پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آ گئی

بھارت کے ہاتھوں پہلے ٹی20 میچ میں نیوزی لینڈ کی شکست کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آ گئی ہے۔ بھارت کے خلاف تین ٹی20 میچوں کی سیریز سے قبل سابق عالمی نمبر ایک نیوزی لینڈ کے پوائنٹس کی تعداد 125 تھی جبکہ سری لنکا کو ٹی20 سیریز میں کلین سوئپ کر کے پاکستان نے اپنے پوائنٹس کی تعداد 124 کر لی تھی۔ نیوزی لینڈ کو اپنا عالمی نمبر ایک کا منصب برقرار رکھنے کیلئے سیریز میں 2-1 سے لازمی فتح درکار تھی لیکن بھارت نے پہلے ہی ٹی20 میچ میں کیویز کو شکست دے کر عالمی نمبر ایک کے منصب سے محروم کر دیا اور پاکستان کی ٹیم عالمی نمبر ایک بن گئی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹی20 رینکنگ میں عالمی نمبر ایک بنی ہے۔ نئی ٹی20 رینکنگ میں پاکستان 124 پوائنٹس کے ساتھ پہلے، نیوزی لینڈ 121 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، ویسٹ انڈیز تیسرے، انگلینڈ چوتھے، بھارت پانچویں، جنوبی افریقہ چھٹے، آسٹریلیا ساتویں، سری لنکا آٹھویں، افغانستان نویں اور بنگلہ دیش دسویں نمبر پر موجود ہے۔ اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم بھارت کے خلاف ٹی20 سیریز کے اگلے دونوں میچز جیتنے میں کامیاب رہتی ہے تو وہ دوبارہ سے عالمی نمبر ایک بن جائے گی تاہم سیریز میں ایک بھی میچ ہارنے کی صورت میں پاکستان ہی عالمی نمبر ایک رہے گا۔

Advertisements

پاکستانی کرکٹ کا یادگاری ٹکٹ

انگلینڈ کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں گرین شرٹس کی تاریخی فتح پر محکمہ ڈاک پاکستان کی جانب سے تین یادگاری ٹکٹوں کا اجرا کیا گیا ہے۔ یادگاری ٹکٹ کی تقریب رونمائی پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع قذافی اسٹیڈیم میں ہوئی۔ جس میں وفاقی وزیر برائے پوسٹل امیرزمان نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ہے اور محکمہ ڈاک کی جانب سے بڑی کامیابی پر یادگاری ٹکٹ کے اجراپر خوشی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے کہا کہ گذشتہ ایک برس میں قومی ٹیم کی کامیابیاں یاد گار ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ کھلاڑی، آفیشلز اور میینجمنٹ سب بہت محنت کر رہے ہیں۔

‘پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون پر پہنچی، اس کے بعد چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی اور اب تیسری شارٹ فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی میں بھی نمبر ون رینکنگ میں آ گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ٹیم قوم کی امیدوں پر پوری اترے گی اور پاکستان کے لیے اور بھی خوشیاں لائے گی۔’ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر یاد گاری ٹکٹس جاری کیے جانے پر خوش دکھائی دیئے جبکہ کپتان سرفراز احمد نے ٹکٹ کے اجرا پر پاکستان پوسٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار انيس میں قومی ٹیم ورلڈ کپ جيت کر پاکستان پوسٹ کو ایک اور یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

‘جس طرح سے لڑکے کارکردگی دکھا رہے ہیں اگر یہ جیت کا تسلسل جاری رہا تو ہم انشاءاللہ سنہ دو ہزار انیس کا ورلڈ کپ جیتیں گے۔ تب آپ کو ایک اور یادگاری ٹکٹ جاری کرنا پڑے گا’۔ وفاقی وزیر برائے پوسٹل سروسز مولانا امیر زمان نے چیئرمین پی سی بی اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو یادگاری ٹکٹوں کے فریم بھی پیش کئے۔ یاد گاری ٹکٹوں پر آئی سی سی کے تمام ممالک کے پرچم، چیمپئنز ٹرافی اور کھلاڑیوں کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ پاکستان نے رواں سال آٹھویں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

