ٹیم پاکستانی ٹیم کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کے دورے کا مقصد صرف اور صرف پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہے۔ پریس کانفرنس میں ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ وہ پاکستانی کنڈیشنز میں کھیلنے کے لیے بے تاب ہیں۔

فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ پاکستان میں ان کا استقبال بہت عمدہ ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ گراونڈ میں میچ بہت اچھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں جنوبی افریقہ کا بھی ہاتھ ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے لوگ بہت زندہ دل ہیں اوریہاں کرکٹ کا مزہ آئے گا۔ اس موقع پر ورلڈ الیون کے کوچ اور کپتان نے اپنی ٹیم کی کٹ کی رونمائی بھی کی۔ ورلڈ الیون اور پاکستان کی قومی ٹیم کے درمیان تینوں میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

Advertisements

پاکستان : ویلکم بیک ہوم کرکٹ

پاکستان کے لیے صرف انٹرنیشنل کرکٹ ہی کیوں ناگزیر ہے؟ اور بھی تو کھیل ہیں۔
ہاکی بھی تو ہے جس نے ہمیں چار ورلڈ کپ دیے۔ ویسے بھی کرکٹ اپنی تنہائی میں اکیلی تھوڑی ہے۔ جیسی تشنگی سے یہ دوچار ہے، ویسی ہی پیاس دیگر کھیلوں کو بھی تو ہے۔ تو پھر ایسا کیا ہے کہ کرکٹ ہی کی بحالی ہماری عالمی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ چلیے پی سی بی کو تو یہ غرض ہو گی کہ اس کے ہوم گراونڈز آباد ہوں اور ریونیو کی ریل پیل شروع ہو۔ سرحد پار بھی تو ایک کرکٹ بورڈ ہی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی سپورٹس مارکیٹ پہ اپنی دھاک جمائے بیٹھا ہے۔ سو پی سی بی کے لیے تو گویا بقا کا راز ہی یہ ہے کہ پاکستان کے میدان آباد ہوں۔

مگر جب پورے ملک کا پہیہ ایک سپورٹس ایونٹ کی طرف مڑ جائے اور ریاستی سربراہان کی سی سکیورٹی کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے وقف کر دی جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک ادارے کی انا کا نہیں ہے۔ آخر کچھ تو ہے کہ جو ’ادارے‘ عام حالات میں ’ٹکراتے‘ رہتے ہیں، کرکٹ کی خاطر اچانک شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور عوام الناس ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں رک کر ٹکٹیں خریدتے ہیں۔ میلوں دور پارکنگ سے پیدل چلتے ہیں، تہہ در تہہ سکیورٹی کے حصاروں کو عبور کرتے ہیں، اور اپنا خون پسینہ بہا کر قذافی سٹیڈیم کی ایک نشست فتح کرتے ہیں۔

اس ایک نشست تک کے پر اسرار سفر اور اس ایک ایک انٹرنیشنل میچ کے گرد ہماری مجموعی قومی کاوش کی تہہ میں کئی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ کہیں کوئی پینتیس سالہ نوجوان ہو گا جو آج سے تیس سال پہلے شاید وسیم اکرم بننا چاہتا تھا، کہیں کوئی جھریوں والا چہرہ ہو گا جو عمران خان کے کرئیر کے اتار چڑھاو میں ہی جوان ہوا، کہیں کوئی ادھیڑ عمر شخص ہو گا جسے بانوے کا ورلڈ کپ یوں یاد ہے جیسے کل کی بات تھی۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرکٹ سٹارڈم صرف کھیل کی حد تک ہی محدود نہیں رہتا۔ یہاں کئی نسلیں کرکٹ کے گرد پلی بڑھی ہیں۔ عمران خان پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے سٹار ہیں اور دنیائے کرکٹ آج بھی ان کی قدر کرتی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طبقے میں وہ آج سب سے زیادہ مقبول ہیں، اس کی اکثریت وہ ہیں جنہوں نے ان کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ مگر اس کرکٹ سٹارڈم کی تاثیر صرف ایک نسل تک ہی محدود نہیں رہی۔

پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دیے بجھے آٹھ برس بیت چکے۔ پچھلے آٹھ سال میں زمبابوے کے سوا کسی فل ممبر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ آخری بار جب پاکستان اپنے ہوم گراونڈ پہ کھیلا تھا تو ون ڈے میں تیز ترین سینچری کا ریکارڈ پاکستان کے پاس تھا، ون ڈے میں طویل ترین انفرادی اننگ کا ریکارڈ سعید انور کے نام تھا۔ پچھلے آٹھ سال میں یہ دو ریکارڈ کئی بار توڑے جا چکے ہیں۔ پاکستان اپنی تاریخ کی بدترین ون ڈے رینکنگ دیکھ چکا ہے۔ اور پاکستان پہ آئی پی ایل کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اور اس تمام دورانئے میں پاکستان محمد عامر کے سوا کوئی سٹار پیدا نہیں کر سکا۔ کوئی کلائی سے کھیلنے والا بلے باز نہیں آیا۔ کوئی تباہ کن فاسٹ بولر نظر نہیں آیا۔

ایسا نہیں کہ ہوم گراونڈز پہ انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہونے کے بعد پاکستان نے کرکٹ میں کچھ حاصل نہیں کیا۔ اسی دور میں بے شمار ریکارڈز بھی پاکستان نے ہی توڑے، پے در پے تاریخ بھی رقم کی، نمبرون ٹیم تک تو بنا، مگر سٹارز پیدا نہیں کر پایا۔ کسی بھی سپورٹنگ ہیرو کے ارتقا پہ نظر ڈالیے تو اس کے پیچھے ایک بڑا ہیرو چھپا ہوتا ہے۔ اگر ایک نسل وسیم اکرم جیسا جادوگر دیکھتی ہے تو اس وجہ سے کہ پچھلی نسل عمران خان کو دیکھ چکی ہوتی ہے۔ اگر راولپنڈی کے گراونڈ میں کبھی وقار یونس نے تباہ کن بولنگ نہ کی ہوتی تو شاید دنیا کا تیز ترین بولر شعیب اختر کبھی سامنے ہی نہ آ پاتا۔ کیونکہ ہوم گراونڈز وہ ہیں جہاں آج کے ہیرو کھیلتے ہیں۔ اور ہوم کراوڈز وہ ہیں جہاں کل کے ہیرو بیٹھتے ہیں۔

سمیع چوہدری
کرکٹ تجزیہ کار

کوہلی کا عمران، میانداد اور انضمام کو خراج تحسین

ویرات کوہلی نے کرکٹ میں خود کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں انہیں دنیا ماسٹر بیٹسمین ماننے لگی ہے۔ تاہم انہوں نے ٹیچرز ڈے کے موقع پر کرکٹ کے ’استادوں‘ کو منفرد انداز سے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بڑے سے پوسٹر پر عظیم کرکٹرز کے نام لکھوائے اور اس کے سامنے بیٹھ کر تصویر بنا کر شیئر کر دی۔ اس پوسٹر میں جہاں سچن ٹنڈولکر سمیت بھارتی کرکٹرز کے نام درج ہیں وہیں کوہلی پاکستان کے سابق کپتان عمران خان، جاوید میانداد اور انضمام الحق کو بھی نہیں بھولے۔ کوہلی نے ساتھ ہی لکھا ہے کہ ’دنیا بھر کے تمام اساتذہ اور خاص طور پر کرکٹ کے اساتذہ کیلئے نیک خواہشات‘

بوم بوم آفریدی : نوجوانوں کیلئے ایک رول ماڈل

آسٹریلیا کے سابق کپتان اور عظیم بلے باز آئن چیپل کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان اسلئے کرکٹ کی طرف راغب ہوتے ہیں کہ اُن کے سامنے کرکٹ کا کوئی رول ماڈل ہوتا ہے۔ وہ اسلئے کرکٹ دیکھتے ہیں کہ یہ ایک مقبول کھیل ہے اور پھر کوئی نہ کوئی عظیم کھلاڑی اُن کی نظر میں آ جاتا ہے جسے وہ اپنا رول ماڈل بناتے ہوئے کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ کیا وہ بھی اپنے ہیرو کی طرح اس کھیل میں مہارت حاصل کر پائیں گے اور اُس جیسے کارنامے انجام دے پائیں گے۔ یوں وہ اپنی جستجو کے سفر کا آغاز کر دیتے ہیں۔
آئن چیپل کہتے ہیں کہ جب تک نوجوانوں کیلئے ایسے ہیرو موجود رہیں گے جن کی وہ تقلید کر سکیں، اُس وقت تک کرکٹ انتہائی مقبول اور مضبوط کھیل رہے گا۔

