جب کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو ؟

کس نے سوچا ہو گا کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ’کٹ‘ میں ایک دن پلوشن ماسک بھی شامل ہو جائے گا۔ آپ سری لنکا کے ان کھلاڑیوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جو دہلی میں انڈیا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آلودگی کی وجہ سے ماسک پہن کر میدان میں اترے، یا سانس لینے میں دقت ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے، یا ان کی تشویش کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارے ایسا بھی نہیں کہ اس ہوا میں سانس لینے سے آپ مر جائیں گے، یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی یہ صرف ایک کھیل ہے، آپ اپنی صحت کا خیال کریں اگر سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے تو پویلین میں بیٹھ جائیے، یہ کرکٹ کی تاریخ کا آخری ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔

کرکٹ کی تاریخ کا یہ آخری ٹیسٹ تو ہرگز نہیں لیکن ایسا پہلا ضرور ہے جہاں کھلاڑی ماسک پہن کر میدان میں اترے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے دو مرتبہ کھیل روکنا پڑا۔ میچ کے بعد سری لنکا کے کوچ نے کہا ’کھلاڑی پویلین میں آ کر الٹیاں کر رہے تھے، ڈریسنگ روم میں آکسیجن سلنڈر رکھے تھے ہمارے لیے یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ انتہائی غیرممعولی صورت حال تھی۔‘ لیکن دوسرے دن کے کھیل کے بعد انڈیا کے بولنگ کوچ بھارت ارون نے کہا ’سری لنکا کے کھلاڑیوں کی پریشانی پر انھیں حیرت ہو رہی ہے کیونکہ وراٹ کوہلی نے دو دن بیٹنگ کی اور انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ آلودگی تو پورے ملک میں ہے، سری لنکا کے کھلاڑی صرف وقت برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

ارون صاحب، یہ سب مانتے ہیں کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوتا ہے لیکن سب سگریٹ پینے والوں کو کینسر نہیں ہوتا۔ اگر وراٹ کوہلی کو آلودہ ہوا میں سانس لینے سے کوئی دقت نہیں ہوتی، یہ بہت خوشی کی بات ہے، وہ جوان ہیں، بہترین ایتھلیٹ ہیں اور ان کی فٹنس کا لیول دوسرے کھلاڑیوں سے بہتر ہو سکتا ہے، یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتنے میں یقین نہ رکھتےہوں، سوچتے ہوں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن جن لوگوں کو دقت ہوتی ہے، یہ ان کی کمزوری کی نشانی نہیں ہے، بس شاید انھیں زہریلی ہوا میں سانس لینے کی عادت نہیں ہے۔
انڈیا کے 12 ویں کھلاڑی کلدیپ یادو اور روہت شرما نے بھی ماسک پہنا اور یہ کہنے والے بہت سے لوگ آپ کو مل جائیں گے کہ یہ سمجھداری کی بات تھی۔

کسی بھی کھلاڑی کو اپنی حفاظت کا پیمانہ خود طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب آٹھ سال قبل لاہور میں سری لنکا کی ہی ٹیم پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے انکار کرنا شروع کیا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ ڈرپوک ہیں، موت تو ایک دن آنی ہی ہے اور فائرنگ کے واقعات کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں ہیں کہ کھیل ہی بند کر دیا جائے، یا آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ جان ہے تو جہان ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو ہم آپ کی فکر سمجھ سکتے ہیں، کرکٹ ایک کھیل ہے، آپ کا دل نہیں مان رہا تو کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نومبر میں دلی کی ہوا اتنی زہریلی ہو گئی تھی کہ سکول بند کر دیے گئے تھے اور بہت سے دوسرے ہنگامی اقدمات کرنے پڑے تھے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو یہاں رہتے ہیں اور جن کی یہ مجبوری ہے کہ انھیں اسی ہوا میں سانس لینا ہے۔ دلی میں گذشتہ برس بھی رانجی ٹرافی کے دو میچ دیوالی کے بعد شہر کی زہریلی ہوا کی وجہ سے منسوخ کیے گئے تھے۔ کل کے میچ کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی جائیں گی اور لوگوں کے ذہن میں پھر نومبر کی وہ تصویر ابھرے گی جب دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کےمطابق شہر ایک ’گیس چیمبر‘ میں تبدیل ہو گیا تھا۔

ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس ہوا میں ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سانس پھولے، صبح کے وقت ٹہلنے سے بھی بچیں کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے لیکن انھیں شاید معلوم نہیں ہے کہ جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا تو باقی کسی اور کو کیسے ہوسکتا ہے؟

