اسکواش پر حکمرانی کرنے والے : جہانگیر خان

پاکستان کے نامور کھلاڑی جہانگیر خان نے سکواش کی دنیا پر طویل عرصے تک راج کیا ۔ انہیں سکواش کی دنیا کا عظیم ترین کھلاڑی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے ورلڈ اوپن چھ بار اور برٹش اوپن دس بار جیتی۔ 1981ء سے 1986ء تک وہ ناقابل شکست رہے۔ مسلسل 555 میچ جیتنے کے بعد ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہوا۔ وہ 10 دسمبر 1963ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تاہم ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے۔ ا بتدا میں ان کے والد روشن خان نے ان کی کوچنگ کی۔ جو 1957ء میں برٹش اوپن جیت چکے تھے۔ بعد ازاں ان کے بھائی نے یہ ذمہ داری سنبھالی لیکن ان کی ناگہانی موت کے بعد کزن رحمت خان نے زیادہ تر یہ ذمہ داری نبھائی۔

پیدائش کے وقت جہانگیر خان بہت کمزور تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں نے انہیں زیادہ جسمانی مشقت سے منع کیا تھا۔ تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے اس مشورے کو نظر انداز کر دیا۔ دراصل ان کے والد نے انہیں اس مشقت طلب کھیل کو کھیلنے اجازت دے دی تھی ۔ 1979ء میں آسٹریلیا میں عالمی چیمپئن شپ کے موقع پر جہانگیر کا انتخاب نہ کیا گیا کیونکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کمزور ہیں۔ تاہم جہانگیر خان عالمی امیچور انڈی ویجوئل چیمپئن شپ میں گئے اورصرف 15 سال کی عمر میں چیمپئن شپ جیت لی۔ وہ 1981ء میں ورلڈ اوپن کے کم عمر ترین چیمپئن بنے۔ اس وقت ان کی عمر صرف17 برس تھی۔

پھر ان کی کامیابیوں کا سلسلہ تھما نہیں، وہ اگلے پانچ سال تک ناقابل شکست رہے۔ 1982ء میں انہوں نے انٹرنیشنل سکواش پلیئرز چیمپئن شپ جیت لی اور ایک بھی میچ نہیں ہارا۔ ان کی کامیابیوں کے سلسلے کا اختتام 1986ء میں ہوا۔ یہ فرانس کے شہر تولوس میں ہونے والی ورلڈ چیمپئن شپ تھی، جہانگیر خان نیوزی لینڈ کے راس نارمن سے ہار گئے۔ اپنی مسلسل کامیابیوں کے بارے میں جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی کامیابیوں کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ ’’میں نے بس ہر میچ جیتنا چاہا، یہ کامیابی ہفتوں، مہینوں اورسالوں تک محیط ہو گئی.

بالآخر راس نارمن نے 1986ء میں تولوس میں مجھے شکست دے دی‘‘۔ 1980ء کی دہائی کے پہلے نصف میں مسلسل کامیابیوں کے بعد انہوں نے ہارڈ بال سے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ ہارڈ بال سکواش شمالی امریکا میں کھیلی جاتی ہے جس میں کورٹ کا رقبہ کم ہوتا ہے اور بال کی حرکت تیز ہوتی ہے۔ جہانگیر خان نے ہارڈ بال کے 13 اعلیٰ سطحی میچ کھیلے اور ان میں سے 12 میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے گیارہ مواقع پر امریکا کے ٹاپ کھلاڑی مارک ٹالبوٹ کا مقابلہ کیا اور 10 میں اسے شکست دی۔ اس کے بعد جہانگیر خان کو سکواش کا عظیم ترین کھلاڑی مانا جانے لگا۔

ان کی کامیابیوں کے بعد اس شمالی براعظم میں ’’سافٹ بال‘‘ سکواش کی مقبولیت بڑھ گئی۔ 1986ء میں اسی دوران پاکستان میں سکواش کے ایک کھلاڑی جان شیرخان بین الاقوامی منظر نامے پر نمودار ہوئے۔ 1986ء کے آخر اور 1987ء کے اوائل میں جہانگیر خان نے جان شیر سے کچھ میچ جیت لیے تاہم ستمبر 1987ء میں جان شیر نے جہانگیر کے خلاف پہلی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ہانگ کانگ اوپن کے سیمی فائنل میں انہیں ہرایا۔ اس کے بعد جان شیر نے جہانگیر کے خلاف مسلسل آٹھ کامیابیاں حاصل کیں اور ورلڈ اوپن چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔ مارچ 1988ء میں جہانگیر خان نے جان شیر کو شکست دی اور اگلے 15 میں سے 11 مقابلوں کو جیتا۔ 1988ء میں ورلڈ اوپن کے فائنل میں بھی جہانگیر کامیاب ہوئے۔