شاہد آفریدی بھی ایک ایسے ہی ہیرو رہے ہیں جن کی لاکھوں نوجوان تقلید کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ بوم بوم شاہد آفریدی T20 کرکٹ کیلئے موذوں ترین آل راؤنڈر رہے ہیں۔ اگرچہ عمر اب اُن کا ساتھ نہیں دے رہی، پھر بھی اُن کے چہرے پر اب بھی وہی مسکان دکھائی دیتی ہے جس سے شائقین گزشتہ 21 برس سے مانوس رہے ہیں۔ اُن کی یہ مسکان ہمیشہ کرکٹ کیلئے اُن کے جنون کو ظاہر کرتی رہی ہے۔ اُنہوں نے حال ہی میں برطانیہ میں نیٹ ویسٹ T20 بلاسٹ چیمپین شپ کے دوران ہیمپ شائر کاؤنٹی کیلئے T20 میچ کھیلے، جہاں انہوں نے 42 بالوں پر سینچری بھی اسکور کی لیکن مجموعی طور پر ان کے کھیل میں وہ بات نہیں رہی جو اُن کے عروج کے دوران اُن کا خاصہ تھی۔ 2009 کے WT20 کے سیمی فائنل اور پھر فائنل میں اپنی بیٹنگ اور بالنگ کے ذریعے اُنہوں نے حریف ٹیموں کو زیر کرتے ہوئے پاکستان کیلئے عالمی کپ جیتا۔ وکٹیں حاصل کرنے کے بعد دونوں ہاتھ اوپر اُٹھا کر کامیابی کے اظہار کا وہ منظر کون بھلا سکتا ہے۔ وہ یقیناً T20 کے اولین بادشاہ تھے۔

​آج اگر آپ کسی بہترین T20 بالر کا تصور کرتے ہیں تو وہ شاید انتہائی تیز رفتار بالر ہو گا یا پھر ایسا سپنر جو گیند کو دونوں جانب گھما سکتا ہو۔ اور اگر آپ بہترین T20 بلے باز کا تصور کرتے ہیں تو وہ شاید ایسا بلے باز ہو گا جو کسی بھی مرحلے پر 9 رنز فی اوور کی رفتار سے بیٹنگ کر سکتا ہو۔ بوم بوم آفریدی میں یہ دونوں خوبیاں اُس وقت بھی موجود تھیں جب لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ T20 میچ کیسا ہوتا ہے۔ کرکٹ کے کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے آندرے رسل T20 کیلئے موذوں ترین کرکٹر ہیں۔ لیکن جو لوگ کرکٹ کو جانتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ آندرے رسل پاور پلے کے دوران اس قدر کامیاب ثابت نہیں ہوئے۔ شاہد آفریدی ایک ایسے بالر تھے جو کھیل کے کسی بھی مرحلے پر مخالف ٹیم کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیتے تھے اور وہ میچ کے 20 اووروں کے دوران کسی بھی وقت زوردار بیٹنگ کر سکتے تھے۔

کرکٹ کے معروف مبصر جیرڈ کیمبر کے مطابق آفرید ی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ وقت سے ہمیشہ آگے رہے۔ بیشتر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ T20 کھلاڑیوں کیلئے ایک مثالی کرکٹر تھے۔ وہ اُس وقت چوکے اور چھکے لگاتے تھے جب دوسرے کرکٹر محض ایک ایک رن بنانے کی کوشش کر رہے ہوتے تھے۔ ایک مرحلے پر کرس گیل بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ رسکی سنگل بنانے کے مقابلے میں رسکی چوکے چھکے لگانا کہیں بہتر ہے۔ آفریدی ہمیشہ اس انداز میں بیٹنگ کرتے تھے گویا یہ میچ کا آخری مرحلہ ہے۔ سپنر کے طور پر اُنہیں کھیلنا منجھے ہوئے بلے بازوں کیلئے بھی بہت مشکل رہا ہے۔

