الوداع مصباح، الوداع یونس

 پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ان کے ساتھی کھلاڑی اور ملک کے سب سے کامیاب بیٹسمین یونس خان نے ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کو الوادع کہا۔ 42 سالہ مصباح اور 39 سالہ یونس نے 66 ٹیسٹ میچوں کی 52 اننگز میں ایک دوسرے کے رفاقت میں 69.67 کی اوسط سے 3205 رنز بنائے اور15 اننگز میں سنچری کی شراکت بھی قائم کی۔

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

مصباح کرکٹ کی 140 سالہ تاریخ کے بدقسمت ترین بلے باز

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ
میچ میں 99 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے جس کے ساتھ ہی وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک انوکھا ریکارڈ اپنے نام کر گئے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں 99 کے اسکور پر ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈر نے پاکستان کے کپتان کی اننگز کا اختتام کر دیا جس کے ساتھ ہی وہ کرکٹ کی 140 سالہ تاریخ میں پہلے کھلاڑی ہیں جس کی اننگز تین مرتبہ 99 رنز پر تمام ہوئی۔ مصباح الحق اپنے کیریئر میں کُل تین مرتبہ 99 کے ہندسے تک محدود رہے جہاں دو مرتبہ وہ اپنی وکٹ محفوظ نہ رکھ سکے اور ایک مرتبہ پوری ٹیم پویلین لوٹنے کے سبب وہ اپنی اننگز کو تین ہندسوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

2011 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ویلنگٹن ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 99 رنز پر کرس مارٹن کو وکٹ دے بیٹھے تھے لیکن دونوں اننگز میں مجموعہ طور پر 169 رنز بنانے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف رواں سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں مصباح الحق 99 رنز پر ناقابل شکست رہے تھے اور پوری ٹیم پویلین لوٹنے کے سبب سنچری نہیں بنا سکے تھے۔ اور اب بارباڈوس میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ میں مصباح الحق 99 کے اسکور پر پویلین لوٹے جس کے ساتھ ہی وہ ایک انوکھا ریکارڈ اپنے نام کر گئے ہیں اور کرکٹ کی تاریخ میں آج تک کوئی اور ایسا بدقسمت بلے باز نہیں جس کی اننگز تین مرتبہ 99 رنز تک پہنچنے کے بعد سنچری سے قبل ہی ختم ہو گئی ہو۔

اس سے قبل انگلینڈ کے مائیکل ایتھرٹن، جیف بائیکاٹ، مائیک اسمتھ، آسٹریلیا کے سائمن کیٹچ، گریگ بلیوٹ، ہندوستان کے سارو گنگولی، نیوزی لینڈ کے جان رائٹ، ویسٹ انڈیز کے رچی رچرڈسن اور پاکساتن کے سابق کپتان سلیم ملک کیریئر میں دو مرتبہ 99 رنز پر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کرکٹ کی کہکشاں سے روشن ستارے جدا ہو گئے

سنا تھا کہ جب ٹیمیں عالمی سطح پر بری طرح شکستوں سے دو چار ہوتی ہیں تو
ان ناکامیوں کا نزلہ کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ پر ہی گرتا ہے۔ بورڈ عہدیدار پلیئرز، کوچز اور ٹیم منیجرز کو قربانی کے بکرے بنا کر بڑی مہارت سے اپنی کرسیاں بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس بار تو تمام اندازے اور روایات بالکل الٹ ہو گئیں، ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ابھی شروع ہوئی نہیں کہ کپتان مصباح الحق کے بعد یونس خان نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا،ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے شاہد آفریدی نے بھی کرکٹ کا بھرا میلہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے یہ تینوں ایسے کھلاڑی ہیں جن کی عالمی سطح پر کرکٹ خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مصباح الحق کی بات کی جائے تو جن حالات میں انہیں پاکستانی ٹیم کی قیادت ملی اور پھر وہ بلندی جہاں تک وہ گرین کیپس کو لے کر بھی گئے، ٹیسٹ کرکٹ میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔ 2010 کے لارڈز ٹیسٹ کو ہی دیکھ لیں جب کپتان سلمان بٹ سمیت 3 اہم کھلاڑی سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوئے، ہر طرف سے لعن طعن، شرمندگی، پست حوصلوں اور عالمی کرکٹ میں تنہائی کا شکار ٹیم اپنے ملک میں کھیلنے سے بھی محروم تھی، فکسرز کی ملی کالک شاید قومی شرمندگی کی علامت بن گئی تھی اور نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ پاکستان پر کرکٹ کے عالمی دروازے تک بند ہو سکتے تھے لیکن 6 برس بعد اسی ٹیم کا منکسرالمزاج قائد دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کا ایوارڈ آئی سی سی کے سربراہ سے وصول کر رہا تھا، یہ ٹیم عمران خان یا وسیم اکرم کی ٹیم نہیں تھی، بڑے بڑے ناموں کے بغیر پاکستان کرکٹ کو فرش سے عرش پر پہنچا دینے کا کریڈٹ اگر کسی کو دیا جا سکتا ہے تو وہ صرف مصباح الحق ہی ہو سکتے ہیں۔ وہی مصباح جو اس مشکل سفر کے دوران پاکستان کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان اور ٹیم کا سب سے قابل ِ بھروسہ بیٹسمین بن کر ابھرے۔