البتہ اس وقت ان کی سکواش پر حکمرانی ختم ہو چکی تھی اور جان شیر کی شکل میں ایک اور بڑا کھلاڑی میدان میں تھا۔ 1988ء کے بعد وہ ورلڈ اوپن کا اعزاز دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے بطور کھلاڑی 1993ء میں ریٹائر منٹ لی۔ حکومت پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور ہلال امتیاز سے نوازا۔ 1990ء میں وہ پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن کے چیئرمین منتخب ہوئے اور 1997ء میں پاکستان سکواش فیڈریشن کے نائب صدر بنے۔ اگلے برس انہیں ورلڈ سکواش فیڈریشن کے نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ 2004ء میں انہیں دوبارہ اتفاق رائے سے ورلڈ سکواش فیڈریشن کا صدر منتخب کیا گیا۔ ٹائم میگزین نے انہیں ساٹھ سالوں میں ایشیا کا ایک ہیرو قرار دیا۔ لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے انہیں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی عطا کی۔ ان کی کامیابیوں کو برس ہا برس تک سراہا جاتا رہے گا۔

(تلخیص و ترجمہ: رضوان عطا)

Advertisements

جب کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو ؟

کس نے سوچا ہو گا کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ’کٹ‘ میں ایک دن پلوشن ماسک بھی شامل ہو جائے گا۔ آپ سری لنکا کے ان کھلاڑیوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جو دہلی میں انڈیا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آلودگی کی وجہ سے ماسک پہن کر میدان میں اترے، یا سانس لینے میں دقت ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے، یا ان کی تشویش کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارے ایسا بھی نہیں کہ اس ہوا میں سانس لینے سے آپ مر جائیں گے، یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی یہ صرف ایک کھیل ہے، آپ اپنی صحت کا خیال کریں اگر سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے تو پویلین میں بیٹھ جائیے، یہ کرکٹ کی تاریخ کا آخری ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔

کرکٹ کی تاریخ کا یہ آخری ٹیسٹ تو ہرگز نہیں لیکن ایسا پہلا ضرور ہے جہاں کھلاڑی ماسک پہن کر میدان میں اترے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے دو مرتبہ کھیل روکنا پڑا۔ میچ کے بعد سری لنکا کے کوچ نے کہا ’کھلاڑی پویلین میں آ کر الٹیاں کر رہے تھے، ڈریسنگ روم میں آکسیجن سلنڈر رکھے تھے ہمارے لیے یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ انتہائی غیرممعولی صورت حال تھی۔‘ لیکن دوسرے دن کے کھیل کے بعد انڈیا کے بولنگ کوچ بھارت ارون نے کہا ’سری لنکا کے کھلاڑیوں کی پریشانی پر انھیں حیرت ہو رہی ہے کیونکہ وراٹ کوہلی نے دو دن بیٹنگ کی اور انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ آلودگی تو پورے ملک میں ہے، سری لنکا کے کھلاڑی صرف وقت برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

ارون صاحب، یہ سب مانتے ہیں کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوتا ہے لیکن سب سگریٹ پینے والوں کو کینسر نہیں ہوتا۔ اگر وراٹ کوہلی کو آلودہ ہوا میں سانس لینے سے کوئی دقت نہیں ہوتی، یہ بہت خوشی کی بات ہے، وہ جوان ہیں، بہترین ایتھلیٹ ہیں اور ان کی فٹنس کا لیول دوسرے کھلاڑیوں سے بہتر ہو سکتا ہے، یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتنے میں یقین نہ رکھتےہوں، سوچتے ہوں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن جن لوگوں کو دقت ہوتی ہے، یہ ان کی کمزوری کی نشانی نہیں ہے، بس شاید انھیں زہریلی ہوا میں سانس لینے کی عادت نہیں ہے۔
انڈیا کے 12 ویں کھلاڑی کلدیپ یادو اور روہت شرما نے بھی ماسک پہنا اور یہ کہنے والے بہت سے لوگ آپ کو مل جائیں گے کہ یہ سمجھداری کی بات تھی۔

