الوداع مصباح، الوداع یونس

 پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ان کے ساتھی کھلاڑی اور ملک کے سب سے کامیاب بیٹسمین یونس خان نے ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کو الوادع کہا۔ 42 سالہ مصباح اور 39 سالہ یونس نے 66 ٹیسٹ میچوں کی 52 اننگز میں ایک دوسرے کے رفاقت میں 69.67 کی اوسط سے 3205 رنز بنائے اور15 اننگز میں سنچری کی شراکت بھی قائم کی۔

 

 

 

 

 

 

 

پاکستان کرکٹ کی کہکشاں سے روشن ستارے جدا ہو گئے

سنا تھا کہ جب ٹیمیں عالمی سطح پر بری طرح شکستوں سے دو چار ہوتی ہیں تو
ان ناکامیوں کا نزلہ کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ پر ہی گرتا ہے۔ بورڈ عہدیدار پلیئرز، کوچز اور ٹیم منیجرز کو قربانی کے بکرے بنا کر بڑی مہارت سے اپنی کرسیاں بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس بار تو تمام اندازے اور روایات بالکل الٹ ہو گئیں، ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ابھی شروع ہوئی نہیں کہ کپتان مصباح الحق کے بعد یونس خان نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا،ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے شاہد آفریدی نے بھی کرکٹ کا بھرا میلہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے یہ تینوں ایسے کھلاڑی ہیں جن کی عالمی سطح پر کرکٹ خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مصباح الحق کی بات کی جائے تو جن حالات میں انہیں پاکستانی ٹیم کی قیادت ملی اور پھر وہ بلندی جہاں تک وہ گرین کیپس کو لے کر بھی گئے، ٹیسٹ کرکٹ میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔ 2010 کے لارڈز ٹیسٹ کو ہی دیکھ لیں جب کپتان سلمان بٹ سمیت 3 اہم کھلاڑی سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوئے، ہر طرف سے لعن طعن، شرمندگی، پست حوصلوں اور عالمی کرکٹ میں تنہائی کا شکار ٹیم اپنے ملک میں کھیلنے سے بھی محروم تھی، فکسرز کی ملی کالک شاید قومی شرمندگی کی علامت بن گئی تھی اور نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ پاکستان پر کرکٹ کے عالمی دروازے تک بند ہو سکتے تھے لیکن 6 برس بعد اسی ٹیم کا منکسرالمزاج قائد دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کا ایوارڈ آئی سی سی کے سربراہ سے وصول کر رہا تھا، یہ ٹیم عمران خان یا وسیم اکرم کی ٹیم نہیں تھی، بڑے بڑے ناموں کے بغیر پاکستان کرکٹ کو فرش سے عرش پر پہنچا دینے کا کریڈٹ اگر کسی کو دیا جا سکتا ہے تو وہ صرف مصباح الحق ہی ہو سکتے ہیں۔ وہی مصباح جو اس مشکل سفر کے دوران پاکستان کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان اور ٹیم کا سب سے قابل ِ بھروسہ بیٹسمین بن کر ابھرے۔

مصباح ان باصلاحیت کھلاڑیوں میں سے نہیں ہیں جو اچانک دنیائے کرکٹ میں آئے اور کم عمری میں ہی بین الاقوامی میچز میں جلوہ گر ہو کر یہ عندیہ دے دیا کہ وہ آئندہ دنوں میں کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی بن سامنے آئیں گے، وہ نہ مشتاق محمد، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس یا شاہد آفریدی تھے اور نہ ہی محمد عامر جیسے ہونہار کھلاڑیوں کی طرح تھے بلکہ ان کرکٹرز کے برعکس وہ لڑکپن اور اوائلِ نوجوانی میں بین الاقوامی کرکٹ میں دور دور تک نظر نہیں آئے۔ 2001 میں 27 برس کی عمر میں جب وہ بالاخر پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے تب ان کی قابلیت اور ہنر کے بارے میں کچھ بھی فطری نہیں تھا، پھر بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سابق پاکستانی کپتان اور آل راؤنڈر عمران خان کی طرح مصباح بھی مسلسل محنت کرتے ہوئے عظیم کہلانے کے رتبے پر جا پہنچے۔

یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ میں مصباح الحق بہت دیر سے سامنے آئے اور جب انہوں نے ٹیم کی قیادت سنبھالی اس وقت پاکستان کی کرکٹ مشکلات کی زد میں تھی، ٹیم اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے بکھری ہوئی تھی اور شدید اندرونی کشمکش کا شکار تھی۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ تھی کہ مصباح، کرکٹ سے دیوانگی رکھنے والے ملک کی ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے جو اپنے وجود کی بقا کی سست مگر افراتفری سے بھرپور اندرونی جنگ لڑ رہا تھا، دہشت گرد حملوں اور بم دھماکوں میں الجھا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم شہریوں، فوجی اور پولیس اہلکار جاں بحق ہو چکے تھے، جب ملک میں یہ سب جاری تھا اس دوران مصباح ایسی پاکستانی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے جو اپنے میچز غیر ملکی میدانوں میں یو اے ای میں کھیلنے پر مجبور تھی۔

مصباح نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے ملک میں کسی ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی سربراہی نہیں کی اور نہ ہی ایسے میدانوں اور تماشائیوں کے درمیان کھیلا جن سے کھلاڑی زیادہ آشنا ہوتے۔ پھر بھی اپنے سارے میچز غیر ملکی میدانوں میں جیت کر انہوں نے خود کو ملک کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان ثابت کیا، اور ایسا کارنامہ سرانجام دیا جو کرکٹ کے عظیم کپتان بھی نہیں کر پائے۔ مصباح کی غیر معمولی اور ایک حد تک انوکھی کہانی ایک ایسے بیٹسمین کے بارے میں ہے جس نے کافی دیر سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا جب ان کو ٹیم کو شامل کیا گیا تب تک وہ 27 برس کے ہوچکے تھے اور جب انہیں ڈراپ کیا گیا تو اگلے پانچ سالوں تک ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا، پھر ٹی 20 فارمیٹ کے پہلے ورلڈ کپ کے دوران اچانک ہی ملک کی ٹی 20 ٹیم میں شامل کر لیا گیا، جس میں انہوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور پاکستان کو فائنل میں فتح کے قریب لا کھڑا کر دیا، انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں خود کو مضبوط رکھا، پھر دوبارہ ڈراپ کیے گئے، وہ بھلا ہی دیئے گئے تھے مگر پھر اچانک ہی 2010 میں کرکٹ بورڈ کو مصباح یاد کیا گیا اور 36 برس کی عمر میں انہیں کپتان بنا دیا گیا۔

2007 میں شعیب ملک کو انضمام الحق کی جگہ بطور کپتان مقرر کیا گیا تھا، جن کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز میں ورلڈ کپ کے دوران بدترین شکست ہوئی تھی۔ انضمام ریٹائر ہوئے اور نوجوان، قابل اور کسی حد تک چیلنجنگ ملک کو ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا گیا۔ جب ٹیم جنوبی افریقہ میں ہونے والے پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے نامزد ہوئی تو شعیب ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت کے 33 سالہ مصباح کو ٹیم میں شامل کیا جائے اور وہ بھی محمد یوسف جیسے تجربہ کار نمایاں کھلاڑی کی جگہ پر ان کو شامل کیا جائے، یوسف کی ٹیم سے بے دخلی پر مداحوں اور میڈیا میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا، مصباح الحق نے مختصر طرز کے عالمی کپ میں اپنی پرفارمنس سے اپنا انتخاب درست بھی کر دکھایا۔