مصباح ان باصلاحیت کھلاڑیوں میں سے نہیں ہیں جو اچانک دنیائے کرکٹ میں آئے اور کم عمری میں ہی بین الاقوامی میچز میں جلوہ گر ہو کر یہ عندیہ دے دیا کہ وہ آئندہ دنوں میں کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی بن سامنے آئیں گے، وہ نہ مشتاق محمد، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس یا شاہد آفریدی تھے اور نہ ہی محمد عامر جیسے ہونہار کھلاڑیوں کی طرح تھے بلکہ ان کرکٹرز کے برعکس وہ لڑکپن اور اوائلِ نوجوانی میں بین الاقوامی کرکٹ میں دور دور تک نظر نہیں آئے۔ 2001 میں 27 برس کی عمر میں جب وہ بالاخر پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے تب ان کی قابلیت اور ہنر کے بارے میں کچھ بھی فطری نہیں تھا، پھر بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سابق پاکستانی کپتان اور آل راؤنڈر عمران خان کی طرح مصباح بھی مسلسل محنت کرتے ہوئے عظیم کہلانے کے رتبے پر جا پہنچے۔

یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ میں مصباح الحق بہت دیر سے سامنے آئے اور جب انہوں نے ٹیم کی قیادت سنبھالی اس وقت پاکستان کی کرکٹ مشکلات کی زد میں تھی، ٹیم اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے بکھری ہوئی تھی اور شدید اندرونی کشمکش کا شکار تھی۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ تھی کہ مصباح، کرکٹ سے دیوانگی رکھنے والے ملک کی ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے جو اپنے وجود کی بقا کی سست مگر افراتفری سے بھرپور اندرونی جنگ لڑ رہا تھا، دہشت گرد حملوں اور بم دھماکوں میں الجھا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم شہریوں، فوجی اور پولیس اہلکار جاں بحق ہو چکے تھے، جب ملک میں یہ سب جاری تھا اس دوران مصباح ایسی پاکستانی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے جو اپنے میچز غیر ملکی میدانوں میں یو اے ای میں کھیلنے پر مجبور تھی۔

مصباح نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے ملک میں کسی ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی سربراہی نہیں کی اور نہ ہی ایسے میدانوں اور تماشائیوں کے درمیان کھیلا جن سے کھلاڑی زیادہ آشنا ہوتے۔ پھر بھی اپنے سارے میچز غیر ملکی میدانوں میں جیت کر انہوں نے خود کو ملک کا کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان ثابت کیا، اور ایسا کارنامہ سرانجام دیا جو کرکٹ کے عظیم کپتان بھی نہیں کر پائے۔ مصباح کی غیر معمولی اور ایک حد تک انوکھی کہانی ایک ایسے بیٹسمین کے بارے میں ہے جس نے کافی دیر سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا جب ان کو ٹیم کو شامل کیا گیا تب تک وہ 27 برس کے ہوچکے تھے اور جب انہیں ڈراپ کیا گیا تو اگلے پانچ سالوں تک ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا، پھر ٹی 20 فارمیٹ کے پہلے ورلڈ کپ کے دوران اچانک ہی ملک کی ٹی 20 ٹیم میں شامل کر لیا گیا، جس میں انہوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور پاکستان کو فائنل میں فتح کے قریب لا کھڑا کر دیا، انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں خود کو مضبوط رکھا، پھر دوبارہ ڈراپ کیے گئے، وہ بھلا ہی دیئے گئے تھے مگر پھر اچانک ہی 2010 میں کرکٹ بورڈ کو مصباح یاد کیا گیا اور 36 برس کی عمر میں انہیں کپتان بنا دیا گیا۔