کسی بھی کھلاڑی کو اپنی حفاظت کا پیمانہ خود طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب آٹھ سال قبل لاہور میں سری لنکا کی ہی ٹیم پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے انکار کرنا شروع کیا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ ڈرپوک ہیں، موت تو ایک دن آنی ہی ہے اور فائرنگ کے واقعات کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں ہیں کہ کھیل ہی بند کر دیا جائے، یا آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ جان ہے تو جہان ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو ہم آپ کی فکر سمجھ سکتے ہیں، کرکٹ ایک کھیل ہے، آپ کا دل نہیں مان رہا تو کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نومبر میں دلی کی ہوا اتنی زہریلی ہو گئی تھی کہ سکول بند کر دیے گئے تھے اور بہت سے دوسرے ہنگامی اقدمات کرنے پڑے تھے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو یہاں رہتے ہیں اور جن کی یہ مجبوری ہے کہ انھیں اسی ہوا میں سانس لینا ہے۔ دلی میں گذشتہ برس بھی رانجی ٹرافی کے دو میچ دیوالی کے بعد شہر کی زہریلی ہوا کی وجہ سے منسوخ کیے گئے تھے۔ کل کے میچ کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی جائیں گی اور لوگوں کے ذہن میں پھر نومبر کی وہ تصویر ابھرے گی جب دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کےمطابق شہر ایک ’گیس چیمبر‘ میں تبدیل ہو گیا تھا۔

ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس ہوا میں ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سانس پھولے، صبح کے وقت ٹہلنے سے بھی بچیں کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے لیکن انھیں شاید معلوم نہیں ہے کہ جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا تو باقی کسی اور کو کیسے ہوسکتا ہے؟

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

برطانیہ کے مسلمان کرکٹرز : آپ مذہب اور کھیل کو ساتھ چلا سکتے ہیں

نومبر 2016 میں انڈیا کے شہر راجکوٹ میں انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کھیلا گیا جس میں انگلینڈ کی ٹیم نے ایک انوکھی نوعیت کی تاریخ رقم کی۔ اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کی ٹیم میں ایک ہی وقت پر چار جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی مسلمان کھلاڑی شامل تھے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم میں برطانوی مسلمان کھلاڑیوں کو جگہ ملی ہو۔ ناصر حسین نہ صرف 90 کی دہائی سے ٹیم کا حصہ رہے بلکہ انھیں اپنے ملک کی کپتانی کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔

ناصر حسین کے علاوہ اویس شاہ، ساجد محمود، کبیر علی بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو اس درجے کی کامیابی نہیں ملی جو ناصر حسین کو ملی تھی۔ راجکوٹ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں شامل ان چار کھلاڑیوں میں سے ایک، ظفر انصاری نے محض 25 برس کی عمر میں تین ٹیسٹ کھیلنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا جبکہ 19 سال میں ڈیبیو کرنے والے حسیب حمید انجری کے باعث ایک سال سے کرکٹ نہیں کھیل سکے ہیں۔
لیکن دوسری جانب معین علی انگلینڈ کرکٹ کے نئے پوسٹر بوائے کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں اور اس سال کھیلے گئے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے 361 رنز بنائے ہیں اور 30 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ لیگ سپنر عادل راشد بھی ٹیم کا مستقل حصہ رہے ہیں۔

عادل راشد اور بالخصوص معین علی کی واضح کامیابی کے باوجود انگلینڈ کرکٹ چلانے والوں کو اس بات کا احساس ہے کہ جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی نوجوان کرکٹ کھیلتے ضرور ہیں لیکن وہ بنیادی درجے تک محدود رہتے ہیں اور بہت کم تعداد میں کھلاڑی کرکٹ کو بطور پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے ریڈیو پروگرام کے میزبان انُکر ڈیسائی نے راجکوٹ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں شامل معین علی، عادل راشد، حسیب حمید اور ظفر انصاری سے اس حوالے سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی کرکٹ کھیلنے کے لیے حوصلہ افزائی کیسے کی جا رہی ہے اور یہ چاروں کھلاڑی کس طرح اگلی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل بن سکتے ہیں۔

برمنگھم میں مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے معین علی نے انکر ڈیسائی کو بتایا کہ انھیں بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق تھا جسے دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انھیں کرکٹ پر توجہ دینے کی ترغیب دی۔ ‘میرے والد نے مجھ سے کہا کہ 13 سے 15 کی عمر میں تم کرکٹ پر توجہ دو اور اس کے بعد جو دل چاہے کرو‘۔
یارک شائر سے تعلق رکھنے والے لیگ سپنر اور معین علی کے قریبی دوست عادل راشد نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا کہ انھیں بھی کرکٹ کھیلنے کے لیے اپنے گھر والوں کی حمایت ملی۔ ایک سوال کے جواب میں عادل راشد نے کہا کہ ‘میرے والد رات بھر ٹیکسی چلاتے تھے لیکن صبح سات بجے گھر آنے کے بعد وہ مجھے نو بجے کرکٹ کھیلنے کے لیے میدان میں لے جاتے تھے اور پورا پورا دن میرے ساتھ رہتے تھے۔ انھوں نے میرے لیے اپنا بہت وقت قربان کیا‘۔