پاکستان نے میچ اور سری لنکا نے دل جیت لیے

تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو چھتیس رنز سے ہرا کر تین میچوں کی اس سیریز میں تین صفر سے کلین سویپ مکمل کر لیا۔  قذافی اسٹیڈیم میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے آٹھ برس بعد ستائیس ہزار پرجوش تماشایوں کے سامنے کھیل کر پاکستانیوں کے دل جیت لیے۔ دو ہزار نو میں سری لنکا کی ٹیم پر قذافی اسٹیڈیم کے باہر حملہ ہوا تھا، جس کے بعد سری لنکن کرکٹرز پہلی بار لاہور آئے ہیں۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پندرہ ہزار سے زائد افراد میچ کی سیکورٹی پر مامور تھے۔

اس میچ کے موقع پر لاہور میں موسم کہر آلود تھا لیکن تماشائیوں کے جوش و خروش نے ماحول کو گرمائے رکھا، جو سری لنکا کھلاڑیوں کو بھی برابر داد دیتے رہے۔ اسٹڈیم میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ کئی پاکستانی تماشایوں نے سری لنکن پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ میچ دیکھنے والوں میں سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر تھلنگا سماتھی پالا اور وزیر کھیل جے سیکرا بھی موجود تھے۔
طویل عرصے بعد سری لنکا کے ریڈیو اور ٹی وی کے کامنٹیٹرز بھی پہلی بار لاہور آئے ، جن میں انیس سو چھیانوے کا عالمی کپ فائنل کور کرنے والے بندولا سمن وترنگا بھی شامل تھے۔ بندولا نے ڈی ڈبیلیو کو بتایا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے۔ سری لنکا کو اپنی کرکٹ کی سب سے بڑی خوشی اور غم لاہور میں ملے اور اب ہم واپس اس شہر میں آکر خوش ہیں۔

میچ سے پہلے لاہور میں ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں اگلے برس ایمرجنگ ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد سری لنکن ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین نجم سیٹھی نے بتایا کہ اپریل دو ہزار اٹھارہ ایمرجنگ ایشیا کپ پاکستان میں ہو گا، جس میں خطے کے چھ ممالک کی ٹیمیں شریک ہوں گی۔ سیٹھی کے مطابق ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول کا اعلان اگلے دو سے تین روز میں کر دیا جائے گا۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر سماتھی پالا کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں پاکستان کرکٹ کی مدد کرنے آئے ہیں۔ ہم کسی ملک کو تنہا کرنے کے خلاف ہیں۔ سری لنکا میں تیس برس تک خانہ جنگی رہی اور پاکستان نے وہاں اس دوران کبھی کھیلنے سے انکار نہیں کیا‘۔ انہوں نے مزید کہا دنیا کرکٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ سماتھی پالا کے مطابق سری لنکا کی قومی ٹیم کے علاوہ ان کی انڈر نائیٹیں اور اے ٹیمیں بھی جلد پاکستان کو درہ کریں گی۔

عثمان شنواری کی 21 گیندوں پر 5 وکٹیں، کئی ریکارڈ اپنے نام کر لیے

سری لنکا کے خلاف سیریز کے آخری میچ میں پاکستانی بولر عثمان شنواری نے شاندار ریکارڈ بنا ڈالا۔ نوجوان پیسر عثمان شنواری نے سری لنکن بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا دیں، انہوں نے اپنے پانچویں ون ڈے انٹرنیشنل میں 20 رنز پر سری لنکا کی آدھی ٹیم کو پویلین کا راستہ دکھایا اور اپنی شاندار کارکردگی سے کئی ریکارڈ بھی بنائے، عثمان شنواری پاکستان کی جانب سے سب سے کم گیندوں پر 5 شکار کرنے والے بولر بن گئے ہیں، وہ 2001 کے بعد پاکستان کی جانب سے کسی بھی ٹیم کے خلاف پہلی پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بولر بھی ہیں، انہوں نے 5 کھلاڑیوں کو میدان بدر کرنے کیلیے صرف 3.3 اوورز یعنی 21 گیندیں کروائیں جو ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا تیسرا بہترین اسپیل ہے۔