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

Advertisements

محمدعرفان نے ویرات کوہلی کی تعریف کا محبت سے جواب دیدیا

محمد عرفان نے ویرات کوہلی کی تعریف کا محبت سے جواب دیدیا۔ ویرات کوہلی نے اپنے انٹرویو کے دوران پاکستان کے اسپیڈ اسٹار شعیب اختر کو مہلک پیسر اور محمد عرفان کو مشکل بولر قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بیٹنگ کوچ نے ایک فٹ کے اسٹول پر کھڑے ہو کرانھیں طویل قامت پیسر کیخلاف کھیلنے کی پریکٹس کرائی تھی۔ اس انٹرویو کو پاکستانیوں کی جانب سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ شعیب اختر نے جواب دیتے ہوئے تعریفی کلمات پر ویرات کوہلی کا شکریہ ادا کیا.

اب محمد عرفان بھی میدان میں آ گئے اور ایسی بات کہہ دی کہ بھارتی کپتان کو بھی ان کا شکریہ ادا کرنا پڑا۔ طویل قامت پیسر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ویرات کوہلی وضع دار آدمی اور بڑے دل والا عظیم کھلاڑی ہے، میرے دوست تمہارے لیے دعائیں، امید ہے کہ ہم میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ کرکٹ کھیلیں گے۔

ویرات کوہلی نے پاکستانی بولرز کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ایک بار پاکستانی بولرز کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ روابط نہیں تو کیا ہوا لیکن ویرات کوہلی کی وجہ سے دونوں ممالک کے تذکرے ضرورمیڈیا میں ہو رہے ہیں۔ بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی سے جہاں بھی سوال ہو وہ پاکستانی بولرز کی صلاحیتوں کا کھل کر اعتراف کرتے نظرآتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے شعیب اخترکو خطرناک بالر قرار دیا ہے اوراس حوالے سے انہوں نے کہا کہ شعیب اختربہت تیز بالرتھے، میں نے انہیں بال کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ بہت تیزبال کراتے تھے جوخطرناک ہوتی تھی جب کہ محمد عرفان کوکھیلنا بھی کم مشکل نہ تھا۔ اس سے قبل بھی ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کے خطرناک بولرزمیں وہ شامل ہیں جس پرمحمد عامرنے بھارتی کپتان کی جانب سے اپنی بولنگ پر تعریفی کلمات کا خیرمقدم کیا تھا۔

کوہلی نے محمد عامر کو خطرناک ترین بولر قرار دیدیا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد عامر کو دنیا کا خطرناک ترین بولر قرار دیا ہے۔ عامر خان نے اپنے پروگرام میں کوہلی سے سوال کیا کہ آپ کے من میں دنیا کا کوئی ایسا بولر ہے جس کا سامنا کرتے ہوئے آپ کو لگا کہ یہ بہت مشکل بولر ہے اور اسے کھیلتے ہوئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو، جس پر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ”موجودہ بولرز جن کا میں نے سامنا کیا ہے ان میں محمد عامر کو کھیلنا مشکل رہا، وہ دنیا کے ٹاپ 2 یا 3 مشکل ترین بولرز میں سے ہیں۔ وہ ایسے بولر ہیں جن کے خلاف کھیلتے ہوئے آپ کو اپنی اے کلاس گیم کھیلنا پڑتا ہے ورنہ وہ آپ کی وکٹیں اڑا دے گا، وہ واقعی بہت ہی شاندار بولر ہیں۔“

واضح رہے کہ ویرات کوہلی اور محمد عامر بہت اچھے دوست ہیں اور انہوں نے ایشیا کپ 2016ء میں محمد عامر کی صلاحیتوں کی تعریف کی تھی اور انہیں اپنا بیٹ بھی تحفے میں دے چکے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر نے اپنے اوپر تنقید کے نشتر برسانے والے روہت شرما کو آﺅٹ کرنے کے بعد ویرات کوہلی کی وکٹ حاصل کی تھی، ایک بال پر سلپ میں کیچ ڈراپ ہونے کے بعد اگلی ہی بال پر شاداب خان کا کیچ بنواتے ہوئے انہیں پویلین کا راستہ دکھایا تھا۔