وہ اس انداز کی کرکٹ کیلئے فطری مہارت رکھتے تھے۔ اب T20 کرکٹ آگے نکل چکی ہے۔ اب بہت سے ایسے بلے باز دکھائی دینے لگے ہیں جو آفریدی کی طرح زوردار بیٹنگ کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ لیکن آفریدی کی منفرد حیثیت اسلئے اہم ہے کہ وہ اُس وقت بھی ایک مثالی کرکٹر تھے جب دیگر منجھے ہوئے کرکٹر T20 کرکٹ کی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ بوم بوم آفریدی پہلے جیسے نہیں رہے۔ لیکن نوجوانوں کیلئے وہ اب بھی ایک رول ماڈل ہیں۔

پاکستان سے سکواش کو کچھ نہیں ملا : جہانگیر خان

اسکواش کے سابق عالمی چیمپیئن جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ اس کھیل نے پاکستان کو کھیلوں کی دنیا میں جو رتبہ دلوایا اس کے بدلے میں اسے کچھ نہیں ملا۔ پاکستان کی آزادی کی 70ویں سالگرہ پر بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے دس بار برٹش اوپن جیتنے والے جہانگیر خان نے کہا کہ پاکستان میں سکواش پر کبھی بھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی چاہے وہ حکومت کی طرف سے ہو، منتظمین کی جانب سے ہو یا فیڈریشن کی طرف سے۔ جہانگیرخان ساڑھے پانچ سال تک بین الاقوامی سکواش مقابلوں میں ناقابل شکست رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان بننے کے صرف چار سال بعد ہی ہم اس کھیل میں عالمی چیمپیئن بن گئے تھے جبکہ دوسرے ممالک کو اس مقام تک پہنچنے میں طویل عرصہ لگا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے سکواش کی دنیا میں بلند مقام حاصل تو کر لیا لیکن اسے مزید استحکام دینے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔  چھ بار ورلڈ چیمپیئن بننے والے جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ ان سمیت جتنے بھی عالمی چیمپیئن بنے وہ اپنی مدد آپ کے تحت بنے البتہ بعد میں انھیں بحریہ، فضائیہ اور پی آئی اے کی طرف سے مدد ضرور ملی لیکن اکیڈمیوں کے ذریعے تربیت کا منظم پروگرام نہ پہلے تھا نہ آج موجود ہے۔

جہانگیر خان پاکستان سکواش فیڈریشن کو پاکستان ایئرفورس سے لے کر کسی دوسرے ادارے کو دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘اگر فیڈریشن ایئرفورس سے لے لی جاتی ہے تو پھر حکومت کو اس کھیل کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا۔ پاکستان سپورٹس بورڈ اور حکومت سے جو مدد اس وقت مل رہی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ دس بیس لاکھ روپے سے فیڈریشن چلائی جا سکتی ہے تو یہ ناممکن ہے۔’ جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ سابق عالمی چیمپیئن کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنا اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا حکومت اور سکواش فیڈریشن کی ذمہ داری ہے۔

‘کوئی بھی ورلڈ چیمپیئن اپنی فائل لے کر ِخود نہیں گھومے گا اور کہے گا کہ اس سے کام لے لیں۔ آج انگلینڈ، آسٹریلیا، فرانس اور مصر میں سابق ورلڈ چیمپیئنز کوچنگ اور ٹریننگ سے وابستہ ہیں تو انھیں یہ ذمہ داری ان کی حکومت اور فیڈریشن نے سونپ رکھی ہے اور وہ بڑی تعداد میں جونیئر کھلاڑی تیار کر رہے ہیں۔’ جہانگیر خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں میں وہ جذبہ نہیں ہے جو بڑا کھلاڑی بننے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ ‘ان کے پاس واضح سوچ نہیں ہے۔ وہ جس مقام پر ہیں اسی پر خوش ہیں، اسی پر سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔ سکواش میں شارٹ کٹ نہیں ہے ۔ یہ راتوں رات کامیابی حاصل کرنے والا کھیل نہیں ہے۔’

تاہم جہانگیر خان نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان میں سکواش کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ ‘ملک میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں ان میں صرف محنت کی کمی ہے اگر وہ آج سے سخت محنت شروع کریں تو اگلے پانچ دس سال میں کوئی نہ کھلاڑی ورلڈ چیمپیئن بن سکتا ہے لیکن آج وہ جس طرح مطمئن ہو کر کھیل رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے ان کے لیے بلند مقام تک پہنچنا ممکن نہیں۔’