مصباح کے بارے میں مشہور ہے کہ کبھی کوئی بغض نہیں پالتا، مگر وہ کسی کے ہمدردانہ عمل کو بھی نہیں بھولتے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے اتفاق نہیں کیا جا رہا یا غیر منصفانہ طور پر ان پر تنقید کی جا رہی ہے تو وہ خاموشی سے وہاں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر کسی کی سخاوت یا نرم دل اقدام کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی انتظامی صلاحیت نہایت ہی عمدہ ہے، وہ ہر ایک کھلاڑی کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ہر کھلاڑی سے اس کے مطابق پیش آتے ہیں، وہ ان سب کو تحمل سے سنتے ہیں۔

مصباح کی کپتانی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ سینئرز کو اپنی عزت جونیئرز سے ہی کمانی ہو گی، اور اسے اپنا حق نہیں سمجھا جا سکتا۔ کوئی دور تھا جب سینئرز رعونت سے پیش آتے تھے، نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے قابو میں رکھتے اور ان سے سینئرز کے معمولی سے معمولی کام کی توقع کی جاتی تھی، مصباح نے اس طریقے کو بدل کر رکھ دیا۔

مصباح الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی ٹیم کی بیٹنگ کے اہم ستون یونس خان بھی انٹرنیشنل کرکٹ سے الگ ہو گئے ہیں، ہفتہ کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے کھیلنے کی کوشش کی اور یہی سوچا کہ کھیل کے دوران میرا سر فخر سے بلند رہے، ہرکھلاڑی کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب وہ اپنے جنون سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور میرا وقت بھی آگیا ہے، وہ اعلان کرتے ہیں کہ دورہ ویسٹ انڈیز ان کا آخری دورہ ہو گا، اس کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں 115 میچز کی 207 اننگز میں 53.06 کی اوسط سے 9977 رنز بنا چکے ہیں اور انہیں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے لئے صرف 23 رنز درکار ہیں۔ اگر یونس خان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلتے ہیں تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پاکستان ٹیسٹ ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں نے شاید اتنے رنز نہیں بنائے ہوں گے جتنے یونس خان اور مصباح الحق نے بنا رکھے ہیں۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب شاہد آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہا تھا، بوم بوم سے زیادہ تفریح شاید ہی کسی کرکٹر نے شائقین کو فراہم کی ہو، مصباح الحق، یونس خان اور شاہد آفریدی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایسے پلیئرز بار بار پیدا نہیں ہوتے، کرکٹ بورڈ نے کیریئر کے دوران ان عظیم پلیئرز کو وہ عزت نہیں دی جو ان کا حق تھی، اب بھی پی سی بی حکام ان کو باوقار انداز میں رخصت کر کے اپنی غلطیوں کا کسی حد تک اژالہ کر سکتے ہیں، مصباح الحق اور یونس خان کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کرتے ہوئے اگر شاہد آفریدی کو بھی یاد رکھا جائے تو کوئی برائی نہیں۔

عمران شاید پاکستانی کے دیومالائی کردار ہیں، آفریدی پاکستانیوں کے تصورات کے ہیرو ہیں، یونس خان نے بھی اپنے عمدہ کھیل سے کرکٹ میں خاص مقام بنایا مگر مصباح پاکستان کی حقیقت ہیں۔ مصباح اپنے پیچھے ایسی پاکستانی کرکٹ ٹیم چھوڑ  کر جا رہے ہیں جس میں ایک بھی عمران خان، یونس خان، شاہد آفریدی، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، جاوید میانداد اور عبدالقادر جیسا بڑا کھلاڑی موجود نہیں ، سرفراز احمد بھی انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرفراز احمد ٹوئنٹی 20، ایک روزہ اور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے ساتھ انصاف کر سکیں گے، کیا ٹیم میں موجود نوجوانوں کھلاڑیوں میں کوئی سٹار پلیئر بن کر ابھرے گا، کیا پاکستانی ٹیم عالمی رینکنگ میں تنزلی کی چلتی گاڑی کو بریک لگا سکے گی اور کیا گرین شرٹس براہ راست ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے، یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب آنے

والا وقت ہی بتائے گا۔

میاں اصغر سلیمی