کوہلی نے محمد عامر کو خطرناک ترین بولر قرار دیدیا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیا ہے۔ عامر خان نے اپنے پروگرام میں کوہلی سے سوال کیا کہ آپ کے من میں دنیا کا کوئی ایسا بولر ہے جس کا سامنا کرتے ہوئے آپ کو لگا کہ یہ بہت مشکل بولر ہے اور اسے کھیلتے ہوئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو، جس پر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ”موجودہ بولرز جن کا میں نے سامنا کیا ہے ان میں محمد عامر کو کھیلنا مشکل رہا، وہ دنیا کے ٹاپ 2 یا 3 مشکل ترین بولرز میں سے ہیں۔ وہ ایسے بولر ہیں جن کے خلاف کھیلتے ہوئے آپ کو اپنی اے کلاس گیم کھیلنا پڑتا ہے ورنہ وہ آپ کی وکٹیں اڑا دے گا، وہ واقعی بہت ہی شاندار بولر ہیں۔“

واضح رہے کہ ویرات کوہلی اور محمد عامر بہت اچھے دوست ہیں اور انہوں نے ایشیا کپ 2016ء میں محمد عامر کی صلاحیتوں کی تعریف کی تھی اور انہیں اپنا بیٹ بھی تحفے میں دے چکے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر نے اپنے اوپر تنقید کے نشتر برسانے والے روہت شرما کو آﺅٹ کرنے کے بعد ویرات کوہلی کی وکٹ حاصل کی تھی، ایک بال پر سلپ میں کیچ ڈراپ ہونے کے بعد اگلی ہی بال پر شاداب خان کا کیچ بنواتے ہوئے انہیں پویلین کا راستہ دکھایا تھا۔

Advertisements

ہاشم آملا نے ویرات کوہلی کا ریکارڈ چھین لیا

جنوبی افریقی اوپنر ہاشم آملا نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ ڈالا۔ ہاشم آملا نے بنگلادیش کے خلاف پہلے ون ڈے میں ناٹ آئوٹ 110 رنز اسکور کیے۔ یہ ان کی 154 ون ڈے اننگز میں 26 ویں سنچری ہے، اس طرح انھوں نے کم اننگز میں 26 سنچریاں مکمل کرنے کا ویرات کوہلی کا ریکارڈ چھین لیا ہے، بھارتی کپتان نے اپنی 26 ویں سنچری166 ویں اننگز میں اسکور کی تھی۔

کرکٹ کے ناقابل تسخیر ریکارڈز

کرکٹ میں ریکارڈ بننے اور ٹوٹنے کا عمل جاری رہتا ہے مگر چند ایسے ریکارڈز بھی ہیں، جن کے کھیل افق پر ہمیشہ موجود رہنے کے امکانات تاحال روشن ہیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کرکٹ میں پانچ ایسے ریکارڈ ز ہیں جو کبھی توڑے نہ جا سکیں، دنیا کرکٹ کے عظیم کھلاڑی سر ڈونلڈ براڈ مین کا 99 اعشاریہ 94 کی بیٹنگ اوسط کا ریکارڈ سرفہرست ہے ۔ آسٹریلیا کے سر براڈ مین کے پاس اپنے آخری میچ میں اوسط 100 کرنے کا موقع تھا کہ وہ اس سے صرف 4 رنز کی دوری پر بدقسمتی کا شکار ہو گئے ۔

ریکارڈز کی اس فہرست میں دوسرے نمبر ایلن بورڈر کا مسلسل 153 میچز کھیلنا ہے، جو لگتا ہے کہ شاید کبھی بھی توڑا نہ جا سکے کیونکہ کھلاڑیوں کو فٹنس مسائل آئے روز گھیر لیتے ہیں ،بہترین کھلاڑی بھی انجرڈ ہو کر طویل عرصے تک کرکٹ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ تیسرا ریکارڈ جو آنے والوں کے توڑا یقینا ً مشکل ہو سکتا ہے ، وہ 2006ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف کولمبو میں سنگا کارا اور مہیلا جے وردھنے کی 624 رنز کی پارٹنرشپ ہے ، دراصل آج کل ٹی 20 اور ایک روزہ کرکٹ کی چاندنی کے باعث ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا پسند نہیں کرتا۔