لیکن عادل راشد اپنی کامیابیوں کے باوجود اپنے ماضی کو نہیں بھولے ہیں اور نئی نسل کے کھلاڑیوں کی آسانی کے لیے انھوں نے کرکٹ اکیڈمی قائم کی ہے تاکہ جنوبی ایشیائی نژاد نوجوان کرکٹ وہاں کھیل سکیں۔ ‘اسے قائم کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان بچوں کو معیاری کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے تاکہ وہ مستقبل میں بہتر کھیل پیش کر سکیں‘۔ معین اور عادل کی طرح چھوٹی عمر سے کرکٹ شروع کرنے والے حسیب حمید نے 19 برس کی عمر میں اپنا پہلا میچ کھیلا اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ معین علی، عادل راشد اور حسیب حمید کے ساتھ کھیلنے سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

لیکن ان تینوں کھلاڑیوں کے برعکس ظفر انصاری نے صرف تین ٹیسٹ میچوں میں شرکت کے بعد 25 برس کی عمر میں کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا۔ کیمبرج یونیورسٹی سے پڑھائی مکمل کرنے والے ظفر انصاری نے انکر ڈیسائی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے کرکٹ کو چھوڑنے کا سوچ رہے تھے اور انھیں اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کرکٹ کے لیے وقف نہیں کر سکتے۔ انھیں اس بات پر مزید پختہ یقین گذشتہ سال ہونے والے امریکی انتخابات کے دوران ہوا جب وہ راجکوٹ کا ٹیسٹ کھیل رہے تھے۔ ‘کرکٹ کی وجہ سے ہمارے پاس فون نہیں تھے اور ہمیں کرکٹ پر توجہ دینی تھی لیکن میرا دل انتخابات کے نتائج پر تھا یہ جاننے کے لیے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے‘۔

ظفر انصاری اس لحاظ سے باقی تین کھلاڑیوں سے مختلف ہیں کیونکہ ان کے والد پاکستانی اور والدہ انگریز ہیں اور وہ دونوں تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ‘مجھے اندازہ ہے کہ میرا پس منظر ان تینوں سے مختلف ہے لیکن ان کے ساتھ کرکٹ کھیل کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے‘۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں تفریحی کرکٹ کھیلنے والے 40 فیصد بچے ایشیائی نژاد ہیں لیکن ان میں سے صرف چار فیصد ہیں جو کرکٹ کو پیشہ ورانہ طور پر اختیار کرتے ہیں۔
معین علی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت ایشیائی برطانوی مسلمان ان بچوں کی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر بدلنا چاہتے ہیں اور اپنے کھیل اور کردار سے دکھانا چاہتے ہیں کہ ‘آپ مذہب اور کھیل دونوں ساتھ چلا سکتے ہیں‘۔

بشکریہ بی بی سی اردو

باکسنگ کا تاریخی مقابلہ : ’علی اسے جان سے مار دو‘

اس مقابلے کا آغاز اس وقت ہی ہو گیا تھا جب محمد علی نے اچانک ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن جارج فورمین کو فون کر کے چیلنج کرتے ہوئے کہا’ جارج کیا تم میں میرے سامنے رِنگ میں اترنے کی ہمت ہے؟‘ جارج نے فوراً جواب دیا ’کہیں بھی اور کبھی بھی بشرطیکہ پیسہ اچھا ملے‘۔ علی نے کہا کہ ’وہ لوگ ایک کروڑ ڈالر دینے کی بات کر رہے ہیں‘۔ علی نے مزید کہا ’ڈان کنگ کانٹریکٹ لیکر آ رہا ہے، میں نے یہ کانٹریکٹ دیکھ لیا تم بھی دستخط کر دو اگر تمہیں مجھ سے ڈر نہ لگتا ہو تو‘۔ جس پر جارج نے چینختے ہوئے کہا کہ ’میں اور تم سے خوفزدہ ہوں گا، شکر مناؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ہاتھوں تمھاری موت ہو جائِے‘۔

