جب کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو ؟

کس نے سوچا ہو گا کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ’کٹ‘ میں ایک دن پلوشن ماسک بھی شامل ہو جائے گا۔ آپ سری لنکا کے ان کھلاڑیوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جو دہلی میں انڈیا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آلودگی کی وجہ سے ماسک پہن کر میدان میں اترے، یا سانس لینے میں دقت ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے، یا ان کی تشویش کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارے ایسا بھی نہیں کہ اس ہوا میں سانس لینے سے آپ مر جائیں گے، یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی یہ صرف ایک کھیل ہے، آپ اپنی صحت کا خیال کریں اگر سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے تو پویلین میں بیٹھ جائیے، یہ کرکٹ کی تاریخ کا آخری ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔

کرکٹ کی تاریخ کا یہ آخری ٹیسٹ تو ہرگز نہیں لیکن ایسا پہلا ضرور ہے جہاں کھلاڑی ماسک پہن کر میدان میں اترے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے دو مرتبہ کھیل روکنا پڑا۔ میچ کے بعد سری لنکا کے کوچ نے کہا ’کھلاڑی پویلین میں آ کر الٹیاں کر رہے تھے، ڈریسنگ روم میں آکسیجن سلنڈر رکھے تھے ہمارے لیے یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ انتہائی غیرممعولی صورت حال تھی۔‘ لیکن دوسرے دن کے کھیل کے بعد انڈیا کے بولنگ کوچ بھارت ارون نے کہا ’سری لنکا کے کھلاڑیوں کی پریشانی پر انھیں حیرت ہو رہی ہے کیونکہ وراٹ کوہلی نے دو دن بیٹنگ کی اور انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ آلودگی تو پورے ملک میں ہے، سری لنکا کے کھلاڑی صرف وقت برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

ارون صاحب، یہ سب مانتے ہیں کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوتا ہے لیکن سب سگریٹ پینے والوں کو کینسر نہیں ہوتا۔ اگر وراٹ کوہلی کو آلودہ ہوا میں سانس لینے سے کوئی دقت نہیں ہوتی، یہ بہت خوشی کی بات ہے، وہ جوان ہیں، بہترین ایتھلیٹ ہیں اور ان کی فٹنس کا لیول دوسرے کھلاڑیوں سے بہتر ہو سکتا ہے، یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتنے میں یقین نہ رکھتےہوں، سوچتے ہوں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن جن لوگوں کو دقت ہوتی ہے، یہ ان کی کمزوری کی نشانی نہیں ہے، بس شاید انھیں زہریلی ہوا میں سانس لینے کی عادت نہیں ہے۔
انڈیا کے 12 ویں کھلاڑی کلدیپ یادو اور روہت شرما نے بھی ماسک پہنا اور یہ کہنے والے بہت سے لوگ آپ کو مل جائیں گے کہ یہ سمجھداری کی بات تھی۔

کسی بھی کھلاڑی کو اپنی حفاظت کا پیمانہ خود طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب آٹھ سال قبل لاہور میں سری لنکا کی ہی ٹیم پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے انکار کرنا شروع کیا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ ڈرپوک ہیں، موت تو ایک دن آنی ہی ہے اور فائرنگ کے واقعات کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں ہیں کہ کھیل ہی بند کر دیا جائے، یا آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ جان ہے تو جہان ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو ہم آپ کی فکر سمجھ سکتے ہیں، کرکٹ ایک کھیل ہے، آپ کا دل نہیں مان رہا تو کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نومبر میں دلی کی ہوا اتنی زہریلی ہو گئی تھی کہ سکول بند کر دیے گئے تھے اور بہت سے دوسرے ہنگامی اقدمات کرنے پڑے تھے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو یہاں رہتے ہیں اور جن کی یہ مجبوری ہے کہ انھیں اسی ہوا میں سانس لینا ہے۔ دلی میں گذشتہ برس بھی رانجی ٹرافی کے دو میچ دیوالی کے بعد شہر کی زہریلی ہوا کی وجہ سے منسوخ کیے گئے تھے۔ کل کے میچ کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی جائیں گی اور لوگوں کے ذہن میں پھر نومبر کی وہ تصویر ابھرے گی جب دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کےمطابق شہر ایک ’گیس چیمبر‘ میں تبدیل ہو گیا تھا۔

ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس ہوا میں ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سانس پھولے، صبح کے وقت ٹہلنے سے بھی بچیں کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے لیکن انھیں شاید معلوم نہیں ہے کہ جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا تو باقی کسی اور کو کیسے ہوسکتا ہے؟

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

Advertisements

آئی پی ایل کے معاملے پر بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ

انڈیا میں مسابقت کی نگرانی کرنے والے ادارے نے انڈین پریمیئر لیگ کے معاملے پر انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی پر 80 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ بی سی سی آئی نے براڈ کاسٹروں کا یہ مطالبہ مان کر اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کیا ہے کہ وہ آئی پی ایل کے کسی حریف ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دے گا۔ کمیشن نے بی سی سی آئی سے کہا ہے کہ وہ 60 دن کے اندر اندر 80 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرے۔ آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوئی تھی اور آغاز ہی سے اس کے حقوق سونی پکچرز نیٹ ورکس کے پاس تھے۔ تاہم ستمبر میں روپرٹ مرڈوک کے چینل سٹار انڈیا نے 2018 تا 2022 تک کے حقوق 2.55 ارب ڈالر میں خرید لیے تھے۔ یہ گذشتہ معاہدے سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی پی ایل دنیا کی مہنگی ترین سپورٹس لیگز میں سے ایک ہے۔

مسابقتی کمیشن نے 2013 میں فیصلہ دیا تھا کہ بی سی سی آئی کے سونی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی ایک شق غیر قانونی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آئی پی ایل کی طرز کی کسی اور ٹی 20 لیگ کی اجازت نہیں دے گا۔ تاہم بورڈ نے اس کے خلاف اپیل کی تھی جو کامیاب ٹھہری تھی۔ اب کمیشن دوبارہ اسی نتیجے پر پہنچا ہے اور اس نے وہی جرمانہ عائد کیا ہے جو پہلے کیا تھا۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ بولی دہندگان کا اصرار تھا کہ یہ شق شامل کی جائے۔ تاہم کمیشن نے کہا ہے کہ ‘بی سی سی آئی نے کوئی توجیہ پیش نہیں کی کہ یہ خود ساختہ پابندی کس طرح سے کرکٹ کے مفاد میں ہے جس کے تحت آئی پی ایل کے مقابلے پر کسی اور ٹورنامنٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔’ بی سی سی آئی نے اس فیصلے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

برطانیہ کے مسلمان کرکٹرز : آپ مذہب اور کھیل کو ساتھ چلا سکتے ہیں

نومبر 2016 میں انڈیا کے شہر راجکوٹ میں انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کھیلا گیا جس میں انگلینڈ کی ٹیم نے ایک انوکھی نوعیت کی تاریخ رقم کی۔ اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کی ٹیم میں ایک ہی وقت پر چار جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی مسلمان کھلاڑی شامل تھے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم میں برطانوی مسلمان کھلاڑیوں کو جگہ ملی ہو۔ ناصر حسین نہ صرف 90 کی دہائی سے ٹیم کا حصہ رہے بلکہ انھیں اپنے ملک کی کپتانی کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔

ناصر حسین کے علاوہ اویس شاہ، ساجد محمود، کبیر علی بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو اس درجے کی کامیابی نہیں ملی جو ناصر حسین کو ملی تھی۔ راجکوٹ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں شامل ان چار کھلاڑیوں میں سے ایک، ظفر انصاری نے محض 25 برس کی عمر میں تین ٹیسٹ کھیلنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا جبکہ 19 سال میں ڈیبیو کرنے والے حسیب حمید انجری کے باعث ایک سال سے کرکٹ نہیں کھیل سکے ہیں۔
لیکن دوسری جانب معین علی انگلینڈ کرکٹ کے نئے پوسٹر بوائے کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں اور اس سال کھیلے گئے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے 361 رنز بنائے ہیں اور 30 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ لیگ سپنر عادل راشد بھی ٹیم کا مستقل حصہ رہے ہیں۔

عادل راشد اور بالخصوص معین علی کی واضح کامیابی کے باوجود انگلینڈ کرکٹ چلانے والوں کو اس بات کا احساس ہے کہ جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی نوجوان کرکٹ کھیلتے ضرور ہیں لیکن وہ بنیادی درجے تک محدود رہتے ہیں اور بہت کم تعداد میں کھلاڑی کرکٹ کو بطور پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے ریڈیو پروگرام کے میزبان انُکر ڈیسائی نے راجکوٹ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں شامل معین علی، عادل راشد، حسیب حمید اور ظفر انصاری سے اس حوالے سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی کرکٹ کھیلنے کے لیے حوصلہ افزائی کیسے کی جا رہی ہے اور یہ چاروں کھلاڑی کس طرح اگلی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل بن سکتے ہیں۔

برمنگھم میں مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے معین علی نے انکر ڈیسائی کو بتایا کہ انھیں بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق تھا جسے دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انھیں کرکٹ پر توجہ دینے کی ترغیب دی۔ ‘میرے والد نے مجھ سے کہا کہ 13 سے 15 کی عمر میں تم کرکٹ پر توجہ دو اور اس کے بعد جو دل چاہے کرو‘۔
یارک شائر سے تعلق رکھنے والے لیگ سپنر اور معین علی کے قریبی دوست عادل راشد نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا کہ انھیں بھی کرکٹ کھیلنے کے لیے اپنے گھر والوں کی حمایت ملی۔ ایک سوال کے جواب میں عادل راشد نے کہا کہ ‘میرے والد رات بھر ٹیکسی چلاتے تھے لیکن صبح سات بجے گھر آنے کے بعد وہ مجھے نو بجے کرکٹ کھیلنے کے لیے میدان میں لے جاتے تھے اور پورا پورا دن میرے ساتھ رہتے تھے۔ انھوں نے میرے لیے اپنا بہت وقت قربان کیا‘۔

لیکن عادل راشد اپنی کامیابیوں کے باوجود اپنے ماضی کو نہیں بھولے ہیں اور نئی نسل کے کھلاڑیوں کی آسانی کے لیے انھوں نے کرکٹ اکیڈمی قائم کی ہے تاکہ جنوبی ایشیائی نژاد نوجوان کرکٹ وہاں کھیل سکیں۔ ‘اسے قائم کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان بچوں کو معیاری کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے تاکہ وہ مستقبل میں بہتر کھیل پیش کر سکیں‘۔ معین اور عادل کی طرح چھوٹی عمر سے کرکٹ شروع کرنے والے حسیب حمید نے 19 برس کی عمر میں اپنا پہلا میچ کھیلا اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ معین علی، عادل راشد اور حسیب حمید کے ساتھ کھیلنے سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

لیکن ان تینوں کھلاڑیوں کے برعکس ظفر انصاری نے صرف تین ٹیسٹ میچوں میں شرکت کے بعد 25 برس کی عمر میں کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا۔ کیمبرج یونیورسٹی سے پڑھائی مکمل کرنے والے ظفر انصاری نے انکر ڈیسائی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے کرکٹ کو چھوڑنے کا سوچ رہے تھے اور انھیں اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کرکٹ کے لیے وقف نہیں کر سکتے۔ انھیں اس بات پر مزید پختہ یقین گذشتہ سال ہونے والے امریکی انتخابات کے دوران ہوا جب وہ راجکوٹ کا ٹیسٹ کھیل رہے تھے۔ ‘کرکٹ کی وجہ سے ہمارے پاس فون نہیں تھے اور ہمیں کرکٹ پر توجہ دینی تھی لیکن میرا دل انتخابات کے نتائج پر تھا یہ جاننے کے لیے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے‘۔