چوتھا ریکارڈ جو کرکٹ کی دنیا میں نہیں توڑا جا سکتا وہ ہے سچن ٹنڈولکر کا 200 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کرنا ، آج کل کی کرکٹ میں 100 میچ کھیلنا ایک بہت بڑی بات سمجھا جاتا ہے لیکن سچن ٹنڈولکر نے 200 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے جو شاید کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ پانچواں اور آخری ریکارڈ مرلی دھرن کا ٹیسٹ کرکٹ میں 800 وکٹیں لینے کا ریکارڈ کبھی بھی نہیں توڑا جا سکتا۔ کرکٹ کی دنیا میں یہ 5 ریکارڈ ایسے ہیں جو شاید کبھی بھی نہیں توڑے جا سکیں گے اور یہ ریکارڈ ان عظیم کرکٹر ز کے نام ہی رہیں گے۔

یاسر شاہ مسلسل پانچ ٹیسٹ میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے سپنر

پاکستان کے سپنر یاسر شاہ ٹیسٹ میچ کی تاریخ کے پہلے سپنر بن گئے ہیں جنھوں نے مسلسل پانچ میچوں میں کسی ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہوں۔ یاسر شاہ ٹیسٹ میچوں کی تاریخ میں یہ سنگِ میل حاصل کرنے والے پہلے سپنر ہیں۔ ان کے علاوہ تین بولرز یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں لیکن وہ تینوں فاسٹ بولرز تھے۔ انگلینڈ کے سڈنی بارنز کے پاس 1912-14 میں سات ٹیسٹ میچوں میں مسلسل پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ ہے۔
دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کے چارلی ٹرنر ہیں جنھوں نے 1887-1888 میں چھ مسلسل ٹیسٹ میچوں میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کیں جبکہ تیسرے نمبر پر انگلینڈ ہی کے ایلک بیڈسر ہیں جنھوں نے 1952-53 میں چھ مسلسل ٹیسٹ میچوں میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔

یاسر شاہ اب تک مجموعی طور پر 13 بار ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ دو مرتبہ انھوں نے ایک ٹیسٹ میچ میں دس یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ اپنا 28 ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور اب تک 163 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے 21 اپریل کو کنگسٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں دوسری اننگز میں 63 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں انھوں نے 94 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف روزیو میں کھیلے جانے والے اگلے ہی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 92 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے خلاف جاری سیریز میں ابو ظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں یاسر شاہ نے 51 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اپنے لگاتار پانچویں ٹیسٹ میں دبئی میں جاری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں یاسر شاہ نے 184 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

ہاشم آملہ کی 28 ٹیسٹ سنچریاں، کتنے کھلاڑی ان سے آگے؟

جنوبی افریقہ کے سٹار بیٹسمین ہاشم آملہ نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں اپنے کیریئر کی 28 ویں سنچری مکمل کی ہے۔ بلوم فاؤنٹین میں کھیلے جارہے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ کے دوسرے دن ہاشم آملہ 17 چوکوں کی مدد سے 132 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ہاشم آملہ کے ٹیسٹ کیریئر کی یہ 28 ویں سنچری ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی انھوں نے سنچری سکور کی تھی جبکہ مجموعی طور پر 2017 میں ان کی یہ تیسری سنچری ہے۔

بیٹسمین ٹیسٹ سنچریوں کی تعداد
1: سچن تندولکر، انڈیا 51
2: یاک کیلس، جنوبی افریقہ 45
3: رکی پونٹنگ، آسٹریلیا 41
4: کمار سنگاکارا، سری لنکا 38
5: راہل ڈریوڈ، انڈیا 36
6: یونس خان، پاکستان 34
7: سنیل گواسکر، انڈیا 34
8: برائن لارا، ویسٹ انڈیز 34
9: مہیلا جے وردھنے، سری لنکا 34
10: سٹیو وا، آسٹریلیا 32

اس سنچری کے ساتھ ہی وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے کی فہرست میں پندرہویں نمبر پر آگئے ہیں۔ خیال رہے کہ اس فہرست میں سچن تندولکر 51، یاک کیلس 45 اور رکی پونٹنگ 41 سنچریوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ خیال رہے کہ ہاشم آملہ 2017 میں سب سے زیادہ سکور کرنے والے بیسٹمینوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس سال وہ 900 سے زائد رنز سکور کر چکے ہیں جبکہ اس سال 2017 میں اب تک 1000 سے زیادہ رنز بنا کر ان کے ساتھی کھلاڑی ایلگر سرفہرست ہیں۔

یاسر شاہ کو سانس لینے دیں

 ڈیبیو سے اب تک یاسر شاہ 26 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ابوظہبی میں جاری میچ ان کے کریئر کا 27 واں میچ ہے، جس میں انھوں نے اپنے کریئر کی 150 ویں وکٹ حاصل کر کے تیز ترین 150 وکٹوں کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ یاسر شاہ میں وہ تمام گن موجود ہیں کہ آج سے دس سال بعد وہ پاکستان کے کامیاب ترین سپنر اور شاید سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والے بولر ہوں۔ لیکن کیا کسی نے غور بھی کیا ہے کہ تھنک ٹینک کے تجربات کا یاسر شاہ پہ کیا اثر پڑ رہا ہے؟

ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں یاسر شاہ نے 57 اوورز پھینکے۔ یاد رہے ابھی میچ کی دوسری اننگز باقی ہے۔ اس سے پہلے ڈومنیکا میں بھی انھیں 57 اوورز پھینکنا پڑے تھے۔ بظاہر دیکھا جائے تو سپنر کے لیے یہ کوئی غیر معمولی ورک لوڈ نہیں ہے۔ مرلی دھرن ایک دن میں 40 اوورز بھی پھینک لیا کرتے تھے لیکن ایسا شاذ ہی ہوا کرتا تھا۔ یاسر کے مقابلے میں شین وارن کے کیریئر کو دیکھا جائے تو وارن فی میچ لگ بھگ 44 اوورز پھینکا کرتے تھے جب کہ کل کے 57 اوورز کے علاوہ یاسر اب تک فی میچ 54 اوورز پھینک چکے ہیں۔

ہم سب آگاہ ہیں کہ پچھلے ایک سال سے یاسر مختلف فٹنس مسائل کا شکار ہیں، ایک بار غلطی سے ممنوع دوائیں بھی کھا بیٹھے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اپنے کیریئر کے بدترین اعداد بھی دیکھ چکے، حتیٰ کہ حالیہ سیریز سے قبل سکواڈ کا اعلان صرف اسی لیے موخر کیا جاتا رہا کہ یاسر شاہ کی فٹنس کی تصدیق ہو سکے۔ اور ان حالات کے بعد جب یاسر شاہ میدان میں اترتے ہیں تو ابوظہبی کی چلچلاتی دھوپ میں ان سے 57 اوورز پھینکوائے جاتے ہیں۔ جب کہ پارٹ ٹائم آپشن اظہر علی سے ایک بھی اوور نہیں کروایا جاتا اور جب 57 اوورز پھینک کر وہ ڈریسنگ روم پلٹتے ہیں تو انہی کے بولنگ کوچ یہ فرماتے پائے جاتے ہیں کہ اس وکٹ پہ ایک ریگولر سپنر ہی کافی تھا۔ بھئی اگر ایک سپنر ہی کافی تھا تو 57 اوورز کسی فاسٹ بولر سے کروا لیتے۔

اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پچھلے چھ سال میں ہوم گراونڈز پہ ناقابل شکست رہنے والی ٹیم نے کبھی بھی صرف ایک سپنر پہ اکتفا نہیں کیا تھا، ہمیشہ دو ریگولر سپنرز کھلائے جاتے تھے۔ تھنک ٹینک سے دست بستہ عرض ہے کہ حضور! ٹیم کو ینگ بنانے کی کوششیں ضرور جاری رکھیے مگر یہ مت بھولیے کہ یاسر شاہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں اور اگر ان کا ہاتھ بٹانے کو اور کوئی آل راؤنڈر نہیں مل رہا تو 50 ٹیسٹ کا تجربہ اور یو اے ای کی وکٹس پہ بہترین ریکارڈ رکھنے والے حفیظ میں کیا برائی ہے؟

سمیع چوہدری
کرکٹ تجزیہ کار

یاسر شاہ ٹیسٹ کی تاریخ میں تیز ترین 150 وکٹیں لینے والے اسپنر

یاسر شاہ ٹیسٹ کی تاریخ میں سب سے تیز ترین 150 وکٹیں لینے والے اسپنر بن گئے، انہوں نے یہ کارنامہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابوظبی ٹیسٹ کے پہلے روز سرانجام دیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے اسپنر یاسر شاہ نے 150 وکٹیں لینے کا کارنامہ 27 ویں ٹیسٹ میں حاصل کیا، یاسر شاہ سے قبل آسٹریلیا کے کلیری گریمیٹ نے 28 ٹیسٹ میچوں میں 150 وکٹیں لی تھیں۔ اس سے قبل دنیائے کرکٹ کے5 بولرز نے یہ کارنامہ 29 ٹیسٹ میچز میں سر انجام دیا، ان بولرز میں پاکستان کے سعید اجمل، انگلینڈ کے بوتھم، بھارت کے روی چندرن، جنوبی افریقا کے ڈیل اسٹین اور جنوبی افریقا کے ہی ٹے فیلڈ شامل ہیں۔