2007 میں شعیب ملک کو انضمام الحق کی جگہ بطور کپتان مقرر کیا گیا تھا، جن کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز میں ورلڈ کپ کے دوران بدترین شکست ہوئی تھی۔ انضمام ریٹائر ہوئے اور نوجوان، قابل اور کسی حد تک چیلنجنگ ملک کو ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا گیا۔ جب ٹیم جنوبی افریقہ میں ہونے والے پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے نامزد ہوئی تو شعیب ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت کے 33 سالہ مصباح کو ٹیم میں شامل کیا جائے اور وہ بھی محمد یوسف جیسے تجربہ کار نمایاں کھلاڑی کی جگہ پر ان کو شامل کیا جائے، یوسف کی ٹیم سے بے دخلی پر مداحوں اور میڈیا میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا، مصباح الحق نے مختصر طرز کے عالمی کپ میں اپنی پرفارمنس سے اپنا انتخاب درست بھی کر دکھایا۔

مصباح کے بارے میں مشہور ہے کہ کبھی کوئی بغض نہیں پالتا، مگر وہ کسی کے ہمدردانہ عمل کو بھی نہیں بھولتے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے اتفاق نہیں کیا جا رہا یا غیر منصفانہ طور پر ان پر تنقید کی جا رہی ہے تو وہ خاموشی سے وہاں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر کسی کی سخاوت یا نرم دل اقدام کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی انتظامی صلاحیت نہایت ہی عمدہ ہے، وہ ہر ایک کھلاڑی کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ہر کھلاڑی سے اس کے مطابق پیش آتے ہیں، وہ ان سب کو تحمل سے سنتے ہیں۔

مصباح کی کپتانی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ سینئرز کو اپنی عزت جونیئرز سے ہی کمانی ہو گی، اور اسے اپنا حق نہیں سمجھا جا سکتا۔ کوئی دور تھا جب سینئرز رعونت سے پیش آتے تھے، نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے قابو میں رکھتے اور ان سے سینئرز کے معمولی سے معمولی کام کی توقع کی جاتی تھی، مصباح نے اس طریقے کو بدل کر رکھ دیا۔

مصباح الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی ٹیم کی بیٹنگ کے اہم ستون یونس خان بھی انٹرنیشنل کرکٹ سے الگ ہو گئے ہیں، ہفتہ کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے کھیلنے کی کوشش کی اور یہی سوچا کہ کھیل کے دوران میرا سر فخر سے بلند رہے، ہرکھلاڑی کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب وہ اپنے جنون سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور میرا وقت بھی آگیا ہے، وہ اعلان کرتے ہیں کہ دورہ ویسٹ انڈیز ان کا آخری دورہ ہو گا، اس کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں 115 میچز کی 207 اننگز میں 53.06 کی اوسط سے 9977 رنز بنا چکے ہیں اور انہیں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے لئے صرف 23 رنز درکار ہیں۔ اگر یونس خان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلتے ہیں تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پاکستان ٹیسٹ ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں نے شاید اتنے رنز نہیں بنائے ہوں گے جتنے یونس خان اور مصباح الحق نے بنا رکھے ہیں۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب شاہد آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہا تھا، بوم بوم سے زیادہ تفریح شاید ہی کسی کرکٹر نے شائقین کو فراہم کی ہو، مصباح الحق، یونس خان اور شاہد آفریدی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایسے پلیئرز بار بار پیدا نہیں ہوتے، کرکٹ بورڈ نے کیریئر کے دوران ان عظیم پلیئرز کو وہ عزت نہیں دی جو ان کا حق تھی، اب بھی پی سی بی حکام ان کو باوقار انداز میں رخصت کر کے اپنی غلطیوں کا کسی حد تک اژالہ کر سکتے ہیں، مصباح الحق اور یونس خان کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کرتے ہوئے اگر شاہد آفریدی کو بھی یاد رکھا جائے تو کوئی برائی نہیں۔

عمران شاید پاکستانی کے دیومالائی کردار ہیں، آفریدی پاکستانیوں کے تصورات کے ہیرو ہیں، یونس خان نے بھی اپنے عمدہ کھیل سے کرکٹ میں خاص مقام بنایا مگر مصباح پاکستان کی حقیقت ہیں۔ مصباح اپنے پیچھے ایسی پاکستانی کرکٹ ٹیم چھوڑ  کر جا رہے ہیں جس میں ایک بھی عمران خان، یونس خان، شاہد آفریدی، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، جاوید میانداد اور عبدالقادر جیسا بڑا کھلاڑی موجود نہیں ، سرفراز احمد بھی انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرفراز احمد ٹوئنٹی 20، ایک روزہ اور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے ساتھ انصاف کر سکیں گے، کیا ٹیم میں موجود نوجوانوں کھلاڑیوں میں کوئی سٹار پلیئر بن کر ابھرے گا، کیا پاکستانی ٹیم عالمی رینکنگ میں تنزلی کی چلتی گاڑی کو بریک لگا سکے گی اور کیا گرین شرٹس براہ راست ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے، یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب آنے