ظفر انصاری اس لحاظ سے باقی تین کھلاڑیوں سے مختلف ہیں کیونکہ ان کے والد پاکستانی اور والدہ انگریز ہیں اور وہ دونوں تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ‘مجھے اندازہ ہے کہ میرا پس منظر ان تینوں سے مختلف ہے لیکن ان کے ساتھ کرکٹ کھیل کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے‘۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں تفریحی کرکٹ کھیلنے والے 40 فیصد بچے ایشیائی نژاد ہیں لیکن ان میں سے صرف چار فیصد ہیں جو کرکٹ کو پیشہ ورانہ طور پر اختیار کرتے ہیں۔
معین علی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت ایشیائی برطانوی مسلمان ان بچوں کی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر بدلنا چاہتے ہیں اور اپنے کھیل اور کردار سے دکھانا چاہتے ہیں کہ ‘آپ مذہب اور کھیل دونوں ساتھ چلا سکتے ہیں‘۔

بشکریہ بی بی سی اردو

محمدعرفان نے ویرات کوہلی کی تعریف کا محبت سے جواب دیدیا

محمد عرفان نے ویرات کوہلی کی تعریف کا محبت سے جواب دیدیا۔ ویرات کوہلی نے اپنے انٹرویو کے دوران پاکستان کے اسپیڈ اسٹار شعیب اختر کو مہلک پیسر اور محمد عرفان کو مشکل بولر قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بیٹنگ کوچ نے ایک فٹ کے اسٹول پر کھڑے ہو کرانھیں طویل قامت پیسر کیخلاف کھیلنے کی پریکٹس کرائی تھی۔ اس انٹرویو کو پاکستانیوں کی جانب سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ شعیب اختر نے جواب دیتے ہوئے تعریفی کلمات پر ویرات کوہلی کا شکریہ ادا کیا.

اب محمد عرفان بھی میدان میں آ گئے اور ایسی بات کہہ دی کہ بھارتی کپتان کو بھی ان کا شکریہ ادا کرنا پڑا۔ طویل قامت پیسر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ویرات کوہلی وضع دار آدمی اور بڑے دل والا عظیم کھلاڑی ہے، میرے دوست تمہارے لیے دعائیں، امید ہے کہ ہم میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ کرکٹ کھیلیں گے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آ گئی

بھارت کے ہاتھوں پہلے ٹی20 میچ میں نیوزی لینڈ کی شکست کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آ گئی ہے۔ بھارت کے خلاف تین ٹی20 میچوں کی سیریز سے قبل سابق عالمی نمبر ایک نیوزی لینڈ کے پوائنٹس کی تعداد 125 تھی جبکہ سری لنکا کو ٹی20 سیریز میں کلین سوئپ کر کے پاکستان نے اپنے پوائنٹس کی تعداد 124 کر لی تھی۔ نیوزی لینڈ کو اپنا عالمی نمبر ایک کا منصب برقرار رکھنے کیلئے سیریز میں 2-1 سے لازمی فتح درکار تھی لیکن بھارت نے پہلے ہی ٹی20 میچ میں کیویز کو شکست دے کر عالمی نمبر ایک کے منصب سے محروم کر دیا اور پاکستان کی ٹیم عالمی نمبر ایک بن گئی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹی20 رینکنگ میں عالمی نمبر ایک بنی ہے۔ نئی ٹی20 رینکنگ میں پاکستان 124 پوائنٹس کے ساتھ پہلے، نیوزی لینڈ 121 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، ویسٹ انڈیز تیسرے، انگلینڈ چوتھے، بھارت پانچویں، جنوبی افریقہ چھٹے، آسٹریلیا ساتویں، سری لنکا آٹھویں، افغانستان نویں اور بنگلہ دیش دسویں نمبر پر موجود ہے۔ اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم بھارت کے خلاف ٹی20 سیریز کے اگلے دونوں میچز جیتنے میں کامیاب رہتی ہے تو وہ دوبارہ سے عالمی نمبر ایک بن جائے گی تاہم سیریز میں ایک بھی میچ ہارنے کی صورت میں پاکستان ہی عالمی نمبر ایک رہے گا۔