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

مجھے اب محمد کے نام سے پکارا جائے

طویل دوڑوں کے بادشاہ کہے جانے والے برطانوی ایتھلیٹ سر مو فرح نے کہا ہے اب انھیں ‘محمد’ کے نام سے پکارا جائے۔ اس کے ساتھ انھوں نے اپنے ناقدوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میڈیا ان کے کارناموں کو ‘تباہ کرنے’ کی کوشش کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ یوسین بولٹ کی طرح محمد فرح کی میدان سے رخصتی امید کے مطابق نہیں رہی کیونکہ وہ پانچ ہزار میٹر کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آئے اور نقرئي تمغے کے حقدار ٹھہرے۔ انھوں نے برطانیہ میں جاری ورلڈ چیمپیئن شپ کا آغاز دس ہزار میٹر ریس میں طلائي تمغہ حاصل کر کے کیا تھا۔ اب وہ سڑک پر ہونے والی میراتھن ریس کی جانب جانا چاہتے اور ایک نیا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے انھوں نے اپنے برانڈ نام ‘مو’ کی جگہ پورے نام ‘محمد’ کو منتخب کیا ہے۔

برطانوی اخبار دا گارڈین کے مطابق انھوں نے کہا: ‘میرا روڈ کا نام محمد ہے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ مو کا کام پورا ہو گیا۔ میں نے کیا حاصل کیا اور کیا کارنامہ انجام دیا مجھے اب اسے بھول جانے کی ضرورت ہے۔’ مو فرح پر ان کے کوچ البرٹو سلیزر کے ساتھ ساز باز کا الزام ہے اور سلیزر کے خلاف امریکہ کی ڈوپنگ مخالف ایجنسی جانچ کر رہی ہے۔ فرح کبھی ڈوپنگ کی جانچ میں پکڑے نہیں گئے ہیں اور دونوں ڈوپنگ کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ محمد فرح نے اپنے ناقدوں کو جواب دیتے ہوئے کہا: تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔ میں نے اپنے کریئر میں جو حاصل کیا ہے لوگوں کو اس پر فخر ہے۔ آپ جو چاہیں لکھیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنی محنت اور لگن سے حاصل کیا ہے۔ میں نے اپنی جان لگا دی ہے اور سالہا سال اپنے ملک کے لیے کارنامہ انجام دیا ہے۔’

انھوں نے مزید کہا: ‘کبھی کبھی مجھے یہ عجیب لگتا ہے بعض لوگ کچھ چیزیں اپنے حساب سے لکھنا چاہتے ہیں اور اپنی طرح سے کہانی کہنا چاہتے ہیں۔
34 سال ایتھلیٹ 24 اگست کو زیورچ میں ہونے والی پانچ ہزار میٹر کی آخری دوڑ کے بعد میراتھن پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ مو فرح نے دنیا کے اہم ترین مقابلوں میں دس طلائی اور دو نقرئی تمغے کے ساتھ اپنے ٹریک کے کریئر کا خاتمہ کیا ہے۔

کرکٹر جو انڈیا پاکستان دونوں ٹیموں میں کھیلے

انڈیا میں کرکٹ ایک مذہب کی طرح ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان میں بھی کرکٹ کا جنون پایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کی ٹیمیں جب بھی میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتی ہیں، تو ماحول پرجوش ہو جاتا ہے۔ قوم پرستی سرچڑھ کر بولتی ہے۔ میچ میں فتح و شکست گویا دو ممالک کے درمیان جیت اور ہار ہو جاتی ہے۔
غور کریں کہ آج سے70 سال پہلے بر صغیر میں کرکٹ کیسا رہا ہو گا؟ اس وقت پاکستان نہیں تھا۔ جو علاقے آج پاکستان میں ہیں وہ انڈیا کا حصہ تھے اور اس وقت صرف ایک کرکٹ ٹیم ہوا کرتی تھی، یعنی ہندوستان کی ٹیم۔