والا وقت ہی بتائے گا۔

میاں اصغر سلیمی

مصباح الحق اور یونس خان وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز یونس خان اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو سال 2017 کے وزڈن کرکٹرز میں شامل کر لیا گیا۔ وزڈن کرکٹرز المانیک نے سال 2017 کے بہترین کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا جس میں پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے دو بڑے نام یونس خان اور مصباح الحق کو بھی شامل کر لیا گیا۔ وزڈن کرکٹرز کی فہرست میں رواں سال ایشیائی کھلاڑیوں کا راج رہا جہاں ہندوستان کے کپتان ویرات کوہلی کو بھی نامزد کیا گیا جس کے بعد تین ایشیائی کھلاڑیوں نے جگہ بنائی ہے۔

یونس خان کی جانب سے 2016 میں دورہ انگلینڈ میں بہترین کارکردگی کے باعث پاکستان ٹیم نے سیریز کو 2-2 سے برابر کر دیا تھا جس کے بعد قومی ٹیم پہلی مرتبہ آئی سی سی کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر آگئی تھی۔ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے ٹیسٹ کی نمبرایک ٹیم بننے کا اعزازحاصل کیا تھا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان، وقار یونس، وسیم اکرم اور جاوید میانداد بھی وزڈن کرکٹرز میں شامل رہ چکے ہیں۔

2017 میں وزڈن کرکٹرز کی فہرست میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں میں ایک اور بڑا نام ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا ہے جنھوں نے نہ صرف اپنی ذاتی کارکردگی سے بھارت کو فتوحات دلائیں بلکہ بطور کپتان اپنی ٹیم کو دنیا کی سرفہرست ٹیم بنایا اور یکم اپریل کے مقرر وقت تک اس درجے کو برقرار رکھ کر سب سے زیادہ انعام پانے والی ٹیسٹ ٹیم بننے کا بھی اعزاز حاصل کیا تھا۔ ویرات کوہلی کو دنیا کا سرفہرست کھلاڑی قرار دیا گیا۔

انگلینڈ کے کرکٹر بین ڈکٹ، کرس ووکس اور ٹی ایس رولینڈ کا نام بھی وزڈن کرکٹرز 2017 کی فہرست میں شامل ہے۔ آسٹریلیا کی ایلیسی پیری نے خواتین وزڈن کرکٹر2017 کا اعزاز اپنے نام کیا۔ یاد رہے کہ 1889 میں شروع کیا گیا وزڈن کرکٹرز ایوارڈ کسی بھی کھلاڑی کو کیریئر میں ایک مرتبہ دیا جاتا ہے۔

دنیا نے تسلیم کرلیا، پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ون بن گئی

پاکستان کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے سنہ 2003 میں اس عالمی درجہ بندی کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم اس فہرست میں پہلا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ماضی میں پاکستان کی بہترین کارکردگی دوسری پوزیشن تھی جو اس نے گذشتہ برس متحدہ عراب امارات میں کھیلی جانے والی سیریز میں انگلینڈ کو شکست دینے کے بعد اور پھر رواں برس انگلینڈ کے خلاف سیریز برابر کر کے حاصل کی۔ آسٹریلیا کی سری لنکا کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں تین صفر سے شکست کے نتیجے میں جہاں پاکستانی ٹیم تیسرے سے دوسرے نمبر پر پہنچی وہیں انڈیا دوبارہ سرفہرست آ گئی تھی۔

نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بننے کے لیے پاکستان کو انڈیا اور ویسٹ انڈیز کی سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار تھا۔ انڈیا کو اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے یہ ٹیسٹ جیتنا لازمی تھا تاہم بارش سے متاثرہ اس ٹیسٹ میچ کے بےنتیجہ رہنے کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم 111 پوائنٹس کے ساتھ آئی سی سی کی درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ یہ میچ برابر رہنے کی صورت میں انڈیا کو دو پوائنٹس کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا اور یوں وہ اب 110 پوائنٹس کے ساتھ درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر ہے۔