پاکستانی کرکٹ کا یادگاری ٹکٹ

انگلینڈ کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں گرین شرٹس کی تاریخی فتح پر محکمہ ڈاک پاکستان کی جانب سے تین یادگاری ٹکٹوں کا اجرا کیا گیا ہے۔ یادگاری ٹکٹ کی تقریب رونمائی پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع قذافی اسٹیڈیم میں ہوئی۔ جس میں وفاقی وزیر برائے پوسٹل امیرزمان نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ہے اور محکمہ ڈاک کی جانب سے بڑی کامیابی پر یادگاری ٹکٹ کے اجراپر خوشی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے کہا کہ گذشتہ ایک برس میں قومی ٹیم کی کامیابیاں یاد گار ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ کھلاڑی، آفیشلز اور میینجمنٹ سب بہت محنت کر رہے ہیں۔

‘پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون پر پہنچی، اس کے بعد چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی اور اب تیسری شارٹ فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی میں بھی نمبر ون رینکنگ میں آ گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ٹیم قوم کی امیدوں پر پوری اترے گی اور پاکستان کے لیے اور بھی خوشیاں لائے گی۔’ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر یاد گاری ٹکٹس جاری کیے جانے پر خوش دکھائی دیئے جبکہ کپتان سرفراز احمد نے ٹکٹ کے اجرا پر پاکستان پوسٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار انيس میں قومی ٹیم ورلڈ کپ جيت کر پاکستان پوسٹ کو ایک اور یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

‘جس طرح سے لڑکے کارکردگی دکھا رہے ہیں اگر یہ جیت کا تسلسل جاری رہا تو ہم انشاءاللہ سنہ دو ہزار انیس کا ورلڈ کپ جیتیں گے۔ تب آپ کو ایک اور یادگاری ٹکٹ جاری کرنا پڑے گا’۔ وفاقی وزیر برائے پوسٹل سروسز مولانا امیر زمان نے چیئرمین پی سی بی اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو یادگاری ٹکٹوں کے فریم بھی پیش کئے۔ یاد گاری ٹکٹوں پر آئی سی سی کے تمام ممالک کے پرچم، چیمپئنز ٹرافی اور کھلاڑیوں کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ پاکستان نے رواں سال آٹھویں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

ویرات کوہلی نے پاکستانی بولرز کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ایک بار پاکستانی بولرز کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ روابط نہیں تو کیا ہوا لیکن ویرات کوہلی کی وجہ سے دونوں ممالک کے تذکرے ضرورمیڈیا میں ہو رہے ہیں۔ بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی سے جہاں بھی سوال ہو وہ پاکستانی بولرز کی صلاحیتوں کا کھل کر اعتراف کرتے نظرآتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے شعیب اخترکو خطرناک بالر قرار دیا ہے اوراس حوالے سے انہوں نے کہا کہ شعیب اختربہت تیز بالرتھے، میں نے انہیں بال کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ بہت تیزبال کراتے تھے جوخطرناک ہوتی تھی جب کہ محمد عرفان کوکھیلنا بھی کم مشکل نہ تھا۔ اس سے قبل بھی ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کے خطرناک بولرزمیں وہ شامل ہیں جس پرمحمد عامرنے بھارتی کپتان کی جانب سے اپنی بولنگ پر تعریفی کلمات کا خیرمقدم کیا تھا۔