ون ڈے کرکٹ میں میچ کے آغاز میں سب سے کم گیندوں میں 5 وکٹوں کا اعزاز سری لنکن لیفٹ آرم پیسر چمندا واس کے پاس ہے جنہوں نے ورلڈ کپ 2003 میں بنگلا دیش کے خلاف 16 گیندوں میں 5 وکٹیں اڑائیں جن میں سے پہلی 3 وکٹیں انہوں نے میچ کی پہلی 3 گیندوں پر حاصل کرتے ہوئے ہیٹ ٹرک کی۔ نیدرلینڈ کے وین درگگٹن کینیڈا کے خلاف 20 گیندوں پر 5 وکٹیں حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر پر ہیں۔ واضح رہے کہ عثمان شنواری کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں، پی ایس ایل سیزن ٹو میں کراچی کنگز کی جانب سے فوری طلب کیے جانے پر انہوں نے اپنی دعوتِ ولیمہ چھوڑ دی تھی۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

پاکستان نے سری لنکا کو ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست دے کر سیریز3 صفر سے جیت لی‘ اس میچ میں فتح و شکست سے زیادہ اہمیت یہ تھی کہ اس سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوئی ہے۔ سری لنکا کی ٹیم پر2009 میں لاہور میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا‘ اسی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے 8 برس بعد لاہور میں پاکستان کے ساتھ انٹرنیشنل میچ کھیل کر دوستی و محبت کا حق ادا کر دیا اور دنیا پر یہ بھی ثابت کر دیا کہ سری لنکا کے کھلاڑی بہادری اور دلیری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں، ورنہ ایک ایسا ملک جس کے کھلاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ ہو چکا ہو‘ اس کا دوبارہ آ کر کرکٹ میچ کھیلنا تقریباً نا ممکن سی بات ہے‘ بہرحال اس معاملے میں سری لنکا کی حکومت، وہاں کا کرکٹ بورڈ اور کھلاڑی مبارکباد کے حق دار ہیں۔ پاکستان تو ضرورت مند ہے‘ اس کی تو ضرورت ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو لہٰذا کریڈٹ ان کو جاتا ہے جو یہاں کرکٹ کھیلنے آئے۔

پاکستان کو دہشت گردوں نے جو نقصان پہنچایا ہے‘ وہ سب کے سامنے ہے‘ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کا مقصد بھی دنیا بھر میں یہ پیغام پہنچانا تھا کہ یہ ملک پرامن نہیں ہے‘ اب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے اشارے مل رہے ہیں۔ زمبابوے کی ٹیم بھی پاکستان میں میچ کھیل چکی ہے‘ حقیقی معنوں میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ اس وقت بحال ہو گی جب انگلینڈ‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ کی کرکٹ ٹیمیں یہاں آ کر میچ کھیلیں گی۔ اب تو سری لنکا نے صرف ایک میچ کھیلا ہے اور وہ بھی 20 اوورز کا محدود میچ ہے‘ کرکٹ کو اس وقت بحال تصور کیا جائے گا جب یہاں ٹیسٹ میچوں اور ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلی جائیں گی۔ پورے ملک کے اسٹیڈیم آباد ہو جائیں گے۔

یہ منزل دور ضرور ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہاں تک پہنچا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو اس حوالے سے حکمت عملی تیار رکھنی چاہیے۔ بلاشبہ سری لنکا اور پاکستان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ لاہور میں اس سے پہلے بھی کئی میچ ہو چکے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ میچ غیرمعمولی سیکیورٹی کے حصار میں ہوئے ہیں‘ اس کا مطلب یہی ہے کہ ملک میں دہشت گرد تنظیموں کا وجود موجود ہے۔ جب تک دہشت گرد تنظیموں کا وجود برقرار رہے گا‘ پاکستان خطرات سے دوچار رہے گا۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے‘ اس کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