ہاشم آملا نے ویرات کوہلی کا ریکارڈ چھین لیا

جنوبی افریقی اوپنر ہاشم آملا نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ ڈالا۔ ہاشم آملا نے بنگلادیش کے خلاف پہلے ون ڈے میں ناٹ آئوٹ 110 رنز اسکور کیے۔ یہ ان کی 154 ون ڈے اننگز میں 26 ویں سنچری ہے، اس طرح انھوں نے کم اننگز میں 26 سنچریاں مکمل کرنے کا ویرات کوہلی کا ریکارڈ چھین لیا ہے، بھارتی کپتان نے اپنی 26 ویں سنچری166 ویں اننگز میں اسکور کی تھی۔

کوہلی کا عمران، میانداد اور انضمام کو خراج تحسین

ویرات کوہلی نے کرکٹ میں خود کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں انہیں دنیا ماسٹر بیٹسمین ماننے لگی ہے۔ تاہم انہوں نے ٹیچرز ڈے کے موقع پر کرکٹ کے ’استادوں‘ کو منفرد انداز سے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بڑے سے پوسٹر پر عظیم کرکٹرز کے نام لکھوائے اور اس کے سامنے بیٹھ کر تصویر بنا کر شیئر کر دی۔ اس پوسٹر میں جہاں سچن ٹنڈولکر سمیت بھارتی کرکٹرز کے نام درج ہیں وہیں کوہلی پاکستان کے سابق کپتان عمران خان، جاوید میانداد اور انضمام الحق کو بھی نہیں بھولے۔ کوہلی نے ساتھ ہی لکھا ہے کہ ’دنیا بھر کے تمام اساتذہ اور خاص طور پر کرکٹ کے اساتذہ کیلئے نیک خواہشات‘

کوہلی کے پرفارم نہ کرنے کا سبب بھی پاکستان ؟

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے آٹھویں میچ میں سری لنکا نے فیورٹ قرار دی جانے والی ٹیم بھارت کو 7 وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ کا بڑا اَپ سیٹ کر دیا۔
ایسے میں بھارتی کرکٹ فینز کا غم و غصے کا اظہار کرنا تو بنتا تھا اور وہ کافی ناامید ہوئے بھی، جس کا اندازہ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی جانے والی ٹوئیٹس سے لگایا جا سکتا ہے۔ سری لنکا کے خلاف بیٹنگ میں بھارت کو بڑا دھچکا اُس وقت لگا جب کپتان ویرات کوہلی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ روہت شرما، شیکھر دھاون اور مہندرا سنگھ دھونی کی جانب سے شاندار کھیل کے مظاہرے اور 321 کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجانے کے باوجود بھی بھارت یہ میچ جیت نہ سکا۔

ایسے میں ویرات کوہلی کا صفر پر آؤٹ ہونا کرکٹ فینز کے لیے موضوع بحث بنا رہا اور جب انہیں اس کا کوئی ذمہ دار سمجھ نہ آیا تو سارا ملبہ پاکستانی اسپورٹس اینکر زینب عباس پر ڈال دیا۔ بھارتی ویب سائٹ ذی نیوز کے مطابق پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل ‘دنیا نیوز’ کی اسپورٹس اینکر اور تجزیہ کار زینب عباس کو کوہلی کی خراب پرفارمنس کی وجہ اس لیے قرار دیا جاتا رہا کیونکہ انہوں نے کوہلی کے ساتھ سیلفی لی تھی۔ خیال رہے کہ زینب عباس نے ویرات کوہلی کے ساتھ لی گئی یہ تصویر یکم جون کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔

ٹوئٹر صارفین نے اس سے قبل زینب عباس کی ویرات کوہلی اور جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈویلیئر کے ساتھ سیلفی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ دونوں کھلاڑی زینب کے ساتھ سیلفی کے بعد صفر پر آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان کے ساتھ ان کی یہ سیلفی پاکستان اور جنوبی افریقہ کے ٹاکرے سے قبل لی گئی تھی اور کپتان اے بی ڈی ویلیئرز اگلے ہی میچ میں پہلی بار صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ ڈالا کہ ‘آئی سی سی ایونٹس میں زینب عباس کی بھارتی کھلاڑیوں سے دوری کو یقینی بنانے کے لیے پٹیشن کا آغاز کرتا ہوں’۔

اس دلچسپ صورتحال میں پاکستانی ٹوئٹر صارفین بھی خوب محظوظ ہوتے رہے اور زینب سے مزید فرمائش کر ڈالی کہ وہ اگلی سیلفی سری لنکن کپتان انجیلیو میتھیوس کے ساتھ لے لیں۔