سری لنکا کے ہاتھوں وائٹ واش کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم ٹیسٹ ٹیموں کی عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر آ چکی ہے۔ اس وقت آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں کے پوائنٹس برابر یعنی 108 ہیں لیکن اعشاریہ کے فرق کی وجہ سے آسٹریلیا کو تیسری اور انگلینڈ کو چوتھی پوزیشن حاصل ہے۔ ٹیسٹ رینکنگ میں ابتدائی تین نمبروں پر موجود ٹیموں میں سے دو آسٹریلیا اور بھارت ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں بھی بالترتیب پہلے اور تیسرے نمبر پر ہیں تا ہم پاکستان اس فہرست میں نویں نمبر پر ہے اور اس کے سر پر اگلے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ پاکستان کو اپنی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے انگلینڈ کے خلاف 24 اگست سے شروع ہونے والی پانچ میچوں کی سیریز واضح فرق سے جیتنی ہوگی.

مصباح الحق : ایک’ کُول‘ کپتان کی حوصلہ مند ٹیم

آج کا دن لندن کے سینٹ جانز وُڈ کے علاقے میں ایک ایسا دن تھا کہ جب آپ کسی کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ سینٹ جانز وُڈ میں واقع دنیائے کرکٹ کے سب سے تاریخی میدان میں آج پاکستان اپنی اس فارم میں نظر آیا جو دنیا بھر میں اس ٹیم کی پہچان ہے، یعنی وہ پاکستانی ٹیم جس میں مہارت بھی ہوتی ہے، چالبازی بھی، جس میں گھورتی آنکھیں بھی ہوتی ہیں اور مسکراہٹیں بھی اور خوش قسمتی کے ساتھ ساتھ خطروں سے کھیلنے کا حوصلہ بھی ہوتا ہے۔

آج کرکٹ کی دنیا کا المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی میچ جس میں تین بڑی ٹیموں (آسٹریلیا، انڈیا اور انگلینڈ) میں سے کوئی ٹیم نہ کھیل رہی ہو، اسے کوئی میچ ہی نہیں سمجھتا۔ اس کے بارے میں کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے کوہ ہمالیہ سر کیا ہو لیکن کرکٹ کی دنیا اس وقت تک اس کی تعریف نہیں کرتی آپ کوگھاس نہیں ڈالتی جب تک آپ ان تین بڑی ٹیموں میں سے کسی کو نہ ہرائیں۔ دنیا کی ساری توجہ انھی تین ممالک پر مرکوز رہتی ہے اور کرکٹ سے منسلک سارا پیسہ بھی ان ہی ممالک میں ہے۔

مصباح الحق نے اپنی ٹیم کی قیادت اس وقت سنبھالی جب یہ ٹیم آخری مرتبہ لارڈز کے میدان میں کھیلی تھی۔ یہ ٹیم متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں ایک ناقابل شکست ٹیم بن چکی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ اس لحاظ سے پاکستان کا یہ دورہ انگلینڈ اہم ہونا تھا کیونکہ اس دورے میں انھیں یہ ثابت کرنا تھا کہ پاکستانی ٹیم بھی ایک ٹیم ہے۔ اگر یہ ٹیم انگلینڈ سے جیت کر دکھا دیتی ہے تو پھر اسے تسلیم کیا جائے گا اور اس کی تعریف کی جائے گی۔ مصباح کی حالیہ ٹیم کی تشکیل سنہ 2014 میں اس وقت ہونا شروع ہوئی تھی جب سعید اجمل اور محمد حفیظ پر مکمل پابندی لگ گئی اور پاکستان کا بالنگ اٹیک بالکل بدل کر رہ گیا تھا۔ تب پاکستان نے اجمل کی جگہ جس بولر کو ٹیم میں شامل کیا وہ فوراً ہی دنیا کا بہترین سپنر بن گیا۔

ان دنوں مصباح کے پاس ٹیم میں شامل کرنے کے لیے تیز بالر بہت کم تھے لیکن اس دوران راحت علی اور عمران خان دونوں نے محنت جاری رکھی اور اپنی مہارت میں اضافہ کرتے رہے اور پھر ایک سال بعد وہاب ریاض کی شکل میں مصباح کو ایک اور اچھا تیز بولر مل گیا، ایک ایسا بولر جو مخالت بیٹنگ لائن کو اُڑا کر رکھ سکتا ہے۔ اور اس کے بعد محمد عامر ٹیم میں واپس آگئے اور پاکستان کے بولنگ اٹیک میں یکدم تیزی آگئی۔ پاکستان کے اس بولنگ اٹیک کے لیے انگلینڈ کی ساری ٹیم کو آؤٹ کرنے کے لیے صرف ایک دن کافی تھا۔ آج جس طرح پاکستانی بولر ایک ٹیم کی شکل میں کھیلے، اسے دیکھ کر لطف آگیا۔