شارٹ ٹرم حکمت عملی کے تحت آپریشن ردالفساد جاری ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر بھی کام ہو رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں‘ کئی دہشت گردوں کو پھانسی بھی دی گئی ہے‘ قبائلی علاقوں اور سوات سے دہشت گردوں کا اقتدار ختم ہو چکا ہے اور وہاں امن بحال ہو گیا ہے‘ کراچی میں بھی رینجرز کے آپریشن کے مثبت نتائج نکلے ہیں‘ اس کے پورے ملک پر اثرات مرتب ہوئے ہیں‘ آج پاکستان میں جو کرکٹ بحال ہوئی ہے‘ یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ یوں شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں جاری رکھی جائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں انگلینڈ‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ ویسٹ انڈیز‘ جنوبی افریقہ اور بھارت جیسی کرکٹ ٹیمیں ٹیسٹ میچ بھی کھیلیں گی ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کا میلہ بھی سجتا رہے گا‘ غیر ملکی سیاح بھی آنا شروع ہو جائیں گے‘کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی اور معیشت مستحکم ہو گی، یہی اصل پاکستان ہو گا۔

 اداریہ ایکسپریس نیوز

کوہلی نے محمد عامر کو خطرناک ترین بولر قرار دیدیا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیا ہے۔ عامر خان نے اپنے پروگرام میں کوہلی سے سوال کیا کہ آپ کے من میں دنیا کا کوئی ایسا بولر ہے جس کا سامنا کرتے ہوئے آپ کو لگا کہ یہ بہت مشکل بولر ہے اور اسے کھیلتے ہوئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو، جس پر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ”موجودہ بولرز جن کا میں نے سامنا کیا ہے ان میں محمد عامر کو کھیلنا مشکل رہا، وہ دنیا کے ٹاپ 2 یا 3 مشکل ترین بولرز میں سے ہیں۔ وہ ایسے بولر ہیں جن کے خلاف کھیلتے ہوئے آپ کو اپنی اے کلاس گیم کھیلنا پڑتا ہے ورنہ وہ آپ کی وکٹیں اڑا دے گا، وہ واقعی بہت ہی شاندار بولر ہیں۔“

واضح رہے کہ ویرات کوہلی اور محمد عامر بہت اچھے دوست ہیں اور انہوں نے ایشیا کپ 2016ء میں محمد عامر کی صلاحیتوں کی تعریف کی تھی اور انہیں اپنا بیٹ بھی تحفے میں دے چکے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر نے اپنے اوپر تنقید کے نشتر برسانے والے روہت شرما کو آﺅٹ کرنے کے بعد ویرات کوہلی کی وکٹ حاصل کی تھی، ایک بال پر سلپ میں کیچ ڈراپ ہونے کے بعد اگلی ہی بال پر شاداب خان کا کیچ بنواتے ہوئے انہیں پویلین کا راستہ دکھایا تھا۔

یاسر شاہ مسلسل پانچ ٹیسٹ میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے سپنر

پاکستان کے سپنر یاسر شاہ ٹیسٹ میچ کی تاریخ کے پہلے سپنر بن گئے ہیں جنھوں نے مسلسل پانچ میچوں میں کسی ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہوں۔ یاسر شاہ ٹیسٹ میچوں کی تاریخ میں یہ سنگِ میل حاصل کرنے والے پہلے سپنر ہیں۔ ان کے علاوہ تین بولرز یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں لیکن وہ تینوں فاسٹ بولرز تھے۔ انگلینڈ کے سڈنی بارنز کے پاس 1912-14 میں سات ٹیسٹ میچوں میں مسلسل پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ ہے۔
دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کے چارلی ٹرنر ہیں جنھوں نے 1887-1888 میں چھ مسلسل ٹیسٹ میچوں میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کیں جبکہ تیسرے نمبر پر انگلینڈ ہی کے ایلک بیڈسر ہیں جنھوں نے 1952-53 میں چھ مسلسل ٹیسٹ میچوں میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔

یاسر شاہ اب تک مجموعی طور پر 13 بار ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ دو مرتبہ انھوں نے ایک ٹیسٹ میچ میں دس یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ اپنا 28 ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور اب تک 163 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے 21 اپریل کو کنگسٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں دوسری اننگز میں 63 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں انھوں نے 94 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف روزیو میں کھیلے جانے والے اگلے ہی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 92 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے خلاف جاری سیریز میں ابو ظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں یاسر شاہ نے 51 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اپنے لگاتار پانچویں ٹیسٹ میں دبئی میں جاری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں یاسر شاہ نے 184 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