Moeen Ali’s scores second fastest century

Moeen Ali produced what has to be one of the most imperious batting displays so far in the year. It was the third ODI between England and West Indies at Bristol. West Indies kept a tight control on the match, ensuring that England were at 210/5 in the 33rd over when Ali came in. Joe Root was dismissed soon after that and Chris Woakes joined Ali in the middle. By the time Woakes got out, West Indies were battered and the confidence they showed for a better part of the innings almost completely faded away. Ali started tentatively and his first boundary came after facing his first 15 balls. He then hit another off Rovman Powell in the next over. He would only manage two more boundaries in the next two overs before the unsuspecting Miguel Cummins took the ball to bowl the 44th over. Cummins had been tormenter-in-chief until then and had taken the wickets of Joe Root, Jos Buttler and Alex Hales. Ali decided to neutralize the best West Indies had. That over produced three sixes, two fours and a total of 25 runs and Moeen Ali reached his 50 that came in 41 balls.
The audacity of Ali’s onslaught can be explained by saying that, while he reached his half century in 41 balls, he took only 12 more to reach his 100. He hit a hat-trick in the next over off Jason Holder. He then got his bit of luck when he was dropped by Chris Gayle at backward point off Jerome Taylor. West Indies were all over the place by this point, scampering around for their dear lives under Moeen Ali’s swinging bat. Ali then bid adieu to Chris Woakes who had stood dutifully at the non-strikers end all the while before crunching two sixes off Cummins and reaching his century in 53 balls. It is the second fastest 100 by and England batsman. Ali and Woakes had added 117 runs in 12 overs. Chris Gayle is playing in this match and the crowd would have come expecting such fireworks to come off his bat. While it is yet to be seen how he fares, the home crowd would be more than happy now if their team manage to get him out for cheap.

آزادی کپ : پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے تاریخی رنگ

پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان تاریخی آزادی کپ کے پہلے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے 20 رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ ورلڈ الیون کے اس تاریخ ساز دورے اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے ساتھ ہی ملک میں طویل عرصے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی۔ حریف کپتان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرنے والی پاکستانی ٹیم نے بابر اعظم کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت 197 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا۔ پاکستان کی جانب سے بابر نے 86 رنز بنا کر ٹی 20 کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی جبکہ احمد شہزاد نے 39 اور شعیب ملک نے 38 رنز کی اننگز کھیلیں۔

 

 

 

 

 

 

 

اسلام علیکم، شکریہ، پاکستان زندہ باد : اینڈی فلاور

پاکستان کا دورہ کرنے والی ورلڈ الیون کے کوچ اور زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اینڈی فلاور نے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں میں شرکت کے بعد اردو د زبان سیکھنے میں بھی اپنی دلچسپی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں دوبارہ آنے کا بھی عزم ظاہر کر دیا۔ فاف ڈیوپلیسی کی قیادت میں پاکستان آنے والی ورلڈ الیون کی ٹیم کے کھلاڑی کامیاب دورے کے بعد اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو گئے لیکن کوچ اینڈی فلاور اپنے بھائی گرانٹ فلاور کی دعوت پر مز ید ایک روز کے لیے لاہور میں ہی ٹھہرے ہیں۔ گرانٹ فلاور اس وقت پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں جنھیں 2014 میں ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اینڈی فلاور نے کہا کہ پاکستان میں اردو کے کچھ الفاظ سیکھے ہیں، اردو کے کچھ الفاظ اسلام علیکم، شکریہ اور پاکستان زندہ باد سیکھ چکا ہوں۔ اینڈی فلاورکا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے آیا تھا کہ میرا بھائی گرانٹ یہاں اتنا خوش کیوں ہے۔ اینڈی فلاور نے پاکستانی کھانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے کھانے بہت لذیذ ہیں جنھیں کھا کھا کر میرا پیٹ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کے دورے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں اب دوبارہ پاکستان آنا چاہوں گا۔

ورلڈ الیون کے اگلے دورے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کے دوبارہ پاکستان آنے کے بارے میں آئی سی سی فیصلہ کرے گی۔ خیال رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی خاطر جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیوپلیسی اور مایہ ناز بلے باز ہاشم آملہ کے علاوہ ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون ٹیم کو بھیجا تھا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقدہ آزادی کپ میں پاکستانی ٹیم نے سیریز کو 2-1 سے جیت لیا، ورلڈ الیون کی ٹیم نے پہلے میچ میں ناکامی کے بعد دوسرے میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز برابر کر دی تھی تاہم سرفراز الیون نے تیسرے میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کپ اپنے نام کر لیا تھا۔