انگلینڈ کی تمام وکٹیں چوکے، چھکے لگاتے ہوئے نہیں گریں، بلکہ ہر وکٹ گرنے سے پہلے کی گیندوں پر انگلینڈ کے بلے باز کوئی رن نہیں بنا پائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے انگلینڈ کے نئے آنے والے بلے باز کو آؤٹ کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ کارگر ثابت ہوا۔ یہی وہ پاکستانی ٹیم ہے جس سے ایک دنیا محبت کرتی رہی ہے۔ ایک ایسی ٹیم جو مخالف بلے باز کو جب تک پویلین واپس نہیں بھیج دیتی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اس کے باوجود آج پاکستان کی جو ’روایتی‘ ٹیم ہم نے لارڈز میں دیکھی اس میں ایک فرق واضح تھا اور وہ یہ کہ اس ٹیم کی کپتانی مصباح کے ہاتھ میں تھی۔

یہ سال کپتان کے لیے زبردست سال رہا ہے۔ اس سال کے شروع میں انھوں نے پی ایس ایل کی پہلی ٹرافی جیتی اور سال کے آخر میں آخر کار انھیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہ اتنی خوبصورت داڑھی میں بہت ’ُکول‘ لگتے ہیں۔ پاکستان یہ میچ اسی وقت جیت گیا تھا جب سینچری بنانے کے بعد کپتان نے میدان میں ڈنڈ نکالنے شروع کر دیے تھے، کیونکہ اپنے کپتان کی خوشی اور ان کا اعتماد دیکھ کر ٹیم کے حوصلے مزید بلند ہو گئے تھے۔ اسی لیے میچ جیتنے کے بعد جب ساری ٹیم نے ڈنڈ نکالنے شروع کر دیے تو اس پر کسی کو بھی زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔ یہ لمحہ واقعی بہت خوبصورت، حیرت انگیز اور مسرت سے بھرپور لمحہ تھا۔ چھ سال پہلے مصباح الحق سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک ٹوٹی پھوٹی ٹیم کو آ کر سنبھالیں اور آج چھ سال بعد انھوں نے پاکستان کو ایک ایسی ٹیم دے دی ہے جو ماضی کی کسی بھی بہترین پاکستانی ٹیم سے کسی لحاظ سے کم نہیں ہے۔

احمر نقوی

سپورٹس تجزیہ کار

بیس برس بعد پاکستانی بولر عالمی رینکنگ میں سرفہرست

انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میچ میں دس وکٹیں لینے والے پاکستانی لیگ سپنر یاسر شاہ آئی سی سی کی ٹیسٹ بولروں کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آ گئے ہیں۔ یاسر شاہ نے انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں 72 رنز کے عوض چھ وکٹیں اور دوسری اننگز میں 69 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس شاندار پرفارمنس کے باعث وہ 32 پوائنٹس حاصل کر کے رینکنگ میں چوتھے نمبر سے پہلے نمبر پر آ گئے ہیں۔ یاسر شاہ تقریباً 20 سال میں پہلے پاکستانی بولر ہیں جو آئی سی سی کی رینکنگ میں سرفہرست آئے ہیں۔

اس سے قبل 1996 میں لیگ سپنر اور پاکستان کے موجودہ بولنگ کوچ مشتاق احمد آئی سی سی کی درجہ بندی میں پہلے نمبر آئے تھے۔ یاسر شاہ گذشتہ 11 برس میں ایسے پہلے لیگ سپنر بھی ہیں جو اس درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچے ہیں۔ ان سے قبل آسٹریلیا نے شین وارن سنہ 2005 میں دنیا کے بہترین ٹیسٹ بولر قرار دیے گئے تھے۔ آئی سی سی رینکنگ کے مطابق یاسر شاہ 878 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور انڈیا کے روی چندرن ایشون 871 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ انگلینڈ کے جیمز اینڈرسن کا نمبر تیسرا ہے۔yasir-shah

آئی سی سی کی پریس ریلیز کے مطابق 30 سالہ یاسر شاہ کے پوائنٹس میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ وہ ابھی کوالیفائنگ پیریڈ میں ہیں۔ واضح رہے کہ بولر کی فُل رینکنگ  اس وقت کی جاتی ہے جب وہ 100 وکٹیں حاصل کر لے۔

26 اکتوبر 2014 کو اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے یاسر شاہ نے اس وقت 13 ٹیسٹ میچوں میں 86 وکٹیں حاصل کی ہیں جو کہ اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے۔