صبح کے تین بجکر پینتالیس منٹ
اکتوبر 1974 میں جیسے ہی محمد علی نے جمہوریہ زائر کے سٹیڈیم میں قدم رکھا تو وہاں بیٹھے ساٹھ ہزار شائقین ایک آواز ہو کر نعرہ لگانے لگے ’علی اسے جان سے مار دو‘۔ صبح کے تین بجکر پینتالیس منٹ؟ تو آخر کیا وجہ تھی کہ یہ مقابلہ اتنے سویرے کرایا گیا۔ محمد علی کے کریئر پر نظر رکھنے والے نورس پریتم کہتے ہیں کہ ’چاہے یہ مقابلہ امریکہ میں نہیں ہو رہا تھا لیکن اسے دیکھنے والے زیادہ تر امریکہ میں تھے۔ تو یہ مقابلہ ایسے وقت میں رکھا گیا جب امریکہ میں پرائم ٹائم تھا۔ حالانکہ زائر میں اس وقت صبح کے پونے چار بجے تھے لیکن وہاں کے لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ جب گھنٹی بجی تو سٹیڈیم کھچا کھچا بھرا ہوا تھا‘۔

فورمین کے ساتھ الفاظ کی جنگ
مقابلہ شروع ہونے سے پہلے علی نے جارج فورمین سے کہا ’تم میرے بارے میں اس وقت سے سنتے آ رہے ہو جب تم بچے تھے اور اب میں تمھارے سامنے کھڑا ہوں، تمھارا مالک، مجھے سلام کرو‘۔ اس وقت لوگوں کو معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ علی نے فورمین سے کیا کہا کیونکہ انہوں یہ بات جارج سے ان کے کان میں کہی تھی۔ تو لوگ دیکھ تو پائے لیکن سن نہیں سکے۔ فورمین کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دیں۔

ریفری کی وارننگ
مقابلے سے پہلے ہی علی نے فورمین پر ایک اور تیر چلایا۔ انہوں نے جارج کے کان کے قریب جا کر کہا کہ ’آج ان افریقیوں کے سامنے تمہاری اتنی پٹائی ہونے والی ہے کہ تم زندگی بھر یاد رکھو گے‘۔ ریفری نے دونوں میں پیچ بچاؤ کرتے ہوئے وارننگ دی کہ کوئی بھی بیلٹ کے نیچے یا گردے پر مکا نہیں مارے گا۔ علی کہاں رکنے والے تھے، پھر بولے ’میں اسے ہر جگہ مکا ماروں گا‘۔ فورمین غصے سے اپنے دانت پیس رہے تھے لیکن علی نے کچھ نہ کچھ بولنا جاری رکھا۔ ریفری نے پھر کہا ’علی اگر تم نے ایک اور لفظ کہا تو میں تمھیں ڈس کوالیفائی کر دوں گا‘۔ اس پر علی نے کہا ’آج یہ صرف اسی طرح بچ سکتا ہے ورنہ تو اس کا جنازہ نکلنا طے ہے‘۔

علی کا جان بوجھ کر رسوں پر گرنا
گھنٹی بجتے ہی پہلا مکا علی نے گھمایا اور ان کا یہ مکا فورمین کے ماتھے پر لگا۔ راؤنڈ ختم ہونے تک فورمین علی کو دھکا دیتے ہوئِے رنگ کے چاروں سمت لگے رسوں تک لے گئے تھے۔ علی کمر کے بل رسوں پر گر کر فورمین کے مکوں کا سامنا کر رہے تھے۔

فورمین پر طنز
مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی علی فورمین پر نفسیاتی دباؤ بڑھا چکے تھے۔
ایک دن پہلے ہی ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا تھا ’مجھ میں اتنی تیزی ہے کہ اگر میں طوفان میں دوڑوں تو بھی میرے کپڑے گیلے نہیں ہوں گے۔ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کل رات میں نے لائٹ کا سوئچ آف کیا اور اندھیرا ہونے سے پہلے ہی میں بستر میں پہنچ گیا‘۔
محمد علی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ’میں نے فورمین سے کہا کہ کم آن! تمہارے پاس موقع ہے مجھے دکھاؤ تو سہی کہ تمھارے پاس کیا کیا ہے۔ ابھی تک تم نرسری کے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرتے آئے ہو۔ یہ کہتے ہوئے میں نے ایک مکا اس کے چہرے پر مار دیا‘۔

علی لکھتے ہیں ’میں اپنے لوگوں سے کیسے کہتا کہ رسوں سے اٹھنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ راؤنڈ ختم ہوتے ہوئے میں نے فورمین کے سر پر تین مکے مارے۔ میں نے سوچا کے میں جارج فورمین کو سبق سکھانے کا اپنا پروگرام جاری رکھوں گا نہیں تو وہ سمجھے گا کہ اس کے مکوں نے میری بولتی بند کر دی‘۔