انڈیا نے 1932 میں ہی ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔ 30 کی دہائی میں انڈین کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ سے ان کے میدان پر اور گھریلو میدانوں پر کئی ٹیسٹ سیریز کھیلی تھیں جن میں سے انڈیا کو کسی میچ میں کامیابی نہ مل سکی تھی۔
حالات میں تبدیلی اس وقت آئی جب ملک کا بٹوارہ ہو گیا۔ جو ٹیم کبھی ایک ہوا کرتی تھی، وہ دو حصوں میں بٹ گئی۔ ہندوستانی ٹیم کے کئی کھلاڑی پاکستان چلے گئے۔ جو کھلاڑی کبھی ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے وہ ایک دوسرے کے حریف بن گئے۔ ایسے ہی ایک کھلاڑی امیر الہی تھے۔ وہ بڑودہ کی ٹیم کی طرف سے کھیلا کرتے تھے۔ اس دور میں بڑودہ کی ٹیم ہی کم و بیش انڈیا کی کرکٹ ٹیم تھی۔ تقسیم ہند کے بعد امیر الہی پاکستان چلے گئے۔ جب ملک کا بٹوارہ ہو گیا تو امیر الہی نے پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا۔

امیر الہی کے پوتے منان احمد ان دنوں امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ ان سے بی بی سی کے لیے کنشک تھرور نے بات کی۔ منان نے بتایا کہ ان کے دادا امیر الٰہی بہت بڑے کرکٹر نہیں تھے۔ نہ ہی انھوں نے کھیل کے میدان میں بڑے کارنامے انجام دیے۔ وہ اوسط کھلاڑی تھے جو تھوڑی بہت گیند بازی کر لیتے تھے اور موقع ملنے پر بلے بازی بھی کر لیتے تھے۔ مجموعی طور پر وہ ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ لیکن منان کے مطابق امیر الٰہی پاکستان کے بڑے حامی تھے۔ اسی لیے جب ملک تقسیم ہوا تو وہ اپنی ٹیم کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ بعد میں وہ پاکستان کی ٹیم میں منتخب ہوئے۔

19-5253 میں پاکستان کی ٹیم پہلی بار انڈیا کے دورے پر آئی تھی۔ امیر الٰہی بھی اس دورے پر انڈیا آئے تھے۔ یہاں انھیں ان کی ٹیم کے پرانے ساتھی ملے، پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ مگر پاکستان کی ٹیم کے اس پہلے ہندوستانی دورے میں بھی اپنے اپنے ملک کے لیے جیت کا جذبہ شدید تھا۔ منان احمد بتاتے ہیں کہ امیر الٰہی بھی چاہتے تھے کہ پہلے دورے میں پاکستان کی ٹیم انڈیا کی کرکٹ ٹیم کو شکست دے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ وہ دورہ بھارت کے نام رہا۔ خود امیر الٰہی کی کارکردگی بھی بہت اچھی نہیں رہی۔ امیر الٰہی نے اپنے کریئر میں کل چھ میچ کھیلے جن میں سے ایک میچ مشترکہ انڈیا کی جانب سے تھا۔ انھوں نے پاکستان کی جانب سے پانچ میچوں میں 65 رنز بنائے اور سات وکٹیں حاصل کیں۔

بعد کے دنوں میں بھی امیر الٰہی کی کوشش تھی کہ وہ اپنے ملک میں کرکٹ کے لیے کچھ کر سکیں۔ منان احمد اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے کرکٹ کھیلنی شروع کی، تو ان کی دادی نے دادا کی کٹ انھیں دی تھی۔ لیکن منان احمد نے اس کا استعمال نہیں کیا۔ البتہ انھوں نے اپنے دادا کا سویٹر استعمال کیا تھا۔ انھوں نے کہا: ‘سویٹر پہن کر بہت اچھا محسوس ہوا تھا۔’ انھیں یوں لگا کہ ٹیم کے بہترین کھلاڑی وہی ہیں۔ امیر الٰہی کے علاوہ عبدالحفیظ کاردار اور گل محمد ایسے کھلاڑی ہیں جو انڈیا پاکستان دونوں کی طرف سے ٹیسٹ کھیلے۔