آئی سی سی کی درجہ بندی میں یاسر شاہ کے علاوہ پاکستان کے راحت علی 35 ویں نمبر سے 32 ویں نمبر جبکہ چھ سال بعد انٹرنیشنل ٹیسٹ کھیلنے والے محمد عامر 93 ویں نمبر پر ہیں۔

جہاں تک بیٹنگ کی رینکنگ کی بات ہے تو پاکستان کے اسد شفیق 13 ویں سے 11 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ انھوں نے لارڈز ٹیسٹ میں 73 اور 49 رنز سکور کیے۔

پاکستان کے کپتان مصباح الحق اپنی سنچری کے باعث 10 ویں سے نویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ سرفراز احمد 17 ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں۔

یاسر شاہ عالمی نمبر ایک ٹیسٹ باؤلر بن گئے

لارڈز ٹیسٹ میں دس وکٹیں لے کر پاکستان کو انگلینڈ کے فتح سے ہمکنار کرانے والے یاسر شاہ کو شاندار باؤلنگ کا انعام مل گیا ہے اور ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر فائز ہو گئے ہیں۔ لارڈز ٹیسٹ میچ شروع ہونے سے قبل پاکستانی لیگ اسپنر عالمی درجہ بندی میں چوتھے درجے پر موجود تھے تاہم انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں دس وکٹیں لے کر وہ عالمی نمبر ایک باؤلر بن گئے ہیں۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگ میں 339 رنز بنائے لیکن یاسرشاہ نے 6 وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو پہلی اننگز میں لیڈ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری اننگ میں 30 رنز کی اہم باری کھیلنے والے یاسر شاہ نے جہاں اسکور کو معقول مجموعے تک پہنچایا تو دوسری اننگ میں بھی یاسرکی بل کھاتی گیندوں کا انگلش بلے بازوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، یاسرشاہ نے دوسری اننگز میں 4 کھلاڑیوں کا شکار کیا۔

میچ میں دس وکٹوں کی بدولت وہ نا صرف بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیتنے میں کامیاب رہے بلکہ ساتھ ساتھ 878 رینکنگ پوائنٹس کے ساتھ عالمی نمبر ایک باؤلر بھی بن گئے ہیں۔ یاسر شاہ گزشتہ 20 سال میں عالمی نمبر ایک باؤلر بننے والے پہلے پاکستانی باؤلر ہیں جہاں اس سے قبل دسمبر 1996 میں مشتاق احمد اس منصب پر فائز ہوئے تھے ۔ وہ 2005 کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے لیگ اسپنر ہیں، اس سے قبل دسمبر 2005 میں شین وارن نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ وہ ناصرف پاکستان بلکہ ایشیا کے واحد باؤلر ہیں جس نے لارڈز میں دس وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

یاسر کے ساتھ ساتھ دونوں اننگ میں عمدہ بلے بازی کرنے والے اسد شفیق بھی دو درجہ ترقی کر کے 11 نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ سرفراز کی بھی ترقی ہوئی ہے اور وہ 17ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ تاہم یونس خان تنزلی کے بعد چھٹے نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ مصباح الحق نویں نمبر پر موجود ہیں۔ انگلینڈ کی جانب سے 11 وکٹیں لینے والے کرس ووکس نے 28 درجے ترقی کی اور وہ عالمی رینکنگ میں کیریئر کی بہترین 36ویں پوزیشن پر براجمان ہو گئے ہیں جبکہ بیئراسٹو بھی دو درجہ ترقی کے بعد کیریئر کی بہترین 16ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

بیس سال بعد لارڈز میں پاکستان کی شاندار جیت

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین لارڈز کےمیدان پرکھیلےگئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے 75 رنز سے کامیابی حاصل کر کے چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔ پاکستان کے 283 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 207 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

یاسر شاہ نے دوسری اننگز میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے اس طرح اس میچ میں ان کی وکٹوں کی تعداد دس ہوگئی۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی کپتان کک تھے جو آٹھ رنز بنا کر راحت علی کے گیند پر سرفراز کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ دیگر بیٹمسمینوں میں ہیلز16، جو روٹ نو، ونس 42، بیلنس 43 ، معین علی دو اور کرس براڈ ایک اور بال تین رنز بنا کر آوٹ ہوئے۔ بیلنس نے بھی پراعتماد بلے بازی کا مظاہرہ کیا تاہم وہ 43 کے انفرادی سکور پر یاسر شاہ کی پہلی وکٹ بنے۔PAK-celebrate1