فورمین نے علی کا چیلنج فوراً قبول کر لیا تھا
جیری آئزنبرگ اس وقت ایک نوجوان صحافی تھے اور نیو جرسی سٹار نے انہیں یہ مقابلہ کور کرنے زائر بھیجا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’جیسے ہی راؤنڈ شروع ہونے کی گھنٹی بجی محمد علی فوراً رسوں کی جانب چلے گئے۔ اور ’روپ اے ڈوپ‘ تکنیک کی شروعات یہیں سے ہوئی۔ مکے بازی میں آپ اگر کوئی پوائنٹ مِس کر دیتے ہیں تو اسکی بھرپائی پوائنٹ جیتنے سے نہیں کی جا سکتی‘۔ تھوڑی ہی دیر میں فورمین کے بازوؤں میں درد شروع ہو گیا اور اس دوران علی مسلسل ان سے باتیں کرتے رہے جس سے ان کا غصہ اور بھڑک گیا۔

علی فورمین کو غصہ دلانے کی کوشش کرتے رہے
مشہور تاریخ دان نارمن مِلر بھی یہ مقابلہ دیکھ رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ’دی فائٹ ‘ میں لکھا ’علی نے پچھلے سات برسوں میں اتنے زبردست مکے نہیں چلائے تھے۔ چیمپیئن عام طور سے دوسرے چیمپیئن کو دائیں ہاتھ سے مکے نہیں مارتے، کم از کم شروع کے راؤنڈ میں تو قطعی نہیں کیونکہ یہ سب سے مشکل اور خطرناک پنچ ہوتا ہے‘۔

فورمین تھکن سے بے حال
محمد علی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ’میں نے فورمین کو اتنی زور سے پکڑا کہ مجھے اس کے دل کی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ اس کی سانسیں رک رک کر آ رہی تھیں۔ میں نے اس کے کان میں کہا ’یو آر ان بِگ ٹربل‘ اور ابھی آٹھ راؤنڈ باقی ہیں۔ دیکھو تم کتنے تھک چکے ہو اور ابھی تو میں نے شروع بھی نہیں کیا اور تم ہانپنے لگے ہو‘۔

پیرا شوٹ سے جمپ
نارمن مِلر لکھتے ہیں ’علی نے اچانک چار رائٹ اور ایک لیفٹ ہُک کی بوچھاڑ کر دی۔ ان کا ایک مکا تو اتنی زور سے پڑا کہ فورمین کا چہرہ گھوم گیا۔ ان کے مکے علی تک پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے۔ اور ان کا چہرہ بری طرح سوج گیا تھا ‘ ۔  جیسے ہی آٹھواں راؤنڈ ختم ہونے لگا علی نے پوری طاقت سے فورمین کے جبڑے پر سٹریٹ رائٹ رسید کر دیا اور سٹیڈیم میں موجود لوگوں نے دیکھا کہ فورمین زمین پر گر رہے ہیں۔ جیری آئزنبرگ کہتے ہیں کہ ’میں نے اس سے پہلے کبھی بھی کسی کو اس طرح سلو موشن میں گرتے نہیں دیکھا تھا‘۔

علی نے فورمین کو ناک آؤٹ کیا
مِلر لکھتے ہیں کہ آحری لمحات میں فورمین کا چہرہ اس بچے کے جیسا ہو گیا تھا جسے ابھی ابھی پانی سے دھویا گیا ہو اور آخری مکے پر ان کی باہیں ایسے کھل گئیں جیسے کوئی پیرا شوٹ سے اڑ رہا ہو۔ یہ باکسنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ تھا۔ پچیس سال اور 118 کلو کے فورمین کے سامنے 32 سال کے علی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔

علی بھارت بھی آئے تھے
اس مقابلے کے بعد محمد علی تقریباً چار سال تک عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن رہے تھے۔ باکسنگ چھوڑنے کے بعد علی بھارت بھی آئے تھے۔ اس وقت بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنی رہائش گاہ پر ان کا استقبال کیا تھا۔

ریحان فضل
بی بی سی، دلی

بشکریہ بی بی سی اردو

کرسٹیانو رونالڈو : اپنے دور کا بہترین کھلاڑی

‘بڑے میچوں میں وہ ہمیشہ کارکردگی دکھاتا ہے۔ رونالڈو بلاشبہ اپنے دور کا بہترین کھلاڑئ ہے۔’ یہ الفاظ تھے سابق فرانسیسی کپتان اور فٹبال لیجینڈ زینیدین زیدان کے۔ پرتگال اور ریال میڈرڈ کے لیے کھیلنے والے سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کو لندن میں منعقدہ فیفا ایوارڈز میں رواں سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔ رونالڈو نے یہ ایوارڈ ارجنٹینا اور بارسلونا کی نمائندگی کرنے والے سٹار فٹبالر اور حریف لائنل میسی کو شکست دے کر حاصل کیا۔ چاہے وہ فٹبال کے چاہنے والے ہوں یا کھیل پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین رونالڈو اور میسی کی بحث ان کے لیے کبھی پرانی نہیں ہوتی۔