امیر الٰہی نے اپنی کرکٹ کا سامان بہت احتیاط سے رکھا تھا۔ منان احمد بتاتے ہیں کہ ایک بار ایک آدمی ان کے پاس آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ لاہور میں کرکٹ کا میوزیم کھولنے والا ہے۔ یہ بات سن کر امیر الٰہی نے بھی اپنا بہت سارا سامان اسے دے دیا۔ وہ شخص سارا سامان لے کر لاپتہ ہو گیا۔ نہ میوزیم بنا اور نہ ہی وہ شخص پھر کبھی نظر آیا۔ منان احمد کہتے ہیں کہ شاید وہ چیزیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی گئی ہوں گي۔ انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کے بعد کرکٹ نے طویل سفر طے کر لیا ہے۔ دونوں ہی ممالک نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔ آپسی مقابلہ میں بھی کبھی ایک ٹیم بھاری پڑی تو کبھی دوسری۔ مگر یہ سوچنا آج دلـچسپی سے خالی نہیں کہ دشمن کہے جانے والے کھلاڑیوں میں بعض ایسے بھی تھے جو کبھی ایک ہی ٹیم کے لیے کھیلا کرتے تھے۔

کنشک تھرور اور مریم معروف
میوزیم آف لوسٹ آبجیکٹس، بی بی سی

ہاشم آملہ بھی پاکستان آنے کو بے تاب

ورلڈ الیون کے اوپنر ہاشم آملہ بھی پاکستان آنے کو بے تاب، کہتے ہیں پاکستان کے خلاف اسی کے میدانوں میں کرکٹ کھیلنے کا بہت مزہ آئے گا۔ جنوبی افریقن اوپنر ہاشم آملہ کا بڑا بیان سامنے آیا ہے جس میں اوپننگ بلے باز نے پاکستانی میدانوں میں کرکٹ کھیلنے کو خوشگوار تجربہ قرار دیا ہے، کہتے ہیں دس سال پہلے پاکستان کا دورہ کیا تھا، بڑا مزہ آیا تھا، جنوبی افریقہ کی گلوبل لیگ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اچھا اضافہ ہو گی۔ ورلڈ الیون کے میچز سے طویل عرصے بعد پاکستانی شائقین اپنے میدانوں پر کرکٹ دیکھنے سے لطف اندوز ہوں گے۔

باکسنگ کی مہنگی ترین فائٹ کے یادگار لمحات

باکسنگ کی تاریخ کی سب سے مہنگی فائٹ میں امریکی باکسر فلائیڈ مے ویدر نے مکسڈ مارشل آرٹس کے بے تاج بادشاہ کونر میک گریگر کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے ناک آؤٹ کر دیا۔ لاس ویگاس میں ہونے والی اس فائٹ میں مے ویدر نے تجربے اور صلاحیت کے بہترین امتزاج کی بدولت دسویں راؤنڈر میں تکنیکی ناک آؤٹ کی بنیاد پر آئرش باکسر کو چت کیا۔ اس فتح کے بعد ہی امریکی باکسر نے مستقل 50 فتوحات جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا اور مستقل طور پر باکسنگ کی دنیا سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ اس آخری فائٹ سے مے ویدر نے کم از کم 200 ملین ڈالر سے زائد کی آمدنی کر کے اپنے کیریئر کو خیرباد کہا۔

 

 

 

 

 

 

 

مے ویدر نے 50 کروڑ ڈالرز کا مہنگا ترین باکسنگ مقابلہ جیت لیا

50 کروڑ ڈالرز کی مہنگی ترین فائٹ میں مے ویدر نے مقابلہ اپنے نام کرتے ہوئے حریف کھلاڑی کو ناک آئوٹ کر دیا ، میک گریگر لاکھ دعووں کے باوجود کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ پانچ سو ملین ڈالرز کی مہنگی ترین باکسنگ فائٹ میں مے ویدر نے کیریئر کی 50 ویں فائٹ بھی اپنے نام کی اور ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ برقرار رکھا ۔ انہوں نے اس مقابلے میں حریف باکسر میک گریگر کو ناک آئوٹ کرتے ہوئے ٹائٹل پر قبضہ جما لیا ۔ یاد رہے کہ مقابلے سے قبل دونوں باکسرز نے ایک دوسرے کے خلاف کامیابی کے دعوے کئے تھے اور ایک دوسرے کو دھول چٹانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن آج کامیابی مے ویدر کے نام آئی ۔