بیرسٹو نے پاکستانی بولنگ کا جم کا مقابلہ کیا تاہم وہ 48 کے انفرادی سکور پر یاسر شاہ کا تیسرا شکار بن گئے۔ پاکستان کی طرف سے راحت علی نے تین جبکہ محمد عامر نے دو اور وہاب ریاض ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل تیسرے روز کھیل کے اختتام تک پاکستان نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 214 رنز بنائے تھے اور اس طرح اس کی مجموعی برتری281 رنز ہو چکی ہے تاہم چوتھے روز صرف ایک رنز کے اضافے کے ساتھ پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔ یاسر شاہ 30 اور محمد عامر ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ دونوں کھلاڑیوں کو کرس براڈ نے آؤٹ کیا۔ اس میچ میں کرس ووکس نے گیارہ وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کے آؤٹ ہونے والوں کھلاڑیوں میں سرفراز احمد 45، اسد شفیق 49، یونس خان 29، مصباح الحق 0، اظہر علی 23، محمد حفیظ 0 اور شان مسعود 24 شامل ہیں۔ مصباح الحق آف سپنر معین علی کو چھکا لگانے کی کوشش میں باونڈری پر کیچ آؤٹ ہوگئے ۔ وہاب ریاض بغیر کوئی رنز بنائے کرس ووکس کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ دوسری اننگز میں ووکس نے چھ، براڈ نے تین اور بال نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اس سے پہلے پاکستان کی پہلی اننگز میں 339 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 272 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اس طرح پاکستان کو 67 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔ فاسٹ بولر وہاب ریاض اور سپنر یاسر شاہ کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔ انگلینڈ کے ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔

پہلی اننگز میں پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ سب سے کامیاب بولر رہے۔ یاسر شاہ نے 29 اووروں میں صرف 70 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ یاسر شاہ پہلے لیگ سپنر ہیں جنھوں نےگذشتہ 20 برسوں میں لارڈز کے میدان میں پہلی بار ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ پچھلی بار پاکستانی لیگ سپنر مشتاق احمد نے لارڈز میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

یاسر شاہ لارڈز میں 10 وکٹیں لینے والے پہلے ایشیائی کھلاڑی

لارڈز کے گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیگ اسپنر یاسر شاہ نے 10 وکٹیں حاصل کرکے پہلے ایشائی کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ لارڈزمیں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں یاسرشاہ نے اپنی گھومتی گیندوں سے انگلش بلے بازوں کو چکرا کر رکھ دیا اور مجموعی طور پر 10 انگلش بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ میچ کی پہلی اننگز میں یاسرشاہ نے 6 وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو اننگز میں لیڈ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

 دوسری اننگز میں بھی یاسرکی بل کھاتی گیندوں کا انگلش بلے بازوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، یاسرشاہ نے دوسری اننگز میں 4 کھلاڑیوں کا شکار کیا۔ واضح رہے کہ یاسر شاہ لارڈز میں 10 وکٹیں حاصل کرکے، ایسا کرنے والے پہلے ایشائی کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے لیگ اسپنر یاسر شاہ نے لارڈز ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے سابق باؤلر چارلی ٹرنر کا 13 ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا 123 سالہ پرانا ریکارڈ اپنے نام کرلیا اور تیز ترین 100 وکٹیں حاصل کرنے کے ریکارڈ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یاسر شاہ نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے میچ کی پہلی اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کرکے اپنی وکٹوں کی تعداد 82 کر دی جو ٹرنر سے ایک وکٹ زیادہ ہے جبکہ اس فرق کو مزید وسیع کرنے کے لیے ان کے پاس ابھی دوسری اننگز باقی ہے۔

پاکستانی لیگ اسپنر یاسرشاہ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اس موقع پر یاسر شاہ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف اچھی کارکردگی پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جبکہ لائن اور لینتھ پر باؤلنگ کرنے سے انھیں کامیابی ملی۔ یہ بھی  ان کا کہنا تھا کہ انھیں پوری ٹیم نے سپورٹ کیا اور میچ میں کامیابی پوری ٹیم کی محنت سے ممکن ہوئی۔ پاکستانی لیگ اسپنر کا کہنا تھا کہ’میں خوش قسمت ہوں کہ مشتاق احمد کوچ اور انتخاب عالم ٹیم کے ساتھ ہیں، دونوں کے مشوروں سے مجھے بہت فائدہ ہوا’۔ خیال رہے کہ یاسر شاہ کی بہترین باؤلنگ کی بدولت پاکستان نے لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو 75 رنز سے شکست دے کر 4 میچوں کی سیریز میں 1-0 سے برتری حاصل کرلی ہے۔