مجھے یاد ہے کہ میسی اور رونالڈو سے پہلے بالکل اسی انداز میں فٹبال شائقین زینیدین زیدان اور برازیل کی طرف سے کھیلنے والے سٹار کھلاڑی رونالڈو نزاریو کا موازنہ کرتے تھے۔ شائقین فٹبال میں اوریجینل رونالڈو یا رونالڈو نائن کے نام سے جانے جانے والے نزاریو کا کریئر اپنے عروج پر تھا جب انھیں گھٹنے کی انجری اور ہائپو تھائرائڈ کی بیماری لاحق ہو گئی۔ ماہرین فٹبال آج بھی اسے ’گریٹیسٹ سپورٹنگ ٹریجیڈی‘ یعنی کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا سانحہ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ اپنے عروج پر رونالڈو نزاریو تقریبًا ہر میچ میں تین سے چار ڈیفینڈروں کے درمیان سے گیند نکال کر لے جاتے ہوئے نظر آتے تھے۔

برازیلین رونالڈو اگر کھیل جاری رکھتے تو وہ کہاں ہوتے اور ان کا مقام کیا ہوتا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن یہاں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اس زمانے میں لوئس فیگو، روبرٹبو کارلوس، مروسلو کلوزے اور راؤل جیسے کھلاڑی بھی موجود تھے۔ لیکن میڈیا اور شائقین کی زیادہ توجہ زیدان اور رونالڈو پر رہتی تھی جیسا کہ آج کے دور میں یہ توجہ کرسچیانو رونالڈو اور لائنل میسی پر مرکوز رہتی ہے۔ رونالڈو نزاریو کا کیریر اپنے عروج پر تھا جب انھیں گھٹنے کی انجری اور ہائپو تھائرائڈ کی بیماری لاحق ہو گئی.

کہتے ہیں کہ تیس کا ہندسہ پار کرنے کے بعد فٹبال کھلاڑی اپنے کیریر کے آخری راؤنڈ میں داخل ہو جاتے ہیں، جہاں ان کے پاس 4 زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے عرصہ کا فٹبال رہ جاتا ہے۔ رونالڈو اس وقت بتیس کے ہیں اور میسی 30 کے۔ تو ان دونوں کھلاڑیوں کے بعد کونسے ایسے کھلاڑی ہیں جو کہ ان کی جگہ لے سکتے ہیں۔ حال ہی میں پیرس سینٹ جرمین کو ٹرانسفر ہونے والے 25 سالہ نیمار جونئیر کا شمار دنیا فٹبال کے بہترین ڈربلرز میں سے ہوتا ہے۔

رونالڈہینیو، روبرٹو کارلوس اور رونالڈو نزاریو کے بعد بہت عرصے بعد برازیل کی طرف سے ایک مکمل کھلاڑی سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب فٹبال کا گھر لاطینی امریکہ سے تبدیل ہو کر کے یورپ ہو گیا ہے۔ نیمار نہ صرف جدید فٹبال کو سمجھتے ہیں بلکہ وہ ٹیم پلئیر بھی ہیں۔ بارسلونا کی طرف سے کھیلتے ہوئے نیمار، لوئس سواریز اور لائنل میسی نے شراکت میں تین سیزنز میں تین سو سے زیادہ گول کیے ۔

دوسرے نمبر پر ہیں چھبیس سالہ فرنچ کھلاڑی انٹوان گریزمن۔ ہسپانوی کلب ایتھلیٹکو میڈریڈ کی طرف سے کھیلنے والے گریزمن گزشتہ سیزن میں گولز کی تعداد ٹیبل پر رونالڈو اور میسی کے بعد تیسرے نمبر پر تھے۔ تیسرے نمبر پر ہیں انگلش کھلاڑی ہیری کین۔ چاہے وہ مڈفیلڈ سے تھرو پاس ہو یا پھر ونگر کی طرف سے بھیجا گیا کراس، ہیری کین اسے پلک چھپکتے گول میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ٹاٹنہم ہاٹ سپرز کی طرف سے فارورڈ کی پوزیشن پر کھیلنے والے ہیری کین کو ‘ڈیڈلیئسٹ فنشرر آف دی گیم’ کہا جا رہا ہے۔ انھوں نے پچھلے گیارہ میچوں میں پندرہ گول سکور کیے ہیں۔ چوتھے نمبر پر ہیں 18 سالہ کائلن ایمباپے۔ فرانس کی قومی ٹیم اور پی ایس جی کی طرف سے فارورڈ پوزیشن پر کھیلنے والے ایمباپے نے گزشتہ سیزن میں موناکو کی طرف سے کھیلتے ہوئے پندرہ گول کیے تھے۔

غضنفر حیدر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

کرکٹ کے ناقابل تسخیر ریکارڈز

کرکٹ میں ریکارڈ بننے اور ٹوٹنے کا عمل جاری رہتا ہے مگر چند ایسے ریکارڈز بھی ہیں، جن کے کھیل افق پر ہمیشہ موجود رہنے کے امکانات تاحال روشن ہیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کرکٹ میں پانچ ایسے ریکارڈ ز ہیں جو کبھی توڑے نہ جا سکیں، دنیا کرکٹ کے عظیم کھلاڑی سر ڈونلڈ براڈ مین کا 99 اعشاریہ 94 کی بیٹنگ اوسط کا ریکارڈ سرفہرست ہے ۔ آسٹریلیا کے سر براڈ مین کے پاس اپنے آخری میچ میں اوسط 100 کرنے کا موقع تھا کہ وہ اس سے صرف 4 رنز کی دوری پر بدقسمتی کا شکار ہو گئے ۔

ریکارڈز کی اس فہرست میں دوسرے نمبر ایلن بورڈر کا مسلسل 153 میچز کھیلنا ہے، جو لگتا ہے کہ شاید کبھی بھی توڑا نہ جا سکے کیونکہ کھلاڑیوں کو فٹنس مسائل آئے روز گھیر لیتے ہیں ،بہترین کھلاڑی بھی انجرڈ ہو کر طویل عرصے تک کرکٹ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ تیسرا ریکارڈ جو آنے والوں کے توڑا یقینا ً مشکل ہو سکتا ہے ، وہ 2006ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف کولمبو میں سنگا کارا اور مہیلا جے وردھنے کی 624 رنز کی پارٹنرشپ ہے ، دراصل آج کل ٹی 20 اور ایک روزہ کرکٹ کی چاندنی کے باعث ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا پسند نہیں کرتا۔

چوتھا ریکارڈ جو کرکٹ کی دنیا میں نہیں توڑا جا سکتا وہ ہے سچن ٹنڈولکر کا 200 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کرنا ، آج کل کی کرکٹ میں 100 میچ کھیلنا ایک بہت بڑی بات سمجھا جاتا ہے لیکن سچن ٹنڈولکر نے 200 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے جو شاید کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ پانچواں اور آخری ریکارڈ مرلی دھرن کا ٹیسٹ کرکٹ میں 800 وکٹیں لینے کا ریکارڈ کبھی بھی نہیں توڑا جا سکتا۔ کرکٹ کی دنیا میں یہ 5 ریکارڈ ایسے ہیں جو شاید کبھی بھی نہیں توڑے جا سکیں گے اور یہ ریکارڈ ان عظیم کرکٹر ز کے نام ہی رہیں گے۔

دنیا کے سب سے مہنگے فٹبالر پال پوگبا مکہ میں

 دنیا کے سب سے مہنگے فٹبالر پال پوگبا ان دونوں مسلمانوں کے سب سے مقدس
شہر مکہ میں ہیں جہاں وہ اسلامی مہینے رمضان کے دوران عمرے کے ادائیگی  کے لیے گئے ہیں۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے فٹبالر نے اتوار کو خانہ کعبہ کے قریب سے اپنی ایک تصویر شائع کی اور لکھا ’سب سے خوبصورت چیز جو میں نے اپنی زندگی میں دیکھی۔‘ اس کے علاوہ انھوں نے ایک ٹویٹ بھی کی جس میں انھوں نے سب کو ’ماہ رمضان کی مبارکباد دی۔‘

خیال رہے کہ 24 سالہ فٹبالر گذشتہ سال اس وقت دنیا کے سب سے مہنگے کھلاڑی بنے تھے جب انگلش فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ نے آٹھ کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈ کی ریکارڈ قیمت کے عوض اطالوی کلب یووینٹس سے ان کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پال پوگبا نے یورپا لیگ کپ کے فائنل میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے شرکت کی تھی۔ سیزن کے اختتام پر پال پوگبا نے ایک سوٹ کیس کے ہمراہ اپنی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’وہ عبادت کی غرض سے سفر کر رہے ہیں، اور اس دوران وہ عمرہ کی ادائیگی کریں گے۔‘ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل بھی پوگبا نے ایک مرتبہ مکہ کا سفر کیا تھا جب وہ حج کی ادائیگی کے لیے گئے تھے۔